SAFA AWAL

SAFA AWAL dailyurdunews.com.pk is One Of The Best Educational, Motivational, Information, and Inspirational Fa

12/12/2020

For only $5, mohsin6440 will design and render interior and exterior architecture models. | Welcome to my Gig!I will design or re-design an interior space within your house in 3D.I am specialized in creating creative interior design concepts for | On Fiverr

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسی دعا مانگنے سے منع فرمایا ؟آپ ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہو گئے، شدت ضعف...
03/11/2019

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسی دعا مانگنے سے منع فرمایا ؟

آپ ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہو گئے، شدت ضعف کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے سے بھی معذور ہو گئے۔ حضور پاکﷺ عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ بیمار صحابی نے جب حضور اکرم ﷺکو دیکھا تو خوشی سے نئی زندگی محسوس کی اور ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کوئی مردہ اچانک زندہ ہو گیا ہو، آپ ﷺکو دیکھتے ہی بولے : زہے نصیب اس بیماری نے تو مجھے خوش نصیب کر دیا۔ جس کی بدولت میرے غریب خانے کو یہ شرف حاصل ہوا، اے میری بیماری اور بخار اور رنج و غم اور اے درد اور بیداری شب تجھے مبارک ہو تمہارےسبب نبی پاک ﷺ میری عیادت کو تشریف لائے ہیں
جب آپ ﷺان کی عیادت سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :تمہیں کچھ یاد ہے کہ تم نے حالتِ صحت میں کوئی نامناسب دعا مانگی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : مجھے کچھ یاد نہیں ، کہ کیا دعا کی تھی
تھوڑے ہی وقفے کے بعد حضور اکرم ﷺ کی برکت سے ان کو وہ دعا یاد آ گئی۔ صحابی نے عرض کی کہ میں نے اپنے اعمال کی کوتاہیوں اور خطاؤں کے پیشِ نظر یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ! وہ عذاب جو آخرت میں تو مجھے دے گا وہ مجھے اس دنیا میں دے دے ، تاکہ میں آخرت کے عذاب سے فارغ ہو جاؤں۔

یہ دعا میں نے ایک بار مانگی۔ پھر میں بیمار ہو گیا اور مجھے ایسی شدید بیماری نے گھیر لیا کہ میری جان اس تکلیف سے بے چین رہتی ہے ۔ حالت صحت میں میرے جو عبادت ، ذکر الٰہی اوراد و وظائف معمولات تھے انہیں کرنے سے بھی عاجز ہو گیا ہوں ۔ برے بھلے اپنے بیگانے سب بھول گئے اب اگر آپ ﷺ کا چہرۂِ مبارک نہ دیکھتا تو بس میرا کام تمام ہو چکا تھا۔ آپ ﷺکے لطف و کرم اور غم خواری نے مجھ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے
رسول اللہ ﷺنے یہ سن کر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ آئندہ ایسی نامناسب دعا مت کرنا، یہ آدابِ بندگی کے خلاف ہے، کہ انسان اپنے مولیٰ سے بلاوجہ عذاب طلب کرے۔ انسان تو ایک کمزور چیونٹی کی مانند ہے اس میں یہ طاقت کہاں ہے کہ اتنی آزمائش اٹھا سکے
صحابی نے عرض کی حضور (ﷺ) میں توبہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسی بات زبان پر لاؤں میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ اب آئندہ کے لئے میری رہنمائی فرما دیں
آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی ( کہ یہ دعا مانگا کرو ) : اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما

02/11/2019

میدان تیہ
جب فرعون دریائے نیل میں غرق ہوگیا اور تمام بنی اسرائیل مسلمان ہوگئے اور جب حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو اطمینان نصیب ہوگیا تو اللہ تعا لیٰ کا حکم ہوا کہ آپ بنی اسرائیل کا لشکر لے کر ارض مقدس (بیت المقدس) میں داخل ہو جائیں ۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی قوم کا قبضہ تھا جو بد ترین کفار تھے اور بہت طاقتور جنگجو اور نہایت ہی ظالم لوگ تھے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چھ لاکھ بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر قوم عمالقہ سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے مگر جب بنی اسرا ئیل بیت المقدس کے قریب پہنچے تو ایک دم بزدل ہو گئے اور کہنے لگے کہ اس شہر میں "جبارین" (عمالقہ )ہیں جو بہت ہی زور آور اور زبردست ہیں۔ لہٰذا جب تک یہ لوگ شہر میں رہیں گے ہم ہر گز ہرگز شہر میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہاں تک کہہ دیا کہ اے موسیٰ آپ اور آپ کا خدا جاکر اس زبردست قوم سے جنگ کریں۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ بنی اسرائیل کی زبان سے یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلامکو بڑا رنج و صدمہ ہوا اور آپ نے باری تعا لیٰ کے دربار میں یہ عرض کیا کہ :-
oرَبِّ اِنِّیْ لَا اَ مُلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَ خِیْ فَافُرُ قْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْ مِ الْفٰسِقِیْنَ
ترجمہ کنزالایمان: اے میرے رب مجھے اختیا ر نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو ہم کو ان بے حکمو ں سے جدارکھ۔
اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب و جلال کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔
ترجمعہ: تو وہ زمین ان پر حرام ہے چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ چھ لاکھ بنی اسرائیل ایک میدان میں چالیس برس تک بھٹکتے رہے مگر اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ اسی میدان کا نام " میدان تیہ" ہے ۔ اس میدان میں بنی اسرائیل کے کھانے کے لئے " من و سلویٰ " نازل ہوا ۔ اور پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام
نے اپنا عصا مار دیا تو پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہو گئے ۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے باربار مختلف عنوانوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ جس میں سے سورہ مائدہ میں یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ مذکور ہوا ہے جو بلاشبہ ایک عجیب ا لشان واقعہ ہے جو بنی اسرائیل کی نا فرمانیوں اور شرارتوں کی تعجب خیز اور حیرت انگیز داستان ہے مگر اس کے باوجود بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت و شفقت بنی اسرائیل پر ہمیشہ رہی کہ جب یہ لوگ میدان تیہ میں بھوکے پیاسے ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا مانگ کر ان لوگوں کے کھانے کے لئے من و سلویٰ نازل کرایا ۔ اور پتھر پر عصا مار کر بارہ چشمے جاری کرادئیے اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صبر اور آپ کے حلم اور تحمل کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

01/11/2019

نمازی عورت اور مچھلی:
بنی اسرائیل میں ایک ایک نیک نمازی خاتون تھی بد قسمتی سے اس کا بڑا ظالم شخص تھا اور اپنی بیوی کو نماز سے روکتا تھا اور مارپیٹ کے باو جود وہ خاتون نماز نہ چھڑتی ۔ شوہر نے اس سے بے زار ہو کر ایک تجویز سوچی تاکہ بیوی کو کسی طرت نماز سے روکا جائے ۔ اس نے کچھ مال اپنی بیوی کو دے کر کہا کہ اس کو گھر میں محفوظ جگہ پر رکھ دو ۔ جب مانگوں تب دینا ۔ کچھ دن کے بعد شو ہر نے وہ مال چپکے سے اٹھا کر دریا میں پھینک دیا۔ اللہ کی قدرت سے وہ مال ایک مچھلی نے نگل لیا ۔ وہ مچھلی ایک ماہی گیر کے جال میں آگئی ۔ اور فرخت ہونے آئی حسن اتفاق سے وہی مچھلی اس کے شوہر نے خریدی ۔ اور پکانے کے لئے گھر لے آیا۔ اس نیک خاتون نے پکانے کے لئے مچھلی کا پیٹ چاک کیا ۔ وہ مل پیٹ سے برآمد ہو گیا۔ وہ سارا معاملہ سمجھ گئی ۔ بہر حال اس عورت نے وہ مال ایک محفوظ جگہ پر رکھ دیا ۔ شوہر نے اپنی تجویز کے مطابق بیوی سے مال طلب کیا بیوی نے وہ مال نکال کر شوہر کے حوالے کر دیا ۔ مال کے ملنے پر شوہر بہت حیران ہوا کہ مال تو میں نے دریا میں پھینک دیا تھا ۔ یہاں واپس کیسے آگیا ؟ ظالم شوہر نے سوچا اس میں ضرور عورت کی کوئی چالاکی ہے اس نے اس واقعہ سے درس حاصل کرنے کے بجائے اپنی بیوی کو جلتے تنور میں ڈال دیا تاکہ جل جائے۔ تنور میں گرتے ہی ایک نمازی خاتون نے اللہ کی بارگاہ میں التجا کی ، اے اللہ ! میں ہمیشہ نماز پڑھتی رہی ہوں ۔ آجنماز کے صدقے میری لاج رکھ لے ۔ اللہ تعالٰی نے اس کی دعا قبول کی اور اللہ کے حکم سے تنور کی آگ فوراً ٹھنڈی ہوگئی اور وہ نمازی خاتون نماز کی برکت سے زندہ بچ گئی۔

01/11/2019

قوم عاد کی آندھی:
قوم عاد مقام " احقاف " میں رہتی تھی جو عمان و حضر موت کے درمیان ایک بڑا ریگستان ہے ۔ان کے مورث اعلیٰ کا نام عادبن عوص ہے ۔ پوری قوم کے لوگ ان کو مورث اعلیٰ " عاد " کے نام سے پکارنے لگے۔ یہ لوگ بت پرست اور بہت بداعمال و بدکردار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام کو ان لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا مگر اس قوم نے اپنے تکبر اور سر کشی کی وجہ سے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلادیا اور اپنے کفر پر اڑے رہے ۔ حضرت ہود علیہ السلام بار بار ان سرکشوں کو عذاب الہٰی سے ڈراتے رہے مگر اس شریر قوم نے نہایت ہی بے باکی اور گستاخی کے ساتھ اپنے نبی سے یہ کہہ دیا کہ :۔
ترجمعہ: کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ۔ انہیں چھوڑدیں تو لاؤجس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔
آخر عذاب الہٰی کی جھلکیاں شروع ہو گئیں ۔ تین سال تک بارش ہی نہیں ہوئی۔ اور ہر طرف قحط و خشک سالی کا دوردورہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ لوگ اناج کے دانے دانے کو ترس گئے ۔ اس زمانے کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی بلا اور مصیبت آتی تھی تو لوگ مکہ معظمہ جا کر خانہ کعبہ میں دعائیں مانگتے تھے تو بلائیں ٹل جاتی تھیں ۔ چنانچہ ایک جماعت مکہ معظمہ گئی ۔ اس جماعت میں مر ثدبن سعد نامی ایک شخص بھی تھا جو مومن تھا مگر اپنے ایمان کو قوم سے چھپائے ہوئے تھا۔جب ان لوگوں نے کعبہ معظمہ میں دعا منگنی شروع کی تو مرثد بن سعد کا ایمانی جذبہ بیدار ہو گیا۔ اور اس نے تڑپ کر کہا کہ اے میری قوم تم لاکھ دعائیں مانگو ، مگر خدا کی قسم اس وقت تک پانی نہیں برسے گا جب تک تم اپنے نبیی حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان نہ لاؤ گے ۔ حضرت مرثد بن سعد نے جب اپنا ایمان ظاہر کر دیا تو قوم عاد کے شریروں نے ان کو مارپیٹ کر الگ کر دیا اور دعائیں مانگنے لگے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین بدلیاں بھیجیں ۔ ایک سفید ، ایک سرخ، ایک سیاہ اور آسمان سے ایک آواز آئی کہ اے قوم عاد!تم لوگ اپنی قوم کے لئے ان تین بدلیوں میں سے ایک بدلی کو پسند کر لو ۔ ان لوگوں نے کالی بدلی کو پسند کر لیا اور یہ لوگ اس خیال میں مگن تھے کہ کالی بدلی خوب زیادہ بارش دے گی ۔ چنانچہ وہ ابر سیاہ قوم عاد کی آبادیوں کی طرف چل پڑا ۔ قوم عاد کے لوگ کالی بدلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم !دیکھ لو عذاب الہٰی ابر کی صورت میں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے مگر قوم کے گستاخوں نے اپنے نبی کو جھٹلادیا اور کہا کہ کہاں کا عذاب اور کیسا عذاب ؟
یہ بادل پچھم کی طرف سے آبادیوں کی طرف برابر بڑھتا رہا اور ایک دم ناگہا ں اس میں سے ایک آندھی آئی جو اتنی شدید تھی کہ اونٹوں کو مع ان کے سوار کے اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی تھی۔ پھر اتنی زوردار ہو گئی کہ درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر اڑالے جانے لگی ۔ یہ دیکھ کر قوم عاد کے لوگوں نے اپنے سنگین محلوں میں داخل ہو کر دروازوں کو بند کر لیا مگر آندھی کے جھونکے نہ صرف دروازوں کو اکھاڑ کر لے گئے بلکہ پوری عمارتوں کو جھنجھوڑ کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ سات رات اور آٹھ دن مسلسل یہ آندھی چلتی رہی ۔ یہاں تک کہ قوم عاد کا ایک ایک آدمی مرکر فنا ہو گیا ۔ اور اس قوم کا ایک بچہ بھی باقی نہ رہا۔
جب آندھی ختم ہوئی تو اس قوم کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑی ہوئی تھیں جس طرح کھجوروں کے درخت اکھڑ کر زمین پر پڑے ہوں چنانچہ ارشاد ربانی ہے:۔
ترجمعہ: اور رہے عاد وہ ہلاک کئے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے وہ ان پر قوت سے لگا دی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈنڈ(سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے تو تم ان میں کسی کو بچاہوا دیکھتے ہو۔
پھر قدرت خداوندی سے کالے رنگ کے پرندوں کا ایک غول نمودار ہوا ۔ جنہوں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور حضرت ہود علیہ السلام نے اس بستی کو چھوڑ دیا اور چند مومنین کو جو ایمان لائے تھے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ چلے گئے۔ اور آخر زندگی تک بیت اللہ شریف میں عبادت کرتے رہے۔

urdu adab
01/11/2019

urdu adab

قوم عاد کی آندھی:
قوم عاد مقام " احقاف " میں رہتی تھی جو عمان و حضر موت کے درمیان ایک بڑا ریگستان ہے ۔ان کے مورث اعلیٰ کا نام عادبن عوص ہے ۔ پوری قوم کے لوگ ان کو مورث اعلیٰ " عاد " کے نام سے پکارنے لگے۔ یہ لوگ بت پرست اور بہت بداعمال و بدکردار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام کو ان لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا مگر اس قوم نے اپنے تکبر اور سر کشی کی وجہ سے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلادیا اور اپنے کفر پر اڑے رہے ۔ حضرت ہود علیہ السلام بار بار ان سرکشوں کو عذاب الہٰی سے ڈراتے رہے مگر اس شریر قوم نے نہایت ہی بے باکی اور گستاخی کے ساتھ اپنے نبی سے یہ کہہ دیا کہ :۔
ترجمعہ: کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ۔ انہیں چھوڑدیں تو لاؤجس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔
آخر عذاب الہٰی کی جھلکیاں شروع ہو گئیں ۔ تین سال تک بارش ہی نہیں ہوئی۔ اور ہر طرف قحط و خشک سالی کا دوردورہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ لوگ اناج کے دانے دانے کو ترس گئے ۔ اس زمانے کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی بلا اور مصیبت آتی تھی تو لوگ مکہ معظمہ جا کر خانہ کعبہ میں دعائیں مانگتے تھے تو بلائیں ٹل جاتی تھیں ۔ چنانچہ ایک جماعت مکہ معظمہ گئی ۔ اس جماعت میں مر ثدبن سعد نامی ایک شخص بھی تھا جو مومن تھا مگر اپنے ایمان کو قوم سے چھپائے ہوئے تھا۔جب ان لوگوں نے کعبہ معظمہ میں دعا منگنی شروع کی تو مرثد بن سعد کا ایمانی جذبہ بیدار ہو گیا۔ اور اس نے تڑپ کر کہا کہ اے میری قوم تم لاکھ دعائیں مانگو ، مگر خدا کی قسم اس وقت تک پانی نہیں برسے گا جب تک تم اپنے نبیی حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان نہ لاؤ گے ۔ حضرت مرثد بن سعد نے جب اپنا ایمان ظاہر کر دیا تو قوم عاد کے شریروں نے ان کو مارپیٹ کر الگ کر دیا اور دعائیں مانگنے لگے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین بدلیاں بھیجیں ۔ ایک سفید ، ایک سرخ، ایک سیاہ اور آسمان سے ایک آواز آئی کہ اے قوم عاد!تم لوگ اپنی قوم کے لئے ان تین بدلیوں میں سے ایک بدلی کو پسند کر لو ۔ ان لوگوں نے کالی بدلی کو پسند کر لیا اور یہ لوگ اس خیال میں مگن تھے کہ کالی بدلی خوب زیادہ بارش دے گی ۔ چنانچہ وہ ابر سیاہ قوم عاد کی آبادیوں کی طرف چل پڑا ۔ قوم عاد کے لوگ کالی بدلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم !دیکھ لو عذاب الہٰی ابر کی صورت میں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے مگر قوم کے گستاخوں نے اپنے نبی کو جھٹلادیا اور کہا کہ کہاں کا عذاب اور کیسا عذاب ؟
یہ بادل پچھم کی طرف سے آبادیوں کی طرف برابر بڑھتا رہا اور ایک دم ناگہا ں اس میں سے ایک آندھی آئی جو اتنی شدید تھی کہ اونٹوں کو مع ان کے سوار کے اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی تھی۔ پھر اتنی زوردار ہو گئی کہ درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر اڑالے جانے لگی ۔ یہ دیکھ کر قوم عاد کے لوگوں نے اپنے سنگین محلوں میں داخل ہو کر دروازوں کو بند کر لیا مگر آندھی کے جھونکے نہ صرف دروازوں کو اکھاڑ کر لے گئے بلکہ پوری عمارتوں کو جھنجھوڑ کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ سات رات اور آٹھ دن مسلسل یہ آندھی چلتی رہی ۔ یہاں تک کہ قوم عاد کا ایک ایک آدمی مرکر فنا ہو گیا ۔ اور اس قوم کا ایک بچہ بھی باقی نہ رہا۔
جب آندھی ختم ہوئی تو اس قوم کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑی ہوئی تھیں جس طرح کھجوروں کے درخت اکھڑ کر زمین پر پڑے ہوں چنانچہ ارشاد ربانی ہے:۔
ترجمعہ: اور رہے عاد وہ ہلاک کئے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے وہ ان پر قوت سے لگا دی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈنڈ(سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے تو تم ان میں کسی کو بچاہوا دیکھتے ہو۔
پھر قدرت خداوندی سے کالے رنگ کے پرندوں کا ایک غول نمودار ہوا ۔ جنہوں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور حضرت ہود علیہ السلام نے اس بستی کو چھوڑ دیا اور چند مومنین کو جو ایمان لائے تھے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ چلے گئے۔ اور آخر زندگی تک بیت اللہ شریف میں عبادت کرتے رہے۔

Address

Mujahid Chowk
Jhang
35200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SAFA AWAL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share