JHANG TALK

JHANG TALK I� JHANG

جھنگ کی دھرتی پر پہلی بار جھنگ تھل ڈیزرٹ ریلی اور تین روزہ شاندار ثقافتی فیسٹیول کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔سنسنی خیز ڈیزر...
08/09/2026

جھنگ کی دھرتی پر پہلی بار جھنگ تھل ڈیزرٹ ریلی اور تین روزہ شاندار ثقافتی فیسٹیول کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔
سنسنی خیز ڈیزرٹ ریلی
نیزہ بازی
ثقافتی پروگرامز
روایتی موسیقی اور لوک فن
تھل کی خوبصورتی اور مقامی ثقافت کی بھرپور عکاسی

🚨 ذمہ دار کون؟ عوام جواب مانگتی ہے!گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوٹ بہادر شاہ کی تعلیمی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اطلاعات ک...
03/09/2026

🚨 ذمہ دار کون؟ عوام جواب مانگتی ہے!
گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوٹ بہادر شاہ کی تعلیمی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکول میں کل 67 طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے صرف 15 طالبات پاس ہوئیں، جبکہ مجموعی نتیجہ محض 22.38 فیصد رہا۔
یہ اعداد و شمار صرف ایک تعلیمی نتیجہ نہیں بلکہ ہماری بچیوں کے مستقبل سے جڑا ایک اہم سوال ہے۔ آخر اتنے کمزور نتائج کی اصل وجہ کیا ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟ اساتذہ کی کارکردگی، انتظامی معاملات یا محکمہ تعلیم کی نگرانی میں کہیں کوئی کمی ہے؟
ہم کسی فرد کو بلاوجہ موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بچیوں کو معیاری تعلیم دینا ریاست اور محکمہ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اربابِ اختیار سے مطالبہ ہے کہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوٹ بہادر شاہ کے نتائج کا فوری نوٹس لیا جائے، وجوہات سامنے لائی جائیں اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
بچیوں کا مستقبل کسی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
عوام پوچھتی ہے: آخر ذمہ دار کون؟

ایک اہم عوامی تجویز — رنگپور کینال کے دونوں اطراف کارپٹ روڈ تعمیر کی جائےمیری متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ ہیڈ تریموں سے ش...
03/09/2026

ایک اہم عوامی تجویز — رنگپور کینال کے دونوں اطراف کارپٹ روڈ تعمیر کی جائے

میری متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ ہیڈ تریموں سے شروع ہونے والی رنگپور کینال کے دونوں اطراف کارپٹ روڈ تعمیر کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کینال کے اطراف موجود تمام تجاوزات کو ختم کیا جائے تاکہ اس راستے کو باقاعدہ متبادل سفری روٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

اس اقدام سے لیہ روڈ پر ٹریفک کا رش کم ہو سکتا ہے، جس سے شہریوں کو سفر میں آسانی ہوگی اور ٹریفک حادثات کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔ خاص طور پر مصروف اوقات میں لیہ روڈ پر ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ایک مناسب متبادل راستہ عوام کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر رنگپور کینال کے دونوں اطراف مناسب چوڑائی کی سڑک تعمیر کرکے اسے پختہ اور کارپٹ کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور سڑک پر مناسب ٹریفک انتظامات کیے جائیں تو یہ نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ اردگرد کے علاقوں سے آنے والے مسافروں کے لیے بھی ایک بڑی سہولت ہوگی۔

میری ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور منتخب نمائندگان سے اپیل ہے کہ اس عوامی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور رنگپور کینال کے دونوں اطراف کارپٹ روڈ کی تعمیر اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

ایک بہتر متبادل راستہ، کم ٹریفک رش، کم حادثات اور عوام کے لیے آسان سفر — یہی اس تجویز کا مقصد ہے۔

ضلع جھنگ میں اپنی پسندیدہ شخصیت کا نام بتائیں
03/09/2026

ضلع جھنگ میں اپنی پسندیدہ شخصیت کا نام بتائیں

قسط نمبر || 08 ||ریل کی کہانی 1898ء کی ایک دھوپ والی صبح جب پہلی بھاپ کا انجن جھنگ صدر اسٹیشن پر داخل ہوا، تو وسطی پنجاب...
30/08/2026

قسط نمبر || 08 ||
ریل کی کہانی
1898ء کی ایک دھوپ والی صبح جب پہلی بھاپ کا انجن جھنگ صدر اسٹیشن پر داخل ہوا، تو وسطی پنجاب کی ریتلی زمین پر ایک نیا باب رقم ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب سندھ ساگر ریلوے کی میٹر گیج پٹریاں 1881ء سے یہاں سے گزرتی تھیں، اور 1886ء میں جب انہیں براڈ گیج میں تبدیل کیا گیا، تو جھنگ برطانوی مواصلاتی نظام کا ایک اہم ٹکڑا بن گیا۔
لال اینٹوں سے تراشی گئی عمارت، چوڑی بارہ دریا، اور کھلے احاطے — انگریز انجینئروں کی فنکاری اور مقامی معماروں کا پسینہ اس کے ہر اینٹ میں سما آیا تھا۔ عمارت کے سامنے پرنس پہ ملا کے حرفِ جلی 'NWR' اب بھی پڑھے جا سکتے ہیں نارتھ ویسٹرن ریلوے کی نشانی، جو وقت کے بس میں آ کر مٹی ہوتی ہے۔
جھنگ صدر محض ایک اسٹیشن نہیں تھا یہ وسطی پنجاب کا زرعی دل تھا۔ یہاں سے روئی، گندم اور گنا کے بورے لاہور اور کراچی کی بندرگاہوں کی طرف رواں ہوتے، اور برطانوی فوج کی رسد بھی اسی پٹری پر سفر کرتی۔ ایک زمانے میں درجنوں ٹرینیں یہاں آکریں رکتیں، پلیٹ فارم پر ہجوم کا عالم ہوتا، چائے والے کے ہانڈے سے اٹھتی خوشبوا، اور سگنل کے خانے سے مسافر اپنی منزل کا انتظار کرتے۔
آج وہ دن دور ہیں۔ جو اسٹیشن ایک زمانے میں شورکوٹ-لالہ موسیٰ لائن کا سب سے مصروف ٹکڑا تھا، اب وہاں صرف دو-چار ٹرینیں رکتی ہیں۔ پلیٹ فارم پر جو کبھی قدم قدم پر بھیڑ تھی، اب سناٹا ہے۔ واٹر کالم زنگ آلود کھڑے ہیں انہی میں سے ایک زمانے بھاپ کے انجن میں پانی بھرا جاتا، اور سفید مرغولہ فضا میں اٹھتا، گویا بیابان کو چوم رہا ہو۔
لال اینٹوں کی عمارت اب بھی کھڑی ہے مگر اب وہ صرف ایک یاد ہے۔ یاد اس دور کی جب ریل محض سفر نہیں تھی، بلکہ ایک تہذیب کی شریان تھی۔ جھنگ صدر آج بھی چالو ہے، مگر اس کی دھڑکن وہ نہیں رہی۔ وہ دھڑکن جو ایک زمانے میں وسطی پنجاب کے دل کی دھڑکن تھی۔

قسط نمبر|| 07 ||جھنگ کی نامور شخصیات افضال احمد — جھنگ سے پاکستانی سینما تکپاکستانی فلم، ٹیلی وژن اور تھیٹر کی تاریخ میں...
30/08/2026

قسط نمبر|| 07 ||
جھنگ کی نامور شخصیات

افضال احمد — جھنگ سے پاکستانی سینما تک

پاکستانی فلم، ٹیلی وژن اور تھیٹر کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے گزرے ہیں جنہیں صرف ان کے کردار ہی نہیں بلکہ آواز، اندازِ گفتگو اور شخصیت بھی دوسروں سے منفرد بناتی تھی۔ افضال احمد بھی انہی فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

سید افضال احمد کا تعلق جھنگ سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد ایچی سن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی، جہاں زمانۂ طالب علمی ہی سے اداکاری کی طرف ان کا رجحان نمایاں ہونے لگا۔

ان کے فنی سفر کے ابتدائی دور میں معروف ادیب اشفاق احمد کے ڈرامے “اُچے برج لاہور دے” کا ذکر بھی ملتا ہے۔ کم عمری میں نسبتاً بڑی عمر کا کردار ادا کرکے انہوں نے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا اظہار کیا۔

بعد ازاں افضال احمد نے پاکستانی فلمی صنعت کا رخ کیا اور اردو اور پنجابی سمیت مختلف زبانوں کی فلموں میں کام کیا۔ ان کی بھاری آواز، مکالموں کی منفرد ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور مضبوط اسکرین پریزنس نے انہیں ایک الگ شناخت دی۔

انہوں نے اپنے کیریئر میں صرف ایک مخصوص قسم کے کردار تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ منفی کردار ہوں، سنجیدہ کردار یا معاون کردار—افضال احمد نے مختلف انداز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی معروف فلموں میں آخری مقابلہ، شریف بدمعاش، وحشی جٹ، چن وریام اور جٹ اِن لندن سمیت متعدد فلمیں شامل ہیں۔

فلم کے ساتھ ان کا تعلق تھیٹر سے بھی مضبوط رہا اور لاہور کے معروف تماثیل تھیٹر سے بھی ان کا نام وابستہ رہا۔

زندگی کے آخری برسوں میں بیماری اور فالج کے باعث ان کی سرگرمیاں بہت محدود ہوگئیں۔ طویل علالت کے بعد 2 دسمبر 2022 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوگیا۔

مگر کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی آواز، مکالمے اور یادگار کردار پاکستانی سینما کی یادوں کا حصہ ہیں۔

جھنگ کے اس فنکار کی کون سی فلم، کردار یا مکالمہ آپ کو آج بھی یاد ہے؟

اپنی یادیں کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔

جھنگ ٹاکس— جھنگ کی بات، جھنگ کے ساتھ

جھنگ کے تین تھانوں کے SHO's تبدیل
29/08/2026

جھنگ کے تین تھانوں کے SHO's تبدیل

اویس حبیب ایس ایچ او تھانہ اٹھارہ ہزاری تعینات
29/08/2026

اویس حبیب ایس ایچ او تھانہ اٹھارہ ہزاری تعینات

قسط نمبر|| 06 ||محمد عمران ساجد خان صاحب — پل باھڑ کوٹ بہادر شاہ صحافی و سماجی شخصیت محمد عمران ساجد کا شمار تحصیل احمد ...
29/08/2026

قسط نمبر|| 06 ||
محمد عمران ساجد خان صاحب — پل باھڑ کوٹ بہادر شاہ

صحافی و سماجی شخصیت
محمد عمران ساجد کا شمار تحصیل احمد پور سیال کے ممتاز، باوقار اور فعال صحافیوں میں ہوتا ھے.
آپ صحافت کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی وابستہ ہیں. آپ بطور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن تحصیل احمد پور سیال اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں.
ان کی پہچان ان کا خلوص ہے، ان کی طاقت ان کی محنت اور ان کی شخصیت کی خوبصورتی ان کا کردار ہے۔
محمد عمران ساجد خان صاحب ایک نہایت ایماندار، مخلص، محنتی، باکردار اور اعلیٰ ظرف انسان ہیں، جو کہ بہت سی خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ایسے لوگ اپنے کردار سے دوسروں کے دلوں میں عزت اور محبت پیدا کرتے ہیں۔
خان صاحب ایک چھوٹی سی فیملی سے رکھنے کے باوجود محنت کرکے اپنے علاقہ اور اپنی قوم بلوچ کی پہچان بنے۔
دعا ہے کہ رب العالمین خان صاحب محمد عمران ساجد کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے . انکو مزید عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے اور انہیں اسی جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین 🤲

قسط نمبر 05 جھنگ کی نامور شخصیات نذیر ناجی — جھنگ سے قومی صحافت تکپاکستان کی اردو صحافت اور سیاسی کالم نگاری کا ایک بڑا ...
29/08/2026

قسط نمبر 05
جھنگ کی نامور شخصیات

نذیر ناجی — جھنگ سے قومی صحافت تک

پاکستان کی اردو صحافت اور سیاسی کالم نگاری کا ایک بڑا نام نذیر ناجی بھی جھنگ سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔

نذیر ناجی کا ابتدائی زمانہ جھنگ میں گزرا۔ ان کے خاندان نے قیامِ پاکستان سے بھی پہلے فرید کوٹ سے آ کر جھنگ میں سکونت اختیار کی تھی۔ دستیاب سوانحی تحریروں کے مطابق محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود مطالعے، شاعری اور لکھنے سے ان کی دلچسپی نے بالآخر انہیں صحافت کی دنیا تک پہنچایا۔

ان کے صحافتی سفر کی ابتدا فیصل آباد، اُس وقت کے لائل پور، سے ہوئی جہاں انہوں نے صحافت سے وابستگی اختیار کی۔ بعد ازاں لاہور اور کراچی کے صحافتی حلقوں تک پہنچے اور رفتہ رفتہ اردو صحافت میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ایک تحریری حوالہ انہیں ابتدائی دور میں لائل پور کے ایک روزنامے کا سب ایڈیٹر بھی بتاتا ہے۔

نذیر ناجی کی اصل پہچان ان کی سیاسی کالم نگاری اور تجزیے بنے۔ وہ روزنامہ جنگ میں 27 سال تک سینئر کالم نگار رہے۔ ان کے کالم قومی سیاست اور ملکی معاملات پر ان کے مخصوص تجزیاتی انداز کی وجہ سے پڑھے جاتے تھے۔

بعد ازاں 2012 میں انہوں نے روزنامہ دنیا میں بطور گروپ ایڈیٹر شمولیت اختیار کی، جہاں ان کا کالم “سویرے سویرے” بھی شائع ہوتا رہا۔

صحافت کے ساتھ ساتھ نذیر ناجی نے پاکستان کے اہم قومی ادبی ادارے پاکستان اکادمی ادبیات (Pakistan Academy of Letters) کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

ان کی طویل صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا۔

21 فروری 2024 کو نذیر ناجی لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ اردو سیاسی کالم نگاری کے ایک طویل دور کا اختتام ہوا۔

جھنگ نے سائنس، ادب، سیاست، کھیل اور موسیقی کے ساتھ ساتھ قومی صحافت کو بھی بڑے نام دیے — نذیر ناجی انہی ناموں میں سے ایک تھے۔

کیا آپ نذیر ناجی کے کالم پڑھتے رہے ہیں؟
ان کی کون سی بات یا تحریر آپ کو آج بھی یاد ہے؟

ماخذ: Dawn، APP، روزنامہ دنیا اور دیگر شائع شدہ سوانحی حوالہ جات

جھنگ ٹاکس — جھنگ کی بات، جھنگ کے ساتھ

Address

Kot Bahadar Shah Jhang Saddar
Jhang Sadar
512786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JHANG TALK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category