Yadoon Ka Saffar

Yadoon Ka Saffar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Yadoon Ka Saffar, Art, Chak no 147 GB, Jaranwala.

السلام علیکم دوستو! 🌸
ہم نے ایک نیا صفحہ شروع کیا ہے جہاں آپ کو دلچسپ، سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں باب بہ باب پڑھنے کو ملیں گی۔
تو ہمارے ساتھ جڑ جائیں اور اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔ آپ کی حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت قیمتی ہے۔ ❤️ ✨

✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…ایسی کہانی جو شاید آپ نے آج سے پہلے کبھی نہ پڑھی ہو…📖 پائنتیباب چہارم — اجنبی مہما...
02/08/2026

✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…
ایسی کہانی جو شاید آپ نے آج سے پہلے کبھی نہ پڑھی ہو…

📖 پائنتی

باب چہارم — اجنبی مہمان کا تعارف

«"میں نے دیکھا تھا فقط ذوقِ نظر کی خاطر،
کیا خبر تھی کہ رگ رگ میں سما جائے گا وہ۔"»

شہزاد ابھی تک اسی اجنبی چہرے کے خیالوں میں گم تھا۔

اس نے آہستہ سے میری طرف دیکھا اور بولا:

"یار… ذرا پتا تو کرو، یہ اجنبی حسینہ کون ہے؟"

میں نے ہنستے ہوئے کہا:

"کر لیتے ہیں جناب… ابھی سب پتا چل جائے گا۔"

اتنے میں ہماری طرف سے مہندی لے جانے کی تیاری شروع ہو گئی۔ شہزاد نے کہا:

"چلو گھر چلتے ہیں، کپڑے بدل لیتے ہیں۔"

میں نے مذاق کرتے ہوئے جواب دیا:

"ابھی تو ہم اپنے پیارے ٹورنامنٹ کے سوگ میں ہیں، ابھی کپڑے بدلنے کی کیا ضرورت ہے؟"

شہزاد فوراً بولا:

"یار… لوگ ہماری طرف دیکھ کر باتیں کر رہے ہیں۔"

میں نے مسکرا کر پوچھا:

"لوگ… یا وہ اجنبی حسینہ؟"

میری بات سن کر وہ صرف مسکرا دیا، اور ہم دونوں گھر آ گئے۔ کپڑے بدلے، مہندی کے لیے سلے ہوئے نئے لباس پہنے اور دوبارہ شادی والے گھر پہنچ گئے۔

وہ لڑکی اب بھی ردا کے ساتھ کھڑی تھی۔

میں سیدھا ردا کے پاس جا پہنچا۔ اس نے مجھے دیکھا تو حسبِ عادت شرارت سے ٹھینگا دکھا دیا۔ ہم دونوں ہم عمر کزن تھے، اس لیے ایسی نوک جھونک معمول کی بات تھی۔

میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھ کر پوچھا:

"آخر بتاؤ بھی… یہ کون ہیں؟ ہم تو جانے کے لیے مرے جا رہے ہیں!"

ردا نے ہنستے ہوئے کہا:

"آپ اپنی فکر کریں… ہمارے شہزاد بھائی کے بارے میں کچھ نہ کہیں، وہ دنیا کے سب سے اچھے کزن ہیں۔"

پھر اس نے اُس لڑکی کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا:

"اور آپ ان سے ذرا بچ کے رہیے گا… ان کو ہر خوبصورت لڑکی سے سچا عشق ہو جاتا ہے۔"

میں نے فوراً ردا کو گھورا اور کہا:

"اب تعارف بھی کروا دو۔"

ردا مسکرائی اور بولی:

"یہ ثنا ہیں… میرے چچا نذیر کی بیٹی۔ چچا جان پاکستان ایئر فورس میں ایک اچھے عہدے پر فائز رہے ہیں، اور اب فیصل آباد میں رہتے ہیں۔"

ثنا نے نہایت سادگی سے سر پر دوپٹہ درست کیا، آہستہ سے سلام کیا، اور میں نے سلام کا جواب دیا۔

ردا نے میرا تعارف کرواتے ہوئے کہا:

"یہ اسد بھائی ہیں… ندا باجی کے دیور، میرے خالہ زاد بھائی… اور ہمارے خاندان کے سب سے بڑے شیطان!"

میں فوراً بولا:

"نہیں جی… میں خاندانی شیطان ہوں!"

میری بات سنتے ہی ثنا بے اختیار ہنس پڑی۔

ایسا لگا جیسے فضا میں ایک ساتھ کئی گھنٹیاں بج اٹھیں۔

وہ پہلی ہنسی شاید شہزاد کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گئی تھی… اور مجھے اس وقت بھی محسوس ہو گیا تھا کہ میرے دوست کا دل اب پہلے جیسا نہیں رہا۔

❤️ جاری ہے…

اگلی قسط:
باب پنجم — بارات، پہلی گفتگو اور محبت کی پہلی کرن

✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…ایسی کہانی جو شاید آپ نے آج سے پہلے کبھی نہ پڑھی ہو…📖 پائنتیباب سوم — پہلی نظر، ای...
01/08/2026

✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…
ایسی کہانی جو شاید آپ نے آج سے پہلے کبھی نہ پڑھی ہو…

📖 پائنتی

باب سوم — پہلی نظر، ایک انجان احساس

«"بعض ملاقاتیں قسمت پہلے ہی لکھ چکی ہوتی ہیں،
انسان تو صرف مقررہ وقت پر اُن سے ملتا ہے۔"»

امی کے انتقال کے بعد زندگی جیسے خاموش ہو گئی تھی۔ گھر میں پہلے جیسی رونق نہ رہی، لیکن وقت کا ایک اصول ہے… وہ کسی کے لیے نہیں رکتا۔

میں اور شہزاد بھی آہستہ آہستہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے لگے۔ دکھ ابھی بھی ہمارے دلوں میں زندہ تھا، مگر شہزاد ہر لمحہ میرا سہارا بنا رہا۔ شاید اسی لیے ہماری دوستی ہر گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔

انہی دنوں میرے بڑے بھائی کی شادی طے ہو گئی۔

کافی عرصے بعد ہمارے گھر میں خوشیوں نے دوبارہ دستک دی۔ رشتے داروں کی آمد، مہندی کی تیاریاں، ہنسی مذاق اور ہر طرف ایک الگ ہی رونق تھی۔

لیکن ایک عجیب بات ہوئی…

مہندی والے دن ہماری کرکٹ ٹیم کا فائنل میچ تھا۔ کھیل ختم ہوتے ہی میں اور شہزاد سیدھے شادی والے گھر پہنچے۔ شہزاد میچ ہارنے کی وجہ سے کافی خاموش تھا۔ میں بار بار اسے ہنسانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر وہ صرف ہلکا سا مسکرا دیتا تھا۔

شام ڈھل رہی تھی…

گھر رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ ڈھولکی کی تھاپ، قہقہوں کی آوازیں اور مہندی کی خوشبو پورے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔

اسی شور میں اچانک…

میری نظر ایک ایسے چہرے پر جا کر رک گئی، جسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

سادہ لباس، جھکی ہوئی نظریں، چہرے پر عجیب سی معصومیت اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ…

وہ دلہن کے ساتھ کھڑی تھی۔

میں چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔

میں نے فوراً شہزاد کی طرف دیکھا…

وہ بھی اسی طرف دیکھ رہا تھا۔

میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہنستے ہوئے کہا:

"کیا بات ہے جناب…؟ آج کرکٹ کے میچ سے زیادہ دلچسپ کوئی اور منظر لگ رہا ہے!"

وہ فوراً چونک گیا۔

"نہیں یار… ایسی کوئی بات نہیں۔"

لیکن میں اسے بچپن سے جانتا تھا۔

اس کی خاموشی بہت کچھ کہہ رہی تھی۔

وہ پہلی بار کسی کو اتنی دیر تک دیکھ رہا تھا۔

شاید وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کے دل میں کیا ہو رہا ہے۔

اور شاید قسمت بھی اسی لمحے خاموشی سے ایک نئی کہانی لکھ رہی تھی…

ہم دونوں کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آج کی یہ مختصر سی ملاقات آنے والے برسوں میں ہماری زندگی کا سب سے خوبصورت، اور پھر سب سے دردناک باب بن جائے گی۔

«"محبت اکثر شور سے نہیں آتی…
وہ خاموشی سے دل میں اترتی ہے،
اور پھر پوری زندگی پر اپنا نام لکھ دیتی ہے۔"»

❤️ جاری ہے…

کیا شہزاد واقعی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا؟
وہ پراسرار لڑکی کون تھی؟
اور قسمت نے ان دونوں کے لیے کیا لکھ رکھا تھا؟

جاننے کے لیے انتظار کیجیے… باب چہارم کا۔

قسط نمبر 02✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…✨ ایسی کہانی جو آپ نے آج سے پہلے شاید کبھی نہ پڑھی ہوگی…📖 پائنتی — ایک ...
31/07/2026

قسط نمبر 02
✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…
✨ ایسی کہانی جو آپ نے آج سے پہلے شاید کبھی نہ پڑھی ہوگی…
📖 پائنتی — ایک لازوال محبت، دوستی اور وفا کی داستان
🌹 باب دوم: زندگی کا وہ موڑ جس نے سب کچھ بدل دیا 🌹
بعض اوقات زندگی ہنستے کھیلتے انسان کو اچانک ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں خوشیوں کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔
انسان سوچتا ہے کہ زندگی ہمیشہ اسی طرح چلتی رہے گی…
وہی گھر کی رونقیں، وہی اپنوں کی آوازیں، وہی محبت بھرے لمحے…
لیکن وقت اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔
میری اور شہزاد کی دوستی اپنی جگہ قائم تھی۔ ہم بچپن سے جوانی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ زندگی کے راستے آہستہ آہستہ بدل رہے تھے، خواب بڑے ہو رہے تھے اور مستقبل کے نئے دروازے کھل رہے تھے۔
شہزاد اپنی تعلیم میں ہمیشہ سنجیدہ رہا۔ وہ محنتی، نرم مزاج اور ذمہ داری کو سمجھنے والا انسان تھا، جبکہ میں کھیلوں اور اپنی شرارتوں میں زیادہ مشہور تھا۔ لیکن ہماری دوستی میں کبھی کوئی فرق نہ آیا۔
پھر زندگی نے ایسا امتحان لیا جس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

سال 2004 ہماری زندگی کا وہ سال تھا جسے ہم کبھی بھلا نہیں سکتے۔
وہ ہستی جس کی محبت نے ہمارے گھر کو جنت بنا رکھا تھا…
وہ ماں جس کی دعاؤں کے سائے میں ہم نے زندگی کے سب سے خوبصورت دن گزارے تھے…
وہ ہم سے جدا ہو گئی۔
8 اپریل 2004 کو میری والدہ صاحبہ ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی گئیں۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے ہمارے گھر کی ساری رونق، ساری خوشیاں اور سارا سکون ایک ساتھ چھن گیا ہو۔
ماں صرف ایک رشتہ نہیں ہوتی…
ماں وہ سایہ ہوتی ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان بڑے سے بڑے غم کو بھی برداشت کر لیتا ہے۔
میں اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔ زندگی کی رونقیں جیسے ختم ہو گئی تھیں۔ میں نے کالج جانا چھوڑ دیا، لوگوں سے ملنا کم کر دیا اور خود کو دنیا سے الگ کر لیا۔
لیکن اس مشکل وقت میں ایک شخص ایسا تھا جو میرے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔
وہ تھا… میرا دوست شہزاد۔
اس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔ وہ ہر لمحہ میرے ساتھ رہا، میری خاموشی کو سمجھا، میرے آنسوؤں کو محسوس کیا اور مجھے دوبارہ زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتا رہا۔
کچھ لوگ صرف خوشیوں کے ساتھی ہوتے ہیں، لیکن اصل دوست وہ ہوتا ہے جو انسان کے دکھ میں اس کا ہاتھ تھام لے۔
شہزاد میرے لیے صرف دوست نہیں تھا…
وہ میرا بھائی، میرا سہارا اور میری زندگی کا وہ حصہ تھا جس کے بغیر میں خود کو ادھورا محسوس کرتا تھا۔
وقت گزرتا گیا، زخم گہرے تھے لیکن شہزاد کی محبت اور ساتھ نے مجھے دوبارہ سنبھلنے کا حوصلہ دیا۔
ہمیں کیا معلوم تھا کہ زندگی ابھی ہمیں مزید آزمائشوں سے گزارنے والی ہے…
اور آنے والے وقت میں ہماری یہ دوستی ایک ایسی داستان بننے والی ہے جسے لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

❤️ جاری ہے…

📌 اگلی قسط:
🌹 باب سوم: محبت کی پہلی دستک

✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…✨ ایسی کہانی جو آپ نے آج سے پہلے شاید کبھی نہ پڑھی ہوگی…📖 پائنتی — ایک لازوال محبت...
30/07/2026

✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…
✨ ایسی کہانی جو آپ نے آج سے پہلے شاید کبھی نہ پڑھی ہوگی…

📖 پائنتی — ایک لازوال محبت، دوستی اور وفا کی داستان

🌹 باب اول: دوستی کے وہ دن 🌹

کچھ رشتے قسمت بناتی ہے…
اور کچھ رشتے انسان خود اپنے خلوص، محبت اور وفا سے بناتا ہے۔

دنیا میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ وقت کے ساتھ دور ہو جاتے ہیں، کچھ یادوں میں رہ جاتے ہیں، لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کا ایسا حصہ بن جاتے ہیں کہ ان کے بغیر انسان خود کو ادھورا محسوس کرنے لگتا ہے۔

یہ کہانی ہے ایسی ہی ایک دوستی کی…
ایک ایسے رشتے کی جس میں بچپن کی معصومیت بھی ہے، جوانی کی یادیں بھی، محبت کی پاکیزگی بھی اور وفا کی وہ مثال بھی جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔

میرا نام اسد بلوچ ہے، اور آج میں اپنی زندگی کے وہ صفحات آپ کے سامنے کھولنے جا رہا ہوں جن میں خوشیاں بھی ہیں، آنسو بھی ہیں، بچھڑنے کے درد بھی ہیں اور کچھ ایسے لمحے بھی ہیں جو ہمیشہ کے لیے دل پر نقش ہو گئے۔

یہ صرف ایک کہانی نہیں…
یہ احساسات کا وہ سفر ہے جس میں آپ کبھی مسکرائیں گے، کبھی خاموش ہو جائیں گے اور شاید کبھی اپنی آنکھوں کو نم ہونے سے روک نہ پائیں گے۔

اس کہانی کے تمام کرداروں کے نام فرضی ہیں، اور کسی بھی حقیقی شخص سے مماثلت محض اتفاق ہو سکتی ہے۔

ہم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک ایسے گاؤں میں پیدا ہوئے جہاں مٹی میں اپنائیت تھی، لوگوں کے دلوں میں خلوص تھا اور رشتوں کی قدر آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ محسوس ہوتی تھی۔

میری زندگی کا سب سے خاص انسان میرا کزن اور میرا دوست شہزاد تھا۔

ہمارے خاندان کے رشتے پہلے ہی بہت مضبوط تھے۔ میرے والد صاحب اور شہزاد کے والد صاحب سگے بھائی تھے، جبکہ ہماری والدائیں بھی آپس میں بہنیں تھیں۔ اسی وجہ سے ہمارا بچپن ایک ہی گھر کے ماحول میں گزرا۔

میں اور شہزاد عمر میں صرف چند دنوں کے فرق سے پیدا ہوئے۔ میں 20 دسمبر 1985 کو پیدا ہوا جبکہ شہزاد 31 دسمبر 1985 کو دنیا میں آیا۔ بچپن سے ہی میں ان چند دنوں کا رعب اس پر جمایا کرتا تھا۔

ہم نے آنکھ کھولی تو ایک دوسرے کو اپنے قریب پایا۔
ایک ساتھ کھیلنا، ایک ساتھ سکول جانا، ایک دوسرے کی شرارتوں میں شریک ہونا… یہ سب ہماری زندگی کا معمول تھا۔

پانچ سال کی عمر میں ہم دونوں ایک ساتھ سکول میں داخل ہوئے۔ تعلیم کا سفر بھی ساتھ شروع ہوا اور زندگی کے کئی راستے بھی ساتھ طے کیے۔

لیکن ہماری طبیعتیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔

شہزاد بچپن سے ہی بہت سلجھا ہوا، نرم دل اور سنجیدہ مزاج تھا۔ وہ ہر کام سوچ سمجھ کر کرتا، جبکہ میں شرارتی، بے فکر اور ہر وقت ہنسی مذاق کرنے والا لڑکا تھا۔

گھر والے اکثر مجھے شہزاد کی مثال دیتے کہ دیکھو وہ کتنا محنتی اور اچھا بچہ ہے… اور تم کتنے شرارتی ہو۔

لیکن شاید اللہ نے ہماری دوستی میں یہی خوبصورتی رکھی تھی کہ ہم ایک دوسرے کی کمی پوری کرتے تھے۔

وہ میری شرارتوں کو برداشت کرتا اور میں اس کی خاموش طبیعت میں زندگی کی رونقیں بھر دیتا۔

ہم حقیقی معنوں میں ایک جان دو قالب تھے۔

ہمارا کمرہ بھی ایک ہی تھا، ہماری محفلیں بھی ایک ہی تھیں اور ہماری خوشیاں بھی مشترکہ تھیں۔ وقت گزرتا گیا لیکن ہماری دوستی کم ہونے کے بجائے اور مضبوط ہوتی گئی۔

کھیلوں میں بھی ہماری جوڑی مشہور تھی۔ کرکٹ ہمارا جنون تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ میدان میں اترتے تو لوگوں کی نظریں ہم پر ہوتیں۔ ہماری شرٹس پر بھی ایک دوسرے کے نام لکھے ہوتے تھے، جیسے میدان میں بھی ہماری دوستی سب کو نظر آتی رہے۔

زندگی کے وہ دن کتنے خوبصورت تھے…
نہ کوئی فکر تھی، نہ کوئی پریشانی۔ بس دو دوست تھے، کچھ خواب تھے اور ساتھ گزارے ہوئے بے شمار لمحے تھے۔

ہمیں کیا معلوم تھا کہ وقت کے ساتھ زندگی ہمیں ایسے موڑ دکھانے والی ہے جہاں یہ دوستی آزمائشوں سے گزرے گی، جہاں محبت کے معنی بدلیں گے اور جہاں وفا کی ایک نئی داستان لکھی جائے گی۔

کیونکہ بعض کہانیاں صرف لکھی نہیں جاتیں…
وہ دلوں پر لکھی جاتی ہیں۔

❤️ جاری ہے…

📌 اگلی قسط:
🌹 باب دوم: وہ حادثہ جس نے زندگی کا رخ بدل دیا

🌹✨ پہلی سچی کہانی آپکی خدمت میں  ✨🌹کبھی ایک وقت تھا!!!جب ایک سادہ سا لڑکا، محدود وسائل کے ساتھ، ہاتھ میں کتابیں لیے اپنے...
29/07/2026

🌹✨ پہلی سچی کہانی آپکی خدمت میں ✨🌹

کبھی ایک وقت تھا!!!
جب ایک سادہ سا لڑکا، محدود وسائل کے ساتھ، ہاتھ میں کتابیں لیے اپنے خوابوں کے پیچھے چل رہا تھا۔ شاید اُس وقت کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہی لڑکا ایک دن اپنے والدین کی خوشی، اپنے خاندان کا فخر اور اپنے گاؤں کی پہچان بن جائے گا۔
یہ کہانی ہے ایک ایسے نوجوان کی جس نے حالات سے ہار نہیں مانی، جس نے آسان راستوں کا انتظار نہیں کیا بلکہ اپنی محنت سے اپنا راستہ خود بنایا۔
یہ کہانی ہے چک نمبر 379، تحصیل جڑانوالہ، ضلع فیصل آباد کے سپوت
وسیم علی شاہین ولد امیر علی کی۔
وسیم علی شاہین کا تعلق ایک سادہ اور محنت کش گھرانے سے تھا۔ زندگی میں سہولتیں محدود تھیں، مگر خواب بہت بڑے تھے۔ والدین کی دعائیں، اپنی محنت اور اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین وہ سرمایہ تھا جس کے ساتھ اس نوجوان نے کامیابی کا سفر شروع کیا۔
بچپن سے ہی تعلیم کو اپنی طاقت بنایا۔
چک نمبر 378 کے بیان کچک سکول سے سائنس کے ساتھ میٹرک اچھے نمبروں میں پاس کیا، پھر ایف ایس سی پری انجینئرنگ مکمل کی۔ اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر یو ای ٹی لاہور میں سکالرشپ حاصل کی اور وہاں سے بی ایس کی تعلیم مکمل کی۔
یہاں سے اس کے خوابوں نے ایک نئی پرواز شروع کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وسیم علی شاہین کو دبئی میں کام کرنے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے چار سال اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، کرونا کے مشکل دور میں جب بہت سے لوگ پریشان تھے، اس نوجوان نے ہمت نہیں ہاری۔
گھر واپس آ کر بھی محنت کا سفر جاری رکھا۔ ورک فرام ہوم کے ذریعے مختلف کمپنیوں کے لیے بہترین خدمات انجام دیں، اپنی قابلیت ثابت کی اور ترقی کی منزلیں طے کرتے گئے۔
لیکن اصل کامیابی صرف عہدہ، نوکری یا دولت کا نام نہیں…
اصل کامیابی انسان کا کردار ہوتا ہے۔
وسیم علی شاہین آج بھی اپنی عاجزی، نرم مزاجی اور اچھے اخلاق کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ اپنے والدین کی عزت اور خدمت کو اپنی کامیابی کا سب سے بڑا حصہ سمجھتے ہیں۔
وسیم علی شاھین خود کہتے ہیں:

"ایک وقت تھا جب میں سکول جانے کے لیے بھی محدود وسائل کے ساتھ گزارا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے کرم کیا، والدین کی دعائیں ساتھ رہیں اور آج جو کچھ بھی ہے وہ اسی کا فضل ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ سعادت بھی دی کہ وہ اپنے والدین کو حج کی مبارک سعادت حاصل کروا سکے۔
خوبصورت آواز میں تلاوت قرآن، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے محبت ان کی شخصیت کے وہ پہلو ہیں جو انہیں صرف کامیاب نہیں بلکہ قابل احترام بھی بناتے ہیں۔
زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب انہوں نے مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے لیے کوشش کی۔ دو مرتبہ کامیابی نہ مل سکی، مگر انہوں نے ہمت نہیں چھوڑی۔
کیونکہ کامیاب لوگ ناکامی کو اختتام نہیں سمجھتے، بلکہ اسے اپنی اگلی کامیابی کی تیاری بناتے ہیں۔
پھر وہ وقت آیا جب محنت رنگ لے آئی۔
پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے امتحان میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے وسیم علی شاہین نے پورے پنجاب میں نمایاں پوزیشن حاصل کی، جس کے بعد انہیں سپیشل برانچ میں 17 گریڈ افسر کے طور پر منتخب کیا گیا۔
یہ صرف ایک نوجوان کی کامیابی نہیں تھی…
یہ ایک ماں باپ کی دعاؤں کی جیت تھی۔
یہ ایک خاندان کی محنت کی جیت تھی۔
یہ ایک گاؤں کے خوابوں کی جیت تھی۔
وسیم علی شاہین کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
"حالات انسان کے خواب چھوٹے کر سکتے ہیں، لیکن محنت، دعا اور یقین رکھنے والا انسان اپنی قسمت بدل سکتا ہے۔"
آج چک نمبر 379 کا یہ بیٹا اپنے گھر والوں، دوستوں اور پورے علاقے کے لیے باعث فخر ہے۔
اسی خاندان کا ایک اور قابل فخر نام ان کے بڑے بھائی ندیم علی ہیں، جنہوں نے بھی اپنی محنت اور قابلیت سے تعلیم حاصل کی اور آج ایک اچھی پوزیشن پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
🌹 یادوں کا سفر کی طرف سے وسیم علی شاہین اور ان کے خاندان کو کامیابی کے اس خوبصورت سفر پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ 🌹
اور اگر آپ کے علاقے میں بھی کوئی ایسی شخصیت موجود ہے جس کی محنت، کردار اور کامیابی دوسروں کے لیے مثال ہے، تو ہمیں ضرور بتائیں۔
شاید اگلی کہانی… آپ کے گاؤں کے کسی سپوت کی ہو۔



Address

Chak No 147 GB
Jaranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yadoon Ka Saffar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category