02/08/2026
✨ دوستی اور محبت کی ایک لازوال داستان…
ایسی کہانی جو شاید آپ نے آج سے پہلے کبھی نہ پڑھی ہو…
📖 پائنتی
باب چہارم — اجنبی مہمان کا تعارف
«"میں نے دیکھا تھا فقط ذوقِ نظر کی خاطر،
کیا خبر تھی کہ رگ رگ میں سما جائے گا وہ۔"»
شہزاد ابھی تک اسی اجنبی چہرے کے خیالوں میں گم تھا۔
اس نے آہستہ سے میری طرف دیکھا اور بولا:
"یار… ذرا پتا تو کرو، یہ اجنبی حسینہ کون ہے؟"
میں نے ہنستے ہوئے کہا:
"کر لیتے ہیں جناب… ابھی سب پتا چل جائے گا۔"
اتنے میں ہماری طرف سے مہندی لے جانے کی تیاری شروع ہو گئی۔ شہزاد نے کہا:
"چلو گھر چلتے ہیں، کپڑے بدل لیتے ہیں۔"
میں نے مذاق کرتے ہوئے جواب دیا:
"ابھی تو ہم اپنے پیارے ٹورنامنٹ کے سوگ میں ہیں، ابھی کپڑے بدلنے کی کیا ضرورت ہے؟"
شہزاد فوراً بولا:
"یار… لوگ ہماری طرف دیکھ کر باتیں کر رہے ہیں۔"
میں نے مسکرا کر پوچھا:
"لوگ… یا وہ اجنبی حسینہ؟"
میری بات سن کر وہ صرف مسکرا دیا، اور ہم دونوں گھر آ گئے۔ کپڑے بدلے، مہندی کے لیے سلے ہوئے نئے لباس پہنے اور دوبارہ شادی والے گھر پہنچ گئے۔
وہ لڑکی اب بھی ردا کے ساتھ کھڑی تھی۔
میں سیدھا ردا کے پاس جا پہنچا۔ اس نے مجھے دیکھا تو حسبِ عادت شرارت سے ٹھینگا دکھا دیا۔ ہم دونوں ہم عمر کزن تھے، اس لیے ایسی نوک جھونک معمول کی بات تھی۔
میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھ کر پوچھا:
"آخر بتاؤ بھی… یہ کون ہیں؟ ہم تو جانے کے لیے مرے جا رہے ہیں!"
ردا نے ہنستے ہوئے کہا:
"آپ اپنی فکر کریں… ہمارے شہزاد بھائی کے بارے میں کچھ نہ کہیں، وہ دنیا کے سب سے اچھے کزن ہیں۔"
پھر اس نے اُس لڑکی کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا:
"اور آپ ان سے ذرا بچ کے رہیے گا… ان کو ہر خوبصورت لڑکی سے سچا عشق ہو جاتا ہے۔"
میں نے فوراً ردا کو گھورا اور کہا:
"اب تعارف بھی کروا دو۔"
ردا مسکرائی اور بولی:
"یہ ثنا ہیں… میرے چچا نذیر کی بیٹی۔ چچا جان پاکستان ایئر فورس میں ایک اچھے عہدے پر فائز رہے ہیں، اور اب فیصل آباد میں رہتے ہیں۔"
ثنا نے نہایت سادگی سے سر پر دوپٹہ درست کیا، آہستہ سے سلام کیا، اور میں نے سلام کا جواب دیا۔
ردا نے میرا تعارف کرواتے ہوئے کہا:
"یہ اسد بھائی ہیں… ندا باجی کے دیور، میرے خالہ زاد بھائی… اور ہمارے خاندان کے سب سے بڑے شیطان!"
میں فوراً بولا:
"نہیں جی… میں خاندانی شیطان ہوں!"
میری بات سنتے ہی ثنا بے اختیار ہنس پڑی۔
ایسا لگا جیسے فضا میں ایک ساتھ کئی گھنٹیاں بج اٹھیں۔
وہ پہلی ہنسی شاید شہزاد کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گئی تھی… اور مجھے اس وقت بھی محسوس ہو گیا تھا کہ میرے دوست کا دل اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
❤️ جاری ہے…
اگلی قسط:
باب پنجم — بارات، پہلی گفتگو اور محبت کی پہلی کرن