Muhammed Al Haşmi

  • Home
  • Muhammed Al Haşmi

Muhammed Al Haşmi Muhammed Al Haşmi
Just living, learning, and growing. Welcome to my personal space.

19/06/2026
فروغِ شمعِ تمنّا بجھا کے بیٹھے ہیں،ہم اپنے دل کا جہاں لٹا کے بیٹھے ہیں۔نگاہِ یار کا دیدار بھی نصیب نہ تھا،خیالِ یار کو د...
07/06/2026

فروغِ شمعِ تمنّا بجھا کے بیٹھے ہیں،
ہم اپنے دل کا جہاں لٹا کے بیٹھے ہیں۔

نگاہِ یار کا دیدار بھی نصیب نہ تھا،
خیالِ یار کو دل میں بسا کے بیٹھے ہیں۔

سکوتِ شام سے پوچھو مآلِ ہجر مرا،
ہم ایک عمر کا ماتم منا کے بیٹھے ہیں۔

Poet: Muhammed Al Haşmi
Book : محراب وصال
Date : 8 June 2026 / 12:16am

غروبِ مہر سے کہہ دو، ابھی سفر باقی ہےمرے وجود میں خوابوں کا اک شجر باقی ہے۔یہ کوہ و دشت، یہ خاموش شام کی رنگینیگواہ ہیں ...
06/06/2026

غروبِ مہر سے کہہ دو، ابھی سفر باقی ہے
مرے وجود میں خوابوں کا اک شجر باقی ہے۔

یہ کوہ و دشت، یہ خاموش شام کی رنگینی
گواہ ہیں کہ مرے دل میں اک اثر باقی ہے۔

زمانہ گردِ سفر بن کے مجھ پہ چھاتا رہا
مگر نگاہ میں منزل کا معتبر باقی ہے۔

میں اپنی ذات کے زنداں سے خود نکل آؤں گا
مرے ضمیر میں پرواز کا ہنر باقی ہے۔

ڈھلتا ہوا سورج بھی یہ درس دے گیا مجھ کو
فنا کے بعد بھی انسان کا ثمر باقی ہے۔

Poet: Muhammed Al Haşmi
Title : سفر باقی ہے
Book : محراب وصال
Date : 6 June 2026 / 11:34 pm

゚

Bilal Ahmad

درِ فراقِ محبوب۔وہ ماہ وش، چمن زار میں، نورِ سحر لیے کھڑی تھی  نگاہِ شوق آسماں پر، دعا میں بے خبر کھڑی تھی  نہ حرفِ التج...
06/06/2026

درِ فراقِ محبوب۔

وہ ماہ وش، چمن زار میں، نورِ سحر لیے کھڑی تھی
نگاہِ شوق آسماں پر، دعا میں بے خبر کھڑی تھی

نہ حرفِ التجا لبوں پر، نہ اس کو میری جستجو تھی
میں سایہ وار دور تھا، اور وہ جلوے میں بسر کھڑی تھی

اجل نے آ کے چھین لی وہ جبینِ نور، اس طرح سے
کہ اب فقط یہ خاک اڑتی، مزارِ درد پر کھڑی تھی

Poetry Name: درِ فراقِ محبوب
Poet. : Muhammed Al Haşmi
Book : محراب وصال
Date. : 06 June 2026 / 6: 24 pm

وقت رخصت پہ تری یاد کا سایہ نہ گیا ۔دل نے روکا بھی مگر اشک چھپایا نہ گیا۔ہم نے خوابوں میں بھی جس کو کبھی چھو نہ سکے ۔وہ ...
01/06/2026

وقت رخصت پہ تری یاد کا سایہ نہ گیا ۔
دل نے روکا بھی مگر اشک چھپایا نہ گیا۔

ہم نے خوابوں میں بھی جس کو کبھی چھو نہ سکے ۔
وہ حقیقت میں ہمیں کیسے ملایا نہ گیا

زخم دل کے بھی تری یاد سے گہرے نکلے ۔
ہجر کا داغ کوئ مرہم سے مٹایا نہ گیا ۔

ہم نے سوچا تھا کہ قسمت کبھی ساتھ دے گی ۔
مگر وہ خواب بھی قسمت سے سجایا نہ گیاi
(ہاشمی)

Poet: Muhammed Al Haşmi
Book: محراب وصال
02/06/2026 _ 12:15am
゚

🆒❤️😎.   ゚
24/05/2026

🆒❤️😎.
゚

23/05/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمان صاحب کی رہائش گاہ پر آمد ۔
۔
゚ Bilal Ahmad

آئینے میں جو چہرہ تھا، بہت خاموش تھا۔ ہر درد زمانے کا جیسے میرے  دوش تھا۔کھڑکیوں سے آتی روشنی بھی تھک سی گئی۔میری  آنکھو...
21/05/2026

آئینے میں جو چہرہ تھا، بہت خاموش تھا۔
ہر درد زمانے کا جیسے میرے دوش تھا۔

کھڑکیوں سے آتی روشنی بھی تھک سی گئی۔
میری آنکھوں میں کہیں ڈوبا ہوا اک ہوش تھا۔

میں اپنے ہی عکس سے ہر روز مخاطب رہا ۔
اور ہر لفظ کے پیچھے چھپا اک نوحہ پوش تھا۔

زندگی ٹائ کی گرہ جیسی اُلجھتی ہی گئی۔
دل مگر تنہائیوں کے شہر میں خاموش تھا۔

میں جو آئینہ اٹھائے ہوئے بیٹھا تھا کبھی۔
اصل میں اپنے ہی بکھرنے کا تماشہ پوش تھا۔

آخری شب جب میں نے غور سے دیکھا خود کو۔
آئینہ بھی رو پڑا… شاید میں بے آغوش تھا۔

Book: محراب وصال۔
Subject: نوحہ آئینہ
Poet: Muhammed Al Haşmi
22-05-2026 /. 2:19 Am

゚

آئینے کی سرد رگوں میں دھڑکتا ہوں میںاپنے ہی عکس کے مقتل میں بکھرتا ہوں میں۔شبِ ہجراں نے جب حسرت کی قبا اوڑھ لی۔ویران دل ...
20/05/2026

آئینے کی سرد رگوں میں دھڑکتا ہوں میں
اپنے ہی عکس کے مقتل میں بکھرتا ہوں میں۔

شبِ ہجراں نے جب حسرت کی قبا اوڑھ لی۔
ویران دل کے دریچوں میں اترتا ہوں میں۔

کوئی سِودا بھی نہ باقی، نہ کوئی ہمرازِ جاں۔
فقط خاموش یالنزلک کو ہی سنتا ہوں میں۔

آئینہ پوچھتا رہتا ہے مرے زخموں کا حساب۔
اور میں ترکِ تمنا کی قسم کھاتا ہوں میں۔

عمر اک ادھوری حکایت، نفس اک ٹوٹا ہوا ساز
عمرُم کے سنسان کناروں پہ ٹھہرتا ہوں میں ۔

جیسے ادھورا خواب ٹوٹے چاند کا حیات۔
اپنے اندر روز تھوڑا تھوڑا مرتا ہوں میں۔

نہ وصال آیا، نہ راحت کی کوئی صبحِ سفید،
فقط حُزن کے اندھیروں میں سُلگتا ہوں میں۔

آخری بار جو دیکھا تھا خود کو آئینے میں۔
اپنی ہی آنکھ کے صحرا میں اترتا ہوں میں۔

Book: محراب وصال
Subject: مقتل عکس
Poet /. Writer : Muhammed Al Haşmi
Poetry no: 12
20-05-2026 / 5:16 AM

゚

08/05/2026

اسلام آباد کی فضائی حدود میں طیاروں کا منظر ۔ ❤️
゚

Address

Islamabad

44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammed Al Haşmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Muhammed Al Haşmi:

Shortcuts

  • Want your establishment to be the top-listed arts & entertainment?

Share