24/06/2026
بابا جی کی فریاد سنیں۔۔۔
بابا جی کا نام منصف ہے۔ راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں چوراہے پر اپنے ضعیف ہاتھوں میں پھول لیکر رات دیر تک بیچتے ہیں۔ چند پیسے کماکر اپنے آشیانے جاکر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
ہمارے پیج سے جڑے ایک نیک دل انسان کامران سعید صاحب انکی مدد کے بہانے ان سے پھول خریدتے ہیں۔ انکے چہرے پر اداسی دیکھ کر بابا جی سے بات چیت کرنے لگتے ہیں اور انکے دل کا حال پوچھتے ہیں کہ آنکھوں میں چمک نہیں اور چہرہ اداس کیوں ہے؟ تو بابا جی کہتے ہیں "بیٹا میرے دو خوبصورت بچے 2006 سے لاپتہ ہیں انکی جدائی نے مجھے ایسا کردیا ہے"۔
یہ سن کر کامران صاحب اپنے خیالوں میں ہمارا پیج سرچ کرکے کھولتے ہیں اور ہمارے سارے کیسز ذہن میں چلنے لگتے ہیں۔ بابا جی کو امید کی ایک کرن دکھاکر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں تفصیل بتائیں ان شاءاللہ بچے مل جائیں گے۔
بابا جی نے بتایا کہ بچوں کے نام محمد یاسر اور وقار ہیں۔ ایک کی عمر سات سال اور ایک کی عمر نو سال تھی۔ انکی تصاویر موجود نہیں ہیں۔ بس میری تصویر لگائیں کیا پتہ وہ میرے چہرے کو دیکھ کر مجھے پہچان لیں اور میری جس ڈانٹ کی وجہ سے گھر سے گئے تھے مجھے دیکھ کر انکا دل نرم ہو اور لوٹ آئیں۔ انکے ایک بھائی کا نام وقاص اور ایک کا نام قیصر ہے۔
اس وقت رہائش ایبٹ آباد کے بیرن گلی محلہ دھب میں ہے۔
مجھے مرنے سے قبل ایک بار بچوں سے ملائیں میرے سارے دکھ ختم ہوجائیں گے۔
بچے شاید ناراض ہوکر کہیں نکل گئے ہوں۔ کسی ڈیرے میں کام کررہے ہونگے یا کسی بٹھے یا شیلٹر میں بند ہوگئے ہونگے۔ ورنہ سات آٹھ سال کے بچے گھر لوٹ سکتے تھے۔
آپ تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ بابا جی کی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔اگر یہ پوسٹ ان بھائیوں تک پہنچتی ہے تو ان سے گزارش ہے کہ آپکے بابا کے سفید بالوں کا واسطہ لوٹ آو۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
23 june 2026