28/07/2026
جدید دور کے نئے قید خانےتکنیک کی خاموش غلامی
تحریر:مریم اقبال آرزو
تصور کیجیے کہ آپ ایک ایسی کھلی اور شفاف دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں کوئی دیوار ہے نہ پاسبان، مگر آپ کا ہر قدم، ہر خیال اور آپ کی ہر سوچ ایک نادیدہ ہاتھ کے اشارے پر حرکت کر رہی ہو! تاریخ کا پہلا انسان جب غار کی تاریکی میں پتھر سے پتھر رگڑ کر آگ جلا رہا تھا، تو اس کا جسم تو جنگلی درندوں کے خوف سے سہما ہوا تھا، مگر اس کی فکر اور اس کا وجود مطلق طور پر آزاد تھا۔ وہ رات کے گھنے سائے میں آسمان کے کھلے کینوس پر ستارے گن سکتا تھا، ہوا کی سرسراہٹ کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کر سکتا تھا، اور اپنے وجود کی گہری خاموشی سے مکالمہ کر سکتا تھا۔ اس کے پاس اینٹ پتھر کے مکانات نہیں تھے، لیکن کوئی ایسا نادیدہ قید خانہ بھی نہیں تھا جو اس کی سوچ اور اس کے لمحاتی احساسات پر پہرے بٹھا دے۔ پھر انسانی شعور نے ارتقاء کے وہ زبردست اور حیران کن مراحل طے کیے کہ صنعتی انقلاب سے لے کر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اس جدید دور تک انسان نے بظاہر کائنات کو تسخیر کر لیا۔ مگر اس عظیم الشان ارتقائی سفر کے دوسرے رخ پر ایک ایسا خاموش اور ہولناک المیہ جنم لے چکا ہے کہ انسان نے اپنے ہی ہاتھوں سے ایسے "نئے قید خانے" تعمیر کر لیے ہیں جن کی سلاخیں لوہے کی ہیں نہ جن پر کوئی مسلح گارڈ کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش اور روح فرسا غلامی ہے جس کا قیدی خود اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگا ہے اور قاری جب اپنے ارد گرد نگاہ دوڑاتا ہے تو اسے ہر شخص اسی قید کا جشن منایا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ماضی کے قید خانے صرف جسم کو پابندِ سلاسل کرتے تھے، مگر جدید دور کا یہ تکنیکی قید خانہ انسان کی روح، اس کی فکر، اور اس کی توجہ کو مکمل طور پر یرغمال بنا لیتا ہے۔ ہم اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں، نرم بستروں پر بیٹھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، حالانکہ ہم درحقیقت ایک چمکتی ہوئی شیشے کی اسکرین کے اسیر بن چکے ہیں۔ اگر ہم جدید نیورو سائنس اور سماجی تحقیقات کے آئینے میں دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ قید خانہ اتفاقیہ طور پر نہیں بنا، بلکہ اسے سلیکون ویلی کی لیبارٹریوں میں بیٹھے رویاتی نفسیات کے ماہرین نے نہایت تکنیکی منصوبہ بندی سے ڈیزائن کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے یہ تمام پلیٹ فارمز انسان کے دماغ میں "ڈوپامائن" نامی کیمیکل کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہر نوٹیفکیشن، ہر 'لائک' اور ہر نیا اسکرول دماغ میں ڈوپامائن کا ایک ایسا جھٹکا پیدا کرتا ہے جو کسی کیمیائی نشے کی طرح انسان کو بار بار اسکرین کی طرف لوٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ فرانسیسی فلسفی ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ "انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔" اگر سارتر آج کے دور میں ہوتا تو شاید یہ کہتا کہ "انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھنے کے وہم میں الگورتھم کی سب سے گہری قید میں مبتلا ہے۔"
تکنیک کی اس خاموش غلامی کا ایک اور خوفناک اور تباہ کن پہلو "پولاریزیشن" یا معاشرتی اور فکری قطبیت ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسان کو جوڑنے اور دنیا کو ایک گاؤں بنانے کا وعدہ کیا تھا، مگر اس نے معاشرے کو فکری اور جذباتی طور پر ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کا نظام بنیادی طور پر تحریض اور اشتعال انگیزی پر چلتا ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ الگو رتھم ہمیشہ اس مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے جو انسانی ذہن میں غصہ، نفرت یا ہیجان پیدا کرے۔ اس عمل کے نتیجے میں معاشرے میں ایسا فکری گھیراؤ جنم لیتا ہے جہاں انسان کو صرف وہی آوازیں اور نظریات سنائی دیتے ہیں جو اس کی اپنی پہلے سے قائم کردہ رائے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ نتیجہ یہ ہے کہ رواداری، برداشت اور مکالمے کی جگہ شدید بدمزگی اور تعصب نے لے لی ہے اور لوگ دوسرے کا نقطہ نظر سننے کی صلاحیت ہی کھو چکے ہیں۔
اگر اس صورتِ حال کو کیفیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو جدید انسان ایک عجیب المیے سے دوچار ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لا تعداد ذرائع ہیں، مگر گفتگو کا جوہر اور گرمجوشی ختم ہو چکی ہے۔ اس کے پاس ہزاروں 'ڈیجیٹل فرینڈز' ہیں، مگر جب وہ زندگی کی کسی حقیقی تلخی کا سامنا کرتا ہے تو اس کے پاس دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کوئی ایک سچا ساتھی نہیں ہوتا۔ عالمی ادارہ صحت اور دنیا بھر کے معتبر تحقیقی اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ موجودہ دور میں اینگزائٹی، ڈپریشن اور لامتناہی تنہائی کی شرح تاریخ میں سب سے بلند ترین سطح پر ہے۔ پتھر کے دور کا انسان جب شام کو آگ کے گرد بیٹھتا تھا تو وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر درد اور خوشی کا ادراک کرتا تھا۔ آج ہم ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر بھی ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور ہیں اور ہاتھ میں تھاما ہوا اسمارٹ فون ہمارے اور ہمارے سب سے قریبی رشتوں کے درمیان ایک اٹوٹ دیوار بن چکا ہے۔
اس تکنیکی قید خانے کا ایک اور بڑا مظہر مادی مقابلہ اور وقت کی نادیدہ چوری ہے۔ جدید معاشی اور تکنیکی نظام نے انسان کے اندر مصنوعی ضروریات اور ہوس کا ایک ایسا سمندر پیدا کر دیا ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ برانڈز، گاڑیوں، اور فلک بوس عمارتوں کی نمائش نے انسان کو ایک ایسی 'ٹریڈ مل' پر کھڑا کر دیا ہے جہاں وہ بے تحاشا بھاگ تو رہا ہے، مگر اس کی منزل کہیں نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی کے قیمتی ترین سال اور اپنی تمام تر توانائی ان چیزوں کو خریدنے میں ضائع کر دیتے ہیں جن کی ہمیں درحقیقت ضرورت ہی نہیں ہوتی، محض ان لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ وقت کی یہ قلت اور مادی دوڑ انسان سے اس کا سکونِ قلب، اس کا داخلی اطمینان اور اس کی روح کی بالیدگی چھین چکی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس جدید اور خوبصورت قید خانے سے رہائی ممکن ہے؟ کیا انسان کو اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر خیرباد کہہ کر دوبارہ غاروں کی زندگی کی طرف لوٹ جانا چاہیے؟ بالکل نہیں۔ ٹیکنالوجی اور جدت سے فرار نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی یہ دانشمندی کا تقاضا ہے۔ نجات کا راستہ ٹیکنالوجی کو ترک کرنے میں نہیں، بلکہ "شعوری زندگی" اور تکنیکی توازن اختیار کرنے میں ہے۔ ہمیں اپنے وجود، اپنے رب، اپنی اقدار اور اپنے ماحول کے ساتھ دوبارہ رشتہ جوڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنے دن میں کچھ وقت ایسا مخصوص کرنا ہوگا جہاں اسکرینیں خاموش ہوں، رشتوں کی گرمجوشی کو اسمارٹ فون کی ٹھنڈی اسکرین کی نذر ہونے سے بچانا ہوگا، اور الگورتھم کے بجائے مطالعے اور گہرے مشاہدے کی طرف لوٹ کر اپنی مستقل رائے قائم کرنی ہوگی۔
پتھر کے دور سے لے کر آج تک انسان کا یہ سائنسی اور فکری سفر یقیناً اس کی صلاحیتوں کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے۔ لیکن اگر اس عظیم الشان سفر کا حتمی انجام روح کی قید، رشتوں کی شکست اور فکر و شعور کی خاموش غلامی پر ہو تو یہ انسانیت کی فتح نہیں بلکہ ایک ہولناک اور تاریخی شکست ہے۔ جدید دور کے ان خوبصورت اور چمکتے ہوئے قید خانوں سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنا خادم بنائیں، اپنا مالک نہیں۔ ہم انسان کو دوبارہ انسان سمجھیں اور اس کی جذباتی و اخلاقی اقدار کو اس مشین پر قربان نہ ہونے دیں، کیونکہ چراغ بجھتے نہیں ظلمتِ شب میں، اگر فکر، تحقیق اور ادبی شعور کی سحر بخشش ہمارے ساتھ قدم بقدم چلتی رہے۔