ASI Forum Pakistan

ASI Forum Pakistan ASI Publications Pakistan

جدید دور کے نئے قید خانے​تکنیک کی خاموش غلامی​تحریر:مریم اقبال آرزو​تصور کیجیے کہ آپ ایک ایسی کھلی اور شفاف دنیا میں سان...
28/07/2026

جدید دور کے نئے قید خانے​تکنیک کی خاموش غلامی

​تحریر:مریم اقبال آرزو

​تصور کیجیے کہ آپ ایک ایسی کھلی اور شفاف دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں کوئی دیوار ہے نہ پاسبان، مگر آپ کا ہر قدم، ہر خیال اور آپ کی ہر سوچ ایک نادیدہ ہاتھ کے اشارے پر حرکت کر رہی ہو! تاریخ کا پہلا انسان جب غار کی تاریکی میں پتھر سے پتھر رگڑ کر آگ جلا رہا تھا، تو اس کا جسم تو جنگلی درندوں کے خوف سے سہما ہوا تھا، مگر اس کی فکر اور اس کا وجود مطلق طور پر آزاد تھا۔ وہ رات کے گھنے سائے میں آسمان کے کھلے کینوس پر ستارے گن سکتا تھا، ہوا کی سرسراہٹ کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کر سکتا تھا، اور اپنے وجود کی گہری خاموشی سے مکالمہ کر سکتا تھا۔ اس کے پاس اینٹ پتھر کے مکانات نہیں تھے، لیکن کوئی ایسا نادیدہ قید خانہ بھی نہیں تھا جو اس کی سوچ اور اس کے لمحاتی احساسات پر پہرے بٹھا دے۔ پھر انسانی شعور نے ارتقاء کے وہ زبردست اور حیران کن مراحل طے کیے کہ صنعتی انقلاب سے لے کر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اس جدید دور تک انسان نے بظاہر کائنات کو تسخیر کر لیا۔ مگر اس عظیم الشان ارتقائی سفر کے دوسرے رخ پر ایک ایسا خاموش اور ہولناک المیہ جنم لے چکا ہے کہ انسان نے اپنے ہی ہاتھوں سے ایسے "نئے قید خانے" تعمیر کر لیے ہیں جن کی سلاخیں لوہے کی ہیں نہ جن پر کوئی مسلح گارڈ کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش اور روح فرسا غلامی ہے جس کا قیدی خود اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگا ہے اور قاری جب اپنے ارد گرد نگاہ دوڑاتا ہے تو اسے ہر شخص اسی قید کا جشن منایا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
​ماضی کے قید خانے صرف جسم کو پابندِ سلاسل کرتے تھے، مگر جدید دور کا یہ تکنیکی قید خانہ انسان کی روح، اس کی فکر، اور اس کی توجہ کو مکمل طور پر یرغمال بنا لیتا ہے۔ ہم اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں، نرم بستروں پر بیٹھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، حالانکہ ہم درحقیقت ایک چمکتی ہوئی شیشے کی اسکرین کے اسیر بن چکے ہیں۔ اگر ہم جدید نیورو سائنس اور سماجی تحقیقات کے آئینے میں دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ قید خانہ اتفاقیہ طور پر نہیں بنا، بلکہ اسے سلیکون ویلی کی لیبارٹریوں میں بیٹھے رویاتی نفسیات کے ماہرین نے نہایت تکنیکی منصوبہ بندی سے ڈیزائن کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے یہ تمام پلیٹ فارمز انسان کے دماغ میں "ڈوپامائن" نامی کیمیکل کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہر نوٹیفکیشن، ہر 'لائک' اور ہر نیا اسکرول دماغ میں ڈوپامائن کا ایک ایسا جھٹکا پیدا کرتا ہے جو کسی کیمیائی نشے کی طرح انسان کو بار بار اسکرین کی طرف لوٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ فرانسیسی فلسفی ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ "انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔" اگر سارتر آج کے دور میں ہوتا تو شاید یہ کہتا کہ "انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھنے کے وہم میں الگورتھم کی سب سے گہری قید میں مبتلا ہے۔"
​تکنیک کی اس خاموش غلامی کا ایک اور خوفناک اور تباہ کن پہلو "پولاریزیشن" یا معاشرتی اور فکری قطبیت ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسان کو جوڑنے اور دنیا کو ایک گاؤں بنانے کا وعدہ کیا تھا، مگر اس نے معاشرے کو فکری اور جذباتی طور پر ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کا نظام بنیادی طور پر تحریض اور اشتعال انگیزی پر چلتا ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ الگو رتھم ہمیشہ اس مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے جو انسانی ذہن میں غصہ، نفرت یا ہیجان پیدا کرے۔ اس عمل کے نتیجے میں معاشرے میں ایسا فکری گھیراؤ جنم لیتا ہے جہاں انسان کو صرف وہی آوازیں اور نظریات سنائی دیتے ہیں جو اس کی اپنی پہلے سے قائم کردہ رائے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ نتیجہ یہ ہے کہ رواداری، برداشت اور مکالمے کی جگہ شدید بدمزگی اور تعصب نے لے لی ہے اور لوگ دوسرے کا نقطہ نظر سننے کی صلاحیت ہی کھو چکے ہیں۔
​اگر اس صورتِ حال کو کیفیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو جدید انسان ایک عجیب المیے سے دوچار ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لا تعداد ذرائع ہیں، مگر گفتگو کا جوہر اور گرمجوشی ختم ہو چکی ہے۔ اس کے پاس ہزاروں 'ڈیجیٹل فرینڈز' ہیں، مگر جب وہ زندگی کی کسی حقیقی تلخی کا سامنا کرتا ہے تو اس کے پاس دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کوئی ایک سچا ساتھی نہیں ہوتا۔ عالمی ادارہ صحت اور دنیا بھر کے معتبر تحقیقی اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ موجودہ دور میں اینگزائٹی، ڈپریشن اور لامتناہی تنہائی کی شرح تاریخ میں سب سے بلند ترین سطح پر ہے۔ پتھر کے دور کا انسان جب شام کو آگ کے گرد بیٹھتا تھا تو وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر درد اور خوشی کا ادراک کرتا تھا۔ آج ہم ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر بھی ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور ہیں اور ہاتھ میں تھاما ہوا اسمارٹ فون ہمارے اور ہمارے سب سے قریبی رشتوں کے درمیان ایک اٹوٹ دیوار بن چکا ہے۔
​اس تکنیکی قید خانے کا ایک اور بڑا مظہر مادی مقابلہ اور وقت کی نادیدہ چوری ہے۔ جدید معاشی اور تکنیکی نظام نے انسان کے اندر مصنوعی ضروریات اور ہوس کا ایک ایسا سمندر پیدا کر دیا ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ برانڈز، گاڑیوں، اور فلک بوس عمارتوں کی نمائش نے انسان کو ایک ایسی 'ٹریڈ مل' پر کھڑا کر دیا ہے جہاں وہ بے تحاشا بھاگ تو رہا ہے، مگر اس کی منزل کہیں نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی کے قیمتی ترین سال اور اپنی تمام تر توانائی ان چیزوں کو خریدنے میں ضائع کر دیتے ہیں جن کی ہمیں درحقیقت ضرورت ہی نہیں ہوتی، محض ان لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ وقت کی یہ قلت اور مادی دوڑ انسان سے اس کا سکونِ قلب، اس کا داخلی اطمینان اور اس کی روح کی بالیدگی چھین چکی ہے۔
​سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس جدید اور خوبصورت قید خانے سے رہائی ممکن ہے؟ کیا انسان کو اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر خیرباد کہہ کر دوبارہ غاروں کی زندگی کی طرف لوٹ جانا چاہیے؟ بالکل نہیں۔ ٹیکنالوجی اور جدت سے فرار نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی یہ دانشمندی کا تقاضا ہے۔ نجات کا راستہ ٹیکنالوجی کو ترک کرنے میں نہیں، بلکہ "شعوری زندگی" اور تکنیکی توازن اختیار کرنے میں ہے۔ ہمیں اپنے وجود، اپنے رب، اپنی اقدار اور اپنے ماحول کے ساتھ دوبارہ رشتہ جوڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنے دن میں کچھ وقت ایسا مخصوص کرنا ہوگا جہاں اسکرینیں خاموش ہوں، رشتوں کی گرمجوشی کو اسمارٹ فون کی ٹھنڈی اسکرین کی نذر ہونے سے بچانا ہوگا، اور الگورتھم کے بجائے مطالعے اور گہرے مشاہدے کی طرف لوٹ کر اپنی مستقل رائے قائم کرنی ہوگی۔
​پتھر کے دور سے لے کر آج تک انسان کا یہ سائنسی اور فکری سفر یقیناً اس کی صلاحیتوں کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے۔ لیکن اگر اس عظیم الشان سفر کا حتمی انجام روح کی قید، رشتوں کی شکست اور فکر و شعور کی خاموش غلامی پر ہو تو یہ انسانیت کی فتح نہیں بلکہ ایک ہولناک اور تاریخی شکست ہے۔ جدید دور کے ان خوبصورت اور چمکتے ہوئے قید خانوں سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنا خادم بنائیں، اپنا مالک نہیں۔ ہم انسان کو دوبارہ انسان سمجھیں اور اس کی جذباتی و اخلاقی اقدار کو اس مشین پر قربان نہ ہونے دیں، کیونکہ چراغ بجھتے نہیں ظلمتِ شب میں، اگر فکر، تحقیق اور ادبی شعور کی سحر بخشش ہمارے ساتھ قدم بقدم چلتی رہے۔


پروپیگنڈے کے طوفان میں قومی وحدت کی صدااز قلم حافظ خلیل احمد سارنگزئیالحمد للہ! آج فجر کی نماز، تلاوتِ قرآنِ کریم اور مع...
26/07/2026

پروپیگنڈے کے طوفان میں قومی وحدت کی صدا
از قلم حافظ خلیل احمد سارنگزئی

الحمد للہ! آج فجر کی نماز، تلاوتِ قرآنِ کریم اور معمول کے اذکار سے فراغت کے بعد جب میں نے کافی کا گرم کپ ہاتھ میں لیا تو بلوچستان کے خاموش پہاڑ، سرسبز و شاداب وادیاں، صبح کی ٹھنڈی ہوا اور قدرت کے دلکش مناظر دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ پہاڑ اپنی خاموش زبان میں وفاداری، صبر، استقامت اور قربانی کی داستان سنا رہے ہوں۔ یہ وہی سرزمین ہے جس کی مٹی میں ہمارے بزرگوں کی دعائیں، شہداء کا لہو، اور آنے والی نسلوں کی امیدیں محفوظ ہیں۔

اسی سکون کے عالم میں جب اخبارات کی سرخیاں اور سوشل میڈیا کے صفحات نگاہ سے گزرے تو دل پر ایک بوجھ سا محسوس ہوا۔ احساس ہوا کہ آج جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ ذہنوں، افکار اور قومی شعور پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔ یہ بارود کی جنگ نہیں بلکہ بیانیے، افواہوں اور پروپیگنڈے کی جنگ ہے، جس کا مقصد قوم کے اعتماد کو کمزور کرنا، ریاستی اداروں پر شکوک پیدا کرنا اور عوام کے درمیان انتشار پیدا کرنا ہے۔

اسی لمحے دل نے کہا کہ آج قلم خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ اہلِ قلم کی ذمہ داری صرف واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں قوم کی رہنمائی کرنا بھی ہے۔ خاموشی کبھی کبھی الفاظ سے زیادہ نقصان پہنچا دیتی ہے، اور جب وطن کے وقار اور قومی وحدت کو نشانہ بنایا جائے تو قلم ایک امانت بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا اصول عطا فرمایا ہے جو ہر دور کی اطلاعاتی جنگ کا بہترین جواب ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾

“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔” (سورۃ الحجرات: 6)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات سے پہلے تحقیق، اور افواہ سے پہلے حقیقت کو دیکھا جائے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہی قرآنی اصول ہماری سب سے بڑی فکری ڈھال ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے:

“حق کو لوگوں سے نہیں پہچانو، بلکہ حق کو پہچانو، پھر اہلِ حق کو پہچان لو۔”

یہی وہ میزان ہے جس پر ہر خبر، ہر دعوے اور ہر بیانیے کو پرکھا جانا چاہیے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

“ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت دی ہے، اگر ہم عزت کسی اور راستے میں تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔”

یہ الفاظ آج بھی ہماری قومی اور اخلاقی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عزت، اتحاد، دیانت اور سچائی ہی قوموں کی اصل طاقت ہیں۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“سچائی دلوں کو جوڑتی ہے اور فتنہ دلوں کو توڑ دیتا ہے۔”

آج جب جھوٹ کو سچ اور افواہ کو خبر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تو ہمیں دلوں کو جوڑنے والا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو مختلف نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں، اور بلوچستان بھی ان چیلنجز سے مستثنیٰ نہیں۔ امن، تعلیم، روزگار، انصاف اور ترقی کے میدان میں ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ ان مسائل پر بات ہونی چاہیے، ان کا حل تلاش ہونا چاہیے، اور ریاست، سیاسی قیادت، علماء، دانشوروں اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ لیکن مسائل کی موجودگی کو بنیاد بنا کر پاکستان یا بلوچستان کے بارے میں غیر مصدقہ دعوے پھیلانا، عوام کے ذہنوں میں مایوسی پیدا کرنا اور قومی وحدت کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا کسی خیرخواہی کی علامت نہیں۔

ہم اپنے پڑوسی ممالک اور ان کے بعض ذرائع ابلاغ سے صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ اختلاف اپنی جگہ، لیکن جھوٹ، نفسیاتی جنگ اور گمراہ کن اطلاعات کسی خطے میں پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتیں۔ دوسروں کے داخلی معاملات میں مداخلت یا ایسے بیانیوں کی ترویج جو نفرت اور بداعتمادی کو فروغ دیں، نہ ذمہ دار صحافت ہے اور نہ ہی اچھی ہمسائیگی کا تقاضا۔

پاکستان ہمارے لیے صرف ایک جغرافیائی نقشہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، تاریخ اور آئینی وحدت کی امانت ہے۔ بلوچستان اس امانت کا مضبوط ستون ہے۔ اس کے پہاڑ پاکستان کی پیشانی ہیں، اس کی وادیاں پاکستان کی سانس ہیں، اس کے عوام پاکستان کی طاقت ہیں، اور اس کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے۔ جو بھی اس رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا، ہم اس کے بیانیے کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ دلیل، تحقیق، اخلاق، آئین اور قومی شعور کی قوت سے دیں گے۔

ہماری پہلی ترجیح امن ہے، کیونکہ اسلام بھی امن کا درس دیتا ہے اور پاکستان کے عوام بھی امن چاہتے ہیں۔ لیکن امن کا مطلب اپنی قومی خودمختاری، وحدت اور آئینی تشخص سے دستبردار ہونا نہیں۔ مضبوط قومیں اشتعال سے نہیں بلکہ حکمت، اتحاد، انصاف اور باہمی اعتماد سے اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ہر دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھیں، اختلاف کو انتشار میں تبدیل نہ ہونے دیں، اپنے اداروں کی اصلاح میں مثبت کردار ادا کریں اور اپنے نوجوانوں کو مایوسی کے بجائے امید، علم اور کردار کا راستہ دکھائیں۔ قوموں کو کمزور کرنے کی سب سے بڑی کوشش ان کے ذہنوں میں بداعتمادی پیدا کرنا ہوتی ہے، اور قوموں کی سب سے بڑی طاقت ان کا شعور، ان کا اتحاد اور ان کا باہمی اعتماد ہوتا ہے۔

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن، استحکام، عدل، خوشحالی اور دائمی یکجہتی عطا فرمائے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان کو اخوت، محبت اور ترقی کی زنجیر میں ہمیشہ جوڑے رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ پہچاننے کی بصیرت عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو نفرت سے محفوظ رکھے، ہمارے قلم کو دیانت عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اختلاف کے باوجود وطن کی سلامتی، امت کی خیرخواہی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان ہماری مشترکہ امانت ہے؛ اس کی وحدت ہماری ذمہ داری، اس کا امن ہماری دعا، اور اس کی ترقی ہماری اجتماعی کوشش ہونی چاہیے۔

زخم خوردہ فضائے بلوچستان۔از قلم حافظ خلیل احمد سارنگزئیبلوچستان آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک ایسا زخمی احساس ...
25/07/2026

زخم خوردہ فضائے بلوچستان۔

از قلم حافظ خلیل احمد سارنگزئی

بلوچستان آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک ایسا زخمی احساس بن چکا ہے جس کی ٹیس پورے پاکستان کو محسوس ہونی چاہیے۔ یہ وہ سرزمین ہے جو کبھی اپنی مہمان نوازی، روایات، قدرتی حسن اور وقار کے لیے پہچانی جاتی تھی، مگر آج اس کی فضا خوف، بے یقینی اور اضطراب سے بوجھل دکھائی دیتی ہے۔

آج بلوچستان میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون محفوظ ہے، بلکہ یہ ہے کہ آخر کون غیر محفوظ نہیں؟ عام شہری، مزدور، ڈاکٹر، وکیل، جج، صحافی، سیاست دان، اساتذہ، طلبہ، تاجر، مریض اور فورسز کے اہلکار، سب ایک غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ شاہراہوں پر حملے، سڑکوں کی بندش، ٹرانسپورٹ کی معطلی، گاڑیوں پر فائرنگ، کاروباری مراکز کی ویرانی اور مسلسل خوف نے پورے معاشرے کو ذہنی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

آج بلوچستان میں سفر کرنا بھی ایک آزمائش بن گیا ہے۔ اپنے کسی عزیز کی تعزیت کے لیے جانا، کسی بیمار کو ہسپتال پہنچانا، کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر کا رخ کرنا یا بچوں کو تعلیم کے لیے سفر کرانا، عام بلوچستانی کے لیے وبالِ جان بنتا جا رہا ہے۔ رات کا سفر، جو کبھی معمول کی ضرورت تھا، اب خوف کی علامت بن چکا ہے۔ کوئٹہ سے کراچی، سندھ، پنجاب یا ملک کے دوسرے حصوں کی طرف جانے والے ہزاروں مسافر ہر سفر سے پہلے اپنے اہلِ خانہ سے اس طرح رخصت ہوتے ہیں جیسے دعا اور امید ہی ان کا سب سے بڑا سہارا ہو۔ فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، جبکہ زمینی راستوں پر بے یقینی نے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر راستے ہی غیر محفوظ ہوں، مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکیں، کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ جائیں، تعلیم متاثر ہو، سرمایہ کاری رک جائے اور لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں بھی شریک نہ ہو سکیں، تو معاشرے کا معمول کیسے بحال ہوگا؟ ترقی کا سفر کیسے آگے بڑھے گا؟

اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے بعض نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم، کتاب، کمپیوٹر اور ہنر کے بجائے اسلحہ، راکٹ لانچر اور واکی ٹاکی دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ قوموں کی تقدیر بندوق کے دھانے سے نہیں، بلکہ علم، کردار، انصاف، تحقیق اور محنت سے لکھی جاتی ہے۔

قرآنِ مجید فرماتا ہے:

“جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔” (سورۃ المائدہ: 32)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر انسانی جان مقدس ہے اور کسی بھی بے گناہ کا خون پوری انسانیت کا نقصان ہے۔

بلوچستان کے بارے میں ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ برسوں کے حالات نے دلوں میں بداعتمادی اور غلط فہمیاں پیدا کر دی ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ دوسرے صوبوں کے لوگ ان کے مخالف ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ہر کونے میں بسنے والے کروڑوں لوگ بلوچستان کو اپنا دل سمجھتے ہیں۔ نفرت فاصلے پیدا کرتی ہے، جبکہ محبت، انصاف، مکالمہ اور باہمی احترام قوموں کو جوڑتے ہیں۔

آج ضرورت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی اور اجتماعی ذمہ داری کی ہے۔ امن صرف حکومت، ریاستی اداروں یا کسی ایک جماعت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ علماء کرام، قبائلی عمائدین، سیاسی رہنما، دانشور، صحافی، اساتذہ، نوجوان، سول سوسائٹی اور ہر باشعور شہری کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں امن، برداشت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

اگر ہمارے سامنے کوئی نفرت پھیلاتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اسے حکمت، دلیل اور خیرخواہی کے ساتھ سمجھائیں۔ اگر کوئی غلط فہمی پیدا کرتا ہے تو اسے محبت اور سچائی سے دور کریں۔ اگر کوئی اختلاف ہے تو اس کا راستہ تشدد نہیں بلکہ مکالمہ، انصاف اور آئین ہونا چاہیے۔ دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے ہر شخص کو خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ میں اپنے صوبے اور اپنے وطن میں امن کے لیے کیا کردار ادا کر رہا ہوں۔

بلوچستان صرف بلوچستانیوں کا نہیں، پورے پاکستان کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ اس کے امن میں پاکستان کا امن، اس کی ترقی میں پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام میں پاکستان کی مضبوطی پوشیدہ ہے۔ ہمیں مایوسی نہیں، امید کا چراغ جلانا ہوگا؛ نفرت نہیں، اخوت کو فروغ دینا ہوگا؛ اور خوف نہیں، اعتماد کی فضا قائم کرنی ہوگی۔

اللہ تعالیٰ کرے کہ بلوچستان ایک بار پھر امن، علم، ترقی، محبت اور خوشحالی کی سرزمین بنے، جہاں شاہراہیں محفوظ ہوں، ہسپتال آباد ہوں، عدالتیں باوقار ہوں، تعلیمی ادارے روشن ہوں، بازار پررونق ہوں، اور ہر ماں اپنے بیٹے کو گھر سے رخصت کرتے وقت خوف کے بجائے اطمینان کے ساتھ دعا دے سکے۔ یہی بلوچستان کی آواز ہے، یہی پاکستان کی ضرورت ہے، اور یہی وقت کی سب سے بڑی پکار ہے۔

تھیلیسیمیا: صرف خون نہیں، پوری زندگی کی جنگتحریر: محمد عمر شاکر چوک اعظم 03136522265تھیلیسیمیا ایک ایسا موروثی (Genetic)...
25/07/2026

تھیلیسیمیا: صرف خون نہیں، پوری زندگی کی جنگ

تحریر: محمد عمر شاکر چوک اعظم
03136522265

تھیلیسیمیا ایک ایسا موروثی (Genetic) خون کا مرض ہے جو صرف ایک بچے کو بیمار نہیں کرتا بلکہ پورے خاندان کی خوشیاں، سکون، معاشی استحکام اور ذہنی آسودگی کو آہستہ آہستہ نگل جاتا ہے۔ اس بیماری کے ساتھ پیدا ہونے والا معصوم بچہ زندگی بھر دوسروں کے عطیہ کردہ خون کا محتاج رہتا ہے، جبکہ اس کے والدین ہر چند ہفتوں بعد ایک نئی آزمائش کا سامنا کرتے ہیں۔طبی اعتبار سے تھیلیسیمیا اس وقت پیدا ہوتا ہے جب والدین سے بچے کو ایسے جین منتقل ہوتے ہیں جو ہیموگلوبن (Hemoglobin) کی تیاری میں خرابی پیدا کرتے ہیں۔ ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیوں میں موجود وہ اہم جز ہے جو جسم کے ہر حصے تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔ جب یہ مناسب مقدار میں نہ بنے تو جسم شدید خون کی کمی، کمزوری، سانس پھولنے، جسمانی نشوونما میں رکاوٹ، بار بار بیماریوں اور دیگر پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے تھیلیسیمیا کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ تھیلیسیمیا مائنر (Carrier) میں متاثرہ فرد بظاہر مکمل صحت مند زندگی گزارتا ہے اور اسے عموماً بیماری کی علامات نہیں ہوتیں، لیکن وہ یہ جین اپنی اولاد میں منتقل کر سکتا ہے۔ جبکہ تھیلیسیمیا میجر اس بیماری کی شدید ترین شکل ہے، جس میں بچہ پیدائش کے چند ماہ بعد ہی شدید خون کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور اسے ہر تین سے چار ہفتے بعد خون لگوانا پڑتا ہے بطور سماجی کارکن جب بھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے کے والدین سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کی آنکھوں میں بے بسی صاف دکھائی دیتی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف خون کا انتظام کر دینا کافی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے کے خاندانوں کے لیے تھیلیسیمیا ایک مسلسل معاشی بحران بن جاتا ہے۔ خون کے ساتھ ساتھ مہنگی ادویات، آئرن چیلیشن (Iron Chelation) کی دوائیں، اسپتال آنے جانے کے اخراجات، لیبارٹری ٹیسٹ، مناسب خوراک، ویکسینیشن، انفیکشن سے بچاؤ اور کئی مواقع پر گھر کے راشن تک کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے والدین اپنے بیمار بچے کی خاطر اپنا زیور، مویشی یا زمین تک فروخت کر دیتے ہیں، جبکہ بعض اپنی ملازمتیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ بچے کو بار بار اسپتال لے جانا ضروری ہوتا ہے طبی طور پر بار بار خون لگنے کی وجہ سے جسم میں آئرن خطرناک حد تک جمع ہونے لگتا ہے۔ اگر اس اضافی آئرن کو ادویات کے ذریعے خارج نہ کیا جائے تو یہ دل، جگر، لبلبہ (Pancreas)، تھائرائیڈ اور دیگر غدود کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی بیماریاں، جگر کی خرابی، ذیابیطس، ہارمونز کی کمی، قد کا نہ بڑھنا اور بلوغت میں تاخیر جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے صرف خون لگوانا کافی نہیں بلکہ باقاعدہ آئرن چیلیشن علاج، فیریٹن (Serum Ferritin) ٹیسٹ، جگر اور دل کی مسلسل نگرانی بھی انتہائی ضروری ہے بعض مریضوں میں تلی (Spleen) غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے خون کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے، جبکہ کچھ بچوں کو ہڈیوں کی کمزوری، چہرے کی ہڈیوں کی ساخت میں تبدیلی، دانتوں کے مسائل اور قوتِ مدافعت میں کمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر مناسب علاج اور باقاعدہ فالو اپ نہ ہو تو یہ پیچیدگیاں زندگی کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔کئی دفعہ ایسے خاندانوں سے ملاقات ہوئی جن کے ایک نہیں بلکہ دو دو یا تین بچے اور بچیاں تھیلیسیمیا میجر کے مریض تھے۔ ایک والد دیہاڑی دار مزدور تھا۔ ایک دن مزدوری کرتا تو دوسرے دن بچے کو خون لگوانے کے لیے اسپتال جانا پڑتا۔ جب بچے کو خون مل بھی جاتا تو والد کی پریشانی ختم نہیں ہوتی تھی، کیونکہ اس کے بعد دوائیں خریدنا، گھر کا راشن لانا اور دوسرے بچوں کی ضروریات پوری کرنا ایک الگ امتحان بن جاتا۔ گفتگو کے دوران اس باپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اس نے کہا: "خون دینے والے تو کبھی نہ کبھی مل جاتے ہیں، مگر میرے بچوں کے لیے روٹی اور دوائی کہاں سے لاؤں؟" یہ سوال صرف ایک باپ کا نہیں بلکہ پاکستان کے ہزاروں خاندانوں کی آواز ہے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی تعداد تشویشناک ہے۔ اندازاً ایک کروڑ افراد تھیلیسیمیا کے کیریئر ہیں، جبکہ ہر سال تقریباً پانچ سے سات ہزار بچے تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے بروقت آگاہی نہ دی تو یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر ماں اور باپ دونوں تھیلیسیمیا مائنر (Carrier) ہوں تو ہر حمل میں 25 فیصد امکان ہوتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مریض ہوگا، 50 فیصد امکان ہوتا ہے کہ بچہ صرف کیریئر ہوگا، جبکہ 25 فیصد امکان ہوتا ہے کہ بچہ مکمل طور پر صحت مند ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ کو سب سے مؤثر احتیاطی اقدام سمجھا جاتا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ کو معمول نہیں بنایا گیا، حالانکہ ایک سادہ اور کم خرچ خون کا ٹیسٹ مستقبل کی نسلوں کو اس تکلیف سے بچا سکتا ہے۔ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں کیریئر ہوں تو انہیں جینیاتی مشاورت (Genetic Counseling) فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ وہ مکمل معلومات کی بنیاد پر باخبر فیصلہ کر سکیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ کو قانونی حیثیت دی جائے۔ پنجاب اسمبلی میں اس حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد اور مجوزہ قانون کو مزید تاخیر کا شکار بنانے کے بجائے جلد از جلد منظور کر کے نافذ کیا جائے تاکہ ہر نکاح سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ کو لازمی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف ہر سال ہزاروں بچوں کو تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہونے سے بچا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں صحت کے شعبے پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو بھی کم کرے گا۔ عوامی مفاد، آنے والی نسلوں کے تحفظ اور قومی صحت کے پیش نظر حکومت کو اس قانون سازی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے اگرچہ جدید طب میں بون میرو ٹرانسپلانٹ (Bone Marrow Transplant) بعض مریضوں کے لیے مستقل علاج ثابت ہو سکتا ہے، لیکن یہ علاج نہایت مہنگا ہے، ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہوتا اور اس کے لیے مناسب ڈونر کا دستیاب ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں اس بیماری سے بچاؤ کو علاج پر ترجیح دی جاتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تھیلیسیمیا کو صرف ایک طبی مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک سماجی، معاشی اور قومی مسئلہ تصور کیا جائے۔ حکومت، محکمہ صحت، تعلیمی ادارے، میڈیا، علماء کرام، سماجی تنظیمیں، مخیر حضرات اور نوجوان سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا اسی جذبے کے تحت شہری اتحاد چوک اعظم اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (رجسٹرڈ) کی جانب سے کالجز، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر تھیلیسیمیا سے بچاؤ کی آگاہی مہم اور مفت تھیلیسیمیا اسکریننگ کیمپس منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ہمارا مقصد صرف ٹیسٹ کروانا نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہے جس سے آنے والی نسلیں اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔ مملکتِ پاکستان میں دیگر سماجی شخصیات، فلاحی تنظیموں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی اس قومی مقصد کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آگاہی پہنچ سکے
اس قومی مشن میں ڈاکٹرز، لیبارٹریز، بلڈ بینکس، سماجی تنظیموں، نوجوانوں، مخیر حضرات، صنعت کاروں اور میڈیا سے وابستہ افراد سے تعاون کی اپیل ہے۔ اگر ہم آج آگاہی پھیلانے میں کامیاب ہو گئے تو کل ہزاروں معصوم بچوں کو عمر بھر کے درد، تکلیف، ذہنی اذیت اور معاشی مشکلات سے بچایا جا سکتا ہے
آئیے عہد کریں کہ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا اسکریننگ کو اپنی سماجی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری بنائیں، کیونکہ تھیلیسیمیا کا سب سے مؤثر علاج اس سے بچاؤ ہے۔ ایک سادہ سا ٹیسٹ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگی، صحت اور خوشیوں کی حفاظت کر سکتا ہے
اگر ریاستی معاشرتی اور انفرادی طور پر آج ہم نے بروقت فیصلے نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لیکن اگر آج ہم نے آگاہی، قانون سازی، بروقت اسکریننگ اور اجتماعی تعاون کو اپنا شعار بنا لیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں تھیلیسیمیا کے نئے مریضوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ یہی ایک مہذب، ذمہ دار اور صحت مند معاشرے کی پہچان ہے

ادب سماج انسانیت فورم پاکستان


ASI Publications Pakistan

سکون : ایک بھولا ہوا پتہ تحریم فاطمہ،ساہیوال زندگی ایک ایسی ٹرین بن چکی ہے جس میں ہر مسافر سوار تو ہے، مگر کسی کو معلوم ...
25/07/2026

سکون : ایک بھولا ہوا پتہ
تحریم فاطمہ،ساہیوال
زندگی ایک ایسی ٹرین بن چکی ہے جس میں ہر مسافر سوار تو ہے، مگر کسی کو معلوم نہیں کہ اس کا اسٹیشن کون سا ہے۔ کھڑکی سے باہر مناظر گزرتے جاتے ہیں، رنگ بدلتے ہیں، موسم بدلتے ہیں، مگر مسافر پلٹ کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ وہ صرف اگلے اسٹیشن کے انتظار میں ہے، اس یقین کے ساتھ کہ شاید وہیں کہیں سکون کھڑا اس کا منتظر ہوگا۔مگر ٹرین رکتی نہیں۔ اور نہ ہی سکون کبھی اس اسٹیشن پر ملتا ہے۔انسان کی یہ دوڑ کوئی نئی کہانی نہیں۔ صدیوں سے وہ کسی نہ کسی شے کے تعاقب میں ہے، کبھی زمین کے تعاقب میں، کبھی زر کے، کبھی رتبے کے، اور کبھی محض اس خوف کے تعاقب میں کہ اگر وہ رک گیا تو پیچھے رہ جائے گا۔ یہ خوف ہی دراصل وہ ایندھن ہے جو اس کی دوڑ کو کبھی ٹھہرنے نہیں دیتا۔
بچپن کی دہلیز سے ہی ہمیں دوڑنا سکھایا جاتا ہے۔ ماں کی گود میں لوری کے ساتھ ساتھ یہ سبق بھی گھلا ہوتا ہے کہ آگے نکلنا ہے، پیچھے نہیں رہنا۔ اسکول کی بنچ سے دفتر کی کرسی تک، ہر پڑاؤ پر ایک نئی دوڑ ہمارا استقبال کرتی ہے۔ نمبروں کی دوڑ، ڈگری کی دوڑ، نوکری کی دوڑ، عہدے کی دوڑ، اور پھر، جیسے یہ سب کافی نہ ہو، اپنی اولاد کو بھی اسی دوڑ کا وارث بنا دینے کی دوڑ۔ یوں نسل در نسل، ہم اپنی تھکن اپنے بچوں کو ورثے میں دیتے چلے جاتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ جتنی تیز یہ دوڑ ہوتی جاتی ہے، سکون اتنی ہی برق رفتاری سے ہم سے دور بھاگتا جاتا ہے۔ ہم نے سکون کو بھی ایک منزل سمجھ رکھا ہے، گویا وہ کسی جغرافیائی مقام پر واقع ہو، اور بس ایک آخری کوشش، ایک آخری ترقی، ایک آخری خواہش کی تکمیل ہمیں وہاں پہنچا دے گی۔ مگر جیسے ہی وہ منزل قدموں کے نیچے آتی ہے، افق پر ایک نئی منزل جنم لے لیتی ہے۔ یوں سکون ہمیشہ "اگلے موڑ" کی نذر ہو جاتا ہے، کبھی ہاتھ نہیں آتا۔
سوال یہ ہے کہ رکے تو کہاں؟
شاید ہم نے اس سوال کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا لیا ہے۔ رکنے کے لیے کسی خاص مقام کی ضرورت نہیں، نہ ہی کسی خاص دولت یا رتبے کی۔ رکنا دراصل ایک داخلی کیفیت کا نام ہے، ایک ایسا لمحہ جب انسان اپنی موجودہ زندگی کو، اپنے آس پاس بکھرے رشتوں کو، اور اپنے اندر موجود خاموشی کو بلا مقابلہ و موازنہ قبول کر لے۔
ہمارے ہاں رکنے کو کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جو رکا وہ ہارا، جو تھما وہ پیچھے رہ گیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ رکنا، حقیقت میں، سب سے بڑی جرات کا نام ہے، اس بھیڑ کے خلاف کھڑا ہونے کی جرات جو مسلسل دوڑنے کو ہی زندگی سمجھتی ہے۔ رکنا وہ لمحہ ہے جب انسان خود سے مکالمہ کرتا ہے، جب وہ اپنے آپ سے پوچھتا ہے: کیا میں واقعی وہی چاہتا ہوں جس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں؟ یا یہ خواہشات میں نے کسی اور کے آئینے سے مستعار لی ہیں؟
فطرت کا نظام اسی توازن پر قائم ہے۔ دن کے بعد رات آتی ہے تاکہ سورج کو بھی سانس لینے کا موقع ملے۔ گرمی کے بعد خزاں، اور خزاں کے بعد بہار، تاکہ زمین اپنی تھکن اتار سکے۔ درخت بھی برگ و بار لانے سے پہلے ایک مدت خاموش کھڑے رہتے ہیں۔ مگر انسان، جو خود کو فطرت کا شاہکار سمجھتا ہے، اس نے اپنی زندگی سے وقفے کا لفظ ہی خارج کر دیا ہے۔ وہ چوبیس گھنٹے، سات دن، بارہ مہینے متحرک رہنے کو ہی کامیابی کی سند سمجھ بیٹھا ہے۔
تنہائی، جسے ہم اکثر عذاب سمجھتے ہیں، دراصل وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنا اصل چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ مگر ہم اس آئینے سے خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہیں، خود کو مصروفیت کی چادر میں لپیٹ لیتے ہیں، تاکہ اپنے آپ سے آمنا سامنا نہ ہو۔ ہم فون کی سکرین میں، سوشل میڈیا کے شور میں، اور مصروفیت کے جھوٹے احساسِ برتری میں خود کو گم کر لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ خاموشی میں اٹھنے والے سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مگر جو خود سے بھاگتا ہے، وہ کہیں اور پہنچ کر بھی خود کو نہیں پاتا۔ سکون کوئی منزل نہیں، ایک عادت ہے، ایک ریاضت ہے۔ روزانہ چند لمحے خاموشی کے ساتھ گزارنے کی عادت، جو کچھ میسر ہے اس پر شکر گزاری کی عادت، اور سب سے بڑھ کر، خود کو دوسروں کے پیمانوں سے ناپنا چھوڑ دینے کی عادت۔ سکون اس وقت نہیں اترتا جب سب کچھ حاصل ہو جائے، بلکہ اس وقت اترتا ہے جب انسان اپنی نامکمل زندگی کے ساتھ بھی صلح کر لے۔تو اگلی بار جب آپ خود کو بھاگتا ہوا محسوس کریں، ایک لمحے کے لیے تھم جائیں۔ گہری سانس لیں۔ اپنے آپ سے صرف اتنا پوچھیں: میں کہاں جا رہا ہوں؟ اور کیا واقعی وہاں پہنچنا اتنا ضروری ہے جتنا میں نے سمجھ رکھا ہے؟

ہو سکتا ہے یہی وہ لمحہ ہو، جہاں سکون برسوں سے آپ کا انتظار کر رہا ہو، خاموش، ساکت، اور بے صدا۔




اہم اعلان برائے اہلِ قلمادب سماج انسانیت فورم پاکستان کے زیرِ اہتمام مرتب کی جانے والی تمام مشترکہ کتب میں شامل اہلِ قلم...
18/07/2026

اہم اعلان برائے اہلِ قلم

ادب سماج انسانیت فورم پاکستان کے زیرِ اہتمام مرتب کی جانے والی تمام مشترکہ کتب میں شامل اہلِ قلم کی تحریریں ادارے کے محفوظ ریکارڈ کا حصہ بنائی جا رہی ہیں۔

ادارے کا مقصد صرف مشترکہ کتب کی اشاعت نہیں، بلکہ ہر اہلِ قلم کی ادبی خدمات کو انفرادی کتاب کی صورت میں بھی محفوظ کرنا ہے۔ اسی لیے تمام شاملِ اشاعت تحریروں کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے۔

ان شاء اللہ جب کسی اہلِ قلم کی معیاری اور مناسب تعداد میں تحریریں مکمل ہو جائیں گی، تو ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز پاکستان کی جانب سے اُن کی انفرادی کتاب خصوصی رعایتی پیکیج کے تحت شائع کرنے کی پیشکش کی جائے گی، تاکہ نئے اور سینئر اہلِ قلم اپنی تخلیقات کو مستقل کتابی صورت میں قارئین تک پہنچا سکیں۔

لہٰذا تمام اہلِ قلم سے گزارش ہے کہ ادارے کی مختلف ادبی کتب میں بھرپور شرکت کریں، اپنی معیاری اور غیر مطبوعہ تحریریں باقاعدگی سے ارسال کرتے رہیں، تاکہ مستقبل میں اپنی ذاتی کتاب کی اشاعت کے اس خصوصی موقع سے بھی مستفید ہو سکیں۔

ادب سماج انسانیت فورم پاڪستان

ادب، سماج اور انسانیت کے فروغ کے لیے ہمہ وقت کوشاں

"آج کی ایک تحریر، کل آپ کی اپنی کتاب کی بنیاد بن سکتی ہے۔"

کتاب : تحقیق کا فقدان مرتب شہزاداُفق عنوان : دینی علوم میں تحقیق کی روایتتحریر : تحریر :مبراء عبدالقیوم،فیصل آبادزہر اہت...
18/07/2026

کتاب : تحقیق کا فقدان
مرتب شہزاداُفق

عنوان : دینی علوم میں تحقیق کی روایت
تحریر : تحریر :مبراء عبدالقیوم،فیصل آباد

زہر اہتمام: ادب سماج انسانیت فورم پاڪستان




کتاب : تحقیق کا فقدان مرتب شہزاداُفق عنوان : تحقیق اور صحافت کا باہمی تعلق تحریر : سردار خالد منیر خان سدوزٸی زہر اہتمام...
18/07/2026

کتاب : تحقیق کا فقدان
مرتب شہزاداُفق

عنوان : تحقیق اور صحافت کا باہمی تعلق
تحریر : سردار خالد منیر خان سدوزٸی

زہر اہتمام: ادب سماج انسانیت فورم پاڪستان




کتاب : تحقیق کا فقدان مرتب شہزاداُفق عنوان : تحقیق اور تنقیدی فکر تحریر : سردار خالد منیر خان سدوزٸی زہر اہتمام: ادب سما...
18/07/2026

کتاب : تحقیق کا فقدان
مرتب شہزاداُفق

عنوان : تحقیق اور تنقیدی فکر
تحریر : سردار خالد منیر خان سدوزٸی

زہر اہتمام: ادب سماج انسانیت فورم پاڪستان




کتاب : تحقیق کا فقدان مرتب شہزاداُفق عنوان : کتاب بینی کے فقدان کا تحقیق پر اثر تحریر : حسنات محمود اٹک  زہر اہتمام: ادب...
18/07/2026

کتاب : تحقیق کا فقدان
مرتب شہزاداُفق

عنوان : کتاب بینی کے فقدان کا تحقیق پر اثر
تحریر : حسنات محمود اٹک

زہر اہتمام: ادب سماج انسانیت فورم پاڪستان




Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ASI Forum Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category