Urdu poetry of all poets

Urdu poetry of all poets ساقیا جاری رہے یوں ہی سبیلِ مے کشی
تا ابد یوں ہی رہے آباد میخانہ ترا
بیدم شاہ وارثی

12/09/2026

ہمیں دشواریوں میں مسکرانے کی طلب تھی
ہم اک تصویر سا بننے کی کوشش کر رہے تھے
عباس قمر

Urdu poetry of all poets

07/09/2026

اس سے پوچھو عذاب رستوں کا
جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے
عباس دانا
۔

۔
Urdu poetry of all poets

06/09/2026

عقل و دانش کو زمانے سے چھپا رکھا ہے
خود کو دانستہ ہی دیوانہ بنا رکھا ہے

گھر کی ویرانیاں لے جائے چرا کر کوئی
اسی امید پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

بن گئے اونچے محل ان کی عبادت گاہیں
نام دولت کا جہاں سب نے خدا رکھا ہے

قابل رشک سے وہ دختر مفلس جس نے
تنگ دستی میں بھی عزت کو بچا رکھا ہے

جس کے محلوں میں چراغوں کا نہ تھا کوئی شمار
اس کی تربت پہ فقط ایک دیا رکھا ہے

اس سے بڑھ کر تری یادوں کی کروں کیا تعظیم
تیری یادوں میں زمانے کو بھلا رکھا ہے

سرخ رو ہو گئیں تنہائیاں میری داناؔ
اس نے کاندھے پہ مرے دست حنا رکھا ہے

شاعر: عباس دانا
Urdu poetry of all poets

05/09/2026

کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا
ٹوٹے پڑے تھے آئنے پتھر نہیں ملا

پتھر کے جیسی بے حسی اس کا نصیب ہے
وہ قوم جس کو کوئی پیمبر نہیں ملا

جب تک وہ جھوٹ کہتا رہا سر پہ تاج تھا
سچ کہہ دیا تو تاج ہی کیا سر نہیں ملا

ہم رات بھر جلیں بھی تمہیں روشنی بھی دیں
ہم کو چراغ جیسا مقدر نہیں ملا

شہر ستم بھی جشن اماں مت منا ابھی
شاید ستم گروں کو ترا گھر نہیں ملا

ماں باپ کی دعاؤں سے بڑھ کر جہیز میں
دلہن کو اور کوئی بھی زیور نہیں ملا

داناؔ وہ اب بھی آتا ہے تنہائیوں میں یاد
دنیا کی بھیڑ میں جو بچھڑ کر نہیں ملا

عباس دانا
Urdu poetry of all poets

04/09/2026

بناؤ گھر نہ مٹی کے لب ساحل اے نادانو
سمندر تو کناروں سے وفاداری نہیں رکھتے

انا کو سختیٔ حالات اکثر توڑ دیتی ہے
اسی ڈر سے کبھی فطرت میں خودداری نہیں رکھتے

فقط لفظوں سے ہم داناؔ ہنر کی داد لیتے ہیں
قلم والے کبھی شوق اداکاری نہیں رکھتے
۔
شاعر: عباس دانا
Urdu poetry of all poets

03/09/2026

ہو رہے ہیں آج دانہ آندھیوں میں مشورے
صرف میرے گھر کا اک دیپک بجھانے کے لئے
۔۔۔۔۔۔

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے کے لیے
سوچنا پڑتا ہے کتنا مسکرانے کے لئے

کتنی زحمت جھیلتا ہے ایک مفلس میزبان
گھر کی بد حالی کو مہماں سے چھپانے کے لئے

بھوک ان کو لے گئی ہے کارخانوں کی طرف
گھر سے بچے نکلے تھے اسکول جانے کے لئے

خون اپنا بیچ کر آیا ہے اک مجبور باپ
بیٹیوں کے ہاتھ پر مہندی لگانے کے لئے

زندگی جلتی ہے کتنی دوزخوں کی آگ میں
چار دیواروں کی اک جنت بنانے کے لئے

ہائے تہواروں نے لوگوں کو بھکاری کر دیا
قرض لینا پڑتا ہے خوشیاں منانے کے لئے

ہو رہے ہیں آج دانہ آندھیوں میں مشورے
صرف میرے گھر کا اک دیپک بجھانے کے لئے
شاعر: عباس دانا
Urdu poetry of all poets

02/09/2026

دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے
اب ترے شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتے

آخری وقت میں جینے کا سہارا ہے یہی
تیری یادوں سے بغاوت بھی نہیں کر سکتے

جھوٹ بولے تو جہاں نے ہمیں فن کاری کہا
اب تو سچ کہنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتے

اس نئے دور نے ماں باپ کا حق چھین لیا
اپنے بچوں کو نصیحت بھی نہیں کر سکتے

ہم اجالوں کے پیمبر تو نہیں ہیں لیکن
کیا چراغوں کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے

قدر انسان کی گھٹ گھٹ کے یہاں تک پہنچی
اب تو قیمت میں رعایت بھی نہیں کر سکتے

فن کی تعظیم میں مر جاؤ گے بھوکے داناؔ
تم تو غزلوں کی تجارت بھی نہیں کر سکتے

عباس دانا
Urdu poetry of all poets

01/09/2026

فقط لفظوں سے ہم داناؔ ہنر کی داد لیتے ہیں
قلم والے کبھی شوق اداکاری نہیں رکھتے

عباس دانا

Urdu poetry of all poets

01/09/2026

ظرف سے بڑھ کے ہو اتنا نہیں مانگا جاتا
پیاس لگتی ہے تو دریا نہیں مانگا جاتا

چاند جیسی بھی ہو بیٹی کسی مفلس کی تو
اونچے گھر والوں سے رشتہ نہیں مانگا جاتا

دوستی کر کے ہوا سے جو جلا دیں گھر کو
ان چراغوں سے اجالا نہیں مانگا جاتا

اپنے کمزور بزرگوں کا سہارا مت لو
سوکھے پیڑوں سے تو سایہ نہیں مانگا جاتا

پیٹ بھرتے ہیں جو مانگے ہوئے ٹکڑے کھا کر
ان کے ہاتھوں سے نوالہ نہیں مانگا جاتا

بھیک بھی مانگو تو تہذیب کا کاسہ لے کر
ہاتھ پھیلا کے خزانہ نہیں مانگا جاتا

ہے عبادت کے لئے شرط عقیدت داناؔ
بندگی کے لئے سجدہ نہیں مانگا جاتا
شاعر: عباس دانا
Urdu poetry of all poets

31/08/2026

اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر
زندہ رہنا ہے تو سانسوں سے بغاوت مت کر

سیکھ لے پہلے اجالوں کی حفاظت کرنا
شمع بجھ جائے تو آندھی سے شکایت مت کر

سر کی بازار سیاست میں نہیں ہے قیمت
سر پہ جب تاج نہیں ہے تو حکومت مت کر

خواب ہو جام ہو تارہ ہو کہ محبوب کا دل
ٹوٹنے والی کسی شے سے محبت مت کر

دیکھ پھر دست ضرورت میں نہ بک جائے ضمیر
زر کے بدلے میں اصولوں کی تجارت مت کر

پرسش حال سے ہو جائیں گے پھر زخم ہرے
اس سے بہتر ہے یہی میری عیادت مت کر

سر جھکانے کو ہی سجدہ نہیں کہتے داناؔ
جس میں دل بھی نہ جھکے ایسی عبادت مت کر

شاعر: عباس دانا
Urdu poetry of all poets

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu poetry of all poets posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category