29/08/2020
اعلان عام
حضرات ایک اعلان سنیں!!! حضرات ایک اعلان سنیں!!! حضرات ایک اعلان سنیں!!!
یہ اعلان ایک اعلان عام ہے ، ان تمام حضرات کے لیے جو حق سنتے ،حق بیان کرتے ، اور حق پر قائم رہتے ہیں۔ حضرات جیسا کہ آپکو معلوم ہے 1400 سال قبل عرب کے ایک قبیلہ بنو ہاشم میں حضرت عبداللہ کے گھر پروردگار کے آخری نبی ختم النبین حضرت محمدؐ کا ظہور ہو ا ۔ جس کی نبوت کی گواہی آسمانی کتب میں موجود ہے۔جس کے بعد نہ ہی کوئی آسمانی کتاب اور نا ہی کوئی نبی یا رسول خدا کی جانب سے دنیا میں بھجا جائے گا۔ یہ وہی نبی ؐہے جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے" بیشک اللہ کے نزدیک دین، دین اسلام ہی ہے،"۔
حضرات یہ وہی ختم النبین ہی ہیں جس نے امت کی بخشش کے لیے خدا کے حضور دعائیں اور مناجات اپنے سجدوں میں کی ہیں۔
حضرات یہ وہی آخری نبی ہی ہیں جس نے طائف میں پتھر کھائے پھر بھی امت کی بخشش کے لیے دعائیں کیں۔
حضرات مبارک ہو !! آج آپ اسی نبی کا کلمہ پڑتے ہیں اور فخر سے خود کو مسلمان کہتے ہیں،
حضرات مبارک ہو !! آج اسی نبی کی سکھائی اذان ہم مسجدوں میں دیتے ہیں۔
حضرات مبارک ہو !! اسی نبی کی تعلیم سے آ ج آپ روزہ رکھتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں،عیدیں مناتے ہیں، حج کرتے ہیں، اور تمام اسلامی رسومات ادا کرتے ہیں۔ مبارک ہو آ ج آپ مسلمان ہیں۔ مبارک ہو آج آپکو اور آپکی اولاد کو دین اسلام وراثت میں مل گیا، مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں ہمارے حقوق ہماری عبادات آزاد ہیں، حضرات مبارک ہو!
مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں !تو ایسا کیا ہوا کہ اسی نبی، ختم النبین حضرت محمدﷺ کی آل اولاد کو 60 ہجری 10 محرمالحرام کو کربلا میں مار دیا گیا۔
حضرات مارنے والے کوئی اور نا تھے سب کلمہ گو تھے، کوئی اور نا تھے قرآن کےقاری تھے، کوئی اور نا تھے، نمازی تھے، کوئی اور نا تھے، بعت اللہ کے حجاج تھے۔ کوئی اور نا تھے، نبی کی آل اولادسے اچھی طرح واقف تھے۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں۔
آج ہماری آل اولاد کے حقوق موجود ہیں،ادھر اسی بنی کی آل اولاد ظلم و ستم کی نظر ہو گئی۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں۔
ادھر کربلا میں حسین ابن علی ابن ابی طالب کو مار دیا گیا۔ حضرات یہ حسین اسی علی کا بیٹا ہے جس علی کا ہاتھ ختم النبین حضرت محمدﷺ نے اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کرکے اعلان کیا تھا ، جس کا میں مولا اس کا علی مولا، یہ اعلان بند کمرے میں نہی کیا تھا جس کی مسلمانوں کو خبر نا ہوتی یہ اعلان آخری حج کے موقع پر غدیر کے مقام پر تمام حجاج کرام کے سامنے کیا تھا۔ جو تاریخ آج بھی نہی بھولی، تو کیسے ممکن تھا کے 60 ہجری میں مسلمان بھول گیے ہونگے۔
حضرات یہ حسین اسی علی کا بیٹا ہے، جس کو نبی نے اپنا وصی خدا کے حکم پر کہا،
حضرات یہ حسین اسی علی کا بیٹا ہے، جو ہجرت کی رات نبی کے بستر پر سو گیا تھا،
حضرات یہ حسین اسی علی کا بیٹا ہے، جو خیبر کا فاتح ہے،
حضرات یہ حسین اسی علی کا بیٹا ہے،جس کو نماز کے عالم میں شہید کیا گیا اور شہید کرنے والے بھی کلمہ گو تھے۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں۔
ادھر کربلا میں 10 محرم الحرام 60 ہجری کو حسین ابن علی ابن ابی طالب کوپیاسا مار دیا گیا۔ اور مارنے والے بھی کوئی اور نہ تھے کلمہ گو مسلمان ہی تھے۔
حضرات یہ وہی حسین ہے جس کے جوڑے آسمان سے آتے تھے۔ جس کا سواری محمد ﷺ خودبنے تھے۔
حضرات یہ وہی حسین ہے، جو نبی کی پشت پر تھا اور نبی سجدہ میں تھے، اور سجدہ نماز کا تھا۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں۔
ادھر کربلا میں حسین کے 6 ماہ کے بیٹے کو پانی کی جگہ ہلق تیر مار دیا گیا،4 سالہ بیٹی کو تماچے مارے گئے۔ جس کی بہنوں کی ردا ئیں لوٹ لی گیں۔
جس کے بھائی عباس کو لب دریا مار دیا گیا۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں اور اسلام آج بھی آباد ہے۔
آج ہمارے گھروں میں ماں، بہن ، بیٹی ،بیوی،بھائی اور باپ جیسے خون کے رشتے محفوظ ہیں۔
ادھر کربلا میں حسین کی ساتھ کربلا آئے اہل و ایال، دوست اور اصحاب سبھی رشتے کربلا کی خاک میں ملا دیئے گئے مگر اسلام آج بھی آباد ہے۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں اور اسلام آج بھی آباد ہے۔
ادھر کربلا میں حسین، اولاد حسین ،اصحاب حسین کو پیاسا مار دیا گیا لاشوں پر گھوڑے دوڈائے گئے۔سروں کو نیزے پر سجائے ،نبی کی آل اولاد کو رسیوں میں باندھ کر اسیر بنا کر بے ردا بازاروں میں گھومایا گیا۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں اور اسلام آج بھی آباد ہے۔
حضرات کربلا میں حسین، جس کے جوان بیٹے مار دیے گئے، جس کے دوست اصحاب مار دیئے گئے لاشوں کو پامال کیا گیا۔ جس کی مستورات کو اسیر کیا گیا جسکے خیمے جالا دیے گئے۔جس پر تین دن پانی بند رکھا گیا۔
حضرات مبارک ہو!! آج ہم اسی حسین ابن علی ابن ابی طالب کی وجہ سے مسلمان ہیں ، جس نے کربلا میں اسی اسلام کی بقاء کی خاطر عظیم 72 شہداء کا نظرانہ پیش کیا۔
حضرات مبارک ہو!! اسلام آج تک آباد ہے اذان آج بھی وہی ہورہی ہے، قرآن کی تلاوت آج بھی جاری ہے۔
حضرات مبارک ہو! مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں مذہب ہمارا آج بھی اسلام ہے۔ مگر اسلام کی بقاہ آج بھی حسین کی مرحون منت ہے۔
مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں مذہب ہمارا آج بھی اسلام ہے کیونکہ اسلام کی بنیاد میں آل محمد کا خون ہے۔ اور خونی کوئی اور نہی بلکہ کلمہ گو ہی ہیں۔
مبارک ہو آج ہم مسلمان ہیں۔ مگر افسوس آل محمدﷺ کو امت محمدﷺ نے اپنے ہاتھوں سے مار ڈالا۔
حضرات!! اسلام آج بھی زندہ ہے بس حسین کی کربلا کے بعد۔۔۔۔
التماس دعاء
اظہرعباس علی