The Observer Digital

The Observer Digital Fearless journalism

آزاد کشمیر میں حکومت کی عدم موجودگی کے دوران محکمہ صحت کے چار تادیبی احکامات جاری، قانونی اختیار پر سوالات13 اگست 2026 ک...
14/10/2026

آزاد کشمیر میں حکومت کی عدم موجودگی کے دوران محکمہ صحت کے چار تادیبی احکامات جاری، قانونی اختیار پر سوالات
13 اگست 2026 کو جاری نوٹیفکیشنز میں محکمہ صحت کے ملازمین کو سزائیں، متعلقہ ریکارڈ کی جانچ اور مجاز اتھارٹی کے اختیارات کی وضاحت ضروری قرار
مظفرآباد (خصوصی رپورٹ)
تحریر: ظفیر راٹھور

آزاد جموں و کشمیر میں محکمہ صحت عامہ کی جانب سے 13 اگست 2026 کو جاری کیے گئے چار نوٹیفکیشنز نے سرکاری امور میں اختیارات کے استعمال اور انتظامی فیصلوں کے طریقۂ کار سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چاروں احکامات پر سیکشن آفیسر صحت عامہ کے دستخط موجود ہیں، جبکہ ان میں مختلف ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے سزاؤں کی منظوری دی گئی ہے۔
دستیاب نوٹیفکیشنز کے مطابق متعلقہ ملازمین کے خلاف غفلت، لاپروائی اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کے الزامات کے تحت کارروائی کی گئی۔ بعض ملازمین کی ترقی مقررہ مدت کے لیے روکنے کی سزا دی گئی، جبکہ ان احکامات میں متعلقہ قواعد کے تحت معمولی سزاؤں کا ذکر بھی موجود ہے۔
تاہم اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ 13 اگست 2026 کو یہ احکامات کس مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کیے گئے اور اس وقت آزاد کشمیر میں حکومتی و انتظامی اختیارات کی آئینی حیثیت کیا تھی؟
آزاد کشمیر میں انتخابی شیڈول کے اجرا کے بعد سابق حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل کے درمیان انتظامی معاملات کے حوالے سے یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر ان احکامات کی منظوری اسی عرصے میں دی گئی جب نئی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی، تو متعلقہ حکام کے اختیارات، فیصلوں کی منظوری کے طریقۂ کار اور قابلِ اطلاق قواعد کی جانچ ضروری ہے۔
چار نوٹیفکیشنز، ایک ہی تاریخ
دستیاب دستاویزات میں 13 اگست 2026 کی تاریخ درج ہے۔ ان میں محکمہ صحت عامہ کے مختلف ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشنز میں آزاد جموں و کشمیر سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1977 کے قاعدہ 4، ذیلی قاعدہ (a)(ii) کا حوالہ بھی موجود ہے۔
دستاویزات کے مطابق بعض ملازمین کی ترقی تین سال کے لیے روکنے جبکہ ایک حکم میں پانچ سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا کا ذکر ہے۔ تاہم ان احکامات کے اجرا کے وقت مجاز اتھارٹی کی منظوری، کارروائی کے مراحل اور متعلقہ قواعد پر عمل درآمد کی تصدیق سرکاری ریکارڈ سے ہونا ضروری ہے۔
کیا نگراں یا محکمانہ انتظامیہ ایسے احکامات جاری کر سکتی ہے؟
قانونی طور پر کسی حکومت کی تبدیلی یا نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سرکاری محکموں کے انتظامی امور خودبخود معطل ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ جانچنا ضروری ہے کہ متعلقہ مدت میں کون سی اتھارٹی کس نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز تھی اور آیا ان احکامات کے لیے کسی اعلیٰ افسر یا مجاز حکومتی اتھارٹی کی منظوری درکار تھی۔
اسی تناظر میں محکمہ صحت عامہ سے یہ وضاحت طلب کی جا سکتی ہے کہ آیا چاروں احکامات معمول کے محکمانہ اختیارات کے تحت جاری کیے گئے، پہلے سے جاری کارروائیوں کا نتیجہ تھے یا انہیں کسی باقاعدہ منظوری کے بعد نافذ کیا گیا۔
حکومت اور محکمہ صحت سے وضاحت کا مطالبہ
عوامی مفاد اور سرکاری ملازمین کے حقوق کے پیش نظر ضروری ہے کہ محکمہ صحت عامہ آزاد کشمیر ان احکامات کے اجرا کے طریقۂ کار اور قانونی بنیاد کو واضح کرے۔ متعلقہ ریکارڈ سامنے آنے سے یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ کارروائی قواعد کے مطابق ہوئی یا اس حوالے سے کسی قانونی یا انتظامی وضاحت کی ضرورت ہے۔
اہم سوالات یہ ہیں: چاروں نوٹیفکیشنز کی منظوری کس نے دی؟ کیا متعلقہ اتھارٹی 13 اگست 2026 کو ان سزاؤں کی منظوری دینے کی مجاز تھی؟ کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ اور کیا ملازمین کو محکمانہ کارروائی کے دوران صفائی کا مناسب موقع فراہم کیا گیا؟
ان سوالات کے جوابات سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ برائے اشاعت: اس خبر میں ایک اہم نکتہ مزید تصدیق طلب ہے: سابق حکومت کے خاتمے کی درست تاریخ، نئی حکومت کی تشکیل کی تاریخ اور 13 اگست کو متعلقہ محکمانہ اتھارٹی کے اختیارات۔ ان حقائق کی تصدیق کے بغیر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نوٹیفکیشنز غیر قانونی تھے۔

حکومت نے ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس کیپٹن ابرار اعظم کو معطل کردیا۔
12/10/2026

حکومت نے ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس کیپٹن ابرار اعظم کو معطل کردیا۔

ہزارہ کبھی پشاور کا حصہ نہیں تھا -مغلیہ دور سے یہ پہلے صوبہ کشمیر کا حصہ تھا، مغل دستاویز سے ثبوتپشاور والے کہتے ہیں ہزا...
12/10/2026

ہزارہ کبھی پشاور کا حصہ نہیں تھا -مغلیہ دور سے یہ پہلے صوبہ کشمیر کا حصہ تھا، مغل دستاویز سے ثبوت
پشاور والے کہتے ہیں ہزارہ ہمارا حصہ ہے۔ تاریخ کہتی ہے جھوٹ ہے۔
مغل دستاویز کھولو۔ تزک جہانگیری۔ اکبر اعظم کا ریکارڈ۔

ہزارہ کا پرانا نام کیا تھا؟ پکھلی سرکار۔ Pakhli Sarkar۔
پکھلی سرکار (موجودہ ھزارہ ) کہاں تھی؟
پکھلی سرکار کشمیر سرکار کا حصہ تھی جو صوبہ قابل کے تحت چلتی تھی
1586 تک کشمیر سرکار بشمول پکھلی سرکار موجودہ ھزارہ صوبہ قابل کا حصہ رہی ۔
1648 میں جب عظیم مغل باشاہ شاہجہاں بادشاہ بنے تو انہوں نے کشمیر کو الگ صوبہ بنا دیا۔ Subah Kashmir۔ اس وقت پکھلی سرکار کو ترقی دے کر مکمل سرکار بنا دیا گیا۔ مطلب ہزارہ اس وقت بھی کشمیر کا ضلع تھا، پشاور کا نہیں۔

یہ میں نہیں کہہ رہا، وکیپیڈیا، مغل ریکارڈ، اور انگریز گزٹیئر کہہ رہا ہے۔
" In Mughal era, the region was part of the Pakhli Pargana, which formed a part of the larger Kashmir Sarkar, which in turn was part of the Kabul Subah after 1586. It was elevated to the level of a Sarkar in 1648 when Kashmir became a separate Subah."

مطلب 1586 سے 1752 تک، تقریباً 200 سال، ہزارہ کشمیر کے ساتھ تھا، پشاور کے ساتھ نہیں۔

اس سے بھی پرانی بات۔ ہزارہ نام کہاں سے آیا؟
1399 میں تیمور لنگ، جسے تیمور لنگ کہتے ہیں، وہ کابل سے واپس جا رہے تھے ۔ انہوں نے ہزارہ میں اپنے ایک ہزار کارلک ترک فوجی چھوڑے۔ ایک ہزار کو فارسی میں ہزارہ کہتے ہیں۔ اس کی ھزارہ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ اس وجہ سے اس علاقے کا نام پکھلی ہزارہ پڑ گیا۔ Pakhli-Hazara۔ مطلب ایک ہزار ترکوں والا پکھلی۔

وہ ایک ہزار ترک 323 سال تک ہزارہ پر حکومت کرتے رہے۔ ان کا دارالحکومت تھا گلی باغ، مانسہرہ سے 23 کلومیٹر۔ وہاں آج بھی سلطان محمود خورد کا مقبرہ ہے، وہ آخری ترک بادشاہ تھا۔
جب مغل آئے تو انہوں نے بھی اسی ترک خاندان کو رہنے دیا۔ کیونکہ ترک مغل کے رشتہ دار تھے۔
1703 - ترکوں کا زوال - 231 سالہ حکومت ختم ہوا!
1703 مین سلطان محمود خورد آخری ترک بادشاہ تھا
وہ دہلی میں مغل دربار میں رہتا تھا، واپس کم آتا تھا۔
اس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔سلطان محمود خورد کے داماد سید جلال بابا اور سوات کے ایک سردار
عبدالرحمن خان کو ساتھ ملا کر داماد نے سسر کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔
اچانک ایک بہت بڑے لشکر سے حملہ کر کے تخت پر ایک ہی دن میں قبضہ کر لیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی دن بدن مضبوط ہونے لگی ۔ سوال یہ ہے ہزارہ پشاور کا کب بنا؟
1901 میں انگریز نے اپنے حمایت یافتہ اور وفادار لوگوں کی مرضی سے جب صوبہ سرحد بنایا پکھلی سرکار کو بھی حالات کے پیش نظر اور کشمیر کی طاقت کو کمزور کرنے کیلئے پشاور سے ملا کر صوبہ سرحد کا نام دیا
اس سے پہلے ہزارہ کبھی پشاور کا حصہ نہیں تھا۔ کبھی کشمیر کا، کبھی کابل کا، کبھی آزاد۔

انگریز گزٹیئر 1883 میں لکھتا ہے۔ ہزارہ کی ثقافت، زبان، رہن سہن، پشاور سے بالکل الگ ہے۔ یہ الگ خطہ ہے۔
اور آج بھی دیکھو۔ ہزارہ کا راستہ پشاور سے نہیں لگتا، ہزارہ کا راستہ پنجاب اور کشمیر سے لگتا ہے۔ ہزارہ کا ٹرک پشاور جانے کے لیے پنجاب سے ہو کر جاتا ہے۔ کیونکہ جغرافیہ بھی کہتا ہے ہزارہ پشاور کا نہیں، کشمیر اور پنجاب کا بھائی ہے۔

اسی لیے تو ہزارہ والے کہتے ہیں ہمیں الگ صوبہ دو۔ کیونکہ ہم 200 سال کشمیر صوبے کا حصہ رہے، 100 سال انگریز نے زبردستی پشاور کے ساتھ جوڑا۔ اب واپس الگ ہونا چاہتے ہیں۔

آپ کو پتہ تھا ہزارہ کشمیر کا حصہ تھا؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں ۔ اور یہ پوسٹ ہر ہزارے وال تک پہنچاؤ تاکہ اس کو اپنی اصل پہچان پتہ چلے۔

تحقیق و تحریر: حسنین چن بابو
Disclaimer: This article is based on oral history and cultural research for educational purpose only.

تین ڈپٹی سیکریٹریز کو ایڈیشنل سیکریٹری ترقیاب کر دیا گیا،
12/10/2026

تین ڈپٹی سیکریٹریز کو ایڈیشنل سیکریٹری ترقیاب کر دیا گیا،

11/10/2026

بھٹو آج بھی زندہ ہے؟!!!

11/10/2026

نیپال میں ایک بار پھر تباہی مچ گئی، الله کرم کرے۔

11/10/2026

مظفرآباد کے نواحی علاقہ کھلہ کےہائی اسکول کے چوکیدار پر مقامی لوگوں سے مبینہ نامناسب رویے اور آمدورفت کے راستے بند کرنے کا الزام، اہلِ محلہ سراپا احتجاج، مظاہرین نے متعلقہ حکام سے نوٹس لے کر راستے کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
وی او:
مقامی لوگوں کے مطابق وہ کئی دہائیوں سے ان راستوں کو استعمال کر رہے ہیں، تاہم مبینہ طور پر اسکول کے چوکیدار نے ان کی آمدورفت کے راستے بند کر رکھے ہیں۔ اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ اسکول کے اردگرد ان کی ذاتی اور بندوبستی زمینیں واقع ہیں، راستے فوری طور پر نہ کھولے گئے تو وہ بھی اپنی زمینوں سے گزرنے والے راستے بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مقامی افراد نے حکام سے معاملے کا نوٹس لے کر مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد فخر عالم چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا   تعینات
11/10/2026

ڈاکٹر محمد فخر عالم چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا
تعینات

پاکستان پیپلز پارٹی کی مجبوریاں اور اعزاز پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی  ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان (1973) اور صوبہ سرح...
11/10/2026

پاکستان پیپلز پارٹی کی مجبوریاں اور اعزاز

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان (1973) اور صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا)(1975) میں گورنر راج نافذ کیا۔۔۔۔اس دوران بلوچستان میں آپریشن بھی ہوا۔۔۔۔
محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا )(1994)
صف علی زرداری کے سابقہ دورِ صدارت میں پنجاب (2009) اور بلوچستان (2013) میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔۔۔
ایک مرتبہ پھر آج صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی۔۔۔۔
اسکے ساتھ ہی پاکستان میں سب سے زیادہ گورنر راج لگانے کا اعزاز بھی آصف علی زرداری کو حاصل ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔

11/10/2026

وزیرا علیٰ سُہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا ہے پاکستانیوں اب آپ کی باری ہے میں پشاور میں موجود ہو نکلو پشاور کی عوام اپنے محبوب لیڈر عمران خان کے لیے اُس کے سپاہی کے لیے سب گھروں سے نکلو خیبر کی عوام پشاور کا روح کرے آپ کی تعداد جہاں بڑ جائے گی میں وہاں موجود ہونگا
جنید اکبر سمیت دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے
شاہد خٹک کا ٹویٹ

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Observer Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category