Shairi Wala

Shairi Wala All from the World of Entertainment, Poetry And Fun

Iran Reshaping Tel Aviv
20/06/2025

Iran Reshaping Tel Aviv

Israeli media says Pakistani fighter pilots are helping Turkish Air Force guard its airspace from Israeli jets.
20/06/2025

Israeli media says Pakistani fighter pilots are helping Turkish Air Force guard its airspace from Israeli jets.

ایران کبھی سرنڈر نہیں کرے گا، نہ ہی کسی مسلط کردہ امن یا جنگ کو تسلیم کرے گا۔ آیت اللہ خامنہ کا دوٹوک اعلان
18/06/2025

ایران کبھی سرنڈر نہیں کرے گا، نہ ہی کسی مسلط کردہ امن یا جنگ کو تسلیم کرے گا۔ آیت اللہ خامنہ کا دوٹوک اعلان

دنیا امریکہ کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے۔ 100 سال پہلے، برطانوی سلطنت کا عالمی تجارت پر غلبہ تھا، جو دنیا کی 20 فیصد سے زیادہ...
18/06/2025

دنیا امریکہ کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے۔

100 سال پہلے، برطانوی سلطنت کا عالمی تجارت پر غلبہ تھا، جو دنیا کی 20 فیصد سے زیادہ دولت پر قابض تھی۔ بہت سے لوگوں کو یقین تھا کہ اس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا۔

200 سال پہلے، فرانس نے یورپ کے اسٹیج کو بہتر بنایا، اس کی فوجیں خوفزدہ تھیں، اس کی ثقافت حسد کرتی تھی۔ نپولین نے خود کو لافانی قرار دیا۔

400 سال پہلے، ہسپانوی تاج نے منیلا سے میکسیکو تک حکومت کی، اس کے خزانے کے بیڑے چاندی اور ریشم سے کراہ رہے تھے۔ بادشاہوں کا خیال تھا کہ ان کی شان و شوکت ابدی رہے گی۔

ہر سلطنت نے خود کو ناگزیر قرار دیا۔ ہر ایک کو بالآخر چاند گرہن لگا۔

طاقت ختم ہو جاتی ہے، اثر و رسوخ ہجرت کرتا ہے، اور قانونی حیثیت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب اسے کمانے کی بجائے فرض کیا جاتا ہے۔ اگر امریکہ کو دنیا کی عزت سے ہاتھ دھونا چاہیں تو وہ دریافت کرے گا کہ ہر زوال پذیر سلطنت نے بہت دیر سے کیا سیکھا:

دنیا آگے بڑھتی ہے۔ ہمیشہ
چائنیز صدر شی چن پنگ

16/06/2025

ایرانی فوج
اسرائیل کے 8 ڈرون طیاروں بشمول MQ-9 کو مار گرایا ہے

امریکہ کی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں خوفناک بادل، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل کیا۔ کئی اسے ہارپ ٹیکنالوجی کا نتیجہ ق...
16/06/2025

امریکہ کی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں خوفناک بادل، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل کیا۔ کئی اسے ہارپ ٹیکنالوجی کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔

11/06/2025

Celebrating Our 9th year on Facebook. Thank you for your continuing support. We could never have made it without you. 🙏🤗🎉

کیا زندگی اتنی سستی ہے
11/06/2025

کیا زندگی اتنی سستی ہے

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ قریب شام کے7 بجےہونگے، موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا ت...
25/07/2024

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ قریب شام کے7 بجےہونگے، موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز۔۔۔
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ اور ماں جی کدھر ہیں؟ آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہنچا۔

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں۔ 12 سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور 9 سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔

میں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟
بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں۔
میں نے پوچھا "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ اتنی اچھی فیملی ہے، دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔

لیکن میں نے بچوں سے پوچھا دادی کدھر ھے؟ تو بچوں نے بتایا: پاپا انہیں 3 دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا: مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ
کچھ دیر میں چائے آئی. بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور بولے میں نے 3 دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61 سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نہ تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے اور اپنی من مانی کرتے تھے۔

ماں نے 10 دن پہلے بول دیا: تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔
جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے مجھے پڑھایا۔ اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں۔
لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔ پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔

مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے اور زیادہ زور سے رونے لگے اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہوں گے۔
ہم جن کے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے جو ان کی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔ اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔
اور اگر اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔

ماں کے ساتھ رہتے رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔ ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ اسی درمیان رات کے 12:30 ھوگئے۔ میں نے بھابی جی اور بچوں کے چہروں کو دیکھا۔
ان کے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔

میں نے ڈرائیور سے کہا؛ ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔ بھابی جی، بچے اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہنچے ،
بہت زیادہ درخواست کرنے پر گیٹ کھلا۔
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔
چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب"؟
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہیں۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہوں گے صاحب؟

اتنا کہہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔
اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔ 2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گی؟

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں جی رہے ہیں"

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی. کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آئے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آئے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے۔ سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔
راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور بھائی صاحب پرانی باتیں یاد کرکے رو رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گئے۔

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے یہ سمجھ گئی تھیں۔

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔

*ماں صرف ماں ھے*
*اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔
ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا معاشرہ کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کا کوئی مسئلہ ھو تو انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں، کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔ اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی صدیوں تک رہے گا۔

یقین مانیں سب ھوگا تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔

‏‼️فراڈ الرٹ ۔۔۔۔  📢آج کل پاکستان کے مختلف شہروں میں ہر فرد کے موبائل فون میں " نان کسٹم موبائل واٹس ایپ گروپ" جو ہمارے ...
19/03/2024

‏‼️فراڈ الرٹ ۔۔۔۔ 📢

آج کل پاکستان کے مختلف شہروں میں ہر فرد کے موبائل فون میں " نان کسٹم موبائل واٹس ایپ گروپ" جو ہمارے غریب لڑکے اور لڑکیوں کو اپنے جال میں لانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس گروپ میں ایڈمن سستے موبائل اور لیپ ٹاپ واچ کی فوٹوز سینڈ کرتا ہے اور ساتھ میں موبائل کی قیمت 1000 ہزار لیپ ٹاپ کی 15000 اور واچ کی قیمت 5000 جس میں یہ غریب لوگوں کو لالچ میں لے آتے ہیں۔

غریب لوگ لالچ میں آ کر اسے پرسنل میں ایس ایم ایس کر دیتے ہیں کہ سر مجھے یہ موبائل چاہیے تو ایڈمن اس کو بولتا ہے کہ آپ اس ایزی پیسہ نمبر پر ہاف قیمت (آدھی قیمت) ادا کر دو باقی قیمت پارسل کے بعد ادا کر دینا۔ غریب آدمی خوش ہو کر اسے ہاف قیمت اسے سینڈ کر دیتا ہے پھر ایڈمن اس کو بولتا ہے کہ آپ پانچ منٹ انتظار کریں میں آپ کا پارسل پیک کرواتا ہوں اور آپ کو TCS کی سلپ اور پارسل کی ویڈیو سینڈ کرتا ہوں لیکن وہ آپ TCS کی FAKE سلپ بنا کر سینڈ کر دیتا ہے اور پارسل کی ویڈیو انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کر کے آپ کو سینڈ کر دیتا اور بولتا ہے آپ کو 24 گھنٹے میں پارسل پہنچ جاۓ گا اور ساتھ میں یہ بولتا ہے کہ آپ نے TCS دفتر نہیں جانا کیونکہ ہمارا TCS والوں ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوتا کیونکہ ہمارا مال نان کسٹم ہوتا ہے وہ پھر آگے نہیں بھیجتے اسلیے ہم نے اپنا خود کا TCS دفتر بنایا ہوا ہے Tcs والا آپ سے خود رابطہ کرے گا۔

پھر جب 24 گھنٹے گزرتے ہیں تو آپ کو واٹس ایپ Fake TCS والا ایک ایس ایم ایس کرتا ہے اور بولتا ہے کہ سر آپ کا پارسل میں لے کر آرہا ہوں آپ مجھے TCS کی سلپ اور پارسل کی ویڈیو سینڈ کریں۔ کسٹمر تو دونوں چیزیں سینڈ کرتا ہے لیکن TCS والا دوبار ایس ایم ایس کرتا ہے کہ سلپ میں CN نمبر کراس ہے مجھے CN نمبر سینڈ کریں گے تو ہی میں پارسل آپ کا آپ کے ایڈریس پر لے آؤں گا۔

کسٹمر ایڈمن کو ایس ایم ایس کرتا ہے سر مجھے CN نمبر سینڈ کریں تو ایڈمن بولتا ہے 2 منٹ انتظار کرو میں اونر سے لے کر سینڈ کرتا ہوں۔ 2منٹ بعد ایڈمن میسج کرتا ہے کہ کسٹمر کی ہاف قیمت ادا کرنے والی بقایا رہتی ہے تو اونر کہتا ہے کہ بقایا قیمت ادا کریں گے تو ہی CN نمبر ملے گا۔

اب غریب آدمی پھر لالچ میں آکر بقایا قیمت ایزی پیسہ کر دیتا ہے۔ پھر ایڈمن CN نمبر سینڈ کرتا ہے تو وہ کسٹمر آگے فیک TCS والے کو سینڈ کرتا ہے تو وہ آگے سے بولتا ہے کہ ادھر ابھی ہماری نان کسٹم گاڑی چیک ہو رہی ہے تو آدھا گھنٹا لگ جائے گا۔

پھر آدھے گھنٹے بعد TCS والا میسج کرتا ہے کہ کسٹم والوں نے ہمارا سارا مال پکڑ لیا ہے تو کسٹم والے ایک پارسل کا 9000 ہزار مانگ رہے ہیں تو میں آپ کو ایزی پیسہ نمبر سینڈ کر رہا ہوں اس پر قیمت ادا کر دو باقی پارسل والے لوگ بھی قیمت ادا کر رہے ہیں اور وائس ایپ میسیج کرتا ہے کہ آپ سوچو کہ آپ کسٹم ادا کر دو گے تو آپ کا 1000 ہزار والا موبائل 60000 میں مارکیٹ میں سیل ہو سکے گا۔۔۔

ادھر آ کر تو آپ کو پتہ چل جانا چاہیے کہ یہ لوگ صرف آپ کے ساتھ فراڈ کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگ پھر بھی لالچ میں آکر 9000 ہزار سینڈ کر دیتے ہیں ۔

پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں ایسے گروپ چل رہے ہیں۔ اور یہ لوگ نہ جانے کہاں سے ہیں اور آپ اگر ان سے گودام کا ایڈریس پوچھو تو یہ ہر شخص آپ کو علیحدہ علیحدہ ایڈریس بتاتا ہے۔ زیادہ تر بلوچستان کا ایڈریس کسی کو چمن بارڈر کسی کوہٹہ کسی کو گوادر کسی کو قلعہ سیف اللہ کسی کو ایران بارڈر اور یہ لوگ آپ سے بہت پیارے انداز میں بات کرتے ہیں کہ ہر شخص ان کی جال میں پھنس جائے۔

آئیے اس فراڈ کو بےنقاب کریں۔۔۔ سب مل کر اس کام میں ہماری مدد کیجیے تاکہ غریب لوگ اس فراڈ سے بچ سکیں اس میسج اور ویڈیو کو میں چاہتا ہوں کہ پورے پاکستان میں سینڈ کیا جائے۔

09/11/2023

Address

Islamabad
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shairi Wala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share