Ansar Hassan

Ansar Hassan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ansar Hassan, Poet, Islamabad.

14/11/2023

جیو علی اکبر ناطق

پیارے دوستو ! میں جانتا ہوں وقتِ رواں نفسا نفسی کی لپیٹ میں ہے ، یہ دور مشینوں کا دور ہے اور ہم لوگ ان مشینوں کے کل پرزے ہیں ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے دل فریب شکنجوں نے ہمیں جکڑا ہوا ہے ، مجھے علم ہے کہ ہم ذوقِ جمالیات کی آبیاری سے عاری لوگ ہیں ، ہماری ترجیحات اور سے اور ہو چکی ہیں ، بقول احمد فراز

اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں ، جاناں

ہم لوگ حسن و جمال کے جھمیلوں سے نکل چکے ہیں ، لے دے کے آج ہمیں محبت ہے تو صرف بابائے قوم کی تصویر والے کاغذات سے اور ہم انھیں کاغذات کو اکٹھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، یعنی ہم لوگ کاغذی محبت کے دور میں جی رہے ہیں ، قدرت کے کمالات اور فطرت کی جمالیات کے نظاروں سے حظ اٹھانے کے زمانے لد گئے ، آپ چہار دانگ عالم کی سیاحت کر کے دیکھ لیں آج کا آدمی مال و دولت کی ہوس میں حیوانی سطح پہ آ چکا ہے ، کل رات ہمارے یار غار ( جناب علی اکبر ناطق) ہمیں امریکیوں کی غیر فطری زندگی کے واقعات سنا رہے تھے ، کم از کم مجھے تو ایسی زندگی سے کبھی پہلے محبت رہی ہے اور نہ اب ہے اور میرے مستقبل نے تو اس سے بالکل منہ ہی موڑ لیا ہے ،

بھائیو ، ہم تو اس زندگی کو زندگی ہی نہیں کہتے جو اپنے اندر کشش نہ رکھتی ہو ، بھلا وہ بھی کوئی زندگی ہے جسے دیکھ کر موت سے محبت ہو جائے ،

دوستو ! ہم شاعر لوگ ہیں ، ہم روشن شمعوں کے پروانے ہیں ، ہم اپنی ہی نوع کے دیوانے ہیں ، ہم حسن و جمال کے پرستار ہیں، ہماری ایک اپنی دنیا ہوتی ہے ، ہم قلب و نظر کی تسکین کا سامان ڈھونڈنے والے ہیں ، یہ سامان ہمیں جس جگہ سے مل جائے ہم وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں ، سو اس تلاش کے سفر میں ہم اسلام آباد میں سترہ میل کے مقام پر جمالیات کا ایک عظیم شاہکار دریافت کر چکے ہیں یہ شاہکار ایک عظیم ماہر تعمیرات اور ہمارے جانی علی اکبر ناطق کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ، یہ شاہکار منہ سے بھلا کیوں نہ بولے ، آخر اس کا خالق بھی تو ناطق ہے ، ناطق جانی تو نے ہمیں دیدہ و دل کی تسکین کا سامان مہیا کیا ، مگر ہم فقیر لوگ تمھیں عوضانے کے طور پر دعاؤں کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتے ، سو پہلے کچھ دعائیں وصول کر لو ، باقی باتیں بعد میں:

" جا علی اکبر ناطق اللہ تیرا بھلا کرے ،

اللہ تیرے بھائیوں کی نسلوں کو آباد رکھے اور تجھے شادی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،

اللہ تجھے تیری طرح خوبصورت بیٹے عطا کرے ،

اللہ ہمیں جلدی وہ وقت دکھائے جب ہم تیرے ڈیرے پر آئیں تو ہمارے بھتیجے تمھیں دوڑ کر اطلاع دیں کہ ابو ابو انکل شہاب صفدر اور انصر حسن آئے ہیں ،

اللہ تجھے بھی پاپڑ ، لیز ، بسکٹ ، آئس کریم ، قلفیاں اور پتنگ مانگنے والے عطا کرے ,

اللہ تجھے محمد و آل محمد کے صدقے نظر بد سے بچائے ،

اللہ تجھے اپنی حفظ و امان میں رکھے

اللہ تجھے طویل عمر عطا فرمائے تا کہ ہم تیری صحبتوں سے محبتیں سمیٹتے رہیں ،

اللہ تیری تخلیقی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے "

دوستو!
علی اکبر ناطق ایک اعلا درجے کا شاعر ، عظیم افسانہ نگار ، منفرد نظم گو اور ناول نگار تو ہے ہی ہے ، مگر خالقِ اکبر نے اسے اور بھی بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے جن کا ذکر اس ایک نشست میں مشکل ہے ، البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ علی اکبر ناطق جس طرح اپنے علمی اور ادبی کام کے اعتبار سے مختلف ہے اسی طرح ناطق تعمیرات کے شعبے میں بھی ایک بے مثال ہنر مند ہے ، کل شہاب صفدر صاحب اور میں جس گاڑی میں " جامعہ الولایہ" پہنچے اس گاڑی کا ڈرائیور بھی کہہ رہا تھا کہ جناب لگتا نہیں کہ یہ کوئی دینی مدرسہ ہے بلکہ یہ تو کوئی نہایت عجوبہ قسم کی عمارت بن رہی ہے ، اس سے پہلے میں نے ایسی عمارت نہیں دیکھی ، گاڑی کا ڈرائیور جب بات کر چکا تو شہاب صاحب بیساختہ بولے کہ یہ عمارت بنانے والا مستری ہمارا یار ہے ،

میں گفتگو کے آغاز میں بتا چکا ہوں کہ ہمارے پاس کتابیں پڑھنے یا کچھ لکھنے لکھانے یا مغز ماری کا وقت نہیں رہا ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ کسی چیز کو پڑھنے پڑھانے کے بجائے صرف دیکھ لینا ایک آسان عمل ہے ، سو وہ احباب جو تخلیقی اور تعمیری شعبہ جات سے تعلق رکھتے ہیں وہ علی اکبر ناطق کے اس کام کو ضرور دیکھیں یہ کام بہت تیزی سے اپنی تکمیل کی طرف جا رہا ہے ، سننے اور دیکھنے میں بہت فرق ہوتا ہے اس لئے جا کر دیکھیں اور علی اکبر ناطق کو داد و تحسین سے نوازیں۔

انصر حسن

26/12/2022

یا سیدہ سلام اللہ علیہا

ایسا نہیں کہ صرف ہے جائی رسول ص کی
زہرا ع بہت بڑی ہے کمائی رسول ص کی

جانے ، خدا کی بات وہ کیسے سمجھ گئے
جن کی سمجھ میں بات نہ آئی رسول ص کی

نوکر نہیں وہ لوگ تھے دشمن رسول ص کے
بیٹی بہت جنھوں نے رُلائی رسول ص کی

تھوڑے دنوں کے بعد جہاں سے چلی گئی
زہرا ع نہ سہہ سکی تھی جدائی رسول ص کی

عقلوں میں آ سکے گا نہ رتبہ رسول ص کا
عقلوں میں آئے گی نہ رسائی رسول ص کی

مدفن منافقوں نے ہِلایا رسول ص کا
دختر ص منافقوں نے ستائی رسول ص کی

انصر بڑے بڑوں سے وہ آگے نکل گئے
رکھتے ہیں جو دلوں میں بڑائی رسول ص کی

انصر حسن

04/12/2022

غزل

کرے نہ پیچھا وبال تیرا
رہے سلامت جمال تیرا

کبھی نہ دیکھوں نڈھال تجھ کو
کبھی نہ دیکھوں زوال تیرا

نہیں قیامت سے کم جوانی
غضب ہے جاہ و جلال تیرا

زبان بھی لا جواب تیری
کلام بھی ہے کمال تیرا

اٹھاؤں تیرے سبھی اثاثے
چراؤں قیمتی مال تیرا

جواب مجھ سے نہ بن سکے گا
بہت ھے مشکل سوال تیرا

میں بیٹھ سکتا ہوں پاس تیرے ؟
میں پوچھ سکتا ہوں حال تیرا ؟

مرے پرانے صندوقچے میں
پڑا ہے جانی رومال تیرا

نہیں ہے کوئی نظیر تیری
وجود ھے بے مثال تیرا

نہ سر سے تیرا جنون جائے
نہ دل سے نکلے خیال تیرا

انصر حسن

28/11/2022

نوحہ

دینِ سرور ص کی بقا ہے، قافلہ سجاد ع کا
شام والو، بے خطا ہے، قافلہ سجاد ع کا

بیڑیاں پہنے ہوئے یہ قافلہ سالار ہے
غمزدہ ہے، ناتواں ہے اور پھر بیمار ہے
حامئ دینِ خدا ہے، قافلہ سجاد ع کا

اشقیا جو کر رہے ہیں پشتِ عابد ع پر ستم
رو رہے ہیں ظلم ان کا دیکھ کر سارے حرم
کس قدر بے آسرا ہے، قافلہ سجاد ع کا

خون آنکھوں سے رواں ہے عابدِ بیمار ع کی
بیٹیاں ہیں ساتھ اس کے حیدرِ کرار ع کی
بے نوا ہے، بے صدا ہے، قافلہ سجاد ع کا

باندھ کر لائی گئیں جو رسیوں میں بیبیاں
دخترانِ مرتضیٰ، لاچار کی ہیں پھوپھیاں
بیکسی کی انتہا ہے، قافلہ سجاد ع کا

بیبیوں کے نام پوچھے جب لعینِ شام نے
آ گئی فضہ گرج کر اس لعیں کے سامنے
خوف سے سہما ہوا ہے، قافلہ سجاد ع کا

انصر حسن

28/11/2022

حمد باری تعالیٰ

چلا رہا ہے وہ ہر ایک سلسلہ میرا
مرا کریم نہیں کام روکتا میرا

ترے سوا میں پکاروں کسے بتا مجھ کو
نہیں ہے کوئی جہاں میں ترے سوا میرا

گناہ گار ، خطا کار ہوں پہ تیرا ہوں
ترے ہے سامنے سارا معاملہ میرا

یہ لوگ باگ مجھے فائدہ نہ دے پائے
تری ہی ذات سے ہوتا رہا بھلا میرا

اسے بتاؤں میں کیونکر ضرورتیں اپنی
وہ سب سے خوب سمجھتا ہے مدعا میرا

مرے عدو نے بجھائے مرے چراغ مگر
خدا کے نام سے روشن ہے راستا میرا

جہاں میں یوں تو خداؤں کی بھیڑ ہے انصر
مگر یہ بات کہ سب سے خدا بڑا میرا

انصر حسن

28/11/2022

یاداں تے فریاداں

جاگ پئی اے پیڑ پرانی
بھل گیا سانوں دانہ ، پانی
ہائے ساڈی درد کہانی

ساڈا کوئی وی ہو نئیں سکدا
اوہ وی نال کھلو نئیں سکدا
پتھر ، پھل پرو نئیں سکدا

ساڈے نالوں چنگڑ چنگے
بال جنھاں دے ننگ پننگے
بھانویں نیں ایہہ لوک لفنگے

ساڈی وات ناں لیندا کوئی
ساڈے کول ناں بہندا کوئی
رسیا رسیا رہندا کوئی

لوکی سانوں گالاں کڈھدے
خبرے کیوں نئیں پچھا چھڈدے
ایویں سانوں کتے وڈھدے

چھڈ گئے سانوں ساڈے لگدے
کھا گئے سانوں بھانبڑ آگ دے
ٹھگ وی آ کے سانوں ٹھگدے

کوئی نئیں یار نگینہ ساڈا
گوجر خان ناں دینہ ساڈا
مشکل وچ سفینہ ساڈا

ورد وظیفہ کردے پئے آں
ککھاں کولوں ڈردے پئے آں
متن توں پہلاں مردے پئے آں

مندر وچ مسیت اساڈی
ڈاہڈے نال پریت اساڈی
کوئی ناں سمجھیا ریت اساڈی

چھڈ گئے سانوں ماپے ساڈے
ودھ گئے یار سیاپے ساڈے
کھول لے رنگ بڑھاپے ساڈے

ناں کوئی ساڈا خویش قبیلہ
ناں کوئی ساڈا یار سجیلا
ناں کوئی ساڈا ہور وسیلہ

نیویں پا کے جاون والے
سانوں روز رلاون والے
یار کلیجے کھاون والے

ہائے اوہ سوہنے سوہنے بیلی
سوہنے تے من موہنے بیلی
ٹر گئے پار پروہنے بیلی

دے کے سانوں ہجر ، جدائی
جندڑی ساڈی مار مکائی
فیر ناں اوہناں شکل وکھائی

انصر حسن

28/11/2022

ریزہ ریزہ

پیپل کے پیلے پات
میں راضی اس کی جیت پر
میں راضی کھا کے مات
--------------------
سینے سے اٹھتی ہُوک
انجان سے میری دوستی
نادان مرا معشوق
--------------------
آ، دیکھ مجھے تقدیر!
میں ہنستے بستے شہر میں
تنہائی کی تصویر
--------------------
ویران ہماری گلیاں
سوکھے باغات ہیں جن میں
کھلتے ہیں پھول نہ کلیاں
--------------------
پوچھو نہ ٹھور ٹھکانا
اک دشت ہے اپنا مسکن
وہ بھی ہے چھوڑ کے جانا
--------------------
تقریبِ شعر شناسی
حلقے میں بیٹھے شاعر
اور چاروں اُور اداسی
--------------------
ہم جس کے ہیں گرویدہ
پُرپیچ ہیں اس کی باتیں
ہے شخص بہت پیچیدہ
--------------------
اس بار نہ بادل برسے
ہم لوگ پیاسے پنچھی
ہم بوند بوند کو ترسے
--------------------
بیٹھا ہے ایک سوالی
آنکھوں میں جس کی آنسو
ہاتھوں میں کاسہ خالی
--------------------
جب کھولا بند دروازہ
بستر پہ لاش پڑی تھی
اور خون کسی کا تازہ
--------------------
انصر حسن

28/11/2022

غزل

کوئی خفیف سا بھی اشارہ نہیں کیا
اس نے کبھی خیال ہمارا نہیں کیا

اس نے کسی کے ساتھ نباہی نہ دوستی
اس نے کسی کے ساتھ گذارا نہیں کیا

تجھ کو ملا ہے کام کا پورا معاوضہ
حالانکہ تو نے کام بھی سارا نہیں کیا

اک بار ہو گیا تھا کہیں اتفاق سے
ہم نے کسی سے پیار دوبارہ نہیں کیا

بستر پہ ہم تو آج بھی یونہی پڑے رہے
چارہ گروں نے آج بھی چارہ نہیں کیا

انصر حسن

28/11/2022

غزل

دل جوئی سے پتھر عاری ہوتے ہیں
بت خانے کی شان پجاری ہوتے ہیں

کھا جاتی ہے لفظوں کی تقدیس جنھیں
وہ پاکیزہ لوگ لکھاری ہوتے ہیں

بے عقلوں کی بوجھ سے رغبت ہوتی ہے
بے عقلوں کے بستے بھاری ہوتے ہیں

کوئی خاص نہیں بستی بنجاروں کی
بنگلوں میں بھی یار بھکاری ہوتے ہیں

شاعر اپنا ذوق و شوق دکھاتا ہے
کرتب کے محتاج مداری ہوتے ہیں

اِن آنکھوں سے دید کسی کی ہوتی تھی
آج اِنھیں سے چشمے جاری ہوتے ہیں

انصر حسن

28/11/2022

غزل

سبزہ ہے ، ہریالی ہے ، خوش حالی ہے
دل داروں کی بستی دیکھنے والی ہے

لوگ تمہاری باتوں سے گھبراتے ہیں
یار سنا ہے جیبھ تمہاری کالی ہے

آپ حفاظت کی ہے اپنی عزت کی
میں نے اپنی پگڑی آپ سنبھالی ہے

ایک جناور ، کہتا ہے انسانوں سے
میرا قول ، مرا کردار مثالی ہے

میں اس کو الو کا پٹھا کہتا ہوں
یار بتاؤ یہ بھی کوئی گالی ہے

کب تیرا درویشوں نے دیدار کیا
اپنے پاس تری تصویر خیالی ہے

کرتا ہے اقرار علی کی عظمت کا
میرا کنبہ ، میری قوم حلالی ہے

شیریں کے دشوار گزار پہاڑوں سے
میں نے ٹھنڈی میٹھی نہر نکالی ہے

سارے بچے دیکھ رہے ہیں غازی کو
لیکن غازی کا مشکیزہ خالی ہے

انصر حسن

28/11/2022

غزل

کبھی جو باہر نہ در سے نکلا
وہ میرے کہنے پہ گھر سے نکلا

عجب تو یہ ہے ، نہ موت آئی
نہ تیر میرے جگر سے نکلا

میں اپنی آنکھیں نکال دوں گا
اگر وہ میری نظر سے نکلا

صدائیں دیتا ، دعائیں دیتا
فقیر تیرے نگر سے نکلا

کسی کی صورت نہ دل سے نکلی
کسی کا سودا نہ سر سے نکلا

ابھی وہ اپنے ہی سائے میں ہے
کہاں وہ اپنے اثر سے نکلا

خوشی سے اپنی چلا گیا ہے
نہیں کسی کے وہ ڈر سے نکلا

انصر حسن

28/11/2022

جنابِ امیر ع کی نذر

پرے سے پرے ہیں زمانے علی کے
بہت سلسلے ہیں پرانے علی کے

رہائش علی کی یہاں بھی ، وہاں بھی
یہ ارض و سما ہیں ٹھکانے علی کے

خدا کو جہاں بھی ضرورت پڑی ہے
بلائے ہیں بیٹے خدا نے علی کے

ازل سے علی کا دیا کھا رہے ہیں
ہمارے گھروں میں ہیں دانے علی کے

نہ جائے گی جگ سے حکومت علی کی
نہ ہوویں گے خالی خزانے علی کے

عجب ہے کہ دنیا پہ چھائے ہوئے ہیں
گداگر علی کے ، دوانے علی کے

وہی جانتا ہے ، اسی کو خبر ہے
لگے جس کے تن پہ نشانے علی کے

انصر حسن

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ansar Hassan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Ansar Hassan:

Share

Category