14/11/2023
جیو علی اکبر ناطق
پیارے دوستو ! میں جانتا ہوں وقتِ رواں نفسا نفسی کی لپیٹ میں ہے ، یہ دور مشینوں کا دور ہے اور ہم لوگ ان مشینوں کے کل پرزے ہیں ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے دل فریب شکنجوں نے ہمیں جکڑا ہوا ہے ، مجھے علم ہے کہ ہم ذوقِ جمالیات کی آبیاری سے عاری لوگ ہیں ، ہماری ترجیحات اور سے اور ہو چکی ہیں ، بقول احمد فراز
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں ، جاناں
ہم لوگ حسن و جمال کے جھمیلوں سے نکل چکے ہیں ، لے دے کے آج ہمیں محبت ہے تو صرف بابائے قوم کی تصویر والے کاغذات سے اور ہم انھیں کاغذات کو اکٹھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، یعنی ہم لوگ کاغذی محبت کے دور میں جی رہے ہیں ، قدرت کے کمالات اور فطرت کی جمالیات کے نظاروں سے حظ اٹھانے کے زمانے لد گئے ، آپ چہار دانگ عالم کی سیاحت کر کے دیکھ لیں آج کا آدمی مال و دولت کی ہوس میں حیوانی سطح پہ آ چکا ہے ، کل رات ہمارے یار غار ( جناب علی اکبر ناطق) ہمیں امریکیوں کی غیر فطری زندگی کے واقعات سنا رہے تھے ، کم از کم مجھے تو ایسی زندگی سے کبھی پہلے محبت رہی ہے اور نہ اب ہے اور میرے مستقبل نے تو اس سے بالکل منہ ہی موڑ لیا ہے ،
بھائیو ، ہم تو اس زندگی کو زندگی ہی نہیں کہتے جو اپنے اندر کشش نہ رکھتی ہو ، بھلا وہ بھی کوئی زندگی ہے جسے دیکھ کر موت سے محبت ہو جائے ،
دوستو ! ہم شاعر لوگ ہیں ، ہم روشن شمعوں کے پروانے ہیں ، ہم اپنی ہی نوع کے دیوانے ہیں ، ہم حسن و جمال کے پرستار ہیں، ہماری ایک اپنی دنیا ہوتی ہے ، ہم قلب و نظر کی تسکین کا سامان ڈھونڈنے والے ہیں ، یہ سامان ہمیں جس جگہ سے مل جائے ہم وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں ، سو اس تلاش کے سفر میں ہم اسلام آباد میں سترہ میل کے مقام پر جمالیات کا ایک عظیم شاہکار دریافت کر چکے ہیں یہ شاہکار ایک عظیم ماہر تعمیرات اور ہمارے جانی علی اکبر ناطق کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ، یہ شاہکار منہ سے بھلا کیوں نہ بولے ، آخر اس کا خالق بھی تو ناطق ہے ، ناطق جانی تو نے ہمیں دیدہ و دل کی تسکین کا سامان مہیا کیا ، مگر ہم فقیر لوگ تمھیں عوضانے کے طور پر دعاؤں کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتے ، سو پہلے کچھ دعائیں وصول کر لو ، باقی باتیں بعد میں:
" جا علی اکبر ناطق اللہ تیرا بھلا کرے ،
اللہ تیرے بھائیوں کی نسلوں کو آباد رکھے اور تجھے شادی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،
اللہ تجھے تیری طرح خوبصورت بیٹے عطا کرے ،
اللہ ہمیں جلدی وہ وقت دکھائے جب ہم تیرے ڈیرے پر آئیں تو ہمارے بھتیجے تمھیں دوڑ کر اطلاع دیں کہ ابو ابو انکل شہاب صفدر اور انصر حسن آئے ہیں ،
اللہ تجھے بھی پاپڑ ، لیز ، بسکٹ ، آئس کریم ، قلفیاں اور پتنگ مانگنے والے عطا کرے ,
اللہ تجھے محمد و آل محمد کے صدقے نظر بد سے بچائے ،
اللہ تجھے اپنی حفظ و امان میں رکھے
اللہ تجھے طویل عمر عطا فرمائے تا کہ ہم تیری صحبتوں سے محبتیں سمیٹتے رہیں ،
اللہ تیری تخلیقی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے "
دوستو!
علی اکبر ناطق ایک اعلا درجے کا شاعر ، عظیم افسانہ نگار ، منفرد نظم گو اور ناول نگار تو ہے ہی ہے ، مگر خالقِ اکبر نے اسے اور بھی بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے جن کا ذکر اس ایک نشست میں مشکل ہے ، البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ علی اکبر ناطق جس طرح اپنے علمی اور ادبی کام کے اعتبار سے مختلف ہے اسی طرح ناطق تعمیرات کے شعبے میں بھی ایک بے مثال ہنر مند ہے ، کل شہاب صفدر صاحب اور میں جس گاڑی میں " جامعہ الولایہ" پہنچے اس گاڑی کا ڈرائیور بھی کہہ رہا تھا کہ جناب لگتا نہیں کہ یہ کوئی دینی مدرسہ ہے بلکہ یہ تو کوئی نہایت عجوبہ قسم کی عمارت بن رہی ہے ، اس سے پہلے میں نے ایسی عمارت نہیں دیکھی ، گاڑی کا ڈرائیور جب بات کر چکا تو شہاب صاحب بیساختہ بولے کہ یہ عمارت بنانے والا مستری ہمارا یار ہے ،
میں گفتگو کے آغاز میں بتا چکا ہوں کہ ہمارے پاس کتابیں پڑھنے یا کچھ لکھنے لکھانے یا مغز ماری کا وقت نہیں رہا ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ کسی چیز کو پڑھنے پڑھانے کے بجائے صرف دیکھ لینا ایک آسان عمل ہے ، سو وہ احباب جو تخلیقی اور تعمیری شعبہ جات سے تعلق رکھتے ہیں وہ علی اکبر ناطق کے اس کام کو ضرور دیکھیں یہ کام بہت تیزی سے اپنی تکمیل کی طرف جا رہا ہے ، سننے اور دیکھنے میں بہت فرق ہوتا ہے اس لئے جا کر دیکھیں اور علی اکبر ناطق کو داد و تحسین سے نوازیں۔
انصر حسن