Rana Noman

Rana Noman Since everyone is under so much pressure due to COVID-19. I thought of making people laugh under this distress so, i hope you guys enjoy this video.

Watch the video till the end and do LIKE, SHARE & COMMENT down your favorite part. I just want to make th

12/01/2023

Meat|| Artificial Meat || artificial meat|| artificial meat production ||artificial meat in china artificial meat factory

01/09/2022
15/08/2022

میں ہاشم رضا سے دو ہفتے پہلے واقف ہوا ۔یہ تصاویر جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ میرے پیارے دوست ٹیچر اور ٹرینر محمد علی صاحب نے مجھے بھیجیں اور کہا کہ ہاشم رضا آپ سے ملناچاہتے ہیں۔میں نے ملاقات کی ہامی بھری لیکن پچھلے ڈیڑھ ماہ میں میرے قریبی حلقہ احباب میں چار اموات ہوئیں جن کی وجہ سے میں جذباتی طورپر خود کو بہتر محسوس نہیں کررہا تھا،جبکہ ساتھ ہی ساتھ گھر اور دفتر کی بے شمار ذمہ داریاں بھی تھیں ، چنانچہ میں نے چند دن بعد ہاشم رضا سے ملاقات کا سوچالیکن پھر اطلاع ملی کہ ہاشم رضا اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔مجھے بارباراس بات کا افسوس ہورہاہے کہ کاش میں ان سے ملاقات کرلیتا۔
سوشل میڈیا پر ان کے متعلق ایک تحریر وائرل ہے میں آپ کی خدمت میں بھی وہ پیش کرنا چاہتاہوں۔...................................................................................................
"یہ دونوں تصاویر ہاشم رضا بھائی کی ہیں اور دونوں تصاویر میں محض ڈیڑھ برس کا فرق ہے. یہ بھائی کینسر سے جنگ لڑتے لڑتے آج رات دنیا سے رخصت ہو گئے. وہ ایک سماجی کارکن تھے اور سماج کے محروم طبقہ کی محرومیاں دور کرنے میں سرگرم رہتے تھے. پچھلے برس فروری میں انہیں معدے کی شدید تکلیف ہوئی اور چند ماہ بعد چھوٹی آنت اور معدے کا کینسر تشخیص ہو گیا. اللہ کریم ان کی مغفرت فرما کر انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور وارثین کو صبر جمیل دے.
انہوں نے اپنی بیماری کے متعلق بہت تفصیل سے لکھا اور آخر میں اس کے نتیجے میں ملنے والے کچھ سبق ذکر کیے. میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک ان کو پڑھے کہ ان میں ہمارے لیے بڑی عبرت ہے.
وہ کہتے ہیں کہ جب معدے نے ہضم کرنا چھوڑ دیا تو محض چند ماہ میں وزن تیزی سے کافی کم ہو گیا. روزمرہ کی تمام سرگرمیاں آہستہ آہستہ چھوٹ گئیں اور میں بستر سے لگ گیا. جب آپریشن کے لیے خون کی ضرورت پیش آئی تو عجیب واقعہ رونما ہوا. میں نے وٹس ایپ سٹیٹس لگایا تو مجھے یقین تھا کہ خون کا بندوبست بآسانی ہو جائے گا کہ میرے ساتھ کافی ساری بلڈ سوسائٹیز، بلڈ این جی اوز اور بلڈ ایکٹیوسٹ جڑے ہوئے تھے. لیکن مجھے اس وقت بےحد حیرانگی ہوئی کہ چھ سو سے زائد قریبی لوگوں نے میرا سٹیٹس دیکھا مگر چند دوستوں کے سوا کسی نے پوچھا تک نہیں کہ آخر مجھے کس لیے خون ضرورت ہے. خون کا بندوبست تو ہو گیا لیکن مجھے اس سے بڑا شاک لگا.
وہ کہتے ہیں کہ زندگی کے سکھانے کا اپنا ہی انداز ہے اور میں نے ان مشکل حالات میں زندگی سے مندرجہ ذیل بڑے اہم سبق سیکھے.
1. خود کو اللہ کے سپرد کر دیں کہ آپ کے کنٹرول میں کچھ بھی نہیں ہے. آپ ناقابلِ تسخیر ہرگز نہیں ہیں.
2. آپ کے گھر والے سب سے پہلے ہیں اور ماں کی محبت کا نعم البدل کوئی بھی نہیں ہے.
3. اگرچہ آپ بستر سے ہلنے کے قابل بھی نہیں اور آپ کا درد ناقابلِ برداشت ہو تو تب بھی تب بھی آپ کے پاس اپنے رب کا شکرگزار ہونے کے لیے بہت کچھ موجود ہے.
4. ہم بہت محدود ہستی ہیں جو بعض اوقات کسی خاص معاملے کی وجہ یا وقت کا تعین تبھی کر پاتے ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے.
5. آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے کچھ خاص لوگوں کے سوا کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا. لہٰذا آپ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کی زندگی میں وہ خاص لوگ کون ہیں اور ان کی پہلے سے ہی قدر کیجیے.
6. کچھ لوگ آپ سے خوب فائدے اٹھاتے ہیں لیکن وہ مشکل وقت میں آپ کے کسی کام نہیں آتے. ایسے لوگوں سے خبردار رہیں.
7. کم مگر مخلص لوگوں سے دوستی رکھیں.
8. زندگی میں مفت ملی ہوئی چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی قدر کیجیے. کسی سے بات چیت، پارک میں چہل قدمی کرنا، باقاعدہ کھانا کھانا، ہنسنا، بھرپور نیند لینا اور چھوٹے موٹے کام کرنے کے قابل ہونا، یہ وہ نعمتیں ہیں کہ جو شاید آپ کے لیے معمولی ہوں لیکن میں آج ان سے محروم ہوں اور انہیں ترستا ہوں.
9. اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر کسی کی تیمارداری کرنا بیمار کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے. اسی وجہ سے یہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت بھی ہے.
10. جانیں کہ آپ کے لیے واقعی اہم کیا ہے. وہ چیزیں جنہیں میں اپنے لیے بہت اہم سمجھتا رہا لیکن بیمار پڑا تو وہ میرے لیے بالکل غیراہم ہو کر رہ گئیں.
11. کچھ عام لوگ آپ کے لیے آپ کے دوستوں سے بڑھ کر اچھے ثابت ہوتے ہیں.
12. سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکہ ہے. یہ ہمیں انسان سے حیوان بنا رہا ہے اور ہم انسانی ہمدردی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں.
13. ہر قسم کے حالات میں ہمارے سیکھنے کے لیے بہت سے سبق ہوتے ہیں.
14. زندگی بہت مختصر ہے. لہٰذا ابھی سے ہی کچھ بامقصد اور خاص کرنا شروع کر دیجیے. اگر آپ نے کسی کا دل دکھایا ہے تو اس سے معافی مانگ لیجیے. اگر آپ کسی سے پیار کرتے ہیں تو اسے بتا دیجیے. تاخیر مت کیجیے کہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ کل میں یہ سب کرنے کے لیے آپ نہ ہوں.
15. اس دھوکے میں پڑنا بہت آسان ہے کہ میرے بغیر دنیا نہیں چل پائے گی مگر سچ یہ ہے کہ اسے ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا."

15/08/2022

پاکستان بننے کے بعد پہلی مرتبہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح سیلیوٹ کرنے والے فوجی جوان آج بھی زندہ ہیں۔ صوبیدار گل محمد اب بہت زیادہ ضعیف ہو گئے ہیں اور چکوال کے گاؤں کریالہ میں رہائش پذیر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب قائداعظم محمد علی جناح پہلی مرتبہ کراچی میں ملیر کینٹ آئے تو پہلا سیلیوٹ میں نے انہیں کیا۔ یہ وہ موقع تھا جب پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم نے پانچویں ہیوی اے رجمنٹ کا جائزہ لیا تو اس وقت قوم کے اس سپوت نے رائل سیلیوٹ قائد اعظم کو پیش کیا۔
اس وقت ہمارا کرنل ایک انگریز تھا جس نے مجھ سے بعد میں پوچھا کہ تم نے انہیں رائل سیلیوٹ کیوں دیا، ان کے اس سوال پر میں نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کا سربراہ ہے اور اس سے پہلے بھی میں نے وائسرائے ہند کو 2 مرتبہ یہ رائل سیلیوٹ پیش کیا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تو ملک کے حکمران کو جس طرح گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے اس طرح پہلے نہیں ہوتا تھا بلکہ پہلے تو گارڈ آف آنر میں تو 9 سپاہی، 1 حولدار اور 1 نائب صوبیدار شامل ہوتا تھا۔
اس کے علاوہ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ میں نے تو جب قائداعظم بحثیت گورنر جنرل گورنر ہاؤس سے باہر نکلے تو مجھے معلوم نہیں تھا تو میں نے گیٹ پر کھڑے سنتری سے کہا کہ جو بھی گیٹ پر آئے اسے وہیں روک لینا ، میں چیک کروں گا اور پھر گاڑی اندر جائے گی تو اس اثنا میں قائد اعظم صاحب باہر سے آ گئے۔
پھر کیا تھا اسی طرح ہوا ان کی بھی گاڑی روک لی گئی تو جب میں نے ان سے کہا کہ اپنی شناخت کروائیں تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں محمد علی جناح ہوں اس ملک کا گورنر جنرل۔
اس بات کے جواب میں، میں نے کہا کہ جناب کوئی بھی آسکتا ہے یہاں اس طرح۔ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اور یہ میری ڈیوٹی ہے تو انہوں نے شناخت کرا دی۔
قائداعظم میری کارکردگی سے اتنا متاثر ہوئے کہ ملٹری سیکریٹری سے کہا پتا لگاؤ یہ کس یونٹ کا نوجوان ہے اسے مبارکباد دو، آج میں ملک کی فوج سے انتہائی خوش ہوں، ہر کسی کو چیک کر کے اندر بھیج رہی ہے۔
یہ ضعیف بابا جی برٹش آرمی میں 1 جنوری سن 1941 کو بھرتی ہوئے تھے۔ انہوں نے 3 جنگیں لڑیں جس میں دوسری جنگ عظیم، 1965 کی جنگ اور پھر 70 میں ہونے والی جنگ کشمیر کے محاز پر لڑی۔

10/06/2022
31/05/2022

plz Like and follow for latest Video

17/05/2022

best video

12/05/2022

Don't forget to share this with your friends ;)if you like our video please LIKE 👍SUBSCRIBE 🤝&Share ▶️And stay tuned with us for informative and knowledgea...

Address

Chakwal
Islamabad
48800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rana Noman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share