SaanJh

SaanJh PoETry

17/09/2024

16/09/2024

ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭘِﭽﮭﻠﮯ ﺍِﮐﺘﯿﺲ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻓﻘﻂ

ﺍِﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮔﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ

ﺍُﻟﺠﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗُﻮ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ

ﺗﺠﮭﮯ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺭﺗﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﺗﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧ

ﺟﻮ ﮐﯿﻤﭙﺲ ﮐﯽ ﭘﮕﮉﻧﮉﯾﻮﮞ ﭘﮧ ﭨﮩﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ؟

ﺗﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ؟

ﮐﮧ ﺍِﮎ ﭘﯿﺮ ﺗﯿﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍ

ﻗﺪﻡ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﮯ

ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻮ ﺭﺍگا ﮐﻮﺋﯽ ﻣُﻄﺮﺑﻮﮞ ﮐﺎ

ﻗﺪﻡ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺎ ﭘﺎ، ﮔﺎ ﻣﺎ ﭘﺎ ﮔﺎ ﺳﺎ ﺭﮮ

ﻭﮦ ﻃﺒﻠﮯ ﮐﯽ ﺗِﺮﮐﭩﮫ ﭘﮧ ﺗﮏ ﺩِﮬﻦ ﺩﮬﻨﮏ ﺩِﮬﻦ

ﺗﻨﮏ ﺩﮬﻦ ﺩﮬﻨﺎﺩﮬﻦ ﺑﮩﻢ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ

ﻗﺪﻡ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﮔﺮ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ

ﺗﻮ ﮐﺘﻨﮯ ﮔﻮﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ

مگر جس گھڑی تو نے اس راہ کو

میرے تنہا قدم کے حوالے کیا تھا

ان سروں کی کہانی وہیں رک گئی تھی

ﮐﺘﻨﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭﯾﺎﮞ، ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺭﯾﮑﯿﺎﮞ

ﮐﺘﻨﮯ ”ﮐﻠﯿﺎﮞ، ﺑﻼﻭﻝ” ﮔﻮﯾﻮﮞ ﮐﮯ

ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﻨﺎ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ

ﮐﺘﻨﮯ ﻧﺼﺮﺕ ﻓﺘﺢ، ﮐﺘﻨﮯ ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ

ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ

ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻗﺪﻡ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ

ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮔﮭﮍﯼ

ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﮯ ﺗﻮ ﺍِﮎ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﭘﮧ

ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻣﮍﯼ ﺗﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ

ﺭﯾﻠﯿﭩﯿﻮﯾﭩﯽ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍُﭨﮭﺎ ﺗﮭﺎ

ﮐﮧ ﺍُﺱ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﮐﯽ ﮐﺸِﺶ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ

ﯾﻮﻧﺎﻥ ﮐﮯ ﻓﻠﺴﻔﯽ

ﺳﺐ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ

ﺗﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ

ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﺟُﮭﮑﺎﺅ ﮐﯽ ﺗﻤﺜﯿﻞ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﯽ

ﺗِﺮﭼﮭﯽ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺧﻢ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ

ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮐﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺮﺩﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﯿﮯ

ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﭩﯿﮟ

ﺟﯿﻮﻣﯿﭩﺮﯼ ﮐﻮ ﺟﻨﻢ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ

ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻓﻠﺴﻔﯽ، ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮭﯿﮑﮯ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ

ﺑﮭﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ

ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﻧﺴﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ

ﻭﮦ ﺩﺍﻧﺶ ﮐﺎ ﻣﻨﺒﻊ ﯾﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﻣﮕﺮ ﻣﮍ ﮐﮯ ﺗﮑﻨﮯ ﮐﻮ ﺗُﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﻓﻠﻮﺭﻧﺲ ﮐﯽ ﺗﻨﮓ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ

ﮐﻮﺋﯽ ﮈﯼ ﻭﻧﭽﯽ ﺍُﭨﮭﮯ

ﮐﯿﺴﮯ ﮨﺴﭙﺎﻧﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﭘِﮑﺎﺳﻮ ﺑﻨﮯ

ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺗُﻮ ﺟﻮ ﻣﯿﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﯾﮧ ﺳﺐ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﮐﭩﮭﮯ

ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ

ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺯﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ

ﮨﺮ ﺍِﮎ ﻋﻠﻢ ﻭ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﻣﯿﮟ

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﺗﺠﮭﮯ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺭﺗﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

15/04/2024

عشق تو ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے، یوں ہے ..... ِاحمد فراز

عشق تو ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے
جیسے کوئی درِدل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتَ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرئہ خوں ہے، یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلہءِ کن فیکوں ہے، یوں ہے

18/01/2024

ابن انشا
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
اک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افسانا
اس نار میں ایسا روپ نہ تھا جس روپ سے دن کی دھوپ دبے
اس شہر میں کیا کیا گوری ہے مہتاب رخے گلنار لبے
کچھ بات تھی اس کی باتوں میں کچھ بھید تھے اس کی چتون میں
وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں کسی چاہنے والے کے من میں
اسے اپنا بنانے کی دھن میں ہوا آپ ہی آپ سے بیگانہ
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
نا چنچل کھیل جوانی کے نا پیار کی الھڑ گھاتیں تھیں
بس راہ میں ان کا ملنا تھا یا فون پہ ان کی باتیں تھیں
اس عشق پہ ہم بھی ہنستے تھے بے حاصل سا بے حاصل تھا
اک زور بپھرتے ساگر میں نا کشتی تھی نا ساحل تھا
جو بات تھی ان کے جی میں تھی جو بھید تھا یکسر انجانا
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
اک روز مگر برکھا رت میں وہ بھادوں تھی یا ساون تھا
دیوار پہ بیچ سمندر کے یہ دیکھنے والوں نے دیکھا
مستانہ ہاتھ میں ہاتھ دیئے یہ ایک کگر پر بیٹھے تھے
یوں شام ہوئی پھر رات ہوئی جب سیلانی گھر لوٹ گئے
کیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے اس رات پہ لکھیں افسانا
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
ہاں عمر کا ساتھ نبھانے کے تھے عہد بہت پیمان بہت
وہ جن پہ بھروسہ کرنے میں کچھ سود نہیں نقصان بہت
وہ نار یہ کہہ کر دور ہوئی 'مجبوری ساجن مجبوری'
یہ وحشت سے رنجور ہوئے اور رنجوری سی رنجوری؟
اس روز ہمیں معلوم ہوا اس شخص کا مشکل سمجھانا
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
گو آگ سے چھاتی جلتی تھی گو آنکھ سے دریا بہتا تھا
ہر ایک سے دکھ نہیں کہتا تھا چپ رہتا تھا غم سہتا تھا
نادان ہیں وہ جو چھیڑتے ہیں اس عالم میں نادانوں کو
اس شخص سے ایک جواب ملا سب اپنوں کو بیگانوں کو
'کچھ اور کہو تو سنتا ہوں اس باب میں کچھ مت فرمانا'
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
اب آگے کا تحقیق نہیں گو سننے کو ہم سنتے تھے
اس نار کی جو جو باتیں تھیں اس نار کے جو جو قصے تھے
اک شام جو اس کو بلوایا کچھ سمجھایا بیچارے نے
اس رات یہ قصہ پاک کیا کچھ کھا ہی لیا دکھیارے نے
کیا بات ہوئی کس طور ہوئی اخبار سے لوگوں نے جانا
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشا نام کا دیوانا
ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں تم ہم کو کہانی کہنے دو
اس نار کا نام مقام ہے کیا اس بات پہ پردا رہنے دو
ہم سے بھی تو سودا ممکن ہے تم سے بھی جفا ہو سکتی ہے
یہ اپنا بیاں ہو سکتا ہے یہ اپنی کتھا ہو ہو سکتی ہے
وہ نار بھی آخر پچھتائی کس کام کا ایسا پچھتانا؟
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا

15/01/2024

15 جنوری یوم وفات محسن نقوی
-------------------
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے

کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے

سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے

مسافت شب ہجراں کے بعد بھید کھلا
ہوا دکھی ہے چراغوں کی آبرو کر کے

زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی
وہ خوش ہوا تھا سمندر کو آب جو کر کے

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

جلوس اہل وفا کس کے در پہ پہنچا ہے
نشان‌ طوق وفا زینت گلو کر کے

اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ہے
ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے

کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسنؔ
ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

04/01/2024

بدلیں گے تماشائی و فن کار بہت جلد
مانیں گے خطا اپنی خطا وار بہت جلد

چپ سیکھے گی یہ جراتِ اظہار بہت جلد
بن جائے گی یہ جیت تری ہار بہت جلد

اب تک ہے یہی ریت خریدار لٹا ہے
لٹ جائے گی یہ گرمئی بازار بہت جلد

اک آدھ گھڑی اور سیہ رات ہے باقی
ہو جائیں گے اب لوگ یہ بیدار بہت جلد

اچھی ہے خبر کچھ کو تو کچھ کو ہے قیامت
ہل جائے تو پھر گرتی ہے دیوار بہت جلد

گر چارہ گروں، نیم حکیموں سے نہ ملتا
ہو جاتا شفا یاب یہ بیمار بہت جلد

۔۔۔ اتباف ابرک

29/12/2023

کب تک دل کی خیر منائیں ، کب تک رہ دکھلاؤ گے
کب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گے

بیتا دید اُمید کا موسم ، خاک اُڑتی ہے آنکھوں میں
کب بھیجو گے درد کا بادل ، کب برکھا برساؤ گے

عہدِ وفا ، یا ترکِ محبت ، جو چاہو سو آپ کرو
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے

کس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ہجر کی رات ڈھلی
گیسوؤں والے کون تھے ، کیا تھے ، ان کو کیا جتلاؤ گے

فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھی
تم اُس حسن کے لطف و کرم پر ، کتنے دن اِتراؤ گے

شاعر : ”فیض احمد فیضؔ
مجموعہ کلام : ”سرِ وادیٔ سینا“

27/11/2023

غمِ جہاں کے فسانے تلاش کرتے ہیں،
یہ فتنہ گر تو بہانے تلاش کرتے ہیں،

یہ انتہا ہے جنوں میں ہوس پرستی کی،
پرائے گھر میں خزانے تلاش کرتے ہیں!

23/11/2023



اس کی کتھئی آنکھوں میں ہیں جنتر منتر سب
چاقو واقو، چھریاں وریاں، خنجر ونجر سب

جس دن سے تم روٹھیں، مجھ سے روٹھے روٹھے ہیں
چادر وادر، تکیہ وکیہ، بستر وستر سب

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی کہاں اب پہلے جیسی ہے
پھیکے پڑ گئے کپڑے وپڑے، زیور ویور سب

آخر کس دن ڈوبوں گا میں فکریں کرتے ہیں
دریا وریا، کشتی وشتی، لنگر ونگر سب

عشق وشق کے سارے نسخے مجھ سے سیکھتے ہیں
ساگر واگر، منظر ونظر، جوہر ووہر سب

تُلسی نے جو لکھا اب کچھ بدلا بدلا ہے
راون واون، لنکا ونکا، بندر وندر سب

چمنِ دکھ کے باسی ہیں، دردِ شہر کے بانی ہیں
یہ محسن وحسن، غالب والب، ساگر واگر سب

23/11/2023
17/11/2023

#1
اے شخص! اگر جوش کو تو ڈھونڈنا چاہے​
وہ پچھلے پہر حلقۂ عرفاں میں ملے گا​

اور صبح کو وہ ناظرِ نظّارۂ قدرت​
طرفِ چمن و صحنِ بیاباں میں ملے گا​

اور دن کو وہ سرگشتۂ اسرار و معانی​
شہرِ ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا​

اور شام کو وہ مردِ خدا، رندِ خرابات​
رحمت کدۂ بادہ فروشاں میں ملے گا​

اور رات کو وہ خلوتیِ کاکل و رخسار​
بزمِ طرب و کوچۂ خوباں میں ملے گا​

اور ہوگا کوئی جبر، تو وہ بندۂ مجبور​
مُردے کی طرح خانۂ ویراں میں ملے گا​

(جوش ملیح آبادی)

Address

Islamabad
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SaanJh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category