Sufism

Sufism Lap of Nature

19/08/2026
19/08/2026

آج کی ماڈرن سائنس نے 1400 سال پرانی سنتِ نبوی ﷺ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے!
جب یورپی محققین نے انسانی جسم پر پانی کے اثرات کا مطالعہ کیا، تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ پانی پینے کا اسلامی طریقہ صرف ایک عبادت ہی نہیں، بلکہ صحت کا ایک زبردست فارمولا ہے۔آئیے پہلے دو مستند احادیث مبارکہ دیکھتے ہیں اور پھر اس کے پیچھے چھپی سائنس کو سمجھتے ہیں:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:"رَسُولُ اللَّهِ ﷺ پانی پیتے وقت تین سانس لیا کرتے تھے۔" (صحیح مسلم: 2028)(آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس طریقے سے پانی پینا زیادہ پیاس بجھاتا ہے، نقصان سے محفوظ رکھتا ہے اور ہاضمے کے لیے سب سے بہتر ہے۔)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی نہ پی جایا کرو، بلکہ دو یا تین مرتبہ (سانس لے کر) پیو۔ اور جب پینے لگو تو 'بسم اللہ' پڑھو اور جب گلاس ہٹاؤ تو 'الحمد للہ' کہو۔" (سنن ترمذی: 1885)

سائنسی تحقیقات اور ماہرین کی حیرت کی وجوہاتجب جرمن اور امریکی سائنسدانوں نے الٹراساؤنڈ اور کارڈیو گرافک ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی پینے کے مختلف طریقوں پر ریسرچ کی، تو وہ درج ذیل حقائق دیکھ کر حیران رہ گئے:

دماغ اور اعصابی نظام کا اچانک صدمہ (Shock)سائنسی انکشاف:
جب ہم ایک ہی سانس میں پورا گلاس غٹ غٹ کر کے پی جاتے ہیں، تو جسم کا ہائیڈرو اسٹیٹک پریشر (Hydrostatic Pressure) اچانک بدل جاتا ہے۔حیرت کا سبب: سائنس کہتی ہے کہ اس اچانک تبدیلی سے دماغ اور اعصابی نظام کو ایک دم جھٹکا لگتا ہے، جس سے سر چکرانے کا عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تین سانس میں پینے سے یہ پریشر نارمل رہتا ہے۔

پھیپھڑوں اور آکسیجن کا توازنسائنسی انکشاف:
ایک سانس میں پانی پینے کے دوران انسان اپنی سانس کو روکتا ہے۔حیرت کا سبب: اس دوران پھیپھڑوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور خون میں آکسیجن کی سطح عارضی طور پر گر جاتی ہے۔ تین سانسوں کے دوران جب ہم گلاس منہ سے ہٹا کر سانس لیتے ہیں، تو آکسیجن کا توازن برقرار رہتا ہے۔

دل کی دھڑکن اور ویگس نرو (Vagus Nerve)سائنسی انکشاف:
گٹ گٹ کر کے پانی پینے سے ہماری ویگس نرو (وہ رگ جو دل اور معدے کو جوڑتی ہے) بری طرح متاثر ہوتی ہے۔حیرت کا سبب: اس رگ پر اچانک دباؤ آنے سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ تین وقفوں سے پانی پینے سے دل کی رفتار پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔

معدے کے تیزاب (Acid) کا متوازن ہوناسائنسی انکشاف:
ہمارے منہ کی رال (Saliva) الکلائن (Alkaline) ہوتی ہے جو معدے کے تیزاب کو نارمل کرتی ہے۔ جب ہم آرام سے تین سانس میں پانی پیتے ہیں، تو منہ کی رال پانی کے ساتھ مل کر معدے میں جاتی ہے، جس سے تیزابیت، گیس اور جلن کا خاتمہ ہوتا ہے۔

ہمیشہ بیٹھ کر پانی پینا دائیں ہاتھ کا استعمال کرنا
شروع میں بِسْمِ اللّٰهِ پڑھنا
گلاس سے منہ ہٹا کر تین الگ الگ سانس لینا
آخر میں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنا۔

کیا آپ مسنون طریقے سے پانی پیتے ہیں؟ یہ صرف ایک فیس بک پوسٹ نہیں، علم اور شفا کا پیغام ہے! اپنے پیج اور ٹائم لائن پر لازمی Share کریں تاکہ آپ کے دوست اور گھر والے بھی اس سائنسی معجزے سے واقف ہو سکیں اور سنت پر عمل کا ثواب حاصل کریں۔

06/08/2026
06/08/2026

صرف ایک چابی... اور پھر چند دن بعد جنازہ! کیا آپ بھی یہ خطرناک غلطی کرتے ہیں؟
حاکم کٹوخیل کان میں چابی سے خارش کی اور معمولی زخم جان لیوا انفیکشن بن گیا انفیکشن چہرے تک پھیلنے اور شدید سوجن ہوجانےانفیکشن کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے

"بس کان میں تھوڑی سی خارش تھی..."
یہی سوچ کر لاکھوں لوگ روزانہ کان میں چابی، ماچس کی تیلی، ہیئر پن، قلم یا ٹوتھ پک ڈال لیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ صرف میل صاف کر رہے ہیں، مگر بعض اوقات یہی معمولی حرکت ایک ایسا زخم چھوڑ جاتی ہے جو خطرناک انفیکشن کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کان میں نوکیلی چیز ڈالنے سے زخم اور انفیکشن کا خطرہ حقیقی ہے۔

کان کے اندر کی جلد جسم کی نازک ترین جلد میں شمار ہوتی ہے۔ جب چابی یا کوئی نوکیلی چیز اندر جاتی ہے تو باریک خراش بھی بن سکتی ہے۔ اگر اس خراش میں جراثیم داخل ہو جائیں تو انفیکشن شروع ہو سکتا ہے۔

ابتدا میں صرف خارش یا ہلکا درد محسوس ہوتا ہے، پھر:

کان سرخ اور سوج سکتا ہے۔
شدید درد شروع ہو سکتا ہے۔
پیپ یا بدبودار رطوبت آ سکتی ہے۔
سننے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
بعض مریضوں، خاص طور پر شوگر یا کمزور قوتِ مدافعت والے افراد میں، انفیکشن اردگرد کے ٹشوز تک پھیل سکتا ہے۔

اگر ایسے انفیکشن کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کان کا میل گندگی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

کان کا میل اللہ تعالیٰ کی ایک قدرتی حفاظتی نعمت ہے۔ یہ جراثیم، گردوغبار اور کیڑوں کو اندر جانے سے روکتا ہے، جلد کو خشک ہونے سے بچاتا ہے اور اکثر خود ہی آہستہ آہستہ باہر آ جاتا ہے۔

یعنی جس چیز کو ہم گندگی سمجھ کر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل ہمارے کان کی محافظ ہوتی ہے۔

اگر آپ اپنے پیاروں کی حفاظت چاہتے ہیں تو اس معلومات کو ضرور شیئر کریں۔ ہو سکتا ہے آپ کی ایک شیئر کسی کو ایک خطرناک غلطی سے بچا دے۔

12/04/2026

دنیا میں انسانوں نے بندر گاہیں بنائیں اور ایک الله نے بنائی !
جی ہاں ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گودار "نیچرل ڈیپ سی " بندرگاہ جسے یقینی طور پر الله پاک کی بنائی بندرگاہ کہا جاسکتا ہے .
پاکستان گودار بندرگاہ ، جو صرف ایک شہر نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقت کا دروازہ بن سکتی ہے. ایک ایسا تحفہ جو قدرت نے خود پاکستان کو عطا کیا ہے۔
گوادر کوئی عام بندرگاہ نہیں…
یہ ایک قدرتی Deep Sea Port ہے، جہاں سمندر کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑے کارگو جہاز آسانی سے ٹھیک بندرگاہ کے اوپر بغیر چھوٹی کشتیوں کی مدد کے لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔

دنیا میں ایسی بندرگاہیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ گوادر کو “21ویں صدی کا تجارتی ہب” کہا جا رہا ہے۔

اگر گوادر مکمل طور پر فعال ہو جائے تو:
پاکستان کو اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے
لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہوں گی
بلوچستان کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا
پاکستان عالمی تجارت کا مرکزی راستہ (Hub) بن سکتا ہے
یعنی گوادر صرف بندرگاہ نہیں… پاکستان کی معیشت کا انجن بن سکتا ہے۔

آج دبئی مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر گوادر مکمل فعال ہو گیا تو:
ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان نیا شارٹ روٹ بن جائے گا تجارت کا بڑا حصہ گوادر کی طرف منتقل ہو سکتا ہے .دبئی کی بندرگاہی برتری کو چیلنج ملے گا . اسی لیے کچھ ماہرین گوادر کو “Future Dubai Challenger” کہتے ہیں۔

گوادر کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی اہمیت ہے:
چین کیلئے: تیل اور سامان کی ترسیل کا راستہ ہزاروں کلومیٹر کم ہو جاتا ہے، مالاکا اسٹریٹ پر انحصار کم ہو جاتا ہے
روس کیلئے: گرم پانیوں تک رسائی کا خواب پورا ہو سکتا ہے ، عالمی تجارت میں نیا راستہ ملتا ہے

گوادر پاکستان کیلئے ایک Game Changer بن سکتا ہے اگر:
انفراسٹرکچر مکمل کیا جائے
سیکیورٹی مضبوط رکھی جائے
صنعتیں اور فیکٹریاں قائم کی جائیں
نوجوانوں کو ہنر اور روزگار دیا جائے
تب گوادر پاکستان کو ایک ترقی یافتہ معیشت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جہاں فائدہ ہو… وہاں مخالفت بھی ہوتی ہے۔ گوادر کے خلاف مختلف خدشات اور رکاوٹیں سامنے آئیں:
سیکیورٹی کے مسائل پیدا کرنے کی کوششیں
ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر
عالمی سطح پر پروپیگنڈا
اندرونی اختلافات کو ہوا دینا
کیونکہ ایک مضبوط گوادر… خطے کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں…
یہ پاکستان کا مستقبل، امید اور خودمختاری کی علامت ہے۔

اگر ہم نے اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا…تو شاید آنے والے وقت میں دنیا کہے:
راہِ تجارت اب گوادر سے گزرتی ہے!
آپکو کیا لگتا ہے کون ہے جو اس کو بننے نہیں دے گا ؟ اپنی قیمتی رائے سے آگاہ ضرور کریں .

06/12/2025

Address

Shaheen Forms, Simbly Dam Road, Barakahu
Islamabad
45240

Telephone

+923435690239

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sufism posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Sufism:

Shortcuts

Share

Category