Sufism

Sufism Lap of Nature

12/04/2026

دنیا میں انسانوں نے بندر گاہیں بنائیں اور ایک الله نے بنائی !
جی ہاں ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گودار "نیچرل ڈیپ سی " بندرگاہ جسے یقینی طور پر الله پاک کی بنائی بندرگاہ کہا جاسکتا ہے .
پاکستان گودار بندرگاہ ، جو صرف ایک شہر نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقت کا دروازہ بن سکتی ہے. ایک ایسا تحفہ جو قدرت نے خود پاکستان کو عطا کیا ہے۔
گوادر کوئی عام بندرگاہ نہیں…
یہ ایک قدرتی Deep Sea Port ہے، جہاں سمندر کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑے کارگو جہاز آسانی سے ٹھیک بندرگاہ کے اوپر بغیر چھوٹی کشتیوں کی مدد کے لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔

دنیا میں ایسی بندرگاہیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ گوادر کو “21ویں صدی کا تجارتی ہب” کہا جا رہا ہے۔

اگر گوادر مکمل طور پر فعال ہو جائے تو:
پاکستان کو اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے
لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہوں گی
بلوچستان کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا
پاکستان عالمی تجارت کا مرکزی راستہ (Hub) بن سکتا ہے
یعنی گوادر صرف بندرگاہ نہیں… پاکستان کی معیشت کا انجن بن سکتا ہے۔

آج دبئی مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر گوادر مکمل فعال ہو گیا تو:
ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان نیا شارٹ روٹ بن جائے گا تجارت کا بڑا حصہ گوادر کی طرف منتقل ہو سکتا ہے .دبئی کی بندرگاہی برتری کو چیلنج ملے گا . اسی لیے کچھ ماہرین گوادر کو “Future Dubai Challenger” کہتے ہیں۔

گوادر کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی اہمیت ہے:
چین کیلئے: تیل اور سامان کی ترسیل کا راستہ ہزاروں کلومیٹر کم ہو جاتا ہے، مالاکا اسٹریٹ پر انحصار کم ہو جاتا ہے
روس کیلئے: گرم پانیوں تک رسائی کا خواب پورا ہو سکتا ہے ، عالمی تجارت میں نیا راستہ ملتا ہے

گوادر پاکستان کیلئے ایک Game Changer بن سکتا ہے اگر:
انفراسٹرکچر مکمل کیا جائے
سیکیورٹی مضبوط رکھی جائے
صنعتیں اور فیکٹریاں قائم کی جائیں
نوجوانوں کو ہنر اور روزگار دیا جائے
تب گوادر پاکستان کو ایک ترقی یافتہ معیشت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جہاں فائدہ ہو… وہاں مخالفت بھی ہوتی ہے۔ گوادر کے خلاف مختلف خدشات اور رکاوٹیں سامنے آئیں:
سیکیورٹی کے مسائل پیدا کرنے کی کوششیں
ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر
عالمی سطح پر پروپیگنڈا
اندرونی اختلافات کو ہوا دینا
کیونکہ ایک مضبوط گوادر… خطے کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں…
یہ پاکستان کا مستقبل، امید اور خودمختاری کی علامت ہے۔

اگر ہم نے اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا…تو شاید آنے والے وقت میں دنیا کہے:
راہِ تجارت اب گوادر سے گزرتی ہے!
آپکو کیا لگتا ہے کون ہے جو اس کو بننے نہیں دے گا ؟ اپنی قیمتی رائے سے آگاہ ضرور کریں .

24/03/2026

مجھے ایک بات واضح کرنے دیں
ایرانی وزیرِ خارجہ کا عالمی برادری
سے خطاب
مصر نہرِ سوئز سے گزرنے کے لئے 200,000 سے 700,000 ڈالر تک فیس وصول کرتا ھے، جبکہ بڑے کنٹینر جہاز یا آئل ٹینکرز کے لئے یہ رقم 1 ملین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ھے۔

پاناما نہر سے گزرنے پر 100,000 سے 450,000 ڈالر تک فیس لی جاتی ھے، جبکہ بڑے نیو پانامیکس جہازوں کے لئے یہ فیس 500,000 ڈالر تک پہنچ سکتی ھے۔
ترکی آبنائے باسفورس کے استعمال پر فیس لیتا ھے۔

کینیڈا سینٹ لارنس سی وے کے استعمال پر فیس وصول کرتا ھے۔

امریکہ بھی سینٹ لارنس سی وے پر فیس عائد کرتا ھے۔

ایران نے دہائیوں سے آبنائے ہرمز کے استعمال پر کوئی فیس وصول نہیں کی اسے مفت رکھا ھے۔
اتنی بدنامی، پابندیوں اور عالمی تنہائی کے باوجود پھر بھی آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مان لوں کہ یہاں "برا کردار" ایران ھے؟

06/12/2025
12/11/2025
28/09/2025

ترکی کے خلیفہ سلطان مراد کی ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، اس نے ایک رات اپنے ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ کو کہا کہ ،
ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ _
ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ گرﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ . ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ،
ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺅ ﺑﮭﺎﺋﯽ _

ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﮱ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ . ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ؟_

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ . ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ .

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ _

ﺗﻮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ . ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ _

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ _

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ .

ﻟﻮﮒ ﭼﻠﮯ ﮔﮱ _

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﻭﮨﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ .

ﻭﮦ کہہ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺑﯿﺸﮏ ﺗﻮ ﺍﻟﻠّﻪ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ .

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ _ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ .

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺗﮭﯽ _ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺟﺘﻨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻻ ﮐﺮ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﺘﺎ . ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﮯ . ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ _
ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ، ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠّﮧ ! ﺁﺝ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ .
ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ _
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮫ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻓﻨﺎ ﻧﺎ ﮨﮯ _
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﻣﺖ _ ﺗﻮﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ، ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ .

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﻮﮞ . ﮐﻞ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ .

ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ .

ﺁﺝ ﮨﻢ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﮨﻢ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﮔﻮﻧﮕﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔۔

29/08/2025

Rare Photo: Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah in conversation with a group of students on the lawns of the University of the Punjab, Lahore, on January 7, 1946.

01/10/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Syed Khushi Jan, Jan Mohammad, Abdul Razzak, Muhammad Khan Muzamil, Shafi Khan, Clara Elizabeth

Address

Shaheen Forms, Simbly Dam Road, Barakahu
Islamabad
45240

Telephone

+923435690239

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sufism posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Sufism:

Share

Category