13/06/2026
وفاقی بجٹ 2026-27 کے اعداد و شمار ایک ایسی معاشی و سماجی ترجیحی ترتیب کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں انسانی ترقی کے بنیادی شعبے، خصوصاً تعلیم، صحت اور سائنسی تحقیق، نسبتاً کم توجہ حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بجٹ کے مطابق کل اخراجات 18,771 ارب روپے ہیں، جن میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8,054 ارب روپے، دفاع کے لیے 3,000 ارب روپے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف 46 ارب روپے، اسکولی و وفاقی تعلیم کے لیے 26.3 ارب روپے، صحت کے لیے 25.1 ارب روپے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے محض 3.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ایک طرف ملک کو علمی معیشت، تحقیق، جدت اور انسانی وسائل کی ترقی کے چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی شعبوں کو بجٹ میں سب سے کم حصہ دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ اعلیٰ تعلیم، اسکولی تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مجموعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت طویل المدتی ترقی کے بجائے قلیل المدتی سماجی امداد کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ اگرچہ سماجی تحفظ کے پروگرام معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم پائیدار قومی ترقی کا انحصار تعلیم، صحت، تحقیق اور اختراع پر ہوتا ہے۔ چنانچہ موجودہ بجٹ کی ترجیحات اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہیں کہ آیا پاکستان اپنے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید سائنسی صلاحیتوں اور بہتر طبی سہولیات فراہم کیے بغیر عالمی ترقی کی دوڑ میں مؤثر کردار ادا کر سکے گا یا نہیں۔