The Film Chamber

  • Home
  • The Film Chamber

The Film Chamber This page will include movie reviews and comedy videos.

آپ اس شخص کو نہیں جانتے ہوں گے ۔۔ مگر دیکھ لیجے گا آج کے بعد سے جاننے لگیں گے ۔۔۔!!!! ۔۔آپ نے شاید اسکو نوٹس کیا ہو گا ر...
01/09/2025

آپ اس شخص کو نہیں جانتے ہوں گے ۔۔ مگر دیکھ لیجے گا آج کے بعد سے جاننے لگیں گے ۔۔۔!!!!
۔۔
آپ نے شاید اسکو نوٹس کیا ہو گا رجنی کانت کی قلی فلم میں ۔۔۔!!
ٹریلر میں یہ بندہ کافی دھواں دار پرفامنس دیتا نظر آ رہا ہے ۔۔
۔۔۔
قلی کے بعد اس بندے کو بہت سراہا جانے والا ہے یہ بات میں آج لکھ کر دے رہا ہوں ۔۔
پچھلے سال ساؤتھ کا بڑا سینما منجومل بوائز اسی نے پروڈیوس کیا تھا۔ !!!
PaRava
فلم ڈائرکٹ بھی اسی بندے نے کی تھی اور وہ فلم اتنی کامیاب تھی کہ سو دن پورے کئے تھے اس نے سینما گھروں میں ۔۔۔!!!!
۔۔
یہ تعارف تھا اس بندے کا ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے طور پہ ۔۔۔!!!!!
اب ہم اسکی ایکٹنگ کی بات کریں
تو فہد فاصل کے ساتھ
'' کمبلنگی نائٹس اور ٹرانس جیسی فلموں میں کام کر چکا ہے ۔۔۔
۔۔
اور کمبلنگی نائٹس کے لیے ایک فلمی سائٹ نے اس بندے کی پرفامنس کو سینما انڈسٹری کی بہترین سو پرفامنس میں رکھا تھا ۔۔۔۔!!!
۔۔۔۔
اسکے علاؤہ یہ بندہ سولو فلمیں بھی کر چکا ہے۔ ۔!!!!
مگر اسکا سارا کام زیادہ تر ملیالم سینما کے لیے ہے۔
۔۔
پہلی بار یہ بندہ تامل سینما میں انٹری لینے جا رہا ہے ۔۔۔۔!!!
اور ٹریلر میں تو یہ دھوم مچاتا نظر آ رہا ہے امید ہے فلم میں بھی یہ رجنی کانت عامر خان اور ناگا ارجن کے ہوتے ہوئے بھی توجہ سمیٹنے میں کامیاب رہے گا۔
۔۔
اور اس گریٹ ایکٹر کا نام سوبن ساحر ہے۔ ۔۔!!!!
۔۔
آج قلی ریلیز ہو رہی ہے
بزنس کے حوالے سے بہت شور ہے مگر سینما ہسٹری کے حوالے سے دیکھیں تو ساؤتھ سینما مستقل مزاج نہیں ہے ۔۔۔
انکا ویک اینڈ کروڑوں میں ہوتا کبھی کبھی ایک ارب میں بھی مگر پہلے تین دن کے بعد بزنس بہت گرواٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔
مگر قلی کے ڈائریکٹر نے ماسٹر سٹروک کھیلا ہے۔
۔۔
اس نے رجنی کو تامل سے اٹھایا ۔ ناگا ارجن کو تیلگو سینما سے۔ سوبن ساحر کو ملیالم سینما سے اور عامر خان کو مین سٹریم بالی ووڈ سے۔ ۔!!!!
۔۔۔
وار ٹو اور رجنی کی قلی کے بیسٹ وشز ۔۔۔
تحریر و تبصرہ: ملک اسود

س صدی کی سب سے بڑی چوری!!بیلجیم کا ایک شہر ہے اینٹورپ جسے دنیا بھر میں ڈائمنڈ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز مانا جاتا ہے دنیا...
01/09/2025

س صدی کی سب سے بڑی چوری!!
بیلجیم کا ایک شہر ہے اینٹورپ جسے دنیا بھر میں ڈائمنڈ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز مانا جاتا ہے دنیا کے اندازہ نوے فیصد کچے ہیرے یہاں سے ہوکر گزرتے ہیں اور یہ آج سے نہیں لگ بھگ پندرہویں صدی سے یہ شہر ہیروں کا مرکز رہا ہے آپ اسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شہر میں سیکورٹی کی صورتحال کیسی ہوگی خاص طور پر اس کے بینکنگ اور لاکر سسٹم تو دنیا کی محفوظ ترین جگہ مانی جاتی ہے ۔
مگر پھر 2003 میں یہاں وہ ہوگیا جو ناممکن لگتا تھا ایک لاکر سے چوری ہوگئی وہ بھی اندازہ سو ملین ڈالر سے بھی زیادہ اور چوری بھی ایسی ایک پرفیکٹ پلان کوئی سراغ نہیں چھوڑا گیا دنیا کے بہترین سینسر الارم سسٹم کو ناکارہ بنایا گیا دنیا کے بہترین لاک سسٹم کو بنا توڑے بنا کاٹے کھولا گیا تھا اور یہ سب کچھ کیا گیا بنا کسی انسان کو چوٹ تک پہنچائے مگر وہ کہتے ہیں نا کہ پلان کتنا بھی پرفیکٹ کیوں نا ہو مجرم کہیں نا کہیں غلطی ضرور کرتا ہے اب چاہے وہ اکسائٹمنٹ میں ہو فرسٹریشن میں یا کاہلی یا سستی میں بال برابر غلطی ضرور کرتے ہیں اور اگر پولیس قابل ہو تو اسی بال سے پہاڑ بنا لیتے ہیں ۔
گروپ میں منی ہائیسٹ سیریز تو بہت سے لوگوں نے دیکھی ہوگی میں نے دیکھنے کی کوشش کی تھی مگر ایک سیزن سے زیادہ نہیں دیکھ پایا کیونکہ مجھے کہانی بچگانہ سی لگی اتنے بلنڈر تھے کہ ہضم کرنا مشکل ہے اور ویسے یہ بات بھی ہضم کرنا کافی مشکل بلکل ناممکن ہے کوئی ایک انسان اتنا کامیاب پلان بنائے اور اسے سیم ویسا ہی ایگزیکیوٹ بھی کرلے ۔
مگر لیوناردو نوتربارتلو(اصل تصویر کمنٹ میں لگا دو گا ) حقیقت میں ایسا ناقابلِ یقین پرفیکٹ پلان بنایا تھا اور تقریباً عملدرآمد بھی کرلیا تھا بھلے اس کے لیے اس نے زندگی کے تیس سال تک محنت کی تھی۔
لیونارڈو کا تعلق اٹلی کے شہر تیورن سے تھا اور تیورن چوروں کا شہر کہلاتا ہے یورپ میں پکڑے جانے والے اکثر منظم جرائم کے پیچھے کہیں نا کہیں اس شہر کا تعلق نکلتا ہے اسی لیے اسے سکول آف ٹیورن بھی کہا جاتا ہے۔
باقی یہ ہائیٹ کا سنچری کس طرح انجام دی گئی کس طرح پلان بنایا گیا اور آخر کس طرح چھوٹی سی غلطی کی بنا پہ یہ سب آسانی سے پکڑے گئے مگر پکڑے جانے کے بعد بھی کیسے لمبی سزاؤں سے بچ نکلے اور کیسے آج تک چوری کا مال پولیس برآمد نہیں کرسکی ہے یہ سب کچھ ڈیٹیل میں آپکو اس ڈاکومنٹری میں مل جائے گا ۔
ڈاکومنٹری موویز پلینٹ کے گروپ میں موجود ہے!!
تحریر و تبصرہ: تنویر رانا

کبھی کبھی یہ سوچنے میں وقت لگتا ہے کہ ہم کس موضوع یا صنف کی مووی دیکھنا چاہ رہے ہیں ۔ محبت کی کہانیاں میں اس وقت کے لیے ...
01/09/2025

کبھی کبھی یہ سوچنے میں وقت لگتا ہے کہ ہم کس موضوع یا صنف کی مووی دیکھنا چاہ رہے ہیں ۔ محبت کی کہانیاں میں اس وقت کے لیے رکھتی ہوں جب مار دھاڑ اور ایکشن سے بچ کر کسی پر سکون انٹرٹینمنٹ کی تلاش ہو ورنہ زیادہ تر سسپینس اور تھرل ہی پسند ہے۔ ایسا ہی ایک سیزن جو اسی سال انٹرٹینمنٹ کے پردے پہ نمودار ہوا ہے۔
اس کی اقساط ڈاؤن لوڈ کرکے رکھی تھیں کہ جب ویکینڈ آئے گا تو دیکھا جائے گا ۔کہانی کے کردار شروع سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے ،کچھ چھپتے ہوئے اور کچھ دکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پوری کہانی ایک دوسرے کو بلیک میلنگ یا طاقت کے بل بوتے پہ کنٹرول کرنے میں ہی گھومتی نظر آتی ہے ۔ کرداروں کی اگر بات کی جائے تو کوئی بھی کردار بہت زیادہ بھرپور اور مضبوط نہیں دکھایا گیا لیکن پھر بھی سب نے اپنی اچھی کوشش کی ۔ کہانی جن دو مرکزی کرداروں کے ارد گرد گھومتی رہی ان دونوں نے ہی اپنے اپنے دائرے میں محدود اپنے محبوب کرداروں سے بہت محبت بھی کی اور دشمنوں سے بھرپور دشمنی بھی نبھائی اور دونوں کی ہی آپس کی دشمنی جس موڑ پہ جاکر اختتام پزیر ہوئی وہ تو ایک دن ہونا ہی تھا ۔
بلیک میلنگ، رشتوں کی چھپن چھپائی ، رومان پرور مناظر اور ایکشن سے بھرپور سیزن آپ کی توجہ آخر تک بنائے تو رکھتا ہے مگر ایسے بہت سے سیزن ہیں جو آپ کو یہ سیزن دیکھتے ہوئے یاد آئیں گے جیسے کہ اگر کسی نے fake profile دیکھا ہوا ہو تو
کیونکہ اس میں کچھ ایسا نیا اور خاص پلاٹ نہیں ہے۔ البتہ کچھ منظر جذباتی ہیں جیسے ایک سیاسی کردار نے کب کچھ وابستگیوں کا اظہار کیا وہاں دل میں ایک الگ سا احساس جاگا کہ ہاں وقت لگتا ہے مگر خون کے رشتے اپنا آپ منوا ہی لیتے ہیں۔ میں اگر اسے ریٹ کروں تو 6/7
دوں گی باقی آپ دیکھ لیں تجسس بغیر سی جھول کے ٹھیک ٹھاک رکھا گیا ہے ۔
تحریر و تبصرہ: پاری شاہ

فورڈ ایک بوڑھی سوچ والی سٹھیا چکی کار کمپنی ایک دن میٹنگ رکھتی ہے کہ ان کی گاڑیوں کی اب وہ ہائپ کیوں نہیں رہی جو پرانے ز...
01/09/2025

فورڈ ایک بوڑھی سوچ والی سٹھیا چکی کار کمپنی ایک دن میٹنگ رکھتی ہے کہ ان کی گاڑیوں کی اب وہ ہائپ کیوں نہیں رہی جو پرانے زمانے میں ہوا کرتی تھی ۔ ظاہر سی بات ہے وہ اپنی گاڑیوں میں کچھ نیاء نہیں کر رہے تھے اور آج کل سپورٹس کار کا زمانہ تھا جہاں ہر کوئی تیز رفتار گاڑی چاہتا تھا اور اس کمپنی کی گاڑی چاہتا تھا جو زیادہ سے زیادہ مقابلے جیت رہی ہو ۔ اور وقت تھا " فراری " کا جو پانچ میں سے چار ریسنگ مقابلے جیت چکی تھی ۔ فورڈ کمپنی کا مالک بھی بات کو سمجھ جاتا ہے ہے اور میدان میں اترنے کے لئے فراری کے ساتھ مل کر سپورٹس کار بنانا چاہتا ہے مگر فراری کی شرائط نہ سہہ پاتے ہوئے اور اپنے اکڑ پن کی وجہ سے یہ موقع گنوا دیتا ہے لیکن اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے اپنی ہی ایک سپورٹس کار بنا کر اسے ریس میں اتارنا ہی نہیں چاہتا بلکہ فراری سے جیتنا بھی چاہتا ہے ۔ جسکے لئے وہ پانی کی طرح پیسہ بہانے کو تیار ہے مگر ہر چیز پیسے سے خریدی نہیں جا سکتی تو وہ ایک کار مینوفیکچر سے ڈیل کرتے ہیں جو پہلے ایک ریس بھی جیت چکا ہے مگر اب بس گاڑیاں بناتا اور بیچتا ہے جسکا نام کیرول شیلبی ہے ۔
شیلبی پہلے تو فورڈ کا منصوبہ سنتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ ممکن ہو سکتا ہے اگر وہ اسکو اسکے مرضی کا مکینک دیں جو ڈرائیور بھی ہے فورڈ مان جاتی ہے اور پھر کہانی میں کین مائلز کی اینٹری ہوتی ہے جو ایک مکینکل انجنیئر کے ساتھ ساتھ ایک سرپھرا اور جوشیلا ڈرائیور ہے اور وہ بندہ وہ کار بنا سکتا ہے جو ریسنگ ٹریک پر چوبیس گھنٹے تک ٹِک سکے اور جیت بھی سکے ۔ اور وہ بندہ ہی وہی ڈرائیور ہے جو یہ ریس جیتوا سکتا ہے ۔
سب کچھ صحیح چل رہا ہوتا ہے کہ فورڈ کی بوڑھی سوچ بیچ میں آ جاتی ہے ۔
کہانی بہت زبردست ہے اس سے بھی زبردست اس کے اداکار کی اداکاری ۔ آپ یقیناً کرسٹین بیل کو امریکن سائیکو اور بیٹ مین وغیرہ جیسی فلموں سے جانتے ہونگے اور جانتے ہونگے کہ یہ بندہ کس درجے کا اعلیٰ اداکار ہے اور ساتھ ہی میں کیرول شیلبی کا کردار نبھانے والے میٹ ڈیمن بہت ہی شاندار اداکار ہیں ۔ انکے ساتھ ہمارے مارول کے پنشر جون برنتھل بھی ہیں لیکن انکا رول اتنا کوئی خاص نہیں ۔ فلم ہر حوالے سے پرفیکٹ ہے اور ایک پرفیکٹ اینڈنگ ہے ۔ جو آپ کو اموشنل کر جاتی ہے ۔
تحریر و تبصرہ: اسامہ ممتاز رانا

میرا مشاہدہ ہے کہ یو کے میں بسنے والے پاکستانی ، پاکستانیوں سے بھی بہت زیادہ جاہل ، بے شعور ، گھمنڈی اور شدت پسند ہیں۔ خ...
01/09/2025

میرا مشاہدہ ہے کہ یو کے میں بسنے والے پاکستانی ، پاکستانیوں سے بھی بہت زیادہ جاہل ، بے شعور ، گھمنڈی اور شدت پسند ہیں۔ خاص طور پر انیس بیس سال کی عمر تک یہاں آ جانے والے ساری زندگی دائروں کے قیدی بن جاتے ہیں۔ کام، کام اور کام میں گزرتی زندگی کچھ شعور حاصل کرنے کا موقعہ ہی نہیں دیتی۔ رشتوں سے دوری اور بار بار کی رہائش اور جاب کا بدلنا نا اچھے اور پائیدار تعلقات بننے دیتا ہے۔ یہ کیش ان ہینڈ کلبز میں سیکیورٹی کر کے آئیں گے جہاں ساری رات ناچ گانا اور شراب سکیس چلے گا۔ اور گھر نماز نا پڑھنے پر دانت نکوس کر کفر کے فتوے لگاتے نظر آئیں گے۔ انشورنش لیکر ہر چیز جھوٹ پر کلیم کرتے ملیں گے۔ اور وہی موبائل وغیرہ اپنی بہن کو تحفے میں پاکستان بھیجیں گے۔ بناء کارڈ کے ٹرین استعمال کریں۔ گورے کے بہترین خاندانی نظام پر ملامت کریں گے لیکن ویزے کے لالچ میں ان کی غلاظت اپنی زبانوں تک سے صاف کرنے کو رضامند ہو جائیں گے۔ گورے سے بدبو آتی محسوس کریں گے اور گھر والوں رشتے داروں ، دوستوں کے سامنے گوروں کے تلوں تک چاٹتی باتیں بتا کر امپریس کریں گے۔ انگلش زبان کے چار لفظ بولنا سیکھ کر بھونکتے ملیں گے کسی پر۔ ٹانگیں نہیں رگیں کھینچنے کی سوچ رکھتے ہونگے کسی کی بھی۔ کسی نئے آنے والے کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ دینا تو دور اس کا فون تک سننا گوارہ نہیں کریں گے۔ جیسے ان جیسا مصروف محنتی پوری دنیا میں اور کوئی نہیں۔ گورے گوری کی ٹانگوں کے بیچ منہ دے کر سونے کی طلب رکھتے ہوں گے لیکن سر پر گھمنڈ کا شملہ سجا کر پاکستان جائیں گے۔ گورے کے شراب پینے پر کراہت زدہ ہونگے خود چار پاونڈ کما کر الٹیاں کرتے ملیں گے ہر اپنے غیر پر۔ جھوٹ ، منافقت ، دھوکہ دی ، مس گائیڈنس ، احساس برتری کا لبادہ اوڑھ کر فرشتوں سے بھی برتر بنے گے۔ لیکن گوروں کو کتے رکھنے پر طعنے دینگے۔
دنیا کی ہر طاقت ور قوم کمزور پر حکومت ہی کرتی ہے اپنی تخت و تاراج کرنے کے تاریخ کو فخر سمجھنے والے گورے کو برصغیر پر کئی سو سال حکومت کرنے کا طعنہ جانے کیسے دے لیتے ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اس مہذب ملک نے اگر تمہیں جائز طریقے سے یہاں رہنے کی ازادی دی ہے تو ہم پاکستانی اس کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا رہے ہم بلتکار کر رہے ہیں بلتکار۔ ان کے سپاہیوں نے ڈاکو بن کر ہم کو لوٹا ہے اور ہم تو عام لوگ ڈکیت بن کر یہاں بدمعاشی کی زندگی گزار رہے۔ بلاشبہ ہم پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ ہم جانوروں سے بھی بدتر ہیں اس مہذب ترین معاشرے میں بھی۔
تحریر کا مووی کی کہانی سے ناطہ صرف احساس محرومی کی شکار قوم کی نفسیات کا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم احساس برتری کے مغالعے کا شکار ہیں۔ میں غصے والا انسان نہیں ہوں۔ لیکن جو کچھ دیکھ رہا وہ گھن زدہ اور کراہت ہے بس۔ بحیثیت قوم ہم جتنی جہالت نگل چکے اب الٹتے ہوئے اس کے بدبودار چھینٹنے دوسروں کے بدن تک پر اگل رہے ہیں۔ اس پر ڈھیر لکھوں گا کبھی۔ صرف اپنوں کی نہیں گوروں کی گھٹیا ذہنیت پر بھی لکھوں گا۔
تحریر و تبصرہ: مارکوپولو مل

یہ سیزن آپ اپنی ذمےداری پر دیکھئے، کمزور دل حضرات دور رہیں ۔السلام وعلیکم13 Reasons Why (Season #1)مُجھے سمجھ نہیں آ رہا...
29/08/2025

یہ سیزن آپ اپنی ذمےداری پر دیکھئے، کمزور دل حضرات دور رہیں ۔

السلام وعلیکم
13 Reasons Why (Season #1)
مُجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا اس سیزن کا ریویو کیسے دوں ۔ہر ایپیسوڈ کا الگ ریویو دوں یا ہر کردار کا۔
یہ سیزن میں نے بہت سلو سلو دیکھا کیوں کہ آپ ایک ساتھ سارا نہیں دیکھ سکے گے ۔
یہ کہانی ہے ہینابیکر(Hannah Baker)
کی جو ایک ہائی سکول کی سٹوڈنٹ تھی۔وہ خودکشی کرتی ہے اور 13 ٹیپس ریکارڈ کرتی ہے۔
اُن 13 ٹیپس میں اُس کے مرنے کی وجوہات ہوتی ہیں۔
ہر ٹیپ میں ہر فرد کی سچائی ہوتی ہے کیسے وہ اس کی موت کا سبب بنا۔
یہ کہانی آپ کو خود پر سوچنے پر مجبور کر دے گی۔
کہانی کا دوسرا مین کردار كلے جینسن (Clay Jensen)
ہے ۔
باقی کے کردار کا میں تذکرہ نہیں کروں گا ۔
کبھی کبھی ہم مذاق میں کسی کی خامی کا مذاق اڑاتے ہیں ۔کیا ہماری چھوٹی سی بات بھی کسی کی جان لینے کا سبب بن سکتی ھے ۔
یہ کہانی بُلنگ ، جنسی زیادتی ، دوستوں کا چھوڑ جانا، رشتوں کی بیوفائی، خودکشی، نامناسب رویہ ، جھوٹی افواہیں جیسے حساس موضوع پر بنائی گئی ہے۔
اس میں کچھ ایسے اموشنل سین تھے کہ میں نے موبائل سائڈ پر رکھ دیا اور کافی دیر سوچتا رہا۔
مُجھے یہ سوچنا پڑا کہ میں نے کس کو برا کہا، کس کا مذاق اڑایا ، کس کو یہ کہنا چاہیے تھا، مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
یہ سوچ کر لرز گیا کہ اُن پر بھی ایسے ہی بیتی ہوگی۔
کبھی کبھی ہم کچھ کہنا چاہتے ہیں، کسی کو روکنا چاہتے ہیں مگر ہم نہیں کرتے ۔
مُجھے لگتا ہے کہ ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیئے کیوں کہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جیسے کلے کے ساتھ ہوا۔
میں تو اس کہانی سے جڑ گیا تھا ، سسپینس سے بھر پور کون کتنا قصوروار ، کون بےگناہ ۔
ڈائریکشن کی بات کی جائے تو کمال تھی۔
حال اور ماضی کو اکھٹا دکھایا گیا ہے ۔
ایکٹنگ بھی سب کی اپنے کردار کے ساتھ بالکل فٹ تھی۔
بلال ضامن

کافی ٹائم کے بعد ایک فلم دیکھی ھےمجھ پسند آئی اس لیے فلم پہ ریویو لکھ ڈالا ھے یہ اب دیکھنا یہ ھے کہ آپ کو کیسی لگتی ھے ف...
28/08/2025

کافی ٹائم کے بعد ایک فلم دیکھی ھےمجھ
پسند آئی اس لیے فلم پہ ریویو لکھ ڈالا ھے یہ اب دیکھنا یہ ھے کہ آپ کو کیسی لگتی ھے فلم ایڈمن صاحب کی منظوری مل گئی تو کمینٹس میں لازمی بتائیے گا
فلم *Cold Prey* (2006) ایک نارویجن ہارر تھرلر ہے جس میں پانچ دوست برف پوش پہاڑوں پر سنو بورڈنگ کے لیے جاتے ہیں۔ ایک کے ٹانگ ٹوٹنے کے بعد وہ ایک پرانے اور متروک ہوٹل میں پناہ لیتے ہیں جہاں انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ اکیلے نہیں، کوئی خونی قاتل ان کا پیچھا کر رہا ہے۔
فلم کا پلاٹ سادہ مگر سنسنی خیز ہے، مگر کہانی اور کرداروں کی گہرائی محدود ہے۔ دی ہارر ایلیمنٹس اور سسپنس اچھی طرح تیار کیے گئے ہیں، خاص طور پر اندھیرے راہداریوں اور سنو کے مناظر میں۔ لیکن قتل کا انداز اور گرافکس اتنے خوفناک نہیں جتنا عام سلیشر فلموں میں ہوتا ہے۔
ایکسپلینیشن میں کہا گیا ہے کہ فلم کی خاص بات اس کا مضبوط ماحول اور کرداروں کی اچھوتی پرفارمنس ہے، خاص طور پر مرکزی کردار کی۔ اگر آپ سلیشر ہارر پسند کرتے ہیں تو یہ فلم دیکھنے لائق ہے امید ھے آپ لوگوں کو ضرور پسند آئے گی

دوستو کیسے ہو امید ہے بخیر و عافیت ہوں گے میں شان عباسی ایک نئی فلم کے ریویو کے ساتھ۔۔۔ 18 جولائی کو ایک انڈین فلم muder...
28/08/2025

دوستو کیسے ہو امید ہے بخیر و عافیت ہوں گے میں شان عباسی ایک نئی فلم کے ریویو کے ساتھ
۔۔۔ 18 جولائی کو ایک انڈین فلم muderbaad ریلیز ہوئی اور ہمیں پرسوں رات دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔۔
فلم بس ویہلے کاں ونگار بھلی البتہ بیماری نئی ہے ۔بیماری بھی ایسی کہ بندہ سوچ کر ہی سوچ میں پڑ جائے کہ انسان ایسا درندہ صفت بھی ہو سکتا ہے ۔ شروع کرتے ہیں دوستو اب اس مرڈر باد کی کہانی میں جو ہیرو ہے اس کا نام ہے جیئش وہ ایک بنگالی ہے اور کلکتہ سے تعلق رکھتا ہے اس کا خاندان شمشان گھاٹ میں مردوں کو جلانے اور ٹھکانے لگانے کے کام پر مامور ہے مگر یہ جیئش کسی اور کی دھن کا مالک اور اپنی حرکتوں کے باعث گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد یہ ایک اسپتال میں ڈاکٹر کے پاس کمپوٹر بن جاتا ہے کچھ عرصے بعد وہی پرانی روش یہاں بھی برقرار رکھتا ہے اور عدم ثبوت کی بنا پر پولیس میں تو ڈاکٹر اسے نہیں بندھوا پاتا اس سے پہلے ہی جیئش وہاں سے بھاگ نکلتا ہے ۔ در در کی خاک چھاننے کے بعد اسے ایک دل پھینک عاشق ملتا ہے اس کا نام مقصود غازی آبادی ہے وہ کسی بہت بڑی ٹوور ٹریول ایجنسی گپتا (جئے پور ہندوستان) کے مالک کا وفا دار ملازم ہوتا ہے اور خود کو کہتا کے بعد سب کرنے کا کرتا دھرتا ہوتا ہے ۔وہ کمپنی باہر سے آئے لوگوں کو اپنے دیس میں گھمانے پھرانے رہائش سمیت تمام زمہ داریاں نبھانے کے عوض پیسے لیتی ہے اور اپنی خدمات پیش کرتی ہے ۔اتفاق سے اس کمپنی کا ترجمان جو ہندی کو غیر ملکیوں کی زبان میں بیان کرنے کا ہنر جانتا ہے کسی نجی مجبوری کے تحت چھٹی کر جاتا ہے ۔۔جیئش جلد ہی اسے دوستی کی پٹی پڑھا کر اس کی کمپنی میں بطور ترجمان بھرتی ہوجاتا ہے۔
اتفاق سے جب سیاح اس کمپنی میں آتے ہے سیاحت کے غرض سے تو اس دن ڈرائیورز کی ہڑتال کے باعث سیٹھ گپتا مقصود کو ج مسافر بس چلانے کی ذمے داری دے دیتا ہے ۔اور ہوں یہ نئے دونوں دوست جیئیش اور مقصود اس ٹوور کا آغاز کرتے ہیں۔ان سیاحتی توور میں ہمیں ایک برطانوی نژاد خاتون بطور ہیروئن نظر آتی ہے ۔اس کا نام ہے بیلا شرما۔جو کہ دس سال کی تھی جب سے لندن منتقل ہوگئی تھی۔ ایک اور لڑکی جس کا نام شیلی ہے وہ زرا بھرے جسم کی مالک دلفریب اداؤں اور نہ چڑھی لڑکی دیکھتی ہے جو گھر بار سے بیزار اپنی آزادی پر سمجھوتہ نا کرنے والی اور بوائے فرینڈ کی بے وفائی سے تنگ آکر اس ٹوور پر آتی ہے ۔مقصود اور ایک دو اور بڈھے رشک بھرے نظروں سے اس شیلی پر آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں انہی میں بڈھا اور مقصود شیلی پر لائن مارتا ہے اور ان کا جھگڑا شروع ہوتا ہے اس سے اگلے روز جب شیلی ہوٹل میں موجود نہیں ہوتی ہے تو پھر شروع ہوتا ہے سسپینس تھرلر اور اس بیج جب سب کا شک مقصود پر جا رہا ہوتا ہے تو گیم میں ٹوئیسٹ آتا ہے اسی بیچ ہیرو بھی اپنے اوپر شک کی بنا پر گم ہوجاتا ہے اور پولیس پر ہیرو سے متعلق کچھ نئے راز افشاں ہوتے ہیں ۔کیوں کہ پولیس پہنچ جاتی ہے اسی ڈاکٹر کے پاس جو جیئیش کی بیماری سے متعلق بتاتا ہے ۔اب آپ دیکھیں کہانی کہ کیا ہیروئن کو پولیس بطور بکرا ولن کو پیش کرتی ہے ۔کیا پولیس پکڑ پائے گی اصل قاتل کو؟.مطلب شیلی کے قاتل کو۔کہانی ہمیں چونکا دینے والے حقائق سے آگاہ کرتی ہے اور اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے ۔
فلم میں میوزک کچھ تیز ہے۔کہانی اچھی ہے پلاٹ زرا ڈھیلا ہے۔اس کے باعث مووی کچھ طویل ڈھائی گھنٹے پر مبنی ہے۔ فلم میں اس سسپینس کے بیچ ہمیں رومانس کہیں بکھرتا ہوا نظر آتا ہے پروڈیوسر نیا ہے مگر اسے سپورٹ کروں گا ۔۔۔فلم کو میں 7 نمبر دوں ۔آپ۔دیکھیں اور بتائیں کہ آپ کو کیسی لگی؟

کل سے میں ایک اچھی فلم کی تلاش میں تھا۔ دو تین فلمیں ڈاؤن لوڈ کیں، تھوڑی دیر دیکھیں مگر دل نہیں لگا۔ پھر ایک فلم شروع کی...
28/08/2025

کل سے میں ایک اچھی فلم کی تلاش میں تھا۔ دو تین فلمیں ڈاؤن لوڈ کیں، تھوڑی دیر دیکھیں مگر دل نہیں لگا۔ پھر ایک فلم شروع کی تو وہ ابتدا ہی سے دلچسپ لگی۔
کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جسے یادداشت کا مسئلہ ہے۔ کچھ ہی وقت بعد وہ سب کچھ بھول جاتا ہے اور ایک اجنبی کو اپنا بیٹا سمجھنے لگتا ہے۔ حقیقت میں وہ شخص ایک جیب کترہ اور موقع پرست ہے، جو پوری کہانی میں اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ ان دونوں کرداروں کی یہ وابستگی ایک لمبا سفر طے کرتی ہے۔
شروع میں کہانی ذرا سست لگتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ اس کی رفتار بڑھنے لگتی ہے۔ پھر جیسے ہی انٹرول آتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کہانی یکدم بدل گئی ہو۔ کردار وہی رہتے ہیں مگر ان کی ایکٹنگ کا معیار اچانک بہت بلند نظر آنے لگتا ہے۔ ہر منظر، ہر مکالمہ پہلے سے زیادہ گہرا محسوس ہوتا ہے۔ ناظرین سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ تبدیلی کیسے اور کیوں آئی، اور یہی سوال کہانی کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔
اس کے بعد کہانی تیزی سے آگے بڑھتی ہے، سسپنس اور جذبات دونوں عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ کردار زیادہ نہیں مگر جو ہیں وہ دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
میرے لیے یہ فلم ایک بہت ہی خوبصورت تجربہ رہی۔ اگر نمبر دینے ہوں تو میں اسے 10 میں سے 7 دوں گا۔
تحریر و تبصرہ: ملک فرحان

Address


Telephone

+923352414042

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Film Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share