Farrukh Shehzad

Farrukh Shehzad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Farrukh Shehzad, Hattar.

25/08/2026

پانچ برس کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود ٹی ایم اے خان پور ایک معمولی سی مسافر انتظار گاہ کو بھی پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جب ایک ادارہ پانچ سال کی طویل مدت میں مسافروں کے لیے محض ایک مختصر سی انتظار گاہ مکمل نہ کر سکے تو پھر اس سے یہ توقع رکھنا کس قدر قرینِ قیاس ہے کہ وہ عوامی سہولت کے لیے زیرِ تکمیل پارک کو بروقت مکمل کرے گا یا دیگر ترقیاتی منصوبوں کو سرعت، شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا؟
صورتِ حال تو یوں محسوس ہوتی ہے گویا ٹی ایم اے کا وجود عوامی فلاح و بہبود، شہری سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے زیادہ صرف عوام سے ٹیکس اور مختلف مدات میں محصولات وصول کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر بنیادی نوعیت کے منصوبے بھی برسہا برس تک تشنۂ تکمیل رہیں تو شہریوں سے وصول کیے جانے والے ٹیکس اور محصولات آخر کن مقاصد پر صرف ہو رہے ہیں؟

تحفظ ماحولیات فورم کی ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ خیبر پختونخوا سے اہم ملاقاتتحفظ ماحولیات فورم کے ایک اہم وفد نے کنوینئر طا...
25/08/2026

تحفظ ماحولیات فورم کی ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ خیبر پختونخوا سے اہم ملاقات
تحفظ ماحولیات فورم کے ایک اہم وفد نے کنوینئر طارق محمود کی قیادت میں ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ خیبر پختونخوا جناب طارق خان سے ان کے دفتر پشاور میں تفصیلی اور جامع ملاقات کی۔ وفد میں قمر حیات، محمد رفیق، سید محمد علی پاشا اور فرخ شہزاد شامل تھے۔
ملاقات کے دوران وفد نے ڈی جی انوائرمنٹ کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ اور اس کے گردونواح کی آبادیوں کو درپیش ماحولیاتی مسائل کا خاتمہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔
ملاقات کے اہم نکات، مطالبات اور تحریری درخواست:
* باقاعدہ درخواست اور قانونی مسائل: وفد کی جانب سے ڈی جی صاحب کو ایک باقاعدہ تحریری درخواست بھی پیش کی گئی، جس میں علاقے میں جاری قانونی اور عدالتی مسائل سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا گیا۔
* صنعتی آلودگی کا ازالہ: وفد نے حطار اور ملحقہ علاقوں کو درپیش سنگین ماحولیاتی مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بالخصوص سیمنٹ انڈسٹری اور کوئلے کی بے ہنگم ڈسٹ کے انسانی و حیوانی صحت اور مقامی فصلوں پر مرتب ہونے والے برے اثرات سے آگاہ کیا گیا۔
* جاری نوٹسز پر کارروائی: دیوان سیمنٹ اور پولٹری فیڈ انڈسٹری کو جاری کیے گئے نوٹسز پر فوری قانونی کارروائی کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔
* قوانین کی پاسداری: غنی گلاس، ٹف ٹائل، اور خصوصاً پولٹری پروٹین انڈسٹری سے پھیلنے والی شدید بدبو و تعفن کے سدباب کے لیے ماحولیاتی قوانین کے مطابق سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
* خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف حکمت عملی: لبریکنٹ انڈسٹری سمیت پرانے ٹائر اور بیٹریاں جلانے والی فیکٹریوں کو تحفظِ ماحولیات کے قوانین کا تابع بنانے کے لیے جامع حکمت عملی طے کی گئی۔
* محکمہ تحفظ ماحولیات کے دفتر کی منتقلی: ایک اہم پیشرفت کے طور پر محکمہ تحفظِ ماحولیات کے دفاتر کو حطار انڈسٹریل اسٹیٹ منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ مقامی سطح پر کارروائی کو فوری اور موثر بنایا جا سکے۔
* گندے پانی اور بدبو کے مسئلے کا حل: ڈنگی، موٹیاں اور گردونواح کی آبادیوں میں گندے پانی سے پھیلنے والی بدبو اور بیماریوں کے تدارک کے لیے حطار انڈسٹری کے ذمہ داروں کو ساتھ ملا کر مشترکہ حل تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
* سابقہ کارکردگی پر تحفظات: وفد نے سابقہ افسران کی ناقص کارکردگی اور نامناسب رویے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری اصلاح کا مطالبہ کیا۔
ڈی جی انوائرمنٹ کا مؤقف اور یقین دہانی:
ڈائریکٹر جنرل طارق خان نے وفد کے تمام دلائل اور درخواست کو غور سے سنا اور عوامی شکایات کے ترجیحی بنیادوں پر ازالے کی کامل یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ ماحولیات کی سست روی کا خاتمہ کیا جائے گا اور ادارے میں شفافیت و خود احتسابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے خاص طور پر کرپشن کے مکمل خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محکمے سے کالی بھیڑوں اور کرپٹ عناصر کا صفایا ان کی اولین ترجیح ہوگی، جبکہ اچھے، ایماندار اور ذمہ دار افسران کو آگے لایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ بہت جلد حطار کا باقاعدہ دورہ کریں گے تاکہ صورتحال کا خود جائزہ لے کر عملی اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

🌹اسلام علیکم ورحمتہ اللہْ 🌹😭😭😭😭بری پور کی معصوم کلی آیت نور کا بے دردی سے قتل ہم سب کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف ا...
25/08/2026

🌹اسلام علیکم ورحمتہ اللہْ 🌹
😭😭😭😭بری پور کی معصوم کلی آیت نور کا بے دردی سے قتل ہم سب کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف اس کی معصوم مسکراہٹ تھی جو ہر دل کو بھاتی تھی، اور دوسری طرف وہ ظلم جس نے انسانیت کو شرما دیا۔ یہ صرف ایک بچی کا قتل نہیں، یہ ہمارے پورے سسٹم کی ناکامی ہے جہاں مظلوم آج بھی انصاف کے لیے دربدر ہے اور طاقتور قانون سے کھیلتے ہیں۔ آج اگر ہم خاموش رہے تو کل ہماری باری ہوگی، اور کوئی اور ماں اپنی گود اجڑنے پر روئے گی۔ ہم ریاست، حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کیس کو فاسٹ ٹریک پر چلا کر ملزمان کو قانون اور شریعت کے مطابق عبرتناک سزا دی جائے تاکہ یہ آخری واقعہ ثابت ہو۔ یا اللہ! آیت نور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما، اور ہمیں ایسا نظام عطا کر جہاں کسی معصوم کی جان سستی نہ ہو۔ انصاف کے لیے آواز اٹھانا اب ہم سب پر فرض ہے۔😭😭😭😭

*منجانب:*
🌹تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان🌹
🌷یوسی حطار، تحصیل خان پور PK-47🌷
🌼ملک محمد ریاض فوجی TLP🌼

آیت نور رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دروازے بند تھے، مگر ایک گھر کی دہلیز پر انتظار جاگ رہا تھا۔ وہ دہلیز...
23/08/2026

آیت نور

رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دروازے بند تھے، مگر ایک گھر کی دہلیز پر انتظار جاگ رہا تھا۔ وہ دہلیز جس پر کبھی ننھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی، آج ایسی خاموش تھی جیسے کسی نے وقت کے پہیے کو وہیں روک دیا ہو۔ ماں کی آنکھیں دروازے پر جمی تھیں، باپ کی نظریں ہر آہٹ پر چونک اٹھتی تھیں شاید ابھی دروازہ کھلے گا، شاید کوئی آواز آئے گی شاید کوئی کہے گا: "آیت نور مل گئی ہے۔"

مگر دروازہ خاموش رہا۔

آیت نور… ایک نام نہیں ایک ننھی سی روشنی تھی۔ ایسی روشنی جو ابھی زندگی کے حروف بھی پوری طرح پڑھنا نہیں سیکھ پائی تھی۔ جس کے ہاتھوں میں کھلونوں کی دنیا تھی جس کی آنکھوں میں خوابوں کے چراغ ابھی جلنا شروع ہوئے تھے۔ اسے کیا خبر تھی کہ دنیا کے راستے ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتے، کہ ہر چہرہ محبت کا آئینہ نہیں ہوتا، کہ کچھ اندھیرے انسانوں کے بھیس میں بھی پھرتے ہیں۔

آج وہی ننھی روشنی کہیں گم ہے۔

اس کے گھر میں شاید اس کا کھلونا اب بھی کسی کونے میں پڑا ہو۔ شاید اس کی کوئی ننھی سی چیز اپنی جگہ پر رکھی ہو۔ شاید کسی کپڑے میں اب بھی اس معصوم وجود کی خوشبو باقی ہو۔ اور شاید گھر کی دیواریں ہر رات اس کے قدموں کی چاپ کا انتظار کرتی ہوں۔ بچے جب گھر میں نہ ہوں تو گھر صرف اینٹوں، دروازوں اور دیواروں کا مجموعہ رہ جاتا ہے۔ گھر کی روح تو بچوں کی ہنسی میں بستی ہے۔

ذرا سوچیے، جب رات کے آخری پہر ماں کی آنکھ لگنے لگتی ہوگی تو اچانک دل چونک کر اسے جگا دیتا ہوگا۔ وہ نیم خوابیدہ حالت میں شاید اس نام کو پکارتی ہو گی جسے پکارنا اب دعا بن چکا ہے:

"آیت نور!"

اور پھر خاموشی۔

ایسی خاموشی جس میں شاید ایک ماں کا پورا وجود چیخ رہا ہے۔

پولیس تلاش میں ہے، لوگ دعائیں کر رہے ہیں، راستے چھانے جا رہے ہیں، مگر ہر گزرتا لمحہ اس خاندان کے لیے صدیوں کے برابر ہے۔ وقت یہاں گھڑی کی سوئیوں سے نہیں، دھڑکتے ہوئے دل سے ناپا جا رہا ہے۔

کہتے ہیں بچوں کے قدم گھر میں برکت لے کر آتے ہیں، مگر آیت نور کے ننھے قدم جانے کہاں رک گئے۔ جس عمر میں اسے ماں کی انگلی تھام کر دنیا دیکھنی تھی، وہ آج جانے کس سمت، کس اجنبی خاموشی میں ہماری اجتماعی بے بسی کا سوال بن چکی ہے۔

اے آیت نور!

اگر کہیں تمہیں یہ دنیا سنائی دیتی ہے تو جان لو، تمہیں تلاش کرنے والی آنکھیں ابھی تھکی نہیں۔ تمہارے گھر کی دہلیز ابھی تمہارے قدموں کی منتظر ہے۔ تمہاری ماں کی بانہیں ابھی خالی ہیں، مگر امید سے خالی نہیں۔ تمہارے باپ کی آنکھوں میں نمی ضرور ہے، مگر ان آنکھوں نے تمہاری واپسی کا خواب ابھی دفن نہیں کیا۔

اور اے اس شہر کے لوگوں!

جب کبھی کسی گلی سے گزرو تو صرف یہ مت سوچنا کہ یہاں کوئی بچی لاپتا ہوئی تھی یہ سوچنا کہ آج آیت نور ہے، کل کسی اور کا گھر بھی اسی انتظار کی قبرستان نما خاموشی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہ صرف ایک بچی کی گمشدگی نہیں یہ ہمارے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک ہے۔

ایک ننھی سی آواز شاید کہیں خاموش ہے، مگر اس کی خاموشی آسمان تک جا رہی ہے۔

آیت نور واپس آؤ…

تمہاری ماں کی آنکھیں اب بھی دروازے پر ہیں۔

اور اس دروازے کے پار پوری دنیا ایک ہی خبر سننے کی منتظر ہے:

"آیت نور مل گئی ہے۔"

✍️فرخ شہزاد

آیت نور کیس کا ایک سوال جو ہنوز تشنۂ جواب ہے۔ آیت نور کیس میں تمام تر توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ زیرِ حراست ملزمان نے کی...
23/08/2026

آیت نور کیس کا ایک سوال جو ہنوز تشنۂ جواب ہے۔ آیت نور کیس میں تمام تر توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ زیرِ حراست ملزمان نے کیا اعتراف کیا اور معصوم بچی آخر کہاں ہے تاہم شاید اس تمام معاملے کا سب سے بنیادی اور باریک نکتہ ابھی پوری طرح زیرِ بحث ہی نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ پولیس آخر ان ملزمان تک پہنچی کیسے؟ اگر آیت نور تاحال بازیاب نہیں ہوئی تو تفتیش کاروں نے کن شواہد، قرائن، شہادتوں یا تکنیکی معلومات کی بنیاد پر ان اشخاص کو حراست میں لیا؟ کیا ان تک رسائی بچی کے آخری معلوم مقام سے حاصل ہونے والے کسی سراغ کے ذریعے ممکن ہوئی؟ کسی عینی شاہد کی اطلاع نے تفتیش کا رخ متعین کیا؟ کسی تکنیکی وسیلے نے ان کی نشان دہی کی؟ یا کوئی ایسی مخفی کڑی سامنے آئی جسے ابھی صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے؟ کیونکہ کسی فوجداری مقدمے کی اصل معنویت محض اعترافِ جرم میں نہیں بلکہ اس سلسلۂ شواہد و قرائن میں مضمر ہوتی ہے جو تفتیش کاروں کو ایک گمشدہ معصوم بچی کی تلاش سے مخصوص افراد تک لے کر جاتا ہے۔ لہٰذا عوام کو شاید اب یہ سوال بھی پوری سنجیدگی سے اٹھانا چاہیے کہ آیت نور تو ہنوز نہیں ملی مگر پولیس ان ملزمان تک آخر پہنچی کیسے؟ بعید نہیں کہ اسی سوال کے جواب میں اس المناک معمّے کی وہ بنیادی کڑی مضمر ہو جو ابھی تک عمومی بحث کی نگاہ سے اوجھل ہے۔

فرخ شہزاد

آیت نور کہاں ہے؟ہری پور کی ننھی کلی آیت نور کئی روز سے لاپتا ہے. پولیس کی تگ و دو، سرچ آپریشن اور سراغ رسانی اپنی جگہ، م...
23/08/2026

آیت نور کہاں ہے؟

ہری پور کی ننھی کلی آیت نور کئی روز سے لاپتا ہے. پولیس کی تگ و دو، سرچ آپریشن اور سراغ رسانی اپنی جگہ، مگر معصوم بچی کا تاحال کوئی اتا پتا نہیں۔ ایسے میں گزشتہ روز پولیس کی پریس ریلیز نے معاملے کو مزید گنجلک بنا دیا، جس میں گرفتار ملزمان کے عدالت کے روبرو مبینہ اعترافِ جرم کا ذکر کیا گیا۔

لیکن اس اعلان کے بعد ایک سوال پوری شدت سے زبانِ زدِ عام ہے:

اگر ملزمان نے جرم کا اقرار کر لیا ہے تو آیت نور کہاں ہے؟

اگر پولیس کو ملزمان تک پہنچنے اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کے لیے شواہد میسر آ گئے ہیں تو پھر بچی کی بازیابی کے حوالے سے اب تک کوئی واضح پیش رفت کیوں سامنے نہیں آئی؟ ملزمان کو ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کرکے حقائق واضح کرنے کے بجائے خاموشی سے جیل منتقل کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، آیت نور حیات ہے یا خدانخواستہ کسی اندوہ ناک سانحے کا شکار ہو چکی ہے؟

عوام کسی سنسنی خیز انکشاف کے خواہش مند نہیں وہ صرف حقیقت، شفافیت اور آیت نور کی بازیابی چاہتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے سے قبل کسی ملزم کو مجرم قرار دینا درست نہیں، مگر پولیس پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ اس قدر حساس معاملے میں ابہام کے بجائے ٹھوس اور قابلِ فہم معلومات عوام کے سامنے رکھے۔

ملزمان کی گرفتاری اپنی جگہ، پریس ریلیز اپنی جگہ؛ مگر اصل سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے:

آیت نور کہاں ہے؟

✍️ فرخ شہزاد

اسسٹنٹ کمشنر خان پور جنید خالد کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی کے سدِّباب، عوامی مفادات کے تحفظ اور حطار و ملحقہ علاقوں کو د...
22/08/2026

اسسٹنٹ کمشنر خان پور جنید خالد کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی کے سدِّباب، عوامی مفادات کے تحفظ اور حطار و ملحقہ علاقوں کو درپیش ماحولیاتی بحران کے تدارک کے لیے اٹھائے جانے والے مخلصانہ، جرأت مندانہ اور عملی اقدامات، بلاشبہ حطار کی تاریخ میں ایک سنہری اور قابلِ تحسین باب کا اضافہ ہیں۔ جنید خالد محض ایک انتظامی افسر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں عوام دوست، دردِ دل رکھنے والے، فرض شناس اور عوامی مسائل کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ان کے ازالے کے لیے کوشاں رہنے والے افسر کے طور پر اہلِ حطار کے دلوں میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔
تحفظِ ماحولیات فورم کے لیے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جدوجہد کو منظم اور مؤثر بنانے کی غرض سے گراؤنڈ فراہم کرنا ان کے ان اقدامات میں سے ایک نمایاں کارنامہ ہے جسے اہلِ علاقہ ہمیشہ قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ انہوں نے محض دفتری احکامات اور رسمی کارروائیوں تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے عوامی مشکلات کو عملاً محسوس کیا اور ان کے ازالے کے لیے میدانِ عمل میں اتر کر اپنی انتظامی ذمہ داریوں کا حقیقی مفہوم اجاگر کیا۔
جنید خالد کی عوام دوستی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ عوامی مفاد کے مقدمے میں محض ایک سرکاری عہدے دار کی حیثیت سے نہیں بلکہ متاثرہ عوام کے شانہ بشانہ پشاور ہائی کورٹ، ایبٹ آباد بینچ تک جا کھڑے ہوئے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کا غماز ہے کہ وہ عوامی مسائل کو محض فائلوں کا موضوع نہیں سمجھتے بلکہ انہیں اپنے منصبی فریضے اور انسانی ذمہ داری کے طور پر لیتے ہیں۔
ان کی اچانک منتقلی کی خبر نے حطار، میرا شہنی، لیبر کالونی اور دیگر ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کو نہایت رنجیدہ اور مضطرب کر دیا ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ایسے افسر جو عوامی مشکلات کو سمجھنے ان کے درمیان رہ کر مسائل کا ادراک کرنے اور بلاامتیاز ان کے ازالے کے لیے عملی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، درحقیقت انتظامی نظام کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔
جنید خالد کی ایک اور قابلِ ذکر خوبی ان کی غیر معمولی عوامی رسائی ہے۔ ان کے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے ہمہ وقت کشادہ رہے کسی سائل کو ان تک پہنچنے کے لیے نہ کسی بااثر شخصیت کی سفارش درکار رہی، نہ کسی سیاسی وساطت کا سہارا لینا پڑا۔ عام آدمی بلاجھجک اپنی فریاد لے کر ان کے پاس پہنچا اور انہوں نے اسے توجہ، خلوص اور انسانی ہمدردی کے ساتھ سنا۔
لہٰذا اہلِ حطار، میرا شہنی، لیبر کالونی اور دیگر متاثرہ علاقوں کے عوام اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اچانک تبادلے کے فیصلے پر ازسرِنو غور کیا جائے اور جنید خالد کو ان کے موجودہ منصب پر برقرار رکھا جائے، تاکہ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف شروع ہونے والی مؤثر جدوجہد کو تسلسل حاصل ہو اور عوامی مفادات کے تحفظ کا یہ سلسلہ کسی تعطل کا شکار نہ ہو۔
جنید خالد جیسے افسر محض عہدوں سے نہیں پہچانے جاتے ان کی اصل شناخت ان کے کردار، عوامی وابستگی، دیانتِ نیت اور خدمتِ خلق سے ہوتی ہے۔ اہلِ حطار کی نظر میں ان کی موجودگی ایک انتظامی سہولت نہیں بلکہ عوامی اعتماد، ماحولیاتی تحفظ اور حق گوئی کی ایک مضبوط ضمانت ہے۔

حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کی پولٹری فیڈ فیکٹریوں کے خلاف ماحولیاتی شکایات پر انتظامیہ متحرک، اسسٹنٹ کمشنر خان پور کا سخت نوٹس،...
21/08/2026

حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کی پولٹری فیڈ فیکٹریوں کے خلاف ماحولیاتی شکایات پر انتظامیہ متحرک، اسسٹنٹ کمشنر خان پور کا سخت نوٹس، سات روز میں تعمیلی رپورٹ طلب

حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم پولٹری فیڈ فیکٹریوں سے پیدا ہونے والی ناگوار بدبو، آبی آلودگی، صنعتی فضلے کے غیر موزوں اخراج و تلفی اور دیگر ماحولیاتی مضرتوں کے خلاف عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر خان پور جنید خالد نے خیبر پختونخوا سول ایڈمنسٹریشن (پبلک سروس ڈیلیوری اینڈ گڈ گورننس) ایکٹ، 2020ء کے تحت متعلقہ پولٹری فیڈ فیکٹریوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سرکاری نوٹس میں فیکٹری انتظامیہ کو تمام قابلِ اطلاق ماحولیاتی قوانین، معیارات، منظوریوں، این او سیز، لائسنسز اور مجاز حکام کی عائد کردہ شرائط کی مکمل پاسداری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکاری نوٹس کے مطابق انتظامیہ کو موصول ہونے والی عوامی شکایات میں بالخصوص تعفن و بدبو، آلودہ گندے پانی کے اخراج، آبی آلودگی، صنعتی فضلے کو نامناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے، گردوغبار اور فضائی آلودگی سمیت گردونواح کی آبادی کے لیے پیدا ہونے والی دیگر ماحولیاتی مشکلات کی نشان دہی کی گئی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر خان پور کی جانب سے جاری مراسلے میں پولٹری فیڈ فیکٹریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ فیکٹری کے احاطے سے اٹھنے والی ناگوار بو کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ بغیر مناسب ٹریٹمنٹ کے آلودہ پانی کو کھلے نالوں، آبی گزرگاہوں، زرعی اراضی یا عوامی مقامات پر خارج کرنے سے گریز کیا جائے۔ اسی طرح صنعتی فضلے، خام مال، مسترد شدہ مواد اور دیگر ضمنی مصنوعات کی مناسب ذخیرہ اندوزی اور قانونی تقاضوں کے مطابق تلفی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ پولٹری فیڈ کی پروسیسنگ، ہینڈلنگ، لوڈنگ و اَن لوڈنگ اور نقل و حمل کے دوران پیدا ہونے والے گردوغبار، ذراتی مادے اور دیگر فضائی اخراج کو قابو کرنے کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں، جبکہ فیکٹری کے احاطے اور ملحقہ علاقوں کو صاف ستھرا اور ماحولیاتی اعتبار سے محفوظ حالت میں برقرار رکھا جائے۔
انتظامیہ نے فیکٹری مالکان کو یہ بھی پابند کیا ہے کہ تمام متعلقہ ماحولیاتی منظوریوں، این او سیز، لائسنسز اور دیگر قانونی اجازت ناموں کی درست نقول فیکٹری میں محفوظ رکھی جائیں اور معائنہ کرنے والے مجاز حکام کے مطالبے پر پیش کی جائیں۔ علاوہ ازیں سب ڈویژنل انتظامیہ اور متعلقہ ریگولیٹری و تکنیکی محکموں کو فیکٹری کے معائنے میں مکمل تعاون فراہم کرنے اور مطلوبہ ریکارڈ و معلومات مہیا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹس کی سب سے اہم شق کے مطابق متعلقہ فیکٹری انتظامیہ کو نوٹس کی وصولی کے سات روز کے اندر تمام ضروری دستاویزی شواہد کے ساتھ مفصل تعمیلی رپورٹ (Compliance Report) اسسٹنٹ کمشنر خانپور کے دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر قابلِ اطلاق قوانین، ماحولیاتی معیارات یا مجاز حکام کی ہدایات کی تعمیل نہ کی گئی، یا آلودگی، ماحولیاتی تنزلی اور عوامی اذیت کا باعث بننے والی سرگرمیوں کا سلسلہ برقرار رہا، تو متعلقہ فیکٹری انتظامیہ کے خلاف مروجہ قوانین و قواعد کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
اس پیش رفت کو حطار اور گردونواح میں صنعتی آلودگی کے حوالے سے جاری عوامی تشویش کے تناظر میں اہم انتظامی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم نوٹس میں کسی مخصوص فیکٹری کو کسی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کے بجائے عوامی شکایات کی بنیاد پر ماحولیاتی تقاضوں کی پابندی، معائنہ اور تعمیلی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

بسلسلۂ جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ، گیارہویں ربیعُ الاوّل، بروزِ منگل، بعد از نمازِ عشاء، پڑاؤ چوک میں واقع بسم اللہ ہوٹل کے م...
21/08/2026

بسلسلۂ جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ، گیارہویں ربیعُ الاوّل، بروزِ منگل، بعد از نمازِ عشاء، پڑاؤ چوک میں واقع بسم اللہ ہوٹل کے مقام پر ایک پُرنور، روح پرور اور وجد آفریں محفلِ سماع کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں شہرۂ آفاق قوال عمران راحت فتح علی خان کی قوالی پارٹی اپنے مترنم اور دل آویز انداز میں گلہائے عقیدت و محبت بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذر کرے گی۔
اس روحانی و نورانی اجتماع میں پیر سید حیدر علی شاہ کے منظورِ نظر شہزادہ فیضان حیدر، پیر مبین حیدر اور پیر عباس حیدر بطورِ مہمانانِ خصوصی تشریف فرما ہوں گے، جبکہ اس بابرکت محفل کی سرپرستی ملک ثاقب اور سفیر خان فرمائیں گے۔ محفل کے بانیان و منتظمین سید عمران علی اور ذیشان ضیافت ہیں، جن کی کوششوں کے زیرِ اہتمام یہ روح پرور سلسلۂ عقیدت و محبت ترتیب دیا گیا ہے۔
تمام اہلِ ایمان، محبانِ رسولِ اکرم ﷺ اور عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ سے مؤدبانہ التماس ہے کہ اس پُرفیض اور روحانی اجتماع میں جوق در جوق شرکت فرما کر محفل کی رونق، برکت اور شکوہ کو دوبالا کریں اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی اس نورانی بزم سے اپنے قلوب و اذہان کو منور فرمائیں۔

جشنِ آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی روح پرور محفل۔۔۔۔۔ محلہ رڑیاں میں عشق و عقیدت کی ایمان افروز جلوہ گریگزشتہ شب انجمنِ عاشقانِ مصطفی...
21/08/2026

جشنِ آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی روح پرور محفل۔۔۔۔۔ محلہ رڑیاں میں عشق و عقیدت کی ایمان افروز جلوہ گری

گزشتہ شب انجمنِ عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ حطار، میلاد کمیٹی لبیک یا رسول اللہ ﷺ حطار اور تحریکِ لبیک پاکستان، یونین کونسل حطار کے زیرِ اہتمام ساتویں ربیع الاول کی پُرنور، بابرکت اور سعادت آفریں شب، محلہ رڑیاں میں ملک امجد، ملک دامان اور ملک زعفران کے گھر پر جشنِ آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی مناسبت سے ایک نہایت روح پرور، ایمان افروز اور وجد آفریں محفلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ منعقد ہوئی، جس میں علمائے کرام، مشائخِ عظام، سیاسی و سماجی شخصیات اور عاشقانِ رسول ﷺ نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے اپنی والہانہ محبت، قلبی وابستگی اور غلامیِ رسول ﷺ کے جذبۂ بے پایاں کا اظہار کیا۔
اس بابرکت اور نورانی اجتماع کی خصوصی رونق حضرت علامہ صاحبزادہ قاضی محمد عمر نقشبندی قادری چشتی کی شرکت سے دوبالا ہوئی، جبکہ سجادہ نشینِ دربارِ عالیہ چھوہر شریف، پیر عطا الرحمٰن صاحب نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت فرما کر محفل کی روحانی عظمت و وقار میں مزید اضافہ فرمایا۔ علمائے کرام اور مقررینِ عظام نے سیرتِ طیبۂ مصطفیٰ ﷺ کے تابناک گوشوں، عظمت و رفعتِ شانِ رسالت ﷺ، محبتِ رسول ﷺ، اطاعت و غلامیِ مصطفیٰ ﷺ اور اتباعِ سنتِ نبوی ﷺ کی اہمیت و ضرورت پر نہایت مؤثر، بصیرت افروز اور ایمان پرور خطابات فرمائے، جن سے حاضرین کے قلوب محبتِ رسول ﷺ کی حرارت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی کیفیت سے سرشار ہوگئے۔
محفل کے اختتام پر بارگاہِ رب العزت میں نہایت عجز و نیاز کے ساتھ وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی و خوش حالی، افواج و عوام کی حفاظت، امتِ مسلمہ کی سربلندی اور ملک و قوم کو درپیش جملہ مشکلات، آفات و مصائب سے نجات کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ بعد ازاں اہلِ محفل اور شرکائے محفل کی تواضع کے لیے لنگر کا وسیع اور شایانِ شان انتظام کیا گیا، جس میں حاضرین نے تبرک و ضیافت سے استفادہ کیا اور یوں یہ بابرکت محفل عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو، ذکر و درود کی نورانیت اور باہمی محبت و اخوت کے حسین احساسات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Address

Hattar
22610

Telephone

+923349516692

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farrukh Shehzad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Farrukh Shehzad:

Shortcuts

Share