25/08/2026
پانچ برس کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود ٹی ایم اے خان پور ایک معمولی سی مسافر انتظار گاہ کو بھی پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جب ایک ادارہ پانچ سال کی طویل مدت میں مسافروں کے لیے محض ایک مختصر سی انتظار گاہ مکمل نہ کر سکے تو پھر اس سے یہ توقع رکھنا کس قدر قرینِ قیاس ہے کہ وہ عوامی سہولت کے لیے زیرِ تکمیل پارک کو بروقت مکمل کرے گا یا دیگر ترقیاتی منصوبوں کو سرعت، شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا؟
صورتِ حال تو یوں محسوس ہوتی ہے گویا ٹی ایم اے کا وجود عوامی فلاح و بہبود، شہری سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے زیادہ صرف عوام سے ٹیکس اور مختلف مدات میں محصولات وصول کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر بنیادی نوعیت کے منصوبے بھی برسہا برس تک تشنۂ تکمیل رہیں تو شہریوں سے وصول کیے جانے والے ٹیکس اور محصولات آخر کن مقاصد پر صرف ہو رہے ہیں؟