03/04/2025
وہ ستارے جن کی خاطر کئی بےقرار صدیاں
میری تیرہ بخت دنیا میں ستارہ وار جاگیں
کبھی رفعتوں پہ لپکیں، کبھی وسعتوں سے الجھیں
کبھی سوگوار سوئیں، کبھی نغمہ بار جاگیں
وہ بلند بام تارے وہ فلک مقام تارے
وہ نشان دے کے اپنا رہے، بے نشاں ہمیشہ
وہ حسیں، وہ نور زادے، وہ خلاء کے شاہ زادے
جو ہماری قسمتوں پر رہے حکمراں ہمیشہ
جنہیں مضمحل دلوں نے ابدی پناہ جانا
تھکے ہارے قافلوں نے جنہیں خضرِ راہ جانا
جنہیں کم سنوں نے چاہا کہ لپک کے پیار کر لیں
جنہیں مہ وشوں نے مانگا کہ گلے کا ہار کر لیں
جنہیں عاشقوں نے چاہا کہ فلک سے توڑ لائیں
کسی راہ میں بچھائیں، کسی سیج پر سجائیں
جنہیں بت گروں نے چاہا کہ صنم بنا کے پوجیں
یہ جو دُور کے حسیں ہیں انہیں پاس لا کے پوجیں
جنہیں مطربوں نے چاہا کہ صداؤں میں پرو لیں
جنہیں شاعروں نے چاہا کہ خیال میں سمو لیں
جو ہزار کوششوں پر بھی شمار میں نہ آئے
کہیں خاک بے بضاعت کے دیار میں نہ آئے
جو ہماری دسترس سے رہے دور دور اب تک
ہمیں دیکھتے رہے ہیں جو بصد غرور اب تک
میرے عہد کے حسینو! وہ نظر نواز تارے
میرا دورِ عشق پرور تمہیں نذر دے رہا ہے
وہ جنوں جو آب و آتش کو اسیر کر چکا تھا
وہ خلا کی وسعتوں سے بھی خراج لے رہا ہے
میرے ساتھ رہنے والو! میرے بعد آنے والو
میرے دور کا یہ تحفہ تمہیں سازگار آئے
کبھی تم خلا سے گزرو کسی سیم تن کی خاطر
کبھی تم کو دل میں رکھ کر کوئی گلزار آئے