12/05/2025
ریتم زیرو – ایک خطرناک تجربہ اور انسانی آزادی کا نتیجہ ۔
یہ ایک سچا واقعہ ہے جو 1974 میں پیش آیا۔ مارینا ابرامووچ نامی ایک سربین (یورپی ملک سربیا کی) آرٹسٹ نے ایک تجربہ کیا جس کا نام تھا "ریتم زیرو"۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ 6 گھنٹے کے لیے ایک "چیز" بن کر کھڑی رہے گی، اور عوام جو چاہے، وہ اس کے ساتھ کر سکتی ہے — وہ بالکل بھی مزاحمت نہیں کرے گی۔ لوگوں کو مکمل آزادی دی گئی کہ جو چاہیں کریں، اور ان پر کوئی سزا یا الزام نہیں لگایا جائے گا۔
مارینا کے سامنے ایک میز رکھی گئی جس پر 72 چیزیں رکھی گئیں، جن میں خوشبو، گلاب، شیمپئن، کتاب، قینچی، چاقو، کیل، بلیڈ، اور یہاں تک کہ ایک اصلی بندوق اور گولی بھی رکھی گئی۔
ابتدائی طور پر لوگ شرافت سے پیش آئے۔ کسی نے اسے گلاب دیا، کسی نے بوسہ دیا، کسی نے تصویر کھینچی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، لوگوں کو یقین آتا گیا کہ واقعی کوئی روکنے والا نہیں، تو ان کے اندر چھپا ہوا اندھیرا باہر آنا شروع ہو گیا۔
کسی نے اس کے کپڑے پھاڑ دیے، کسی نے اس کے جسم پر چاقو سے زخم لگائے، کچھ نے اس کا خون چاٹا، اور ایک شخص نے بندوق اٹھا کر اس کے سر پر تان دی۔ جب حالات بہت بگڑ گئے تو کچھ ذمہ دار لوگوں نے مداخلت کر کے پرفارمنس روک دی۔ مارینا ان چھ گھنٹوں میں بالکل خاموش کھڑی رہی اور سب کچھ برداشت کرتی رہی۔
یہ تجربہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر انسان کو مکمل آزادی دے دی جائے اور کسی انجام یا سزا کا خوف نہ ہو، تو وہ کتنی جلدی حیوانیت کی سطح تک گر سکتا ہے۔ مارینا کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی جنگل یا قید خانے میں نہیں بلکہ ایک عام ماحول میں ہوا، جہاں صرف یہ اعلان کیا گیا تھا کہ "کچھ بھی کرنے کی اجازت ہے"۔
ایسے لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان کو مذہب یا خدا کے خوف کی ضرورت نہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ ہم اخلاقی انسان بن سکتے ہیں بغیر کسی الٰہی ہدایت کے— ان کے لیے یہ تجربہ ایک آئینہ ہے۔
مذہب انسان کے اندر ایک باطنی نگرانی پیدا کرتا ہے، یعنی انسان جانتا ہے کہ ایک ذات ہے جو اسے دیکھ رہی ہے، اور ہر عمل کا حساب ہوگا۔ یہی احساس انسان کو ظلم سے روکتا ہے، اسے گناہ سے شرمندہ کرتا ہے، اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت پر مجبور کرتا ہے۔
جبکہ الحاد کے ہاتھوں دنیا پہلے سے تباہ ہوکر ارہا ہے اور یہ دھرتی تباہ بھی اسی کے ہاتھوں ہونے والی ہے ۔۔