Tasawoof

Tasawoof tasawoof

12/05/2025

ریتم زیرو – ایک خطرناک تجربہ اور انسانی آزادی کا نتیجہ ۔

یہ ایک سچا واقعہ ہے جو 1974 میں پیش آیا۔ مارینا ابرامووچ نامی ایک سربین (یورپی ملک سربیا کی) آرٹسٹ نے ایک تجربہ کیا جس کا نام تھا "ریتم زیرو"۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ 6 گھنٹے کے لیے ایک "چیز" بن کر کھڑی رہے گی، اور عوام جو چاہے، وہ اس کے ساتھ کر سکتی ہے — وہ بالکل بھی مزاحمت نہیں کرے گی۔ لوگوں کو مکمل آزادی دی گئی کہ جو چاہیں کریں، اور ان پر کوئی سزا یا الزام نہیں لگایا جائے گا۔

مارینا کے سامنے ایک میز رکھی گئی جس پر 72 چیزیں رکھی گئیں، جن میں خوشبو، گلاب، شیمپئن، کتاب، قینچی، چاقو، کیل، بلیڈ، اور یہاں تک کہ ایک اصلی بندوق اور گولی بھی رکھی گئی۔

ابتدائی طور پر لوگ شرافت سے پیش آئے۔ کسی نے اسے گلاب دیا، کسی نے بوسہ دیا، کسی نے تصویر کھینچی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، لوگوں کو یقین آتا گیا کہ واقعی کوئی روکنے والا نہیں، تو ان کے اندر چھپا ہوا اندھیرا باہر آنا شروع ہو گیا۔

کسی نے اس کے کپڑے پھاڑ دیے، کسی نے اس کے جسم پر چاقو سے زخم لگائے، کچھ نے اس کا خون چاٹا، اور ایک شخص نے بندوق اٹھا کر اس کے سر پر تان دی۔ جب حالات بہت بگڑ گئے تو کچھ ذمہ دار لوگوں نے مداخلت کر کے پرفارمنس روک دی۔ مارینا ان چھ گھنٹوں میں بالکل خاموش کھڑی رہی اور سب کچھ برداشت کرتی رہی۔

یہ تجربہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر انسان کو مکمل آزادی دے دی جائے اور کسی انجام یا سزا کا خوف نہ ہو، تو وہ کتنی جلدی حیوانیت کی سطح تک گر سکتا ہے۔ مارینا کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی جنگل یا قید خانے میں نہیں بلکہ ایک عام ماحول میں ہوا، جہاں صرف یہ اعلان کیا گیا تھا کہ "کچھ بھی کرنے کی اجازت ہے"۔

ایسے لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان کو مذہب یا خدا کے خوف کی ضرورت نہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ ہم اخلاقی انسان بن سکتے ہیں بغیر کسی الٰہی ہدایت کے— ان کے لیے یہ تجربہ ایک آئینہ ہے۔

مذہب انسان کے اندر ایک باطنی نگرانی پیدا کرتا ہے، یعنی انسان جانتا ہے کہ ایک ذات ہے جو اسے دیکھ رہی ہے، اور ہر عمل کا حساب ہوگا۔ یہی احساس انسان کو ظلم سے روکتا ہے، اسے گناہ سے شرمندہ کرتا ہے، اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت پر مجبور کرتا ہے۔
جبکہ الحاد کے ہاتھوں دنیا پہلے سے تباہ ہوکر ارہا ہے اور یہ دھرتی تباہ بھی اسی کے ہاتھوں ہونے والی ہے ۔۔

بڑا رکھیا شرح دا پاس ملاں سانوں عشق نماز پڑھاٸ ہوٸ اےرانجھا پیر میرا میں مرید اس دی دل دی خوب صفائ ہوٸ اےازلوں کُن دے را...
03/03/2024

بڑا رکھیا شرح دا پاس ملاں سانوں عشق نماز پڑھاٸ ہوٸ اے
رانجھا پیر میرا میں مرید اس دی دل دی خوب صفائ ہوٸ اے

ازلوں کُن دے راز نوں پھول لیا فیکُون رمز اسیں پاٸ ہوٸ اے
نَحنُ و اقَرب وسدا دلبر ماہی اکھ ساڈے دے نال ملاٸ ہوٸ اے

دیکھ لیا کُنتُو کَنزَاً مخفی نوں شیشے دل دے لٹ مچاٸ ہوٸ اے
موتو قبلہ انتا موتو اسیں مر گٸے آں یار نے جوت جگاٸ ہوٸ اے

وفی انفسکم نال ہتھ ملا بیٹھے تاٸیوں لوں لوں روشناٸ ہوٸ اے
ولیل زلفاں ودوھا مکھڑا عرش فرش سانوں سیر کراٸ ہوٸ اے

یداللہ فو قیدھم اکبر ڈور اوس دے ہتھیں اسیں پھڑاٸ ہوٸ اے
الف میم جاپے میم الف جاچے انج صورت اسیں وٹاٸ ہوٸ اے

اکبر چشتی صابری مصطفاٸی

29/01/2024

کیا ﺁﭖ '' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﮐﺎ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﺎﻧﺘـے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘـے ﮨﯿﮟ؟ -
'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﺩﻋﺎ ھــے ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩہرﺍﺗـے ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮭـے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭘﮕﮭﻞ ﮔﯿﺎ-
ﺩﺭﺣﻘﯿﺖ '' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻟﻤﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ھــے ﺟﻮ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮨﻮﺍ -.
ﺟﺐ حضرت محمد ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ' ﺍَﺳَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﯿﮑُﻢ ' ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ - ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﺴـے ﺳﻼﻡ ﮐﮩﮯ ﺟﻮ ﺑﺬﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻼﻡ ھــے ؟
ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺳﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻼﻣﺘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ھــے
ﻟﮩﺬﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :-
'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕ ُﻟِﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﻮَﺍﺕُ ﻭَﺍﻟﻄَّﻴِّﺒَﺎﺕُ "
ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﯽ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺍﻟﻠﮧ کیلئـے ﮨﯿﮟ
ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧـے ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﯿﺎ :-
ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛَﺎﺗُﻪُ
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :-
ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻨَﺎ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﻋِﺒَﺎﺩِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﻴﻦَ
ﺳﻼﻡ ﮨﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ
ﻧﻮﭦ:- آپ ﷺ ﻧـے " ﮨﻤﯿﮟ " ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ , (ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ)
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﯾﮧ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧـے ﮐﮩﺎ
ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥْ ﻟَﺎ ﺇِﻟَﻪَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻭَﺣْﺪَﻩُ ﻟَﺎ ﺷَﺮِﻳﻚَ ﻟَﻪُ ﻭَﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًﺍ ﻋَﺒْﺪُﻩُ ﻭَﺭَﺳُﻮﻟُﻪ
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ, ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ !!
بحوالہ (بخاری ومسلم) مظاہر حق جدید, شرح مشکوۃ شریف, باب: تشہد کا بیان، صفحہ 588 تا 593. کاپی

29/01/2024

حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب جب حج پہ گئے
تو راستے میں وادیِ حمرا میں قیام کیا چونکہ سفر میں تهے اسلئے نمازِ عصر کی سنتیں غیر موکدہ ادا نہ کیں (جو کہ اک شریعی حکم ہے) دریں اثناء نیند نے غلبہ کیا اور سو گئے خواب میں آنحضور صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی آپ صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے مہر علی میرے دیدار کے طلبگار ہو کہ میری ہی سنتیں ادا نہ کیں. مہر علی خوشی اور گهبراہٹ کے ملے جلے احساس سے بیدار ہوئے چونکہ ابهی ابهی دیدارِ مصطفیٰ صل اللہ علیہ وآلہ و سلم ہو تها تو اس مستی میں یہ اشعار کہے
_
اَج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے

لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
_
اَلْطَّیْفُ سَریٰ مِنْ طَلْعَتِہ
والشَّذُو بَدیٰ مِنْ وَفْرَتَہ
_
فَسَکَرْتُ ھُنَا مِنْ نَظْرَتِہ
نیناں دیاں فوجاں سر چڑھیاں
_
مکھ چند بدر شعشانی اے
متھے چمکے لاٹ نورانی اے
_
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں
_
دو ابرو قوس مثال دسن
جیں توں نوک مژہ دے تیر چھٹن
_
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں
_
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جانان کہ جانِ جہان آکھاں
_
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تو شاناں سب بنیاں
_
ایہہ صورت ہے بے صورت تھیں
بے صورت ظاہر صورت تھیں
_
بے رنگ دسے اس مورت تھیں
وچ وحدت پھٹیاں جد گھڑیاں
_
دسے صورت راہ بے صورت دا
توبہ راہ کی عین حقیقت دا
_
پر کم نہیں بے سوجھت دا
کوئی ورلیاں موتی لے تریاں
_
ایہا صورت شالا پیش نظر
رہے وقت نزع تے روزِ حشر
_
وچ قبر تے پل تھیں جد ہوسی گذر
سب کھوٹیاں تھیسن تد کھریاں
_
یُعْطِیُکَ رَبُّکَ داس تساں
فَتَرْضیٰ تھیں پوری آس اساں

لج پال کریسی پاس اساں
والشْفَعْ تُشَفَّعْ صحیح پڑھیاں
_
پهر جب روضہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ و سلم پہ پہنچے تو یہ اشعار پڑهے
_
لاہو مکھ تو بردِ یمن
منبھانوری جھلک دکھلاؤ سجن
_
اوہا مٹھیاں گالیں الاؤ مٹھن
جو حمرا وادی سن کریاں
_
حجرے توں مسجد آؤ ڈھولن
نوری جھات دے کارن سارے سکن
_
دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن
سب انس و ملک حوراں پریاں
_
انہاں سکدیاں تے کرلاندیاں تے
لکھ واری صدقے جاندیاں تے
_
انہاں بردیاں مفت وکاندیاں تے
شالا آون وت بھی اوہ گھڑیاں
_
پیر مہر علی کو پهر جب جاگتے ہوئے روضہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ و سلم پر دوبارہ زیارت ہوئی تو یہ اشعار پڑھے
_
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
_
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں
_
"حضور قبلہ عالم سید پیر مہر علی شاہ علیہ رحمت گولڑہ شریف"

23/05/2023

M Adeel Ahmad✍️
بُڈھِی جَان نِمَانِی سِی
مَرض بَڑی پُرانِی سِی

سَاہ وِی اَوکَھا آؤندَا سِی
جِند دُکھَاں دِی مَاری سِی

کَھنگ کَھنگ کَے بَابَے نَے
جَان گلِی وِچ ہَارِی سِی

جِیندَیاَں پُچھیَا کِسَے نَا
مَویَاں رَوٹِی بَھارِی سِی

تَتے نَان سِی تِلاَں وَالَے
نَالَے پَکِی نِہَارِی سِی

آوَے جَو وِی
رَج کَے کَھاوَے
رَج پُج کَے
ہَوکا مَارَے

بَابَے نُوں پُرانِی بِیمَارِی سِی
سَاڈی تَے بَابَے نَال یَارِی سِی

گَل لَگ رَون ہِک دَوجَے دَے
پُتر کَہن ، قِسمَت مَاڑِی سِی

گَوانڈِی وَیکَھ
مَکَر پُترَاں دَے
ہِک دُوجَے نُوں
کَرن اِشَارَے ، کَہ

بَابَے نَے پِچھلِی عُمَر
بَوہَے بَاہر گُزارِی سِی

پُرانِی مَنجِی دَؤن بِنَا
کَندھ نَال کَھلَارِی سِی

اَیس مَنجِی تَے بَابَے نَے
گَلی وِچ جَان ہَارِی سِی

جِیندیَاں پُچھیَا کِسَے نَا
بَعدُوں پَکِی نِہَارِی سِی

نَک رَہندا نَئِیں سِی پُترَاں دَا
کُوٹِھی بَنگلَہ گَاڑِی سِی
ََُ✍️

24/09/2022

کیا اللہ کا دیدار کیا جا سکتا ہے؟

14/06/2022

مرید نے مرشد کو اچھے موڈ میں دیکھا تو با ادب ھو کر گویا ھوا !
میرے مرشد مجھے عرقِ حیات کے متعلق تو کچھ بتائیے ،کیا اسی کو آبِ حیات کہتے ھیں؟ اور اس پانی کا چشمہ پھوٹتا کہاں سے ھے ؟؟؟
مرشــد نے گہری نظر سے مرید کی طرف دیکھا اور سوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیر گزر گئ تو مرید کو یوں لگا جیسے اس نے اپنے مرشد کو ناراض کر دیا ھے،، وہ پھر ڈرتے ڈرتے بولا، حضرت جی اگر میرے سوال سے آپ کو کوفت ھوئی ھے تو میں معافی کا طلبگار ھوں !
ایک لمبی ' "ھـُـــــــوں" کے بعد مرشد نے نرمی سے بولا، نہیں میں ناراض تو نہیں ھوا مگر فکرمند ضرور ھوں...... ،،میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیا تھا تو ھمارے درمیان 12 سال کی طویل جدائی پڑ گئ تھی ،،میں سوچ یہ رھا تھا کہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کر سکوں گا بھی یا نہیں،، اس دوران اگر میری اجل آگئ تو کہیں تمہاری محنت ضائع نہ ھو جائے،، بیٹا یہ عرقِ حیات یا آبِ حیات ،، یہ الفاط میں نہیں سمجھایا جا سکتا،، سمجھاؤ تو سمجھ نہیں آتا ! اس لئے میرا مرشد تو آب حیات کے چشمے کےکنارے کھڑا کر کے ،اس میں انگلی ڈبو کر دکھایا کرتا تھا کہ یہ ھے عرقِ حیات !! میں نے یہ سوال اپنے مرشد سے ان کی جوانی میں پوچھ لیا تھا !!
تم نے بہت دیر کر دی ھے،، خیر اللہ بہتر کرے گا،، میں تمہیں ایک پودا دکھاتا ھوں ،، اس پودے کے پھول کا عرق تم نے ایک چھوٹی شیشی میں بھرنا ھے اور جب یہ شیشی بھر جائے تب میرے پاس واپس آنا ھے،، یہ عرق ھی ھماری آنکھوں میں عرقِ حیات کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے گا !!یاد رکھنا ایک پھول سے صرف ایک قطرہ رس نکلتا ھے ، اور اگر شیشی فوراً بند نہ کرو تو فوراً اڑ بھی جاتا ھے،، اور یہ پودا جنگل میں کہیں کہیں ملتا ھے ! اس کے بعد مرشد نے ایک درمیانے سائز کی شیشی اپنے مرید کو پکڑائی اور اسے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیا ! مرید بہت پرجوش تھا،، آبِ حیات کا معمہ بس حل ھونے کو تھا ، اور اسے آبِ حیات کو دیکھنے اور چھونے کا موقع ملے گا،، مگر ایک تو اس پودے کو ڈھونڈنا ایک جوکھم تھا تو ایک پودے کے ساتھ ایک پھول اور ایک پھول میں ایک قطرہ !!
الغرض اسے بارہ سال لگ گئے بوتل بھرنے میں ،، جس دن اس کی بوتل بھری وہ دن اس کے لئے ایک نئ زندگی کی نوید تھا،، ایک طرف وہ پھولے نہیں سما رھا تھا تو دوسری طرف اسے بار بار یہ خیال ستا رھا تھا کہ اگر اس دوران مرشد اللہ کو پیارے ھوگئے تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی کیونکہ آبِ حیات چشمہ تو صرف مرشد کو ھی پتہ تھا !! وہ خیالات میں غلطاں و پیچاں کبھی چلتا تو کبھی دوڑتا،، اپنے مرشد کے ٹھکانے کی طرف رواں دواں تھا،، مرشد کے ڈیرے پہ نظر پڑنا تھا کہ وہ بیتاب ھو کر دور سے ھی چلایا ،، میرے مرشد ،، اے میرے مرشد، دیکھ میں اپنی تپسیا میں کامیاب رھا،،میں بوتل بھر لایا ھوں ،، اس کی آواز پر مرشد اپنے کٹھیا سے بار نکلا ،، بارہ سالوں نے اس کی کمر دھری کر دی تھی مگر وہ بھی مرید کی کامیابی پر خوش نظر آتا تھا !!
اپنے مرشد پر نظر پڑنا تھا کہ مرید بے اختیار دوڑ پڑا اور یہی بے احتیاطی اسے مہنگی پڑی، ٹیڑھے میڑھے رستے پر قدم کا سٹکنا تھا کہ مرید لڑکھڑایا اور عرق سے بھری شیشی اس کے ھاتھ سے چھوٹ کر ٹھاہ سے پتھر پر لگی اور چورا چورا ھو گئ،، عرق کے کچھ چھینٹے مرشد کے پاؤں پر پڑے باقی کو جھٹ زمین نگل گئ،، بے اختیار مرید کی چیخ نکل گئ ،،میرے مرشد میں لٹ گیا میں برباد ھو گیا میری محنت ضائع ھو گئ ،،میرے بارہ سال کی مشقت مٹی بن گئ،، میرے مرشد میں تباہ ھو گیا،، مرشد اپنے مرید کو چھوڑ کر اندر گیا اور ایک اور چھوٹی سی شیشی لایا جس میں اس نے روتے سسکتے مرید کے آنسو بھرنا شروع کر دیئے ،، اور وہ شیشی بھر لی !!
اب مرید رو رھا تھا تو مرشد ھنس رھا تھا،، میرے مرشد میری زندگی برباد ھو گئ اور آپ مسکرا رھے ھیں ؟ مرید نے تعجب سے پوچھا !! مرشد اسے اندر لے گیا اور بکری کے دودھ کا پیالہ پینے کو دیا ،، پھر اس نے اس چھوٹی شیشی کو کھولا جس میں مرید کے آنسو بھرے ھوئے تھے، اور اپنی انگلی کو ان سے گیلا کر کے کہا کہ یہ ھے " عرقِِ حیات " یا " آبِ حیات " یا مقصدِ حیات !!
اور پھر آنسوؤں میں ڈبڈباتی اس کی آنکھوں کو چھو کر کہا یہ ھیں آبِ حیات کے چشمے !!
یاد رکھو ! اللہ نے انسان کو ان آنسوؤں کے لئے پیدا کیا ھے ،، ان میں ھی زندگی چھپی ھوئی ھے،، کچھ اس کی محبت میں زارو قطار روتے ھیں جیسے انبیاء ،، اور کچھ اپنے عملوں کے بھرے مٹکے جب اپنی ذرا سی غلطی سےگراتے اور انہیں ٹوٹتے اور اپنی محنتیں ضائع ھوتے دیکھتے ھیں تو تیری طرح بلبلاتے ھیں ،، جس طرح پانی نکلنے اور نکالنے کے مختلف طریقے ھیں اسی طرح انسانوں میں بھی ان کی طبائع کے تحت ان آنسوؤں کا سامان کیا گیا ھے،، یاد رکھو آسمان پر بھرنے والے بہت سارے ھیں مگر شیشی کسی کی نہیں ٹوتتی ،، آسمان والوں کے مٹکے ھر دم بھرے رھتے ھیں،،وھاں مٹکے ٹوٹنے کے اسباب نہیں رکھے گئے ، ان کے رونے میں تسبیح ھے،، پچھتاوہ نہیں ھے ! ھمیں اسی مقصد سے بنایا گیا ھے،پھر اس دنیا کے ٹیڑھے میڑھے رستوں پر ھاتھ میں تقوے کی بوتل دے کر دوڑایا جاتا ھے ،، اور جب ذرا سی بے احتیاطی سے تقوے کی وہ سالوں کی محنت کسی گناہ میں ڈوب جاتی ھے اور ھم پچھتاتے ھیں اور زار و قطار روتے ھیں تو اللہ فرشتوں کو اسی طرح ھمارے آنسو سمیٹنے پر لگا دیتا ھے جس طرح آج میں نے تیرے آنسو شیشی میں جمع کئے ھیں !!
یہ وہ پانی ھے جس سے جہنم کی آگ بھی ڈرتی ھے،، اللہ کے رسول ﷺ نے حشر کا نقشہ کھینچا ھے کہ جہنم کی آگ فرشتوں کے قابو میں نہیں آ رھی ھوگی،، اور میدانِ حشر میں باغیوں کی طرف پھنکاریں مارتی ھوئی لپکے گی،، فرشتے اپنی بے بسی کا اظہار کریں گے تو اللہ پاک جبرائیل سے فرمائیں گے کہ وہ پانی لاؤ ،، اور پھر جبرائیل اس پانی کے چھنٹے مارتے جائیں گے اور آگ پیچھے سمٹتی جائے گی یہاں تک کہ اپنی حد میں چلی جائے گی،، صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺ وہ کونسا پانی ھو گا؟ آپ نے فرمایا اللہ کے شوق میں اللہ کے خوف سے رونے والوں کے آنسو ھوں گے جو اللہ نے آگ پر حرام کر رکھے ھیں!! یہی وہ رونا ھے جو امیر خسرو روتے ھیں کہ !!

بہــــت ھـــــــی کٹھــــــن ڈگـــــــر پنگھـٹ کی
کیسے بھــــر لاؤں میـں جھـــٹ پٹ مٹــــــــکی ؟

یہی وہ آبِ حیات ھے جس کی بشارت انسان کو دی گئ ھے کہ اس کے چشمے اس کی اپنی ذات کے اندر ھیں !!

اے تن تیـرا رب سَچے دا حـجـــــرہ ، پا اندر ول جھــاتی ھو
نہ کــــــر مِنـت خـــواج خضــر دی، تیرے اندر آبِ حیـاتی ھو !

اسی کی طرف میاں محمد بخش صاحب اشارہ کرتے ھیں

سب سیاں رَل پانی چلیاں تے کوئی کوئی مُڑسی بھر کے
جنہاں بھـریا ، بھــر سِر تے دھــریا، قدم رکھن جَـر جَـر کے !

یعنی تمام روحیں اصل میں ان سہیلیوں کی طرح ھیں جو کنوئیں سے آبِ حیات بھرنے جاتی ھیں،،مگر ان میں سے کوئی کوئی بھر کر واپس آئے گی بہت ساریوں کے گھڑے رستے میں ٹوٹ جاتے ھیں،، لیکن جو بھر کر سر پر رکھ لیتی ھیں ان کے قدم رکھنے کا انداز بتاتا ھے کہ ان کا گھڑا بھرا ھوا ھے ! وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر قدم رکھتی ھیں ! یہ مضمون اللہ پاک نے سورہ الفرقان میں اپنے بندوں کی تعریف کرتے ھوئے بیان کیا ھے،،
"و عباد الرحمن الذین یمشون علی الارضِ ھوناً ،،،، رحمان کے بعد بندے زمین پر بہت تھم تھم کرقدم رکھتے ھیں"
یعنی پروقار چال چلتے ھیں،، ان کی چال بتاتی ھے کہ گھڑا بھرا ھوا ھے ! میاں صاحب دوسری جگہ فرماتے ھیں !
لوئے لوئے بھر لے کُڑیئے جے تدھ بھانڈا بھرنا ! شام پئــی بِن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا !!
یہ بھرے گھڑے تڑوانے والوں کا ذکر اللہ پاک نے قرآن حکیم بھی بار بار کیا ھے،،
ائے ایمان والوں تمہارے ازواج اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ھیں،،ان سے خبردار رھو !( التغابن ) میاں صاحب فرماتے ھیں
اکھیوں انَۜا تے تِلکَن رستہ کیوں کر رھے سنبھالا ؟
دھـــکے دیــون والے بُہــتے تُـــو ھتھ پکــڑن والا !

اے اللہ آنکھوں سے بھی میں اندھا ھوں،ان مادی آنکھوں سے تو نظر نہیں آتا، اور رستہ بھی پھسلن والا ھے،، دوسری جانب ھر بندہ اس پھسلن رستے پر سہارا دینے کی بجائے دھکے دینے والا ھے ،،جب کہ صرف تیری ذات ھاتھ پکڑنے والی ھے !!
ھم کو بھی وضو کر لینے دو،ھم نے بھی زیارت کرنی ھے
کچھ لـوگ ان بہتـی آنکھـوں کو ولیـوں کا ٹھکانہ کہتے ھیں ...............!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِاللہ سبحانہ وتعالیٰ کے عشق و محبت تک پہنچنے کیلئے بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ...
17/04/2022

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے عشق و محبت تک پہنچنے کیلئے بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اشعار میں بہت خوبصورت انداز تعلیم فرمایا ہے

پریم نگر وچ 9 دروازے 10واں صدر مقام
5 تھانے 4 تحصیلاں مرکز خاص و عام
6گورنر اس قلعے وچ حاکم 2 پہچان
24000ملازم رمزوں عارف کرن پچھان
ایہہ رمز حقیقی مخفی وچ ناطق قرآن
بلھے شاہ جیہڑا ایس دی رمز پچھانے
اوہنوں مرشد کامل جان۔۔۔۔۔۔۔!

1) پریم نگر میں نو دروازے ہیں پریم نگر اصل میں ہمارا یہ تن ہے جس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات سماتی ہے اور بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرمارہے ہیں اس اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حجرہ کے نو دورازے ہیں
دو آنکھیں
دو کان
ناک کے دو سوراخ
منہ
انسانی حاجت کے مقامات کے دو سوراخ
یہ نو سوراخ ہیں
اور

دسواں صدر مقام ہمارا قلب ہے جو کہ روح کا ایک اہم حصہ جس کے ذریعے سے ہی ہمیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تجلی کا نور ملتا ہے اور روح کے قلب کے ساتھ ہی جسم کا قلب صنوبری ہوتا ہے جس کو خون پمپ کرنے والا دل کہتے ہیں جب نور روح کے قلب پر پڑھ رہا ہو تو اس کا اثر قلب صنوبری ( دل ) پر بھی ہوتا ہے اور اس کا تعلق جسم کے تمام دروازوں سے ہے اس لیے تمام دورازے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور حرام کاری سے رک جاتے ہیں

سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی راز بیان فرمایا

اے تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیراں جھاتی ہو
نہ کر منت خواجہ خضر دی تیں اندر آب حیاتی ہو
شوق دا دیوا بال اندھیرے متاں لبھے وسط کھڑاتی ہو
مرن تھیں اگے مر رہے جنہاں حق دی رمز پچھاتی ہو

یہ ہمارا تن اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حجرہ ہے اور اس کے اندر صدر مقام تک پہچنے کیلئے سالک کو اپنے اندر اترنا ضروری ہوتا ہے سالک حق تمہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات تک پہچنے کیلئے خضر علیہ السلام کی ضرورت نہیں تیرا مرشد جو کہ تیرا آئینہ ہے اس تک پہنچ جا وہی تمہیں تمہارے اندر کی حیات ابدی سے آشنا کر دے گا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے قرب و وصال کی طلب اپنے اندر پیدا کر تاکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ بھی اپنی ذات کا راز تم پر آشکار کرے جن نے اپنے نفس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات کیلئے فقیروں کے صحبت میں رہ کر فنا کرلیا وہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ہمیشہ کیلئے پہچان جاتے ہیں

2) 5 تھانے ہمارے حواس خمسہ ہیں ظاہری و باطنی دونوں

ظاہری حواس خمسہ (باصرہ، سامعہ، لامسہ، ذائقہ، شامہ) کے فرائض تو ہمیں معلوم ہی ہیں۔ باصرہ کا کام دیکھنا ہے، سامعہ کا سننا، لامسہ کا فریضہ چھو کر کسی چیز کی کیفیت معلوم کرنا، ذائقہ کا چکھ کر، شامہ کا سونگھ کر…

باطنی حواس خمسہ ( واہمہ ، مصورہ، متخیلہ، حافظہ اور حس مشترک)
وہم کا کام تصور اور خیال کی مدد سے کوئی چیز تخلیق میں لے آئے وہم مصورہ اور متخیلہ یہ مل کر کام کر رہی ہوتی ہیں حافظہ میں عقل معاش اور عقل معاد آجاتی ہے جس میں عقل معاد وہ عقل ہے جس سے ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ تک پہنچتے ہیں اور حس مشترک جس کو آپ چھٹی حس یا وجدان بھی کہتے ہیں

چار 4 تحصیلاں جن سے روح کا یہ لباس تخلیق میں لایا گیا ہے ( آگ ، مٹی ، ہوا ، پانی )

حواس خمسہ چاہے ظاہری و باطنی ہوں جو اپنی ذات کو پہچان چکا ہوتا ہے وہ ان تمام حواس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ تک پہنچنے میں لگاتا ہے اور ان حواس کو حرام کاریوں سے روک دیتا ہے اور یہ چار تحصیلوں کی جو بات ہے اس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف چلنے والے اپنے تمام اجزاء پر مٹی کو فوقیت میں لاتے ہیں کیونکہ مٹی میں عاجزی ہے اور یہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات تک رسائی کیلئے بہت حد ضروری ہے

3) چھ گورنر ہیں اس تن کے ضلع روح کے
1- لطیفہ نفس
2- لطیفہ قلب
3- لطیفہ روح
4- لطیفہ سر
5- لطیفہ خفی
6- لطیفہ اخفی

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کاملین ان تمام کو مکمل روشن کر چکے ہوتے ہیں ان چھ گورنروں میں حاکم دو ہیں ایک لطیفہ نفس اور ایک لطیفہ قلب
لطیفہ نفس کا تعلق سکر ( قبض ، استدراج ) سے ہے
لطیفہ قلب کا تعلق صہو ( بسط ) سے ہے
جب قلب روح پر تجلیات کی وردات ہوتی رہتی ہے تو حاکمیت صہو بسط کی رہتی ہے اور انسان لطیفہ قلب کے نور سے انتہائی قرب کے معاملات میں رہتا ہے
جب قلب روح پر تجلیات کی وردات رکتی ہے تو حاکمیت لطیفہ نفس کے پاس چلی جاتی اور انسان قبض سکر استدراج میں چلا جاتا اور ایک انتہائی آزمائش والی کیفیت وارد ہو جاتی ہے

سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

" فقیر مستی میں بھی ہوشیار ہوتا ہے "

فقیر پر جیسی بھی کیفیت ہو وہ ہر وقت ہوشیار ہوتا ہے اور اپنے نفسانی حجابوں پر نگاہ رکھے ہوتا ہے

میں اِس حالتِ ہوش میں مست و بیخود
وہ مستی میں بھی ہوشیار، اللہ اللہ

4) 24,000 ملازم کی رمز دو اطراف میں بات کی گئی ہے کہ انسانی روح ایک دن میں چوبیس ہزار سانس لیتا ہے اور عارف کامل اپنے سانسوں کی اہمیت کو پہچانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہر وہ سانس جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذکر و فکر کے بنا گیا وہ مردہ ہے
سرکارِ دوعالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے

" انسان کی زندگی سانسوں میں لکھی ہوئی ہے "

سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اس پر تعلیم فرماتے ہیں

سینے وِچ مَقام ہے کَیندا سَانوں مُرشد گَل سَمجھائی ھو
اِیہو سَاہ جو آوے جاوے ہور نہیں شئے کائی ھو
اِس نوں اِسمُ الاعظَم آکھن ایہو سرِّ اِلٰہی ھو
اِیہو موت حَیاتی باھوؒ ایہو بھَیت الٰہی ھو

سینے میں مقام جس کا ہے وہ ہمیں مرشد کامل و مکمل نے سمجھا دیا ہے یہی سانس جو آ جا رہی ہے وہی سب کچھ ہے کیونکہ اس کا تعلق ہماری روح سے ہے اور روح کے مقام دل میں ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قرب و وصال حاصل ہوتا ہے اسی سانس کی حقیقت جو سمجھ گیا وہ اسم اعظم کو جان گیا ہے یہی راز اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے اور جو اس حقیقت کو جان گیا وہی اللہ سبحانہ کے راز کو پاگیا اور اس کا بھیدی بن گیا اور جو یہ راز پا جاتا ہے وہ دائمی حیات کو پا لیتا ہے

اس کو اگر دوسرے پیرائے میں دیکھیں تو 24000 نفس کے وہ مکروہ چالیں و فریب ہیں جو وہ راہ حق کے مسافر کے ساتھ ہر روز چلتا ہے یا نفس جو ہر روز نئے چوبیس ہزار حجابات اوڑھتا ہے ان سے عارف کامل جو اپنی ذات کی فنا سے مکمل پہچان کر چکا ہو وہی سمجھ سکتا ہے اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا ہے

5,6 ) بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ان اشعار میں فرمارہے ہیں یہ جو اوپر سب کچھ بیان کیا گیا ہے یہ تمام حقیقتیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ میں قرآن پاک میں بیان فرما دئیے ہیں اگر تمہیں کسی صاحب قرآن کے فیض یافتہ سے قرآن کا سمجھنے کا موقع ملے گا تو یہ تمام حقیقتیں تمہاری ذات پر بھی آشکار ہو جائیں گی جیسے اس فقیر و حقیر کو اپنے مرشد و کامل و مکمل کے در سے یہ تمام فہم و ادراک نصیب ہوا ہے اور اگر شعر میں بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرمارہے ہیں جس کو ان تمام رمزوں کی پہچان ہو اور وہ ان تمام اجزاء کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قربت کے رنگ میں رنگ چکے ہوں جو باعمل و اخلاص والے ہوں وہی اصل میں مرشد کامل و مکمل ہوتا ہے جس کا قال و حال ایک ہی مقام پر ہو اگر کوئی ایسا صاحب قرآن کا فیض یافتہ مرشد تمہیں نصیب ہوگیا تو تم نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قرب خاص پا لیا ہے مگر ایسے مرشد کامل و مکمل بہت نایاب ہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر راہ حق کے مسافر کو مرشد کامل و مکمل رہبر نصیب فرمائیں آمین ثم آمین یارب العالمین.
Copy paste.

09/04/2022

چودہ طبق کیا ہیں؟؟
وجود عنصری کے لئے سات طبقات ارضی ہیں جو نفسانی علم سے روشن ہیں ،وہ یہ ہیں
۱۔غصہ
۲۔حسد
۳۔تکبر
۴۔بخل
۵۔کینہ
۶۔شہوت
۷۔حرص و ہوا
بسلسله چوده طبق!!!
وجود ملکی کے لئے سات طبقات سماوی ہیں جوروحانی علم سے منور ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں
۱۔محبت
۲۔حلم
۳۔صبر
۴۔شکر
۵۔توکل
۶۔رضا
۔حیا۔
.چودہ طبق دلے دے اندر تنبوں وانگن تانے ھو
وچے بھیڑے وچے چنگے وچے ونج مہانے ھو
چودہ #طبق!!
پس سلطان باہو عروج آدمیت کے سات طبقات بتاتے ہیں جو سراسر اخلاق ہیں اور اخلاق تصوف کا سب سے اونچا درجہ ہے،نفس بُری صفات کا مجموعہ ہےاسے طبیعت بھی کہتے ہیں اور طبیعت کو شریعت کے تابع کرنے کا نام ادب ہے اور الدین کل ادبٍ،اور دین سارا کا سارا ادب ہے ،ہر مقام اور ہر جگہ کے الگ آداب ہیں ،سات مدارج نزول کے ہیں یہ بُری صفات ہیں انھیں چھوڑنے سے عروج شروع هوتا ہے اور سات مدارج عروج کے ہیں جن کو اختیار کرنے سے روح کی ترقی ہوتی ہے اور انسان کا مقام فرشتوں سے بلند تر ہو جاتا ہے
عروج آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں ۔
یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے۔

16/12/2021

حضرت سلطان باھو نے اپنی کتاب محک الفقر میں
یونان کی پہاڑیوں میں ایک عجیب و غریب
قِسم کا پرندہ قفس بارے زکر کیا ھے

آج کے اس سٹلائٹ دور میں اس پرندے ققنس FirePhonex بارے بہت ساری معلومات منظر عام پر آ رہی ہیں

یہ پرندہ نہ نَر ھوتا ھے نہ مادہ
اور سارے جنگل میں ایک ہی ھوتا ھے

اس کی چونچ بہت لمبی ھوتی ھے
جس میں ھزاروں سوراخ ھوتے ہیں

اس کی آواز ایسی رسیلی ھوتی ھے
کہ جب اپنی مستی میں مست ھو کر راگ الاپتا ھے

تو جنگل کے تمام پرندے اس کے گردا گرد جُھرمٹ بنا لیتے ہیں تمام پرندوں پر وجدانی حالت طاری ھو جاتی ھے

بہت سے پرندے اپنی جان سے ھاتھ دھو بیٹھتے ہیں
اس کا یہ حال روز ھوتا ھے

جب کبھی جوش میں آکر گانے لگتا ھے
اس کی آواز سُنتے ہی جنگل میں کہرام مچ جاتا ھے

جہاں جہاں کسی پرندے تک اس کی آواز پہنچتی ھے
پھڑ پھڑاتا ھوا اس کی خدمت میں حاضر ھو کر

بسمل کی طرح لوٹنے لگتا ھے
اس کی مجلس میں اکثر و بیشتر عموماََ ہر قسم کا پرندہ حاضر ھوتا ھے

ایک نے کہا
کہ ہم نے وہاں کبھی کوّے اور گدھ کو نہیں دیکھا

پھر جب اس نے اس دنیا سے جانا ھوتا ھے
تو جنگل کی خوشبودار لکڑیوں کو اکٹھا کرتا ھے

پھر اس کے بیچ میں بیٹھ جاتا ھے
اور نہایت خوش الحافی سے رنگا رنگ کے راگ الاپتا ھے

اور اس کی چونچ میں جوش کے شُعلے بھڑکنے لگتے ہیں جس سے لکڑیوں کو آگ لگ جاتی ھے

اور وہ اس میں جل کر راکھ ھو جاتا ھے
اُس کی جلی ھوئی راکھ ایک انڈے کی شکل اختیار کر لیتی ھے

جس میں سے ایک بچہ بن کر اُڑ جاتا ھے
گویا قُقنس کی جگہ قُقنس آجاتا ھے

ققنس
ایک پرندہ ہے اس نے کسی درویش سے اللہ ھو سنا اور اس نے بھی اللہ ھو شروع کردیا حتیٰ کہ ذکر کی گرمی سے اس کے جسم میں آگ لگ گئی راکھ سے پھر انڈا بنا پھر بچہ بنا اور بڑا ہوکر اس نے پھر اللہ ھو کہنا شروع کردیا اور پھر جل گیا ۔۔
یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے
اس اسم کو اللہ نے پہاڑوں پر اتارنا چاہا لیکن انہوں نے انکار کردیا لیکن انسان کے دل نے اسے قبول کیا جن میں محمد ﷺ کی گونج اور محبت تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا اسم مبارک جمالی ہے اور اسے کنٹرول میں رکھتا ہے۔۔
رئیستہ الخدامِ اعظم سلطان ثمینہ شاہین رفیقی قادری سرور

حدیث نبوی ہے . الللہ تعالی کےذکرسےبڑھ کرکوئی صدقہ نہیں ہے.ذکر ایسا ہوناجیسا کہ .ققنس کرتا ہے .ققنس ایک پرندا ہے.جولکڑیاں چن کرانہیں جمع کرتاہے.اور ان لکڑیوں سے ایک قلعہ بنا کر اس کے اندر بیٹھ جاتا ہے.اور الللہ تعالی کے ذکر ھو میں مصروف ہو جاتا ہے.ذکر کے شروع میں وہ دم کے ساتھ ھو کا ذکر کرتا ہے.پہلے پہل اس کے وجود میں ذکر الللہ ذکر ھو کی گرمی پیدا ہوتی ہے. پھر اس میں ایسی آگ نکلتی ہے.جو اس ایندھن کو جلا دیتی ہے.اور وہ خود بھی اس آگ میں جل کر خاکستر ہو جاتا ہے.بعدازاں جب باران رحمت اس خاک پر برستی ہے.تو اس خاکستر سے ایک انڈا پیدا ہوجاتاہے.اور اس انڈاہ سے ایک بچہ نکل آتا ہے.اور جب وہ بچہ اپنے باپ کی عمر کو پہنچ جاتا ہے.تو وہ بھی اپنے باپ کی مثل ذکر ھو کرکے جل کر خاکستر ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے. مقام فقر بھی ہردم مرتا اور زندا ہوتا رہتا ہے.

اصل میں مرشد ہی مرید کو ڈھونڈتا ہے۔مرید کی کیا مجال۔ بظاہر لگتا ہے کہ انسان خاصی تنگ و دو کے بعد کسی در کا ہوا مگر یہ نظ...
27/07/2021

اصل میں مرشد ہی مرید کو ڈھونڈتا ہے۔مرید کی کیا مجال۔ بظاہر لگتا ہے کہ انسان خاصی تنگ و دو کے بعد کسی در کا ہوا مگر یہ نظر کا دھوکہ ہے۔ہر مرشد اپنے مرید خود چنتا ہے ۔ کبھی دیکھا ہے غلام نے مالک کو چنا ہو؟ ہمیشہ مالک ہے غلام پسند کرتا ہے۔ مرید اسی در پہ آ کہ سکون پاتا ہے جس اللہ والے کی نظر نے اسکو چن لیا ہو۔۔۔ 💜

Address

Gujrat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tasawoof posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Tasawoof:

Share

Category