Fath e Haq

Fath e Haq Fath-e-haq is a leading news Paper of Pakistan. Fath-e-Haq brings the breaking and latest news of Pakistan, world, business, technology, sports, entertainment.

04/09/2025
غیر ملکی بادشاہوں کا پاکستان کے لیے تاثرات سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے لیے تاثرات ان کے پاکستان کی عوام کی آنکھ...
08/05/2023

غیر ملکی بادشاہوں کا پاکستان کے لیے تاثرات سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے لیے تاثرات ان کے پاکستان کی عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے

24/03/2023

یہ ملک پاکستان کا خوبصورت صوبہ پنجاب میں ثالہ باری ہوئی ہے جس سے گندم کی فصل کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے غریب کسان جس نے پوری محنت کے ساتھ اس گندم کی فصل کو تیار ہونے کی انتظار کی لیکن اللہ سونے کی طرف سے غم و غصے کا اظہار ملا اس سے غریب کسان کا بہت بڑا نقصان ہوا اس کے ساتھ ساتھ ملک پاکستان کا بھی نقصان ہوا آج کے حکمرانوں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ اللہ کے عذاب سے بچا جا سکے چیف ایڈیٹر سید دلاور حسین شاہ

15/03/2023

سابق وزیراعظم عمران خان زمان پارک لاہور میں گرفتار ہونے سے پہلے اپنی قوم کے لئے اہم پیغام

معروف لوک گلوکار پٹھانے خاں کی آج برسی ہے "💝=========💖صدارتی ایوارڈ یافتہ لوک گلوکار پٹھانے خان کا اصل نام غلام محمد تھا...
09/03/2023

معروف لوک گلوکار پٹھانے خاں کی آج برسی ہے "
💝=========💖

صدارتی ایوارڈ یافتہ لوک گلوکار پٹھانے خان کا اصل نام غلام محمد تھا۔پٹھانے خان سنہ 1926کو تمبو والی بستی کوٹ ادو میں پیدا ہوئے۔
ابتدا میں وہ نعت اور حمد پڑھا کرتے تھے۔ 16 سال کی عمر میں انہوں نے ملتان کے مشہور گلوکار استاد امیر خان سے موسیقی سیکھنی شروع کی۔
استاد امیر خان نے انہیں لے اور تال سے واقف کروایا۔
پٹھانے خان 10 سال تک مسلسل 12 گھنٹے روزانہ ریاض کرتے رہے اور پھر انہوں نے گائوں گائوں جاکرکافیاں گانے کا سلسلہ شروع کیا۔

رفتہ رفتہ وہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگے اور یوں ان کی شہرت پورے ملک میں پہنچ گئی۔
انہیں غزل، کافی، لوک گیتوں پر بے حد کمال حاصل تھا، پٹھانے خان نے کئی دہائیوں تک اپنی سریلی آواز کا جادو جگایا اور خواجہ غلام فرید ، بابا بلھے شاہ ، مہر علی شاہ سمیت کئی شاعروں کے عارفانہ کلام کو گایا، جس پر حکومت نے اس نامور گلوکار کو 1979 میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا۔

پٹھانے خان نے 79 مختلف ایوارڈز حاصل کیے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی لوک گلوکار کی دل میں اترنے والی آواز کے معترف تھے۔ پٹھانے خان کی آواز میں درد کے ساتھ بے پناہ کشش بھی تھی اور اسی لیے ان کا عارفانہ کلام سنتے ہی سامعین پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔

ان کے مشہور صوفیانہ کلام میں میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں، الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہُو ان کی دنیا بھر میں شہرت کا باعث بنا۔

اس کے علاوہ جندڑی لئی تاں یار سجن، کدی موڑ مہاراں تے ول آوطناں، آ مل آج کل سوہنا سائیں، وجے اللہ والی تار، کیا حال سناواں، میرا رنجھنا میں کوئی ہور، اور دیگر ان کے مشہور گیتوں میں شامل ہیں۔

پٹھانے خان 74سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد سنہ 2000میں انتقال کرگئے ۔ان کے فن کے سحر میں مبتلا مداحوں نے کوٹ ادو کے تاریخی بازار کو ان کے نام سے منسوب کر دیا اور اب وہ پٹھانے خان بازار کہلاتا ہے۔

ضیاء الحق دور کی ایک محفل میں کسی شخص نے پٹھانے خان سے اس وقت سوال کیا جب وہ اپنی آواز کا جادو جگا رہے تھے کہ ’’موسیقی حلال ہے یا حرام‘‘ پٹھانے خان نے ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیا ’’سائیں اے کم تے عالماں دا اے جو ایں سوال دا جواب ڈیون میں ہک ان پڑھ جیاں بندہ آں میکوں ایو پتہ اے کہ اے روح دی غذا اے‘‘ ھن کھاون آلیاں کو پتہ کہ او پنڑے آپ کو کیا سمجھ تے ایں غذا دا لطف چیندن‘‘کوٹ ادو جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار کے جواب نے سوال کرنے والے کو لاجواب کردیا۔

1920 میں کوٹ ادو کی بستی تابو والا (سناواں) میں پیدا ہونے والے اس بچے کے والد کی تین شادیاں تھیں جس کے باعث والدہ انہیں لے کر میکے آ گئیں نانا اور ماموں کی زیرسرپرستی ان کی زندگی پروان چڑھنے لگی بچپن سے ہی سُرسنگیت کی دولت سے مالا مال تھے۔ سکول لائف میں جب دوستوں کے درمیان بیٹھ کر سُر کے تار چھیڑتے تو محفل جم جاتی۔ انتہائی کسمپرسی اورغربت کی حالت میں رفتہ رفتہ فن کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ نجی محفلوں میں خواجہ فرید کا کلام گاتے گاتے ریڈیو پاکستان ملتان تک جا پہنچے اور 1970 میں ’’میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں‘‘ ریکارڈ کرائی اس کافی کے نشر ہونے سے وسیب میں تہلکا مچ گیا ہر سو پٹھانے خان کے چرچے ہونے لگے۔ ان کی گائی ہوئی کافیوں میں روحانیت اور علاقائی ثقافت کے آثار نمایاں ہوتے تھے ’’چنیڑاں ایں چھڑیندا یار‘‘ جیسی کافی ان کے فن کمال کاثبوت ہے۔ وہ حساس گلوکار تھے۔ اپنے منفرد مسائل کی وجہ سے محفل پر جادو طاری کر دیتے۔ جنوبی پنجاب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پی ٹی وی پر انہیں پرفارمنس کا موقع مل گیا۔ انہیں متعارف کرانے کا سہرا پروڈیوسر مشتاق صوفی کے سر ہے۔ پی ٹی وی پر پرفارمنس کا مظاہرہ کر کے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ پٹھانے خان عارفانہ کلام عشق میں ڈوب کر گائے کہ سننے والا سر دھنتا رہ جاتا۔

ان کی سادگی کا اندازہ ٹی وی کے ایک پروگرام سے ملاحظہ کیجئے۔

جب کمپیئر نے ان سے سوال کیا کہ سنائیں زندگی کا سفر کیسے گزرا؟ تو جواب میں کہنے لگے ’’کوٹ ادو توں رات بس تے بیٹھے تے اوں ساکوں دھکے دھوڑے دیندے دھمی بدامی باغ آن سٹے پہلے سوچم ویگن تے باہنواں وت آکھم دیر تھی ویسی ولا اتھوں رکشہ گدے تے ٹی وٹی سٹیشن آن پہنچا‘‘

میزبان نے ہنستے ہوئے پھر سوال کیا میرا کہنے کا مطلب ہے کہ آپ نے موسیقی کا سفر کیسے طے کیا؟

پٹھانے خان نے پھر اپنی سادگی اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ’’او وی اینویں دھکے دھوڑے کھاندے گزردی پئی اے‘

ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق پٹھانے خان کے دلدادہ تھے۔ عارفانہ کلام سننے کے لئے انہیں خصوصی طور پر اسلام آباد مدعو کیا جاتا۔ پٹھانے خان کافی اور صوفیانہ کلام گانے میں ماہر تھے۔ اس لئے ان کی شہرت کی دھوم سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ ملک غلام مصطفیٰ کھر انہیں اپنے ہمراہ اسلام آباد لے جاتے جہاں ذوالفقار بھٹو گھنٹوں ان سے عارفانہ کلام سنتے رہتے۔ ساری عمر کسمپرسی اور غربت میں گزار دی لیکن کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا۔ آفر ہونے کے باوجود بھٹو سے کچھ نہ مانگا بس ایک ہی جواب دیتے ’’ اﷲ بہوں ڈیوے تے صحت دی بادشاہی ہوے‘‘ اسی طرح ضیاء الحق نے متاثر ہو کر دو ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کیا اور صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا۔ کہا جاتا ہے ذوالفقار بھٹو نے انہیں اسلام آباد میں پلاٹ اور ٹیکسٹائل ملز کا پرمٹ بھی جاری کیا تھا لیکن مرحوم تک یہ نوازشات نہ پہنچ سکیں دیگر بااثر افراد اس سے مستفید ہوئے تاہم انہیں فرانس کے دورے پر ضرور بھجوایا گیا وہاں بھی انہوں نے خوب رنگ جمائے اس کے بعد فرانس میں جانے کی دعوت ملنے کے باوجود کوٹ ادو تک ہی محدود رہے۔ موسیقی کی نجی کمپنیوں نے ان کی کافیوں اور عارفانہ کلام کی کیسٹیں ریکارڈ کرکے خوب نوٹ کمائے لیکن اس گلوکار کی قسمت میں دھکے دھوڑے ہی رہے۔

والدہ اور جواں بیٹے کی وفات سے ان کی کمر ٹوٹ گئی لیکن خود داری کا دامن ہاتھ نہیں چھوڑا وفات سے ایک روز قبل وہ لاہور پروگرام کرکے لوٹے تو رات کو اگلے جہاں روانہ ہو گئے80 سال کی عمر میں فن موسیقی کا یہ سورج ڈوبتے ڈوبتے اپنے مداحوں کیلئے خوشگوار یادیں چھوڑ گیا۔فن موسیقی کے دلدادہ لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے اس عظیم فنکار کے گھر میں فاقے بسیرا کئے رہتے۔ مناسب خوراک کی عدم دستیابی سے صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی۔ ایک مرتبہ واپڈا والوں نے بجلی کا بھاری بل بھیج دیا۔ ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے گھرکا میٹر اتار لیا گیا موصوف اپنا طبلہ اور ہارمونیم اٹھا کر واپڈا کے دفتر جا پہنچے اور کہنے لگے میرے گھر میں کوئی فیکٹری نہیں ہے صرف دو بلب جلتے ہیں وہ بھی رات کو یہ طبلہ اور ہارمونیم میرا کل اثاثہ ہے انہیں فروخت کرکے بھی بجلی کا بل ادا کرنا مشکل ہے۔ مجھ پر رحم کیجئے حضور‘ لیکن ایس ڈی او ٹس سے مس نہ ہوا۔ لہٰذا بااثر مداح کی سفارش پر کئی روز بعد بجلی بحال ہو سکی۔ دوستوں کی محفل میں انہوں نے بتایا کہ میں مٹھن کوٹ میں خواجہ غلام فریدؒ کے عرس مبارک میں بن بلائے پہنچ گیا لیکن مجھے خواجہ فرید کا کلام سنانے کی اجازت نہ ملی عرس میں موجود ایک مخدوم کی سفارش پر منتظمین نے مجھے گانے کی اجازت دی پھرکیا تھا ساری رات میں گاتا رہا اور لوگ سنتے رہے مرحوم نے اپنی زندگی میں بہت سے اعزازات اور ایوارڈ حاصل کئے لیکن یہ تمغے اس کے گھر کے مسائل دور نہ کر سکے۔ پٹھانے خان مرحوم کا فرزند اقبال پٹھانے خان‘ بھانجا اشرف بھٹی اور شاگرد محمد نواز بھٹہ نے موسیقی کے دنیا میں ان کا نام زندہ رکھا ہوا ہے۔۔!!!!
چیف ایڈیر سیددلاور حسین شاہ

اپنے اپنے علاقے کے ٹائم ٹیبل کے مطابق روزہ کا اہتمام کریں دنیا کے تمام مسلمان کو توفیق  ایمان کے مطابق اللہ سونا اور طاق...
03/03/2023

اپنے اپنے علاقے کے ٹائم ٹیبل کے مطابق روزہ کا اہتمام کریں دنیا کے تمام مسلمان کو توفیق ایمان کے مطابق اللہ سونا اور طاقت دے اور تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک کے روزہ رکھنے کی توفیق عطا کرے دعاگو چیف آڈیٹر سید دلاور حسین شاہ فتح حق نیوز

Address

Kotli Bhagwan Gujrat
Gujrat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fath e Haq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Fath e Haq:

Share