MU. Mirza Uzair

MU. Mirza Uzair A Poet

06/03/2026

یہ جہاں مال و زر کا میلہ ہے
اے خدا کیوں یہاں دھکیلا ہے

تو نے دینا ہے سب کو رزق تو پھر
یہ کمانے کا کیا جھمیلا ہے

میری باتیں نہیں اداس فقط
میرا دل بھی بہت اکیلا ہے

ہار پر اس لئے ملال نہیں
میں نے ہر کھیل دل سے کھیلا ہے

ورنہ کیا ہے جو میرے پاس نہیں
میں ہوں تنہا کہ تو اکیلا ہے

ایک تیری نظر میں آنے کو
میں نے ہر اک نظر کو جھیلا ہے

مرزا عزیر ( ابو بحر )

06/03/2026

گھر میں رہو گلی میں تماشا نہیں کرو
اپنا ہی پیٹ آپ ہی ننگا نہیں کرو

میں جانتا ہوں عہدِ وفا ٹوٹنے کا غم
دعوی نہیں کرو کوئی وعدہ نہیں کرو

غصہ ہی کر نہ جائیں بڑے لوگ ہیں عزیر
بے وجہ ان سے قرب بڑھایا نہیں کرو

ٹالی نہیں جو میں نے کبھی بات آپ کی
پھر روٹھنے کا کھیل رچایا نہیں کرو

لینا ہے آخرت میں اگر تم نے بھی حساب
پھر ہم پہ اپنا رزق اتارا نہیں کرو

تھپڑ لگا لو ہم کو کریں گے نہ اُف تلک
لفظوں کی تیغ ہم پہ چلایا نہیں کرو

آتے نہیں ہیں لوٹ کے اڑ جائیں ایک بار
ان پنچھیوں کو پیار سے پالا نہیں کرو

جیسے ہو ویسا ہی کرو تسلیم خود کو بحؔر
جو ہو نہیں وہ بن کے دکھایا نہیں کرو

مرزا عزیر ( ابو بحر )

06/03/2026

آیا ہے رحمتیں لئے رمضان ، دیکھ لو
پھیلا ہوا ہے چار سو ایمان ، دیکھ لو

بخشش کے آبشار سے دامن بھرے ہوئے
لوٹا ہے برکتیں لئے مہمان ، دیکھ لو

لغزش گناہ میں ہمیں بہکایا سال بھر
اب قید میں پڑا ہے وہ شیطان ، دیکھ لو

رونق لگی ہوئی ہے مساجد میں رات دن
رب سے وفا نبھاتا مسلمان ، دیکھ لو

روزہ انا کی مات ہے روزہ شکیبِ دل
روزہ جزا کا نام ہے قرآن دیکھ لو

( مرزا عزیر ( ابو بحر )

06/03/2026

نہ دولت اور نہ شہرت دیکھتا ہوں
فقط میں خوبصورت دیکھتا ہوں

مجھے رکھا غریبی میں خدا نے
تجھے رب کی سخاوت دیکھتا ہوں

ترا بھی بے وفا ہونا مری جاں
زماں قربِ قیامت دیکھتا ہوں

ترا رہنا مری شاموں میں زندہ
پُرانی ایک عادت دیکھتا ہوں

میں عزت اس لئے دیتا ہوں سب کو
میں لوگوں کی ریاضت دیکھتا ہوں

مرزا عزیر ( ابو بحر )

06/03/2026

ہر غمی ہر خوشی کا حصہ ہو
جیسے میری کمی کا حصہ ہو

ہو مبارک تمھیں جنم دن کی
تم مری زندگی کا حصہ ہو

میں اسے کیوں نہ اے خدا مانگوں
جو تری بندگی کا حصہ ہو

تم پہ لکھتا ہوں شاعری سو تم
رات ، دن ڈائری کا حصہ ہو

میں اکیلا سبب نہیں ہوں کہ تم
میری چشمِ نمی کا حصہ ہو

سلسلہ وار لوگ آئے گے
تم یہاں بس ابھی کا حصہ ہو

مرزا عزیر ( ابو بحر )

23/12/2025

میں اس سے دور رہتا ہوں کہ عادت ہی نہ ہو جائے
وہ جتنا بے تکّلف ہے محبت ہی نہ ہو جائے
مرزا عزیر ( ابو بحر )

چھپ  کے  دنیا  سے  محبت  کو  نبھانا  کیساجو   نہ   سہہ   پائے   اسے   زخم   لگانا  کیساتو  کسی  اور  کی  الفت  میں  ہے  ...
08/12/2025

چھپ کے دنیا سے محبت کو نبھانا کیسا
جو نہ سہہ پائے اسے زخم لگانا کیسا

تو کسی اور کی الفت میں ہے مائل شاید
پھر ترے ہجر میں یوں جان گنوانا کیسا

رہ گئے ایسے خرابے میں جو زندہ ان کو
اے خدا روزِ قیامت سے ڈرانا کیسا

کیسی امیدِ محبت ہے کہ انکار کے بعد
تیرا ہر شام مرے کوچے میں آنا کیسا

بات برگر سے نہیں آج تو ٹلنے والی
عادتا رات گئے گھر کو ہے آنا کیسا

جس میں بہرے ہوں سپاہی، ہوں فصیلیں اندھی
ایسے زندان میں فریاد لگانا کیسا

تو بھی شامل تھا مرے ساتھ خطاؤں میں بحر
اب فقط مجھ کو گنہگار بتانا کیسا

مرزا عزیر ( ابو بحر)

رقابت چھوڑ دی میں نےمحبت چھوڑ دی میں نےہو جس میں تو ضروری ، وہضرورت  چھوڑ  دی میں  نےکہ جب سے گھر سے نکلا ہوںنزاکت   چھو...
30/11/2025

رقابت چھوڑ دی میں نے
محبت چھوڑ دی میں نے

ہو جس میں تو ضروری ، وہ
ضرورت چھوڑ دی میں نے

کہ جب سے گھر سے نکلا ہوں
نزاکت چھوڑ دی میں نے

بتاتا ہوں میں ساقی کو
یہ عادت چھوڑ دی میں نے

برا جب سے کہا اس نے
شرافت چھوڑ دی میں نے

پھر اک دن اُس کو دیکھا اور
عبادت چھوڑ دی میں نے

نبھانے سے وہ قاصر تھے
صراحت چھوڑ دی میں نے

ملا جھوٹوں کو جب رتبہ
صحافت چھوڑ دی میں نے

اسے جب مل گئے رہبر
حفاظت چھوڑ دی میں نے

مجھے اس سے گلہ ہے پر
شکایت چھوڑ دی میں نے

حسیں چہروں کی آخر بحؔر
زیارت چھوڑ دی میں نے

شاعر : مرزا عزیر ( ابو بحر )

یوں منانا تمھیں ہر بار مری شان نہیں عشق کیا کارِ ہوس بھی کوئی آسان نہیںایسا مصروف زمانہ ہے کہ ملنے کے لئےاب جنازوں کے عل...
26/11/2025

یوں منانا تمھیں ہر بار مری شان نہیں
عشق کیا کارِ ہوس بھی کوئی آسان نہیں

ایسا مصروف زمانہ ہے کہ ملنے کے لئے
اب جنازوں کے علاوہ کوئی امکان نہیں

تم مجھے پیار میں اندھا کرو کافر نہ کرو
جان دے دوں گا تمھارے لئے ، ایمان نہیں

غیر تو غیر ہیں کیا ان سے توقع رکھنی
ہم کو اپنوں پہ مری جان کوئی مان نہیں

جیسے ماں باپ کی دیکھی ہے لڑائی تا عمر
اب تو شادی کا بھی دل میں مرے ارمان نہیں

تُو کہ اوروں کے حوالے سے ہے منسوب شُدہ
تیری اپنی ابھی کوئی ، کہیں پہچان نہیں

( مرزا عزیر( ابو بحر )

صحرا کی تپتی ریت پر وہ بے ڈگر آوارگیکچھ گمشدہ سا میں کہی کچھ بے خبر آوارگیتجھ کو تو مل ہی جائے گا ہمدم ترے انداز کاحصّے ...
23/11/2025

صحرا کی تپتی ریت پر وہ بے ڈگر آوارگی
کچھ گمشدہ سا میں کہی کچھ بے خبر آوارگی

تجھ کو تو مل ہی جائے گا ہمدم ترے انداز کا
حصّے میں میرے آئے گی پھر عمر بھر آوارگی

ہیں پشت پر بے چینیاں، قدموں میں ہے بیچارگی
ہے کارواں تنہائیاں ، رختِ سفر آوارگی

مانگا کسی نے ہمسفر ، مانگی کسی نے منزلیں
ہم نے خدا سے کچھ نہیں مانگا مگر آوارگی

شب دیر گھر آیا مجھے چپّل سے پیٹا باپ نے
ماں نے کہا اچھا ہُوا ، تُو اور کر آوارگی

بے رخت سی، بیزار سی، بھٹکی فضائے دشت میں
ہم کو ملی ، ہم نے بنا لی ہمسفر آوارگی

جب نیند کی آغوش میں ہوتا ہے سارا شہر، بحؔر
آتی ہے دو آنکھیں لئے میرے نگر آوارگی

( شاعر : مرزا عزیر ( ابو بحر )

Address

VPO Whando
Gujranwala
6889

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MU. Mirza Uzair posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category