فضول بکواس

فضول بکواس ہم آپکے لئے لائے ہیں ایک ایسا فورم جہاں آپ جی بھر کے ہر قسم کی بکواس کرسکتے ہیں

24/05/2026

حکومت کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز - DISCOs) کی نجکاری (پرائیوٹائزیشن) کا فیصلہ معاشی اصلاحات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس عمل کے ملکی معیشت اور عام عوام پر انتہائی سنگین اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نجکاری کا سب سے پہلا اور بڑا نقصان بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہے۔ نجی شعبہ ہمیشہ منافع کمانے کے لیے کام کرتا ہے، اس لیے وہ غریب اور متوسط طبقے کو سستی بجلی فراہم کرنے کے بجائے اپنے کاروباری مفادات کو ترجیح دے گا۔ حکومت جو سبسڈیز دے کر غریب عوام کو ریلیف فراہم کرتی ہے، نجکاری کے بعد ان کا خاتمہ ہو جائے گا جس سے عام شہریوں کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔
دوسرا بڑا نقصان بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ نجی مالکان اپنے اخراجات کم کرنے اور منافع بڑھانے کے لیے اداروں میں 'ڈاؤن سائزنگ' کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مستقل اور عارضی ملازمین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور ملک میں بے روزگاری اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔
مزید برآں، نجکاری سے سٹریٹجک اور قومی سلامتی کے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ بجلی کی فراہمی ایک بنیادی قومی ضرورت اور سٹریٹجک اثاثہ ہے۔ جب یہ شعبہ مکمل طور پر نجی یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا، تو حکومت کا توانائی کے شعبے پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ نجی کمپنیاں دور دراز اور دیہی علاقوں میں، جہاں سے منافع کم ملتا ہے، بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گی، جس سے علاقائی تفریق بڑھے گی۔ ماضی میں کراچی کی کے-الیکٹرک (K-Electric) کی نجکاری ہمارے سامنے ایک مثال ہے، جہاں نجکاری کے باوجود لوڈ شیڈنگ اور زائد بلنگ کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔
ڈسکوز کی نجکاری ملکی معیشت کو وقتی فائدہ تو پہنچا سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرانے، روزگار چھیننے اور ملکی توانائی کے نظام کو چند سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ثابت ہوگی۔

22/03/2026

دنیا حالت جنگ میں ہے اور گوجرانولہ حالت روٹی میں ہے☺️☺️☺️

وہ سوالات جو آپ کو اپنی AI سے پوچھنے چاہئیں:امریکی ڈالر کے نوٹ پر مصری اہرام کیا کر رہا ہے؟56 ممالک نے انٹارکٹکا میں داخ...
07/02/2026

وہ سوالات جو آپ کو اپنی AI سے پوچھنے چاہئیں:
امریکی ڈالر کے نوٹ پر مصری اہرام کیا کر رہا ہے؟
56 ممالک نے انٹارکٹکا میں داخل نہ ہونے اور خطرہ مول نہ لینے کا معاہدہ کیوں کیا؟
ہوائی جہاز انٹارکٹکا کے اوپر سے پرواز کیوں نہیں کرتے؟
ناسا نے چاند پر اترنے کی تصاویر—جو انسانیت کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک تھیں—کیسے “کھو” دیں؟
اگر نیل آرمسٹرانگ چاند پر چلنے والے پہلے انسان تھے، تو کیمرہ کس نے پکڑا؟
ہم چاند پر دوبارہ کیوں نہیں گئے؟
اگر بندر ارتقا کے ذریعے انسان بنے، تو آج بھی بندر کیوں موجود ہیں؟
ہماری 95٪ ڈی این اے کو “جنک” (فضول) کیوں کہا جاتا ہے؟
یہ فیصلہ کس نے کیا کہ یہ واقعی “کچرا” ہے؟
اتنی بڑی، متوازن، باریک تفصیل والی، مقدس اور جیومیٹری کے اصولوں پر مبنی عمارتیں
جیسے گرجا گھر (Cathedrals) اور پارلیمانی عمارتیں
ان لوگوں نے کیسے بنائیں جو لکڑی کی جھونپڑیوں میں رہتے تھے،
گھوڑا گاڑی استعمال کرتے تھے،
اور جن کے پاس نہ مشینیں تھیں نہ لیزر؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ کولمبس سے پہلے کی ملتی جلتی طرزِ تعمیر

دیوقامت انسانوں کی باقیات اور تصاویر کیوں ملیں؟
اور مختلف قدیم صحیفوں میں، بشمول بائبل،
دیو ہیکل انسانوں کا ذکر کیوں ہے؟

قدیم مصری فن میں جبڑوں (jaws) کی تصاویر کیوں دکھائی دیتی ہیں؟
اور کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پائنل گلینڈ بھی جبڑوں جیسی دکھتی ہے؟

موسیقی اور تفریحی صنعت میں
اتنی واضح شیطانی علامتیں کیوں نظر آتی ہیں؟
زیادہ تر ویڈیو گیمز قتل و غارت کے گرد ہی کیوں گھومتے ہیں؟
فلمیں اور کارٹون، جیسے دی سمپسنز،
بعض ثقافتی واقعات کی
اتنی درست پیش گوئی کیسے کر لیتے ہیں؟
جنگلات کی آگ میں گاڑیاں پگھل جاتی ہیں
مگر درخت سلامت کیوں رہتے ہیں؟
قومی قرضہ کیا ہے؟
اگر قرض لینے والا ہے تو قرض دینے والا بھی ہوگا—
وہ کون ہے؟
ٹیکس بڑھنے کے باوجود
نام نہاد “قومی قرضہ” کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟
ٹیکس دہندگان کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟
شراب اور تمباکو سے ہونے والی زہر خورانی کو
“معمول” کیوں سمجھا جاتا ہے
اور صرف “پینا” اور “سگریٹ نوشی” کیوں کہا جاتا ہے؟
تقریباً ہر فلم اور ٹی وی شو میں
شراب اور تمباکو کیوں دکھائے جاتے ہیں؟
دنیا بھر کے نیوز اینکرز،
مختلف چینلز پر،
ایک ہی اسکرپٹ لفظ بہ لفظ کیوں دہراتے ہیں؟
اگر ہم پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ اور باخبر ہیں،
تو پھر موٹاپا، کینسر، دل کے امراض
اور اس کے ساتھ ڈپریشن کی شرحیں
تاریخ کی بلند ترین سطح پر کیوں ہیں؟

کارخانے کے منیجر نے دیکھا کہ ایک نوجوان دیوار کے ساتھ پیٹھ لگائے مزے سے فارغ بیٹھا ہے۔۔تو وہ آہستگی سے اس کے پاس گیا اور...
06/02/2026

کارخانے کے منیجر نے دیکھا کہ ایک نوجوان دیوار کے ساتھ پیٹھ لگائے مزے سے فارغ بیٹھا ہے۔۔
تو وہ آہستگی سے اس کے پاس گیا اور نہایت ہی تحمل کے ساتھ اس سے پوچھا؛ تمہاری کتنی تنخواہ ہے؟
نوجوان ایک دھیمے طرز عمل والی بردبار شخصیت تھا، اس ذاتی نوعیت کے سوال سے حیران تو ہوا مگر منیجر کو یہ جواب دیتے ہوئے کہ اس کی تنخواہ تقریباً پندرہ ہزار ماہانہ ہے بولا؛ مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں جناب والا؟
منیجر نے نوجوان کی بات کو درخور اعتناء نہ جانتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنی جیب سے اپنا پرس نکال کر،
اس میں سے پندرہ ہزار گن کر علیحدہ کیئے اور پھر یہ پیسے نوجوان کی طرف (حساب چکتا کرنے کیلئے) بڑھاتے ہوئے کہا؛ میں لوگوں کو تنخواہ اس لئے دیتا ہوں کہ وہ میرے کارخانے میں آ کر ایمانداری سے کام کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کریں نا کہ ادھر آ کر فارغ بیٹھ جایا کریں۔ یہ پیسے پکڑو اور اپنی راہ لو اور دوبارہ ادھر کا رخ بھی نا کرنا۔
نوجوان نے پیسے پکڑنے میں ذرا بھی دیر نا لگائی اور لیتے ساتھ ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔...
منیجر نے آس پاس تماشہ دیکھتے مزدوروں کی طرف منہ کرکے تنبیہاً کہا؛ یہاں موجود ہر شخص یہ جان لے کہ ہر اس شخص کے ساتھ یہی حشر ہوگا جو یہاں آ کر اپنے فرائض سے غفلت برتتا ہے، اس کا حساب چکتا کر کے فوراً ہی کام سے نکال دیا جائے گا۔
پھر، منیجر آنکھیں پھاڑ کر اپنی طرف دیکھتے والے ایک مزدور کے پاس گیا اور اس سے پوچھا، لگتا ہے تم اس نوجوان کو ذاتی طور پر جانتے تھے؟ یہ نوجوان ادھر کیا کام کیا کرتا تھا ؟
حیران و پریشان مزدور کا جواب منیجر کیلئے ایک صدمے سے کم نہیں تھا، کہنے لگا؛ جناب عالی، یہ نوجوان تو ادھر کام ہی نہیں کرتا تھا، یہاں محض پیزا پہنچانے کیلئے آیا ہوا تھا۔
😂😅🥲
سبق : فوری فیصلہ نقصان دہ ہوتا ہے

06/02/2026

جیو، مزے کرو نسوار کھانے والو—تمہیں تو فتویٰ مل گیا ہے۔ ゚viralシviralシ ゚ ゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ ゚viralシ

06/02/2026

جیو، مزے کرو نسوار کھانے والو—تمہیں تو فتویٰ مل گیا ہے۔

04/02/2026

اُدھار اُتارنے کے 15 انتہائی بے رحم اور عملی طریقے
مجھ سے سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال کہ قرض کیسے اتاریں ،پاکستان میں واقعی سب سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ یہاں قرض کریڈٹ کارڈز کا نہیں، بلکہ رشتہ داروں، دکانداروں، کمیٹیوں اور شادی بیاہ کے بوجھ کا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل ہے جہاں "سفید پوشی" کا بھرم انسان کو ڈبو دیتا ہے۔ اس فہرست کو ایک بار نہیں، تین بار پڑھیں اور اپنی کمر کس لیں۔

1. اعلانِ کنگالی کر دیں (Break the Illusion)۔

سب سے پہلے اپنی "سفید پوشی" کا بھرم توڑ دیں۔ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو صاف بتا دیں، “میں قرض میں ڈوب گیا ہوں، میرے پاس ایک روپیہ نہیں ہے، مجھ سے کسی تحفے، دعوت یا مدد کی امید نہ رکھیں۔" جب آپ یہ سچ بول دیتے ہیں، تو آدھا سماجی بوجھ اسی وقت اتر جاتا ہے۔

2. سماجی "موت" (Ghost Mode)۔

اگلے ایک سال کے لیے سماجی طور پر مر جائیں۔ شادیوں، سالگرہ کی پارٹیوں اور دوستوں کی بیٹھکوں میں جانا بند کر دیں۔ جب آپ محفل میں جاتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی جیب ڈھیلی کرنی پڑتی ہے۔ "لوگ کیا کہیں گے" کی پرواہ کیے بغیر غائب ہو جائیں۔ تنہائی سستی ہے۔

3. سونے اور پلاٹ کی قربانی (Liquidation)۔

اگر گھر میں بیگم کا سونا پڑا ہے یا کوئی ایسی فائل/پلاٹ ہے جس پر تعمیر نہیں ہو رہی، تو اسے آج بیچ دیں۔ یہ نہ سوچیں کہ "یہ برے وقت کا ساتھی ہے" برا وقت آ چکا ہے۔ سود یا قرض کا پریشر آپ کے اثاثے کی ویلیو سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چیزیں دوبارہ آ جائیں گی، سکون اور عزت واپس نہیں آئے گی۔

4. کمیٹی (BC) کا اسٹریٹجک استعمال۔

کمیٹی صرف اس شرط پر ڈالیں کہ آپ پہلی کمیٹی اٹھائیں گے اور اس سے سیدھا جا کر پرانا ادھار اتاریں گے۔ اگر آپ آخری نمبروں پر کمیٹی لے رہے ہیں تو آپ بیوقوفی کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو "سیونگز" نہیں، "قرض اتارنے کا ہتھیار" بنائیں۔

5. مہمان نوازی پر عارضی پابندی۔

ہمارے کلچر میں مہمان کو "مرغا" کھلانا فرض سمجھا جاتا ہے۔ بے رحم بنیں، جو بھی آئے، اس کے سامنے صرف چائے اور بسکٹ رکھیں (یا صرف پانی)۔ اگر کوئی برا مانتا ہے تو ماننے دیں۔ آپ اس وقت مہنگے کھانے کھلانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اپنے گھر کے دروازے محدود کر دیں۔

6. ڈبل ڈیوٹی (16 گھنٹے کام)۔

اگر آپ 9 سے 5 کی نوکری کر رہے ہیں، تو یہ کافی نہیں ہے۔ شام 6 بجے سے رات 12 بجے تک دوسری نوکری کریں (رائیڈنگ، ٹیوشن، دکان پر کام، یا آن لائن)۔ جب تک سر پر قرض ہے، آپ کے لیے "آرام" اور "نیند" حرام ہے۔ جسم تھکے گا، لیکن قرض اترے گا۔

7. شادیوں کا "سلامی" بائیکاٹ۔

پاکستان میں ہزاروں روپے صرف "سلامی" اور "نیوندرا" دینے میں چلے جاتے ہیں۔ شادیوں کے کارڈز کو پھاڑ کر پھینک دیں۔ نہ شادی پر جائیں، نہ نئے کپڑے سلوانے پڑیں گے اور نہ سلامی دینی پڑے گی۔ یہ ایک "فضول خرچ" سرکل ہے، اس سے نکل جائیں۔

8. گھر کا راشن، دال اور سبزی۔

گھر والوں کو بٹھا کر بتا دیں کہ اگلے 6 ماہ تک گوشت، باہر کا کھانا، اور کولڈ ڈرنکس گھر میں نہیں آئیں گی۔ دال، چاول اور موسمی سبزی پر گزارہ کریں۔ خوراک کو صرف "پیٹ بھرنے کا ذریعہ" سمجھیں، زبان کا چسکا نہیں۔

9. ہر فالتو چیز بیچ دیں (The 100 Item Rule)۔

اپنے گھر پر ایک بے رحم نظر ڈالیں۔ پرانا فرنیچر، فالتو پنکھے، بچوں کی پرانی سائیکل، یا وہ دوسرا موبائل جو دراز میں پڑا ہے۔ سب کی تصویریں لیں اور OLX پر بیچ دیں۔ آپ کا گھر گودام نہیں ہے۔ یہ کباڑ بیچ کر جو 10، 20 ہزار آئیں، انہیں فوراً قرض خواہ کے منہ پر ماریں۔

10. مکان چھوٹا کر لیں (Downsizing)۔

اگر آپ کرائے کے گھر میں ہیں، تو اپنی انا کو ماریں اور کسی سستے علاقے میں یا چھوٹے پورشن میں شفٹ ہو جائیں۔ اگر ممکن ہو تو کچھ عرصے کے لیے والدین کے ساتھ ایڈجسٹ ہو جائیں۔ کرائے کی مد میں بچنے والا 10 ہزار روپیہ بھی قرض کی جنگ میں بہت بڑی مدد ہے۔

11. دکاندار کا "کھاتہ" بند۔

محلے کی دکان سے ادھار پر سودا لینا بند کر دیں۔ جب آپ "لکھوا" لیتے ہیں، تو آپ غیر ضروری چیزیں اٹھا لیتے ہیں۔ صرف جیب میں موجود کیش سے خریداری کریں۔ جب نوٹ جیب سے نکلتے ہیں تو انسان کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ کم خرچ کرتا ہے۔

12. ہفتہ اتوار،کمائی کے دن۔

عام لوگوں کے لیے ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے، مقروض کے لیے یہ "کمائی کا سیزن" ہے۔ ان دو دنوں میں کوئی ایکسٹرا کام پکڑیں۔ اگر کوئی ہنر نہیں آتا تو مزدوری کر لیں۔ قرض اتارنے کے لیے ہاتھ کالے کرنا غیرت کی بات ہے، قرض مانگنا بے غیرتی ہے۔

13. لفافہ سسٹم (The Envelope Method)۔

مہینے کے شروع میں بل، راشن اور پٹرول کے پیسے الگ الگ لفافوں میں ڈال دیں۔ جب لفافہ خالی، تو خرچہ بند۔ ڈیجیٹل ایپس (EasyPaisa/JazzCash) میں پیسے رکھنے کی بجائے کیش رکھیں، کیش خرچ کرنا نفسیاتی طور پر مشکل ہوتا ہے۔

14. قسطوں کے جال سے بچیں۔

"آسان اقساط" پر موٹر سائیکل یا فون لینا خودکشی ہے۔ یہ اور کچھ نہیں بس قرض پر مزید سود ہے۔ اگر آپ کے پاس کیش نہیں ہے، تو آپ کو وہ چیز خریدنے کا کوئی حق نہیں۔ ٹوٹی ہوئی اسکرین والے فون کے ساتھ گزارہ کر لیں لیکن نیا قسطوں پر مت اٹھائیں۔

15. ہجرت (The Nuclear Option)۔

اگر مقامی قرض لاکھوں میں ہے اور یہاں تنخواہ ہزاروں میں، تو جذباتی نہ ہوں۔ پاسپورٹ بنوائیں اور محنت مزدوری کے لیے باہر (دبئی/سعودی عرب ) نکل جائیں۔ وہاں کی کرنسی مضبوط ہے۔ دو سال کی سخت محنت وہاں کریں اور یہاں کا سارا قرض اتار دیں۔ یہ آخری اور سب سے موثر حل ہے۔

جاوید_تیموری

01/02/2026
30/01/2026

بچپن زندگی کا وہ سنہرا دور ہے جس کی قیمت کا اندازہ انسان کو تب ہوتا ہے جب وہ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب خوشیاں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں چھپی ہوتی تھیں اور غم صرف کھلونے ٹوٹنے تک محدود تھا۔
بچپن کی چند خوبصورت جھلکیاں:
* بے فکری کی زندگی: نہ کل کی فکر، نہ رزق کی تلاش۔ بس نیند سے جاگنا اور کھیل کود میں مگن ہو جانا۔
* خالص معصومیت: دل میں کسی کے لیے کینہ نہیں ہوتا تھا۔ اگر کسی سے لڑائی ہوتی بھی تھی، تو اگلے ہی لمحے ہاتھ ملا کر دوبارہ دوستی ہو جاتی۔
* تخیل کی دنیا: ایک لکڑی کا ٹکڑا تلوار بن جاتا تھا اور بارش کا پانی ایک سمندر، جس میں کاغذ کی کشتیاں چلائی جاتی تھیں۔
* بڑی خواہش، چھوٹی خوشی: اس وقت سب سے بڑی خواہش "جلدی بڑا ہونا" ہوتی تھی (جو کہ اب ایک غلطی محسوس ہوتی ہے!)۔
> "بچپن کی سب سے بڑی دولت وہ 'وقت' تھا جو اب ہمارے پاس سب کچھ ہو کر بھی نہیں ہے۔"
>
کیا آپ اپنے بچپن کا کوئی ایسا خاص واقعہ یا یاد شیئر کرنا چاہیں گے جو اب بھی آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتا ہے؟

Follow our page please

゚ ゚viralシviralシ ゚viralシ ゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فضول بکواس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category