Urdu Stories

Urdu Stories اچھی اچھی اردو کہانیوں کے لیے ہمارا پیج لائک اور فالو کریں۔

25/03/2026

دھوپ آج کچھ خاص ہے، نہ تیز ہے نہ مدھم، بس اتنی کہ سڑک پر بکھری ہوئی ہر چیز صاف دکھائی دے۔ میں بائیک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہوں، جیسے جلدی کرنے کا کوئی جواز ہی باقی نہ ہو۔ سڑک لمبی ہے، خاموش ہے، اور حیرت انگیز طور پر مانوس بھی۔ کناروں پر کھڑے درخت ایسے لگتے ہیں جیسے وقت نے انہیں یہیں روک دیا ہو، وہ ہر آنے جانے والے کو دیکھتے ہیں مگر کسی سے سوال نہیں کرتے۔ ہوا کبھی تیز ہو کر چہرے سے ٹکراتی ہے، کبھی نرم ہو کر کانوں میں سرگوشی کرتی ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت خود اس سفر کی ہمسفر ہو۔ اردگرد کوئی خاص منظر نہیں، مگر پھر بھی دل کہتا ہے کہ کچھ بہت اہم دیکھا جا رہا ہے—شاید خود کو۔
اس اکیلے سفر میں بائیک کا شور بھی خاموشی کا حصہ بن جاتا ہے۔ نہ کوئی ہارن، نہ پیچھے سے دھکیلتی ہوئی دنیا، بس ایک سادہ سا راستہ اور اس پر چلتا ہوا ایک آدمی۔ دھوپ سڑک پر پڑتے ہوئے لمبے سائے بناتی ہے، جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتے ہیں، جیسے یادیں رہ جاتی ہیں۔ ایسے لمحوں میں احساس ہوتا ہے کہ زندگی بھی شاید ایسی ہی سڑک ہے—کبھی ہموار، کبھی کھردری، مگر چلتے رہنے کا نام ہی اصل سفر ہے۔ یہ سفر کسی نقشے کے تحت نہیں، نہ کسی منزل کے وعدے کے ساتھ، بلکہ صرف اس خواہش پر کہ کچھ دیر کے لیے خود کو دنیا کے شور سے الگ کر لیا جائے۔
جب سڑک ذرا سنسان ہو جاتی ہے تو دل مزید بوجھ اتار دیتا ہے۔ قدرت خاموشی سے ساتھ نبھاتی ہے، نہ نصیحت کرتی ہے نہ مطالبہ، بس موجود رہتی ہے۔ یہی موجودگی سب سے بڑا سکون بن جاتی ہے۔ بائیک آگے بڑھتی رہتی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ شاید ایسے سفر انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ خوشی ہمیشہ بڑی کامیابیوں میں نہیں، کبھی کبھی ایک دھوپ بھری خاموش سڑک پر اکیلے چلنے میں بھی مل جاتی ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں...
21/02/2026

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں۔
سلطان نے کہا آگے کہو
جاسوس بولے "کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر لفظوں میں بیان نہیں کرپا رہے"
سلطان نے کہا "جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو"
جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ "نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے۔
سلطان نے کہا تو اس میں کوئی شک ہے؟؟
جاسوس نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں لیکن اس عالم کا کہنا ہے کہ:
"جنگوں سے کیا ملا؟؟ صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول "
سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ "جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے؟؟" ،
عالم نے کہا دعا کریں
سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے
سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا۔
اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں
پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جسکا اس نے فائدہ اٹھایا
سلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جاسکا۔
یہ فتنہ اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے۔
آخر کیوں لوگ اسلام کو بدھ ازم بنا دینا چاہتے ہیں ۔ جبکہ کھلی حقیقت ہے کہ ظالم کا سامنا کئے بغیر ظلم کا مداوا ہوجائے یہ ممکن ہی نہیں۔۔

درد جو کسی نے محسوس ہی نہیں کیاآپ کی توجہ درکار ہے!! ⚠️ان جالوں کے بارے میں سب سے ظالمانہ بات یہ نہیں ہے کہ یہ کس طرح پک...
23/01/2026

درد جو کسی نے محسوس ہی نہیں کیا
آپ کی توجہ درکار ہے!! ⚠️

ان جالوں کے بارے میں سب سے ظالمانہ بات یہ نہیں ہے کہ یہ کس طرح پکڑتے ہیں… بلکہ یہ کہ یہ کس طرح ان کے تکلیف کا اختتام ہونے دیتے ہیں۔

ایک جانور ان میں اس لیے گرتا ہے کیونکہ اسے تجسس محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اسے کھانے کی خوشبو آتی ہے، کیونکہ وہ کسی کے گرائے ہوئے روٹی کے ٹکڑے کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسے خطرے کا احساس نہیں ہوتا۔ جب وہ گوند کو چھوتا ہے تو اس کا جسم فوراً چپک جاتا ہے۔ وہ ایک ٹانگ ہلانے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری گہری دھنس جاتی ہے، وہ اپنا سر موڑنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی تھوتھنی بھی پھنس جاتی ہے۔ اپنے جسم کے ایک حصے کو آزاد کرنے کی ہر کوشش کے ساتھ، دوسرا حصہ ساکن ہو جاتا ہے۔

یہ گوند صرف اسے روکتا ہی نہیں، بلکہ یہ کھال کھینچتا ہے، جلد کو پھیلاتا ہے، سانس لینا مشکل بنا دیتا ہے، اور اسے حرکت کرنے، کھانے، پینے یا اپنا دفاع کرنے سے روکتا ہے۔ اور یہیں سے اصل تکلیف شروع ہوتی ہے۔ پہلے خوف آتا ہے، پھر مایوسی، پھر تھکاوٹ… اور آخر میں، خاموشی۔ اس لیے نہیں کہ درد ختم ہو گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ اس میں اب مدد کے لیے پکارنے کی طاقت نہیں رہی۔ یہ تمام درد جو کوئی نہیں دیکھتا، جسے کوئی نہیں سنتا، گھنٹوں، بعض اوقات پورے دن تک رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ جال کسی چیز کو "حل" نہیں کرتے، وہ صرف ایک سست اذیت کا سبب بنتے ہیں جسے کسی بھی جاندار کو جھیلنا نہیں چاہیے۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے متبادل بھی موجود ہیں جو کوئی درد نہیں دیتے: انسانی طریقے سے پکڑنا، دور لے جا کر چھوڑ دینا، ایسے طریقے جو زندگیوں کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے تباہ نہ کریں۔
کوئی آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ان کے ساتھ رہیں، صرف یہ کہ آپ ایسا طریقہ چنیں جس سے انہیں اس طرح تکلیف نہ ہو۔ انہیں پھنسانے کے بہت سے طریقے ہیں۔ براہ کرم۔ کیونکہ چھوٹے سے چھوٹے جانور کو بھی خوف محسوس ہوتا ہے، درد محسوس ہوتا ہے، زندگی محسوس ہوتی ہے۔

کبھی کبھی، جو محبت ہم دیتے ہیں یا جس نقصان سے ہم بچتے ہیں، وہ سب سے زیادہ اس میں ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں جو اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔

30/12/2025
30/12/2025

منافقت کریں
منہ پر مکر جائیں
اونچی آواز میں جھوٹ بول کر جیت جائیں
چالیں چلیں
کسی کو نیچا دکھانے کے لیے جس حد تک جا سکتے چلے جائیں
اپنے عیبوں کو چھپا کسی اور پر ڈال کر جتنا اسے سرعام کر سکتے ہیں کر لیں

مگر صرف ایک بار آسمان کی طرف دیکھنا
وہ جو اوپر بیٹھا ہے نا.....
وہ جس کے سائے میں تم یہ سب کرتے ہو....کرتی ہو...
وہ القہار ہے
پتا ہے بھولنے والا بھی نہیں ہے
اور سب سے باریک نظر ہے اسکی سب... یعنی سب دیکھتا ہے... سب....
بس اتنا کسی کو ستاؤ جتنی جہنم کی آگ برداشت کر سکو وہ آگ جو چربی تک پگھلا دے گی جس سے دماغ کی کھوپڑی پھٹ جائے گی.....

اور ہاں اگر جہنم کا بھی ڈر نہیں....اسکے بندوں کے لیے زمین تنگ کرتے وقت اللہ سے بھی حیا نہیں آتی تو یاد رکھنا بہت سے ظالم، خود غرض، جھوٹے، دھوکے باز، منافق، حق کو دبانے والے لوگوں کے لیے اللہ اپنی زمین اور اسکے وسائل تنگ کر دیتا ہے اتنا کہ وہ بے بس ہوجاتے ہیں مگر کچھ کر نہیں پاتے.... اور انہیں ذلت کے ساتھ ہی موت آتی ہے...

لوگوں کی آہوں سے ڈریں!!!.....
انکے صبر کی برداشت سے ڈریں!!.....
کوئ آپکی وجہ سے اللہ کے سامنے رو لے اس بات سے ڈریں...!.!....

ورنہ آپکو تو کوئ فرق نہیں پڑتا مگر کچھ لوگ اللہ کے لاڈلے ہوتے ہیں اور اللہ انہیں تنگ کرنے والوں کو نہی چھوڑتا بدلہ ضرور لیتا ہے

30/12/2025

وما کان ربک نسیا(اور تمہارا رب بھولتا نہیں)......

قانون تو امیر لوگوں کا پالتو کتا ہے چل بولیں تو چلتا ہے، دوڑ بولیں تو دوڑتا ہے، رک بولیں تو رکتا ہے، لیکن ہم جیسے غریب ل...
30/12/2025

قانون تو امیر لوگوں کا پالتو کتا ہے چل بولیں تو چلتا ہے، دوڑ بولیں تو دوڑتا ہے، رک بولیں تو رکتا ہے، لیکن ہم جیسے غریب لوگوں پر تو بس بھونکتا ہے اور کاٹتا ہے۔۔۔!!
چی گویرا

17/12/2025

✨ دل کو چھو لینے والی باتیں ✨

🌸 جو لوگ دل سے اتر جائیں… اُن کے بارے میں خاموشی بہترین جواب ہے۔

🌙 زندگی میں ہر چیز کا وقت ہوتا ہے، صبر کر لو… وقت خود بدل کر رکھ دیتا ہے۔

🌿 جو لوگ آپ کی قدر جانتے ہیں، اُنہیں کبھی آزمائش میں مت ڈالو۔

💫 کچھ راستے اکیلے ہی طے کرنے پڑتے ہیں، کیونکہ ہر کوئی منزل ساتھ نہیں دیتا۔

❤️ کبھی کبھی چھوٹی سی نیکی بھی انسان کو بڑا بنا دیتی ہے۔

✨ جو شخص اللہ پر چھوڑ دیتا ہے… اُسے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑتا۔

🍂 جو لوگ دل دکھاتے ہیں، اُنہیں چھوڑ دو… مگر دل سے اترنے سے پہلے معاف ضرور کر دو۔
💯💖💖

برازیل کی جیلیں قیدیوں کو اپنی سزا کم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، مگر کیسے؟ہر کتاب جو ایک قیدی برازیل میں پڑھتا ہے اور ...
16/12/2025

برازیل کی جیلیں قیدیوں کو اپنی سزا کم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، مگر کیسے؟
ہر کتاب جو ایک قیدی برازیل میں پڑھتا ہے اور اس پر رپورٹ لکھتا ہے، اس کی سزا میں 4 دن کی کمی ہو جاتی ہے۔ جبکہ سانتا ریتا جیل، جو برازیل میں ہی واقع ہے، وہاں قیدی ہر 24 گھنٹے جو وہ بجلی پیدا کرنے والے پہیے کو چلانے کے لیے ورزش کرتے ہیں، اس کے بدلے ایک دن کی سزا کم کرواتے ہیں۔
جب سے یہ پروگرام اس جیل میں نافذ ہوا ہے، قیدیوں کے درمیان تشدد کی شرح کم ہو گئی ہے، اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی آزادی کے بدلے معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔
اس کا مقصد انسان کی اصلاح کرنا ہے، نہ کہ اسے برباد کرنا۔🍁💐

Address

Gujranwala
52250

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Stories posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Urdu Stories:

Share