25/03/2026
دھوپ آج کچھ خاص ہے، نہ تیز ہے نہ مدھم، بس اتنی کہ سڑک پر بکھری ہوئی ہر چیز صاف دکھائی دے۔ میں بائیک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہوں، جیسے جلدی کرنے کا کوئی جواز ہی باقی نہ ہو۔ سڑک لمبی ہے، خاموش ہے، اور حیرت انگیز طور پر مانوس بھی۔ کناروں پر کھڑے درخت ایسے لگتے ہیں جیسے وقت نے انہیں یہیں روک دیا ہو، وہ ہر آنے جانے والے کو دیکھتے ہیں مگر کسی سے سوال نہیں کرتے۔ ہوا کبھی تیز ہو کر چہرے سے ٹکراتی ہے، کبھی نرم ہو کر کانوں میں سرگوشی کرتی ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت خود اس سفر کی ہمسفر ہو۔ اردگرد کوئی خاص منظر نہیں، مگر پھر بھی دل کہتا ہے کہ کچھ بہت اہم دیکھا جا رہا ہے—شاید خود کو۔
اس اکیلے سفر میں بائیک کا شور بھی خاموشی کا حصہ بن جاتا ہے۔ نہ کوئی ہارن، نہ پیچھے سے دھکیلتی ہوئی دنیا، بس ایک سادہ سا راستہ اور اس پر چلتا ہوا ایک آدمی۔ دھوپ سڑک پر پڑتے ہوئے لمبے سائے بناتی ہے، جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتے ہیں، جیسے یادیں رہ جاتی ہیں۔ ایسے لمحوں میں احساس ہوتا ہے کہ زندگی بھی شاید ایسی ہی سڑک ہے—کبھی ہموار، کبھی کھردری، مگر چلتے رہنے کا نام ہی اصل سفر ہے۔ یہ سفر کسی نقشے کے تحت نہیں، نہ کسی منزل کے وعدے کے ساتھ، بلکہ صرف اس خواہش پر کہ کچھ دیر کے لیے خود کو دنیا کے شور سے الگ کر لیا جائے۔
جب سڑک ذرا سنسان ہو جاتی ہے تو دل مزید بوجھ اتار دیتا ہے۔ قدرت خاموشی سے ساتھ نبھاتی ہے، نہ نصیحت کرتی ہے نہ مطالبہ، بس موجود رہتی ہے۔ یہی موجودگی سب سے بڑا سکون بن جاتی ہے۔ بائیک آگے بڑھتی رہتی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ شاید ایسے سفر انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ خوشی ہمیشہ بڑی کامیابیوں میں نہیں، کبھی کبھی ایک دھوپ بھری خاموش سڑک پر اکیلے چلنے میں بھی مل جاتی ہے۔