Lesson of Life

Lesson of Life Here, we will teach you invaluable lessons of life.

8.5 Inch Writing Pad Lcd Tablet For Kids (random Color)Price: ₨ 545
18/05/2024

8.5 Inch Writing Pad Lcd Tablet For Kids (random Color)
Price: ₨ 545

ملاقاتیں مسلسل ہوں تو دلچسپی نہیں رہتیبے ترتیب یارانے ۔۔۔۔۔۔۔۔حسین معلوم ہوتے ہیں !! (عدم)قدر کھو دیتا ہے ہرروز کا آنا ج...
05/05/2024

ملاقاتیں مسلسل ہوں تو دلچسپی نہیں رہتی
بے ترتیب یارانے ۔۔۔۔۔۔۔۔حسین معلوم ہوتے ہیں !!
(عدم)

قدر کھو دیتا ہے ہرروز کا آنا جانا
(امیر)

بچوں کو صاف ستھرے طریقے سے فیڈ کرنے کا بہترین طریقہBaby Spoon Feeder Silicone Bottle Feeding Price: Rs. 749Free Home Del...
01/05/2024

بچوں کو صاف ستھرے طریقے سے فیڈ کرنے کا بہترین طریقہ
Baby Spoon Feeder Silicone Bottle Feeding
Price: Rs. 749
Free Home Delivery

 #فیصلہ     انسان کی زندگی فیصلہ کرنے کی اہمیت کے سبب اہم ہے۔ انسان کو جب بھی کوئی مشکل اور صیح معنوں میں مشکل درپیش آئے...
05/10/2021

#فیصلہ
انسان کی زندگی فیصلہ کرنے کی اہمیت کے سبب اہم ہے۔ انسان کو جب بھی کوئی مشکل اور صیح معنوں میں مشکل درپیش آئے تو وہ فیصلے کی گھڑی ہوتی ہے اور یہ گھڑی کسی وقت بھی راہ میں کھڑی ہو سکتی ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ ہماری زندگی کو بے حد متاثر کرنے والے فیصلے اتفاقاً ہو جاتے ہیں' جیسے اتفاقاً نظر سے نظر مل جائے اور پھر زندگی بھر کا ساتھ ہنس کر یا رو کر۔ انسان کو جینے کا حق ملا ہوا ہے کہ وہ اپنی پسند کی زندگی اختیار کرے۔ انسان پر چناؤ کا لمحہ ہی تو فیصلے کا لمحہ بن کر آتا ہے اور پھر یہ لمحہ زندگی بدل کے رخصت ہوتا ہے۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ' جن کو صرف ایک راستے کا سفر ملا ہے۔ ان کو کسی موڑ پر کسی دوراہے پر کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
فیصلے کا لمحہ بڑا مبارک لمحہ ہوتا ہے۔ زندگی میں بار بار یہ لمحات نہیں آتے۔ صیح وقت پر مناسب فیصلہ ہی کامیاب زندگی کی زمانت ہے۔ ہم اکثر فیصلہ کرتے وقت صرف ایک آدھ چیز پر غور کرتے ہیں حالانکہ اس فیصلے سے متعلق کتنے اور واقعات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں' جن کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔
اپنے کام اللہ کے سپرد کر دینے والے مطمئن رہتے ہیں۔ جو ہو سو ہو' سب ٹھیک ہے۔ ان کا فیصلہ ہوتا ہے کہ جو ہوا اچھا تھا' جو ہو رہا ہے اچھا ہے اور جو ہو گا اچھا ہو گا۔ ایسے لوگوں کو فیصلہ کیا تکلیف دے سکتا ہے۔

 #جواز ہستی     اگر انسان کی کوئی آرزو پوری نہ ہو بلکہ ہر آرزو ٹوٹ چکی ہو یہاں تک کہ آرزو پیدا کرنے والا دل بھی ٹوٹ چکا ...
04/10/2021

#جواز ہستی
اگر انسان کی کوئی آرزو پوری نہ ہو بلکہ ہر آرزو ٹوٹ چکی ہو یہاں تک کہ آرزو پیدا کرنے والا دل بھی ٹوٹ چکا ہو تو اس آدمی کے لئے جینے کا کیا جواز ہے؟
اگر انسان کی زندگی ایک ایسی تاریک رات کی طرح ہو جس میں دور دور تک کسی روشن ستارے کے دکھائی دینے کا امکان نہ ہو حتیٰ کہ کسی جگنو کی روشنی بھی نظر نہ آئے' ایسے آدمی کے لئے جواز ہستی کیا ہو سکتا ہے؟
جب انسان کا راستہ چلتے چلتے اچانک بدل جائے اور اسے اس وقت معلوم ہو جب آدھے سے زیادہ راستہ طے کر چکا ہو اور اسے واپس لوٹنا بھی اتنا مشکل نظر آئے جتنا آگے جانا۔ اس سے نہ بھاگا جائے اور نہ ٹھہرا جائے تو ایسا آدمی زندہ رہنے کے لیے کیا جواز حاصل کر سکتا ہے؟
یہ بات یاد رکھی جائے کہ انسان پر کبھی راستہ بند نہیں ہوتا۔ ہر دیوار کے اندر دروازہ ہے جس میں سے مسافر گزرتے ہیں۔ مایوسیوں کی دیواروں میں اس کی رحمت امید کے دروازے کھولتی رہتی ہے۔ انتظار ترک نہ کیا جائے۔ رحمت ہوگی۔ امید کا چراغ جلے گا۔ وہ وقت جس کا انتظار ہے آئے گا بلکہ آ گیا ہے۔ انسان مایوس نہ ہو۔
کشتیاں جلا دی جائیں تو کامیابی قریب آ جاتی ہے۔ آرزوئیں پوری نہ ہو تو بےآرزو رہنے کی آرزو پیدا کر دی جائے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ چلتے چلیں منزلیں خود ہی سلام کریں گی۔ دنیا کے خلاف فریاد نہ کریں۔ کوشش کریں کہ کوئی آپ کے خلاف فریاد نہ کرے۔ دوسروں کو خوش کریں۔ خوشی خود ہی مل جائے گی اور یہی جینے کا جواز ہے۔

 #ذاتی حقوق           انسان پر ایک زندگی میں کئی حقوق واجب الادا ہیں۔ تفصیل بیان کرنا ناممکن ہے۔ ان میں سے ایک قسم "اپنی...
29/09/2021

#ذاتی حقوق
انسان پر ایک زندگی میں کئی حقوق واجب الادا ہیں۔ تفصیل بیان کرنا ناممکن ہے۔ ان میں سے ایک قسم "اپنی ذات کے حقوق" ہے۔
انسان پر اس کی اپنی ذات کے بڑے حقوق واجب الادا ہیں۔ اپنے ظاہر کے حقوق' اپنے باطن کے حقوق۔ ظاہر کے حقوق یہ ہیں کہ ہم اپنے آپ کو ایک باعزت شہری بننے کیلئے تیار رکھیں۔ ہمارا ہم پر حق ہے کہ ہم اپنے آپ کو گردوپیش سے باخبر رکھیں۔اپنے ماحول سے آگاہ رہیں۔ ہم۔ اپنے مشاہدات اور تجربات سے دوسروں کو آگاہ کریں۔ اپنی شناخت قائم کرنا ہمارا فرض ہے۔ اپنا لباس' اپنی زبان' اپنا لہجہ' اپنی جلوت و خلوت کا خاص خیال رکھنا ہمارا ہم پر فرض ہے۔
ہمارے باطن کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہ کہ ہم احساس کی دنیا زندہ رکھیں۔ ہم اپنے دل کو محسوس کرنے والا بنائیں۔ سوچنے والا ذہن اور محسوس کرنے والا دل نصیب والوں کو عطا ہوتے ہیں۔ صاحب فکر ہونا بھی ہمارا فرض ہے۔ ہمارا یہ حق مقدم ہے کہ ہم خود کو صاحب خیال بنائیں۔ صاحب فکر بنائیں۔
ایک روشن روحانی زندگی کا حصول بھی ہم پر فرض ہے۔ یہ ہمارا حق بھی ہے کہ ہم کسی روحانی تجربے سے گزریں اور اگر ممکن نہ ہو تو کم از کم کسی روحانی بزرگ سے آشنائی تو ہونا چاہیے۔ روح زندہ تو انسان زندہ' نہیں تو نہیں۔

 #نیند     نیند کی قیمت اس سے پوچھو' جس کو نیند نہیں آتی۔ نیند ہی زندگی کے دسترخوان کی سب سے اہم' سب سے لزیزہ اور سب سے ...
27/09/2021

#نیند
نیند کی قیمت اس سے پوچھو' جس کو نیند نہیں آتی۔ نیند ہی زندگی کے دسترخوان کی سب سے اہم' سب سے لزیزہ اور سب سے میٹھی ڈش ہے۔
نیند انسان کو اس کی محنت کے بعد آرام پہنچاتی ہے اور اسے نئی محنتوں کے لیے تیار کرتی ہے۔ نیند نہ ہو تو انسان اپنی جدوجہد کے بوجھ تلے دب کر مر جائے۔ نیند ایک مطمئن زندگی کا ثبوت ہے۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جس کی نیند کسی خوف یا کسی شوق سے پریشان نہ ہو۔
انسان جب ظلم کرتا ہے' دوسروں پر اور اپنے اوپر' تو اس کی سزا یہ ملتی ہے کہ وہ نیند میں مضطرب رہتا ہے۔ وہ سوتا ہے تو اسے اپنے بچھونے پر بچھو نظر آتے ہیں۔ احساس کے بچھو' ندامت اور افسوس کے بچھو۔ انسان چاہتا ہے کہ ہونی انہونی ہو جائے۔ جو ہو چکا ہے' وہ نہ ہوتا۔ کاش! ایسا نہ ہوتا' کاش یوں ہو جاتا اور اسی کاش کے اندر ہی نیند غرق ہو جاتی ہے اور انسان بے خوابی کے عزاب میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔
کبھی کبھی نیند مظلوم کے لیے بھی عزاب سے کم نہیں ہوتی۔ ظلم خواب کی صورت میں مظلوم کو اپنے ڈر میں رکھتا ہے۔ مظلوم اسی خواب کے باعث سو نہیں پاتا۔
کیا مظلوم کا سکون کی نیند پر کوئی حق نہیں ہوتا؟ کیا اس کا قصور صرف یہ کہ وہ اس ظلم کے خلاف بول نہیں سکتا' کیونکہ اس کی آواز سننے اور ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔ کاش! نیند پر ہر انسان کا اختیار ہوتا' انسان لمبی نیند سو کر اپنے ماضی' اپنے اوپر ہوئے ظلم اور بے سکونی کی وجہ سے چھٹکارا پا سکتا۔

 #ضمیر کی آواز     ضمیر کی آواز نہ تو ظاہری زبان سے دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کانوں سے سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز بہت دور سے آ...
25/09/2021

#ضمیر کی آواز
ضمیر کی آواز نہ تو ظاہری زبان سے دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کانوں سے سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز بہت دور سے آتی ہے اور بہت قریب سے سنائی دیتی ہے۔ ایسے جیسے ہمارے اندر سے کوئی بولتا ہے۔ کسی نے ضمیر کی صورت نہیں دیکھی۔ اس کی آواز ہی سنی گئی ہے۔ ہمیں اخلاقی آلودگی سے بچانے کیلئے یہ آواز پراسرار راستوں سے ہوتی ہوئی دل کے کانوں میں گونجتی ہے۔ یہ آواز ہمارے لیے ان راستوں کو روشن کرتی ہے' جو نفس کی اندھیر نگری میں گم ہو جاتے ہیں۔
یہ آواز ہمارے لیے ہدایت کا چراغ ہے۔ ایک مخلص دوست' ایک نڈر ساتھی۔۔۔
جو ہمیں ہمارے مرتبوں اور خوشامدیوں کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتی ہے۔ یہ آواز ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے مرتبے اور دبدبے سب عارضی ہیں۔ ہم فرعون وقت بننا چاہتے ہیں۔ ضمیر کی آواز فرعون کی عاقبت سے تعارف کراتی ہے۔
ضمیر کی آواز پر کان نہ دھرنے والے بڑے برے محلات میں رہنے کے باوجود اپنے پیچھے ویرانیاں چھوڑ گئے۔ ضمیر کی آواز سننا' اسے پہچاننا' اس پر عمل کرنا بڑے نصیب کی بات ہے۔ ضمیر کی آواز سے آشنا لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ ضمیر ہی ہمارے اعمال کی اصلاح کرتا ہے۔ ہمیں حق سچ کا راستہ بتاتا ہے۔ ضمیر کی آواز زندگی کے کامیاب راستوں کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ یہی وہ آواز ہے جو تاریکیوں میں ہدایت اور نور کے چراغ روشن کرتی ہے۔ انسان کو نفس امارہ کے شکنجے سے آزاد کرانے والی ضمیر کی آواز ہی ہے۔
ضمیر کی آواز ہمارے ہی باطن کی جلوہ گری ہے۔۔۔۔ہمارے نصیب کی محافظ آواز۔۔۔۔😇

 #رات کے موتی         رات عجب راز ہے۔ یہ راز سب پر آشکار نہیں ہوتا۔ رات کو وقت کے لامحدود فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔ یہ کبھی لم...
23/09/2021

#رات کے موتی
رات عجب راز ہے۔ یہ راز سب پر آشکار نہیں ہوتا۔ رات کو وقت کے لامحدود فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔ یہ کبھی لمحے کو صدیاں بنا دیتی ہے' کبھی صدیوں کو ایک لمحہ۔ رات کا عالم عجب عالم ہے۔ خاموشی گویا ہوتی ہے۔ سکوت نغمہ سرا ہوتا ہے۔ سناٹے بولتے ہیں۔ ہم کلام ہوتے ہیں۔
جب انسان اپنے درد اور کرب کے بوجھ رات کے خاموش آنگن میں اتارتا ہے' تو اسے عجیب احساس ہوتا ہے۔ رات کو روح کے حجابات اٹھتے ہیں۔ انسان کی رات کو انسان سے ہم کلام ہوتی ہے۔ خود شناسی اور خود فہمی کے مراحل رات کو آسان ہوتے ہیں۔ رات بہت بڑا راز ہے۔ انسان رات کی گود میں ہنستا ہے اور روتا ہے۔ انسان کے آنسو' نیم شب کے آنسو' ستاروں سے زیادہ روشن اور شبنم سے زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں۔

 #یادماضی                  بس یہی تو مشکل ہے کہ بھول جانا انسان کے بس میں نہیں۔ جو حادثہ ایک دفعہ گزر جائے' وہ یاد بن کے...
22/09/2021

#یادماضی
بس یہی تو مشکل ہے کہ بھول جانا انسان کے بس میں نہیں۔ جو حادثہ ایک دفعہ گزر جائے' وہ یاد بن کے بار بار گزرتا ہے۔ بھولنے کی کوشش ہی اسے زندہ رکھتی ہے۔ انسان ظالم کو معاف کر سکتا ہے' لیکن اس کے ظلم کو بھول نہیں سکتا۔ بھول جانا انسان کے اختیار میں نہیں۔ انسان کیسے بھول سکتا ہے کہ اس نے جو چہرے کبھی شوق سے دیکھے تھے' اب وہ نظر نہیں آتے۔ جو کبھی سوچا تھا' کبھی چاہا تھا' اب وہ ویسا نہیں۔
موسم گزر جاتے ہیں' لیکن یاد نہیں گزرتی۔ مرحوم زمانوں کی یاد مرحوم نہیں ہوتی۔ وقت گزر جاتا ہے۔ ہمیشہ گزرتا رہا' لیکن گزرتے گزرتے انسان کے چہرے پر جھریاں چھوڑ جاتا ہے۔ ماضی کی یاد انسان کے وجود کو ڈھانپ لیتی ہے' لباس کی طرح نہیں' جلد کی طرح' کھال کی طرح انسان یاد کے پیرہن میں لپٹ جاتا ہے اور پھر کچھ بھولنے کا خیال بھی بھول جاتا ہے-
انسان کے پاس اپنی لوح محفوظ ہے' قوت حافظہ ہے۔ انمول خزانہ' آنسوؤں اور مسکراہٹوں کا خزینہ۔ انسان اس سے نجات نہیں پا سکتا۔ جو کبھی تھا' اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہی زندگی کا عروج ہے اور یہی اس کا زوال۔

 #سکون قلبسکون قلب'جیسا کے نام سے ظاہر ہے'قلب کی ایک حالت ہے'ایسی حالت جس میں اضطراب نہ ہو۔ سکون کی ضد اضطراب ہے۔  اضطرا...
18/09/2021

#سکون قلب

سکون قلب'جیسا کے نام سے ظاہر ہے'قلب کی ایک حالت ہے'ایسی حالت جس میں اضطراب نہ ہو۔ سکون کی ضد اضطراب ہے۔
اضطراب خواہش سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی چیز کو حاصل کرنے کی خواہش یا کسی شے سے نجات کی خواہش ہی بے قراری ہے۔ خواہش دنیا ہو یا خواہش عقبی' انسان کو ضرور بے چین کرے گی۔ یاد رہے کے سکون کی خواہش بذاتِ خود ایک اضطراب ہے۔ سکون خواہش سے نہیں نصیب سے ملتا ہے۔
آج کے دور میں سکون قلب اس لیے مشکل ہوتا جارہا ہے کہ زندگی کے تقاضوں اور مذہب کے تقاضوں میں فرق آگیا ہے۔ آج کے انسان کی شخصیت میں فشار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکون نہیں ملتا۔
سکون کی خاطر سفر کرنے والا انسان سکون حاصل نہیں کر سکتا۔سفر میں سکون کہاں؟ سکون کی تلاش اپنے حالات' اپنے ماحول اور اپنی زندگی سے بیزاری ہے۔

 #تنہائآج کے انسان کی روح میں تنہائی کا زہر اتر چکا ہے۔ شاید آج کا انسان کسی مستقبل کی امید سے نا آشنا ہے۔ مایوسی مقدر ب...
15/09/2021

#تنہائ

آج کے انسان کی روح میں تنہائی کا زہر اتر چکا ہے۔ شاید آج کا انسان کسی مستقبل کی امید سے نا آشنا ہے۔ مایوسی مقدر بن چکی ہے۔ ہمارے پاس آسائشیں ہیں' سکون نہیں۔ ہمارے پاس مال ہے' اطمینان نہیں۔ ہم سب ساتھ چل رہے ہیں' لیکن منزلیں جدا جدا۔ ہم ہجوم میں ہیں' لیکن ہجوم سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم سب آس پاس ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا غم سنتے ہیں' لیکن محسوس نہیں کرتے۔ ہم اپنے علاؤہ کسی کو اپنے جیسا نہیں سمجھتے۔ ہمیں اپنے آنسو مقدس نظر آتے ہیں' لیکن دوسروں کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو ہمیں مگرمچھ کے آنسو نظر آتے ہیں۔ ہمارے اجتماعات ضرورت ہیں اور ضرورتیں وفا سے نا آشنا ہوتی ہیں اور جب تک وفا نہ ملے' تنہائی ختم نہیں ہوتی۔

Address

Guj

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lesson of Life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Lesson of Life:

Share