21/12/2023
برادرانِ من! زبان چاہے کوئی بھی ہو اس کی اپنی خوبصورتی اور اہمیت ہے۔
گلگت بلتستان میں کئی زبانیں بولی جاتی ہے مثلاً شینا، بلتی، وخی، بروشسکی اور کھوار۔ ان سب زبانوں کی اہمیت اپنی جگہ مقدم ہے لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بروشسکی زبان کو ان سب زبانوں میں بہت ہی کم اہمیت دی گئی۔ یہ زبان ہنزہ نگر سے لیکر یاسین تک بولی جاتی ہے اور ساکنانِ گلگت بلتستان کی اکثریت کی زبان ہے۔
بروشسکی کو اگر کسی نے وسعت دی ہے تو وہ اس زبان کے شعراء اور ادباء ہیں۔ عوام ہمیشہ اس انمول اور شیریں زبان سے کنارہ کش رہی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو بولتے تو بروشسکی زبان ہیں مگر ان کے نزدیک اہمیت دوسری زبانوں کی ہے۔ یہی غفلت بروشسکی زبان کو تباہی کی جانب لے جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں نا گھر کی مرغی دال برابر۔ ہمارے لوگوں کی اس زبان سے بے وفائی نے اس کے ابھرنے میں رکاٹ پیدا کی۔ اگر یہ لوگ یک زبان ہوکر اس زبان کی قدر کرتے تو آج نصاب میں شامل ہوچکی ہوتی۔
جو ہمیں سمجھ میں نہیں آتی وہ بہت اچھی ہے اور جو سمجھ میں آتی ہے بری۔ یہی نظریہ ہمارے لوگوں کی ناکامی کا سبب ہے۔
جس دن ہنزہ نگر سے لیکر غزر یاسین تک بروشو متحد ہوکر اس زبان کی حمایت کریں گے سمجھو نصاب میں شامل ہوگئی۔ زبان کو وسعت بخشے میں صرف شعراء و ادباء کا کردار کافی نہیں بلکہ اس زبان کے ہر بولنے والے کا کردار ناگزیر ہے۔
تعصب نے ہمیں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اگر ہمیں اس غظیم و قدیم زبان کو نصاب کا حصہ بانی ہے تو ہمیں تمام تر تعصبات سے خود کو مبرہ کرنا ہوگا۔ اسی صورت میں یہ کام ممکن ہوسکے گا۔ اگر یہ کہتے پھرے کہ فلان ہنزہ کا ہے فلان یاسین کا تو اس صورت میں ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔ ہم سب بروشو ہیں ہنزائی ہو یا یاسینی سب ایک ہی گھر کے افراد ہیں۔
بروشسکی زبان پر دوسرے زبانوں کے مقابل بہت زیادہ ریسرجز ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ اسی سبب سے اس زبان کو نصاب میں شامل ہونے کا سو فیصد حق حاصل ہے۔ جو حروف رسم الخط کے لیے بنائے گئے ہیں سب کو باہمی مشاورت سے ان سے متفق ہونا ہوگا۔
بروشسکی گلگت بلتستان کی زبانوں میں سب سے قدیم زبان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو قبول کرنا ہر ساکنِ گلگت کے لیے ضروری ہے۔
لہازا بروشسکی کو سپورٹ کریں اور اس شیرین ترین زبان کو شاملِ نصاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں۔
وسلام
فرزندِ بروشو خاکسار سمیع زین فدائی