09/06/2022
"گلگت بلتستان خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات "
تحریر : ساجد اکبر ساجو
بقول شاعر
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!
درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالی کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس (جڑ) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانہ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگزاجازت نہیں دیتا۔زندگی اور موت کا مالک حقیقی ﷲ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔
’"اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک ﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے"
نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ نوجوانوں میں منفی خیالات اور رجحانات کا پانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یقینا ہمارے تعلیمی اور سماجی نظام میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔کوئی ایسی بات یا فکر ہے جو ہماری نوجوان نسل کو خودکشی جیسے انتہائی ا قدام پر مجبور کر رہی ہے۔خودکشی کی خبروں خاص طور پر نوجوان نسل کی جانوں کے اتلاف کی خبریں ذہن ودل کو آئے دن غم زدہ کر رہی ہیں۔نوجوان نسل ہمارے ملک کا بیش قیمت اثاثہ ہے۔ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو ہر گز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔خودکشی کی بے شمار وجوہات میں سماجی دباؤ، ڈپریشن، خوداعتمادی کا فقدان،غربت،عشق و محبت میں ناکامی وغیرہ شامل ہیں۔ ان وجوہات میں سب سے زیادہ تشویشی پہلو تعلیمی دباؤ کی وجہ سے رونما ہونے والی خودکشیاں (suicides) ہیں۔ یہ بات ماہرین نفسیات کے لئے الجھن، بے چینی اور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔کئی بچے والدین اور اساتذہ کی جانب سے دی گئے تعلیمی دباؤ کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوکر خودکشی کر بیٹھتے ہیں۔دنیا میں ہر انسان کم از کم ایک بار ڈپریشن کا شکار ضرور ہوتا ہے۔یہ منفی رجحانات ذیل میں پیش کردہ شکلوں یا پھر کسی اور صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔بعض موقعوں پر ڈپریشن اتنی شدت اختیار کرجاتا ہے کہ اس سے باہر نکلنا لوگوں کے لئے سخت مشکل کام ہوتا ہے۔ایسے حالات میں ناامیدی کا شکار نوجوان مسائل سے نجات پانے کے لئے اپنی زندگی کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔ہر خودکشی کے پیچھے کوئی وجہ اور کوئی قاتل خواہ والدین کی صورت،اساتذہ،خاندان یا معاشرے کے کسی فرد کی شکل میں یا پھر معاشرتی، معاشی،تعلیمی، مذہبی اور سیاسی شکل میں ضرور چھپا ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان میں خودکشیوں میں آئے روز اضافہ ہوتا ہیں خصوصاً ضلع غذر اس لپیٹ میں ہے۔ حکومت اور سول سوسائٹی اس کی روک تھام کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہے ہیں ۔ آخر ضلع غذر میں ائے روز خودکشی میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ؟ اس کے پیچھے کونسی عناصر چھپی ہیں ہمیں ان کے تہہ تک پہنچنا چاہیئے۔۔ میرے خیال کے مطابق خودکشی کے اصل وجہ دین سے دوری ہے ہم لوگ موسیقی کو روح کا غذا سمجھا ہے حالانکہ بالکل ایسا نہیں روح کو سکون اور روح کا غذا اللّٰہ تعالیٰ کےذکر میں ہے۔ دوسری بنیادی وجہ والدین کے پیار محبت ہے والدین بچوں کو اتنا محبت دے رہے ہیں جو کہ بعد میں ان کے خواہشات کو پورے نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ اپنے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور خودکشی جیسی حرام اقدام کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کے بچوں سے پیار محبت کے ساتھ تھوڑی خوف بھی ہو تاکہ بعد میں بچے کوئی ایسا غلط اقدام نہ کرے ۔۔