19/02/2023
پٹھان قوم کے نام اہم پیغام
گلگت بلتستان کے ضلع سکردو سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد الیاس کو مینگورہ سوات میں عالم مسافرت میں بیدردی سے قتل کرکے ظالم قاتل مقتول کی گاڑی لے کر فرار ہو گئے ۔ قاتل اتنے بزدل اور بے غیرت تھے کہ ایک گاڑی کےلئے کسی کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا اور گاڑی بھی ہضم نہ ہوسکی۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پٹھان غیرت مند اور مہمان نواز ہوتے ہیں جو مہمانوں کی عزت اور حفاظت کرتے ہیں نہ کہ کسی مہمان کو تنہا پاکر اس کی جان لے لیں۔ پٹھانوں کے دیس (صوبہ خیبر پختونخواہ) میں گلگت بلتستان کے جوان کا بہیمانہ قتل ہوا ہے۔ یقیناً خیبر پختونخواہ میں حکومت اور انتظامیہ نام کی کوئی شے بھی ہوگی اور اس ایرئے میں یقیناً جرگے کا بھی رواج ہوتا ہے علاقے کے معزز با اثر دینی، سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات بھی ہوں گی ۔اب ان اداروں اور شخصیات کا امتحان ہے کہ ان کے علاقے میں ان کی ثقافت،رسوم و رواج اور اقدار کے خلاف کسی بیگناہ مسافر کا خون ناحق ہوا ہے۔ قاتلوں نے ایک بیگناہ انسان کو قتل کرنے کے ساتھ پٹھان قوم اور سوات کے لوگوں کی توہین بھی کی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ تو اپنا کردار ادا کر ہی لے گی مگر وہاں کے جرگے، عمائدین ،سیاسی و سماجی شخصیات کو اس نوجوان سے اس کی زندگی چھیننے والے انسانیت کے دشمنوں خیبرپختونخواہ اور پٹھان قوم کے اقدار و روایات کے قاتلوں کا سراغ لگانا ہوگا۔ یاد رکھیں مقتول نوجوان کے شہر سکردو میں خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے پٹھان برادری کی بہت بڑی تعداد یہاں عرصے سے کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور اہل سکردو کے برابر حقوقِ حاصل کر رہے ہیں۔ آج تک یہاں کسی پٹھان یا کسی بھی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا بلکہ جب کبھی کوئی حالات خراب ہوں تو یہاں کے علمائے دین، سیاسی و سماجی شخصیات مسافروں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں مگر شاہراہِ قراقرم پر خاص طور پر خیبر پختونخواہ کے علاقے میں بارہا اس طرح کے افسوسناک واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہم اہل گلگت بلتستان خاص طور پر اہل سکردو اپنے نوجوان کے بیہیمانہ قتل پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ کی حکومت اور انتظامیہ اور خاص طور پر سوات کے مذہبی، سیاسی و سماجی اور جرگے کے زمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بیگناہ مسافر جو کاروبار کے سلسلے میں وہاں مہمان تھا کے قاتلوں کا سراغ لگائیں اور عبرتناک سزا دے کر اس سلسلے کو یہیں روکیں۔ امن سب کی ضرورت ہے کاروبار کے سلسلے میں ہر جگہ سبھی شہروں کے لوگ موجود ہوتے ہیں اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت جہاں حکومت و انتظامیہ پر فرض ہے وہیں بحیثیت انسان و بطور مسلمان ہم سب کا بھی فرض ہے۔ گھر آئے مہمان کو اکیلا پا کر قتل کیا جانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی اور غیرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اہل سوات اپنے اقدار رسم و رواج اور ثقافت کا جنازہ نکالنے والے سفاک قاتلوں اور درندوں کو پکڑ کر قانون کے حوالے کر کے ایک بہادر اور باوقار قوم ہونے کا ثبوت دیں گے ۔ یہاں میں اہل گلگت بلتستان خاص طور پر اہل بلتستان سے بھی کہوں گا کہ چوری اور دو نمبری گاڑیوں کے سودا سے راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ سود، دو نمبری اور چوری کی گاڑیوں کے سودا نے پورے معاشرے پر اللہ کا عذاب نازل کردیا ہے اور خطے سے رزق روزی اٹھتا جارہا ہے کچھ تو خوف خدا کریں
Copy۔