Youth Action Committee dandli

Youth Action Committee dandli Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Youth Action Committee dandli, Gam Kotli.

"یوتھ ایکشن کمیٹی دندلی نوجوانوں کی آگاہی اور عوامی حقوق کے لیے سرگرم پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا، اتحاد کو فروغ دینا اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔"

04/06/2026

سلام ہے بابا جی کو❤️

راج محل یو سی دندلیراج محل یو سی دندلی میں آج وہ لوگ بھی ملک ظفر صاحب پر تنقید کر رہے ہیں جن کے باپ دادا 30، 35 سال تک م...
04/06/2026

راج محل یو سی دندلی

راج محل یو سی دندلی میں آج وہ لوگ بھی ملک ظفر صاحب پر تنقید کر رہے ہیں جن کے باپ دادا 30، 35 سال تک ملک نواز صاحب کی حمایت کرتے رہے۔ وہ 30، 35 سالہ دور کا موازنہ ملک ظفر صاحب کی صرف 5 سالہ مدت سے کر رہے ہیں۔ اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو ملک نواز کے دور کی نسبت ملک ظفر صاحب نے کافی کام کروائے ہیں، جبکہ جو کام ابھی زیرِ التوا ہیں، امید ہے کہ وہ بھی جلد مکمل ہو جائیں گے۔

ذاتی بغض، حسد یا مخالفت کی بنیاد پر یہ کہنا کہ کام نہیں ہو رہے یا نہیں کروائے جائیں گے، درست بات نہیں۔ چلو مان لیتے ہیں کہ ملک ظفر صاحب ناکام ہو گئے، لیکن پھر ان کے مقابلے میں ایسا کون سا تُرم خان لے آؤ گے جو جیت کر سب مسائل حل کر دے گا؟

اصل مسئلہ یہی ہے کہ راج محل اور دندلی میں کبھی بھی کوئی ایسا امیدوار سامنے نہیں آیا جو غیر معمولی طور پر مقبول ہو یا جس کے باعث سخت مقابلہ پیدا ہوا ہو۔ میری رائے میں ملک ظفر کے علاوہ دوبارہ کسی اور امیدوار کا یہاں سے جیتنا آسان نہیں ہوگا۔

ڈی جی ذوالفقار اور ملک یوسف کو تو صرف انتخابات قریب آنے پر ہی راج محل یاد آتا ہے۔ اگر کسی کو ان کے کروائے ہوئے نمایاں کام یاد ہوں تو ضرور بتائے۔ ویسے بھی یہ دونوں زیادہ مقبول نظر نہیں آتے۔ ان کی نسبت ملک نثار صاحب کافی عرصے سے متحرک، سماجی اور عوامی رابطے میں ہیں، اس لیے اصل مقابلہ بھی انہی کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔

بات یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنا اور سمجھنا ہوگا کہ ہمارے بنیادی مسائل کون حل کر سکتا ہے اور ایسا کون شخص ہے جسے آگے لا کر، ووٹ کی طاقت سے کامیاب بنا کر، اپنے علاقے کے بنیادی کام کروائے جا سکیں۔

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم پارٹی بازی، ذاتی سیاسی مفادات اور آپس کی کھینچا تانی سے نکل کر ایک صفحے پر آئیں اور اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں سوچیں۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ آخر ہم آج بھی اتنے پسماندہ کیوں ہیں؟

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک ذاتی پسند، ناپسند اور برادری ازم سے باہر نہیں نکل سکے۔ جب تک ہم اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح نہیں دیں گے، تب تک ترقی کے بجائے پسماندگی ہی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔ ہمیں سیاسی لیڈروں کی نہیں بلکہ اپنے حقوق، اپنے مسائل اور اپنے علاقے کی ترقی کو ترجیح دینی چاہیے۔ البتہ جو سیاسی رہنما تھوڑا بہت کام بھی کروا رہا ہو، اسے سراہنا بھی چاہیے اور اسے مناسب موقع بھی دینا چاہیے تاکہ وہ مزید کام کروا سکے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کارکردگی دکھا سکے۔ تاہم اس کے ساتھ وقت کی حد اور کارکردگی کو بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ عوام کو صرف وعدے نہیں بلکہ عملی نتائج بھی درکار ہوتے ہیں۔
Zafar Iqbal Malik Official

راج محل دندلی، ضلع کوٹلی سے قیمتی معدنیات کی بے دریغ نکاسی کا سلسلہ جاری، مقامی آبادی فائدے سے محروم!​(خصوصی رپورٹ):ضلع ...
21/05/2026

راج محل دندلی، ضلع کوٹلی سے قیمتی معدنیات کی بے دریغ نکاسی کا سلسلہ جاری، مقامی آبادی فائدے سے محروم!
​(خصوصی رپورٹ):
ضلع کوٹلی کے علاقے راج محل دندلی میں گزشتہ ایک سال سے کوئلے کی بڑے پیمانے پر نکاسی ۔ ، ہر دوسرے سے تیسرے دن ڈیمپر ٹرک دندلی پہنچتے ہیں ، جس میں ٹنوں کے حساب سے قیمتی کوئلہ لاد کر منتقل کیا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ: کیا اس قدرتی دولت کا دندلی کے عوام کو کوئی فائدہ ہوا ہے یا نہیں؟
​10 سے 15 فیصد انویسٹمنٹ بدل سکتی ہے دندلی کی تقدیر
​مقامی حلقوں اور باشعور شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نکالے جانے والے کوئلے کی مجموعی آمدن کا صرف 10 سے 15 فیصد بھی خود دندلی کی ترقی، سڑکوں، اور بنیادی ڈھانچے پر انویسٹ (سرمایہ کاری) کیا جائے، تو دندلی کے حالات اور نقشہ یکسر بدل سکتے ہیں۔ مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اس قدرتی خزانے سے علاقے کو محروم رکھا جا رہا ہے۔
​عوامی خاموشی اور محکموں کی مبینہ 'ملی بھگت'
​ اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار ہے کہ اتنی قیمتی معدنیات دن دیہاڑے نکالی جا رہی ہیں، لیکن مقامی سطح پر عوام میں اس حوالے سے تاحال وہ شعور نظر نہیں آ رہا جو ہونا چاہیے، اور نہ ہی کوئی اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ دوسری جانب کوٹلی ، کا کوئی بھی متعلقہ محکمہ اس سنگین صورتحال پر ایکشن لینے کو تیار نہیں۔
​ "پردے کے پیچھے مبینہ طور پر ملی بھگت سے لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف انتہائی خاموشی کے ساتھ ٹنوں کے حساب سے کوئلہ غائب کیا جا رہا ہے۔"
​اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اعلیٰ حکام اس کھلم کھلا لوٹ مار کا نوٹس لیتے ہیں، یا دندلی کے عوام یوں ہی اپنی مٹی کے خزانے سے محروم رہیں گے؟

19/05/2026

دندلی ستھل لنک روڈ پر تعمیر و مرمت کے کام کے آغاز پر وزیرِ ہائر ایجوکیشن ملک ظفر اقبال صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
یہ سڑک عرصۂ دراز سے عوام کا ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی تھی، اور اس پر کام کا آغاز علاقے کے لوگوں کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ محلہ دندلی ستھل کے عوام آپ کے اس اقدام کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس منصوبے کو جلد از جلد معیاری انداز میں مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔

گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول دندلیآج  دندلی کے نوجوانوں کی اسکول انتظامیہ اور اسکول کے پرنسپل صاحب ۔ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ...
19/05/2026

گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول دندلی
آج دندلی کے نوجوانوں کی اسکول انتظامیہ اور اسکول کے
پرنسپل صاحب ۔ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ہوئی، جس میں گراؤنڈ کی بندش کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر پرنسپل صاحب نے نوجوانوں کا مؤقف بھی سنا اور پوری صورتحال سے آگاہ کیا۔پرنسپل صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے نوجوانوں کا مؤقف سنا، پوری صورتحال کو واضح انداز میں بیان کیا اور معاملے کو مثبت طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔ ہماری طرف سے بھی ہمیشہ یہی کوشش رہے گی کہ ادارے کے احترام، نظم و ضبط اور مثبت ماحول کو برقرار رکھا جائے تاکہ کھیلوں اور نوجوانوں کی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں جاری رکھا جا سکے

میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گراؤنڈ کی بندش کسی ذاتی فیصلے کے تحت نہیں بلکہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق عملدرآمد کرتے ہوئے کی گئی ہے، جس میں سرکاری ادارہ جات میں غیر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چاہے سکول پرنسپل ہو یا کوئی بھی سرکاری ادارہ، وہ اپنے متعلقہ محکمہ اور قوانین کے ماتحت ہوتا ہے اور اسے اپنے ادارے کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے سکول انتظامیہ نے جو بھی اقدام کیا ہے وہ اپنے ادارے اور جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق کیا ہے۔

لیکن دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو دندلی میں نوجوانوں کے کھیلنے کے لیے صرف یہی ایک سکول گراؤنڈ موجود ہے، جہاں دندلی کے تقریباً تمام نوجوان کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ وزیرِ ہائر ایجوکیشن ملک ظفر اقبال صاحب اس پورے علاقے اور یہاں کے حالات سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے ان کے سامنے یہ تمام معاملات رکھے جائیں گے اور ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اس نوٹیفکیشن میں ترمیم کرتے ہوئے کھیلوں اور Sports Activities پر عائد پابندی کو ختم کیا جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ گراؤنڈ سکول کی حدود میں آتا ہے اور اسکول کی پراپرٹی ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ دندلی کے تقریباً 100 سے 150 نوجوان اسی گراؤنڈ سے وابستہ ہیں اور یہی ان کی واحد مثبت سرگرمی کا مرکز ہے۔ لہٰذا اس نوٹیفکیشن پر نظرِ ثانی کی جانی چاہیے۔

جہاں تک بات ہے سکول گراؤنڈ کے اندر لڑائی جھگڑے کی، تو جو بھی شخص گراؤنڈ کے اندر لڑائی، گالم گلوچ یا ماحول خراب کرتا پایا جائے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اس پر جرمانہ عائد کیا جائے اور گراؤنڈ میں اس کی انٹری پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ اسکول میں CCTV Cameras بھی نصب کیے جائیں تاکہ تمام معاملات کو بہتر انداز میں monitor کیا جا سکے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب بھی دندلی سکول گراؤنڈ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے پیچھے چند مخصوص افراد ہوتے ہیں جو ہر بار لڑائی جھگڑے اور ماحول خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں، جس سے نہ صرف دندلی کے نوجوان متاثر ہوتے ہیں بلکہ سکول کی بدنامی بھی ہوتی ہے۔

لہٰذا جب بھی گراؤنڈ دوبارہ کھولا جائے تو ایسے سخت انتظامات کیے جائیں کہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسا عمل نہ کر سکے جس کی وجہ سے دوبارہ گراؤنڈ بند کرنے کی نوبت آئے۔
ایک بات بالکل واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کھیلوں پر پابندی سے متعلق اس قسم کے کسی نوٹیفکیشن کے بارے میں ہمیں پہلے کوئی علم نہیں تھا۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو اٹھانے کا مقصد صرف ایک مسئلے کو highlight کرنا اور دندلی کی عوام سمیت متعلقہ حلقوں تک اپنی آواز پہنچانا تھا۔

لیکن اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ کسی فرد، کسی ادارے یا کسی شخصیت کو بدنام کیا جائے، نفرت پھیلائی جائے یا کسی بھی معاملے کو منفی انداز میں پیش کیا جائے۔ ہمارا مؤقف شروع سے واضح اور صاف تھا کہ آخر گراؤنڈ بند کیوں ہوا اور اس مسئلے کا مثبت حل کیا ہو سکتا ہے۔

اگر ہماری کسی بات سے کسی فرد، ادارے یا کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ لہٰذا ہماری باتوں، مطالبات اور مسائل کو بھی مثبت انداز میں دیکھا اور سمجھا جائے، کیونکہ ہمارا مقصد صرف اپنے نوجوانوں، اپنے علاقے اور مثبت سرگرمیوں کے حق میں آواز اٹھانا ہے۔

گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول دندلی دو افراد کے ذاتی جھگڑے کو بنیاد بنا کر پورے گراؤنڈ کو بند کر دینا نہ صرف ایک غیر منصفانہ...
15/05/2026

گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول دندلی
دو افراد کے ذاتی جھگڑے کو بنیاد بنا کر پورے گراؤنڈ کو بند کر
دینا نہ صرف ایک غیر منصفانہ فیصلہ ہے بلکہ علاقے کے سینکڑوں بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ کھلی زیادتی بھی ہے۔ یہ گراؤنڈ برسوں سے علاقے کے بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کے لیے کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں کا واحد ذریعہ رہا ہے، جہاں روزانہ کرکٹ، والی بال اور دیگر کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ یہی سرگرمیاں نوجوانوں کو نشے، آوارہ گردی اور دیگر غلط کاموں سے دور رکھتی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ والی بال کھیلنے والے دو مقامی افراد آپس میں لڑ پڑے، گالم گلوچ کی اور پھر اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ادارہ ہذا میں جا کر پوری صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے ذاتی دشمنی اور ضد میں آ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گراؤنڈ میں آنے والے تمام لڑکے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں اور ماحول خراب کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ چند افراد کی حرکت کو بنیاد بنا کر پورے علاقے کے نوجوانوں کو بدنام کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے۔
“یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ اسکول گراؤنڈ کے ساتھ جامع مسجد موجود ہے، جہاں سے جامع مسجد کے نوجوان اور بچے عصر کے بعد اپنا تھوڑا سا وقت نکال کر کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کا بھی اس پورے معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے۔ ایک مثبت اور صحت مند سرگرمی کو یوں بند کرنا کسی صورت درست فیصلہ نہیں ہے۔”
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ گراؤنڈ ہمیشہ سے مختلف نوعیت کے مواقع کا حصہ رہا ہے۔ کبھی سیاسی اجتماعات اور مختلف سرگرمیوں کی وجہ سے یہ استعمال ہوتا رہا ہے اور کبھی بھی اس سطح پر مستقل بندش کا سامنا نہیں رہا، لیکن افسوس کے ساتھ جب بات کھیل کے میدان اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کی آتی ہے تو بعض عناصر کی طرف سے اسے بند کروانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ بار بار دہرایا جا چکا ہے، جو انتہائی قابلِ تشویش ہے۔
سچ یہ ہے کہ کسی بھی کھیل کے میدان میں افراد کے درمیان تلخ کلامی یا جھگڑا ہو جانا ممکن ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پورے گراؤنڈ کو بند کر دیا جائے۔ اگر دو افراد غلطی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، نہ کہ سینکڑوں بے قصور بچوں اور نوجوانوں سے ان کا حق چھین لیا جائے۔
مزید افسوس اس بات کا ہے کہ بغیر مکمل تحقیق اور مکمل صورتحال جانے صرف یکطرفہ مؤقف سن کر گراؤنڈ کے حوالے سے سخت فیصلہ کر دیا گیا۔ کیا انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ متاثرہ تمام افراد کی بات سنے بغیر ہی اجتماعی سزا دے دی جائے؟
یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ ادارہ، یہ گراؤنڈ اور یہ کھیل کا میدان ہمارے لیے قابلِ احترام ہے۔ اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کی ذمہ داری ہم سب پر برابر عائد ہوتی ہے، لیکن اگر بغیر تحقیق کے اور صرف ذاتی اختلافات کی بنیاد پر دندلی کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کی جائے گی تو یہ سلسلہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس گراؤنڈ کے علاوہ ہمارے پاس کھیلنے کے لیے اور کوئی جگہ نہیں ہے
ادارہ ہذا سے پرزور اپیل ہے کہ جذباتی یا یکطرفہ فیصلوں کے بجائے مکمل تحقیق کی جائے اور صرف اصل ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پورے علاقے کے بچوں اور نوجوانوں پر پابندی لگانا کسی بھی صورت انصاف نہیں بلکہ ایک نئی ناانصافی کو جنم دینا ہے۔
اگر گراؤنڈ کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو ہم بطور احتجاج ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس جائیں گے اور ان کے سامنے پوری صورتحال تفصیل کے ساتھ رکھیں گے۔


27/09/2025
27/09/2025

‏اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيدٌ

اللہ سب کو ہدایت دے
02/04/2023

اللہ سب کو ہدایت دے

24/01/2023

Natureجزاك اللّٰه خيرًا

Address

Gam Kotli

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Youth Action Committee dandli posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share