Safina E Ishq

03/06/2026

ہوس کی گند اور روح کی بے چینی

جب انسان کا تعلق صرف خواہشِ نفس، جسمانی کشش یا وقتی لذت پر قائم ہو، تو وہاں سکون پیدا نہیں ہوتا۔
کیونکہ نفس کبھی سیر نہیں ہوتا۔

قرآن فرماتا ہے
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ ۔ بے شک نفس برائی کا بہت حکم دیتا ہے۔
ہوس کی بنیاد پر بننے والا تعلق دراصل دو بھوکے دلوں کا ملاپ ہوتا ہے، اور بھوک کبھی بھوک کو سیر نہیں کرتی۔
اسی لیے فرمایا:

“ہوس زدہ کو ہوس زدہ پسند نہیں"

یعنی جو خود اندر سے آلودہ ہے، وہ بھی حقیقت میں پاکیزگی، وفاداری، سکون اور محبت چاہتا ہے۔
ایک بدکار انسان بھی اپنے لیے وفادار ساتھی چاہتا ہے۔
ایک جھوٹا انسان بھی چاہتا ہے کہ اسے سچا انسان ملے۔
ایک دھوکے باز بھی چاہتا ہے کہ کوئی اس سے مخلص رہے۔

یہی انسان کی فطرت کا راز ہے: روح اصل میں نور اور پاکیزگی کو ڈھونڈتی ہے، مگر نفس اسے گندگی میں کھینچتا ہے۔

مثال: پیاسا اور کھارا پانی

ہوس پر مبنی تعلق کھارے پانی کی مانند ہے۔
جتنا انسان اسے پیتا ہے، اتنی ہی پیاس بڑھتی ہے۔

حرام محبتیں، خفیہ تعلقات، جسمانی کشش پر بننے والے رشتے، ابتداء میں آگ کی طرح گرم محسوس ہوتے ہیں، مگر آخر میں راکھ، خالی پن اور بے سکونی چھوڑ جاتے ہیں۔

کیونکہ جسم وقتی لذت دیتا ہے، مگر روح ہمیشہ سکون مانگتی ہے۔
اور روح کا سکون صرف پاکیزگی، حلال تعلق، سچائی اور اللہ کی رضا میں ہے۔

“روحیں روحوں کو ڈھونڈ رہی ہیں”
یہ جملہ نہایت عمیق ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:
الأرواح جنود مجندة “روحیں ایک جمع شدہ لشکر ہیں۔”
یعنی روحوں کے درمیان ایک غیر مرئی تعارف ہوتا ہے۔
کچھ لوگ پہلی ملاقات میں ہی دل کے قریب محسوس ہوتے ہیں، اور کچھ مدتوں ساتھ رہ کر بھی اجنبی لگتے ہیں۔

کیوں؟
کیونکہ اصل تعلق جسموں کا نہیں، کیفیتوں کا ہوتا ہے۔

اگر ایک روح ذکر، اخلاص، حیا، محبتِ الٰہی اور سچائی سے معطر ہو، تو وہ ویسی ہی روحوں کی طرف کھنچتی ہے۔

یہی “خوشبو” ہے۔
خوشبو رکھنے والی روحیں
خوشبو رکھنے والی روحیں کون سی ہیں؟
جو گناہ کے اندھیرے میں بھی اللہ کو یاد رکھیں۔
جو محبت میں پاکیزگی چاہیں، ملکیت نہیں۔
جو لوگوں کے جسم نہیں، دل سنبھالیں۔
جن کے اندر حسد کم اور دعا زیادہ ہو۔
جن کے دل میں دنیا سے زیادہ خدا کی طلب ہو۔
ایسے لوگ دنیا میں کم ہوتے ہیں، مگر جب ملتے ہیں تو پہچان لیتے ہیں۔

“وہ اپنی اپنی خوشبو کو سو پردوں میں بھی پا لیتی ہیں”
یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی مشابہت ظاہری فاصلے، زبان، رنگ، شہر یا زمانے کی محتاج نہیں ہوتی۔

دو سچے دل اگر اللہ کی طلب رکھتے ہوں، تو ان کے درمیان ایک خاموش انس پیدا ہو جاتا ہے۔

تاویل: یوسفؑ کی خوشبو
حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا تھا.
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ “میں یوسف کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔”
یہ صرف قمیص کی خوشبو نہ تھی، بلکہ روحانی تعلق کی مہک تھی۔
دنیا والوں نے کہا: “آپ وہم میں ہیں”
مگر محبت والے جانتے تھے کہ روحیں فاصلے سے نہیں کٹتیں۔
یہی حال اہلِ ایمان کا ہے۔ ایک مومن دوسرے مومن کی کیفیت محسوس کر لیتا ہے، چاہے زبان خاموش ہو۔

بے پردہ ہو کر بھی بھٹکنا
“گند رکھنے والے بے پردہ ہو کر بھی خوشبو کے لیے بھٹکتے رہتے ہیں”
یعنی بعض لوگ اپنی نمائش، ظاہری خوبصورتی، کشش، یا دنیاوی چمک کے باوجود سچی محبت، سکون اور وفاداری سے محروم رہتے ہیں۔
کیونکہ اصل حسن چہرے کا نہیں، باطن کا ہوتا ہے۔

جس دل میں حسد، شہوت، تکبر، دھوکہ اور ریا بھری ہو، وہ باہر سے جتنا بھی سجا ہو، روحانی طور پر ویران رہتا ہے۔

اسی لیے اولیاء فرماتے ہیں:
“گناہ کی ایک تاریکی چہرے سے پہلے روح پر اترتی ہے۔”

1. اپنے باطن کو پاک کرو
صرف ظاہری نیکی کافی نہیں۔ دل کو بھی حسد، ہوس، نفرت اور ریا سے پاک کرنا ضروری ہے۔

2. حرام تعلق سکون نہیں دیتے
جو تعلق اللہ کی نافرمانی پر قائم ہو، وہ وقتی نشہ تو دے سکتا ہے، مگر دائمی سکون نہیں۔

3. روحانی خوشبو ذکر سے پیدا ہوتی ہے۔
قرآن، ذکر، توبہ، حلال رزق، حیا، اور اخلاص یہ روح کی خوشبو ہیں۔

4. جیسا باطن ہوگا ویسی صحبت ملے گی۔
پاکیزہ روحیں پاکیزگی کی طرف کھنچتی ہیں، اور آلودہ روحیں اپنی جنس کی طرف۔

قرآن فرماتا ہے۔
> الخبيثات للخبيثين والطيبات للطيبين “ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں۔”

یہ صرف نکاح نہیں، بلکہ عمومی روحانی مشابہت کا قانون بھی ہے۔

ایک روحانی حقیقت
اگر انسان چاہتا ہے کہ اسے “خوشبو رکھنے والی روحیں” نصیب ہوں، تو پہلے اسے خود اپنے باطن کو معطر کرنا ہوگا۔

کیونکہ کانٹے پھولوں کی محفل میں جگہ نہیں پاتے، اور خوشبو ہمیشہ خوشبو کو پہچان لیتی ہے۔

روح کا اصل عطر: ذکرِ الٰہی، صدق، حیا، اخلاص، اور محبتِ رسول ﷺ ہے۔

جس دل میں یہ خوشبو بس جائے، وہ تنہا ہو کر بھی ویران نہیں رہتا، کیونکہ اس کے اندر اللہ کی قربت کا باغ کھل جاتا ہے۔

مُرشد پاک حضرت واصف علی واصف رح اپنی “گفتگو” کی محفل میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ وہ اپنے اس انداز  سے بیان فرما رہے...
01/06/2026

مُرشد پاک حضرت واصف علی واصف رح اپنی “گفتگو” کی محفل میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ وہ اپنے اس انداز سے بیان فرما رہے تھے جو کہ صرف ان سے مخصوص تھا۔ Pin drop silence میں مبہوت سامعین و حاضرین جواب سنتے جا رہے تھے۔ کچھ دیر وضاحت کے بعد آپ نے فرمایا کہ اب اس بات کو مزید سمجھنے کے لیے ایک شعر سن لو کیونکہ شعر سے ساری کیفیت Sum up ہو جاتی ہے۔

لفظ “ شاعری “ کی یہ ایک نئی اور نادر جہت سے وضاحت تھی۔ شاعری کیا ہے، یہ تو تقریباً سبھی جانتے ہیں ۔قدیم یونان کے لٹریچر میں اسے “ تخلیق” کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ یونانی زبان کے لفظ سے اخذ کر کے انگلش میں اسے Poetry کا نام دیا گیا۔

ہر ملک و معاشرے میں شاعری موجود رہی ہے مگر اس کا سب سے شاندار جلوہ عرب معاشرے میں ملتا ہے۔قبل از اسلام بھی قبائل کے افراد کا اٹھنابیٹھنا، روزمرہ گفتگو، شادی غمی، صلح لڑائی اور جنگ و جدل ، ان سب میں شاعری ایک لازمی جزو تھی ۔فارسی زبان میں بھی یہ ایک مضبوط روایت رکھتی ہے۔اردو شاعری کی بھی بڑی Rich اور مضبوط روایت ہے۔ اس قبیل کے سرخیل شعرائے کرام اردوئے معلّٰی کے اساتذہ گردانے جاتے ہیں ۔

سخن کے بادشاہ میر تقی میر شاعری سے یوں تعارف کراتے ہیں

مجھ کو شاعر نہ کہو کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے جمع کیے تو دیوان کیا

پھر مرزا اسداللّٰہ خان غالب اس طرح شاعری کے بارے میں گویا ہوتے ہیں

کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

اس میں انہوں نے “شاعری” کو قلب کی ایک کیفیت اور حالت کا نام دے دیا۔

علامہ محمد اقبال رح کی باری آئی تو انہوں نے “شاعری” کے بارے میں یوں بیان کیا

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر میرا کیا ہے شاعری کیا ہے

آپ سرکار حضرت واصف علی واصف رح نے کئی مقامات پر شاعری کا ذکر کیا ہے؛

فرماتے ہیں کہ شاعر صرف جاگتا ہے، باقی کام رات خود کر لیتی ہے۔
اپنی شاعری کی حقیقت اور اس کے اثرات سے اپنا تعلق، رابطہ اور اُنس ظاہر کرتے ہیں تو یوں فرماتے ہیں

مار ڈالے گی شاعری واصف
بھول کر شاعری کا نام نہ لو

آپ کے ادارے “لاہور انگلش کالج “میں کئی مشاعرے ہوا کرتے تھے جس میں دوسرے شعرا کے ساتھ آپ بھی اپنا کلام پیش کرتے۔ ایک مرتبہ ریڈیو پاکستان کے لاہور سٹیشن کے ایک مشاعرہ میں آپ نے کلام پڑھا جس کی آڈیو ریکارڈنگ صاحبزادہ کاشف محمود صاحب کی ذاتی آرکائیو میں موجود ہے ۔ ایک ویڈیو ریکارڈنگ طفیل محترم صاحب کے ہاں منعقدہ مشاعرہ کی بھی موجود ہے جس میں آپ نے اپنی مشہور پنجابی نعت” تُوں سلطان زمانے بھر دا” سُنائی تھی۔

ایک مرتبہ کسی بے تکلف دوست نے ازراہِ مذاق آپ سے کہا کہ آپ شاعری نہیں کر سکتے۔ یوں تو بات آئی گئی ہو گئی مگر آپ نے اس ایک رات میں تین سو اشعار لکھ ڈالے ۔

شاعری اور شعر کے ذکر میں آپ نے جب اپنے رسولِ پاک صلّی اللّٰہ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کے حوالے سے اپنی عاجزانہ نسبت اور عقیدت کا ذکر کیا تو اس ذکر کو چار چاند بلکہ کتنے ہی چاند لگ گئے۔ بس یہ کہہ کے بات ہی ختم کر دی کہ

نہ شاعر ہوں نہ شاعر کی نوا ہوں
بس اک ادنیٰ غلامِ مصطفیٰ ہوں

صلّی اللّٰہ علیہ و اٰلہٖ و سلّم !!!

————————————-

( مخدوم محمد حسین )

🌸

01/06/2026

سجناں رے کیوں بھیگے تورے نین

01/06/2026

یہ محض صوفیاء کا قول نہیں بلکہ قرآنِ کریم کے اصول سے ماخوذ ایک حقیقت ہے
اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو حکم دیا: (البقرة 34)
"اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کا۔فر۔۔وں میں ہو گیا"

یہاں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام نہ صرف ہمارے جدِ امجد ہیں بلکہ پہلے معلم اور شیخ بھی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (البقرة 31)
"اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ"

پس سب سے پہلے استاد اور شیخ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے وسیلے سے علم عطا فرمایا یہی سلسلہ ہدایت آگے بڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے اپنے برگزیدہ انبیاء مبعوث فرمائے،
سیدنا نوح، سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام، سب اللہ کے منتخب کردہ رہنما تھے۔ مگر جب بھی کوئی نبی آیا، لوگوں نے اس کا انکار کیا سب سے پہلا انکار ابلیس نے سیدنا آدم علیہ السلام کے بارے میں کیا اور اس انکار کی بنیاد تکبر اور سرکشی تھی

ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حضور قسم کھائی: (الأعراف 16-17)
اس نے کہا کہ"چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور تیرے سیدھے راستے پر ان کے لیے بیٹھوں گا، پھر ان کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا"

مگر ساتھ ہی اس نے یہ بھی اقرار کیا:
إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (الحجر 40)
"سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں"

یہ وہی اللہ کے برگزیدہ انبیاء، اولیاء اور اہلِ بیت اطہار ہیں جن پر شیطان نے خود اپنے بے بس ہونے کا اعتراف کیا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ (الحجر 42)
"بے شک میرے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا، مگر جو تیری پیروی کریں گے وہی گمراہ ہوں گے"

اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کے مقرب بندے ہی دراصل سیدھی راہ کی نشانی ہیں۔ جو ان سے وابستہ ہو گیا وہ اللہ تک پہنچ گیا، اور جس نے انکار کیا وہ شیطان کے راستے پر چل پڑا
قرآن میں فرمایا گیا:
وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد 7)
"ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے"

اور مزید فرمایا:
وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (الرعد 33)
"اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کے لیے کوئی رہنما نہیں"

یعنی ہر زمانے میں ہدایت کے لیے ایک رہبر کا ہونا ضروری ہے۔ اور جس کے پاس ایسا رہنما نہ ہو، وہ گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔

قرآن میں یہ بھی ارشاد ہوا:
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ (الإسراء 71)
"جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے"

لہٰذا جس کا کوئی امام نہ ہوگا وہ محرومی اور گمراہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
(صحیح مسلم 1851)
"جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے گلے میں بیعت نہ تھی، وہ جاہلیت کی موت مرا"

بیعت کا تصور قرآن میں بھی بیان ہوا:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ (الفتح 10)
"بے شک جو آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل اللہ سے بیعت کرتے ہیں"

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی خلفائے راشدین کے ساتھ اسی طرح بیعت کی

اگر کوئی شخص اہلِ بیت کے تسلسل کا انکار کرے اور یہ کہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے تو یہ وہی طرزِ فکر ہے جو مشر۔۔کینِ مکہ نے اختیار کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی نسل منقطع ہو جائے گی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ (الكوثر 3)
یقیناً آپ کا دشمن ہی لا وارث اور بے نام و نشان ہے

تاریخ گواہ ہے کہ مخالفین کا نام و نشان مٹ گیا مگر رسول اللہ ﷺ کی نسل اہلِ بیت کے ذریعے آج بھی قائم و دائم ہے اور قیامت تک رہے گی

اہلِ بیت اور اولیاء اللہ سے تعلق محض ایک سماجی یا تاریخی نسبت نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (مسلم، ترمذی)
" میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے، اللہ کی کتاب اور میری عترت اہلِ بیت، اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آئیں گے"

مزید احادیث میں اہلِ بیت کی محبت اور ادب کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور ان سے بغض کو سخت وعید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ انسان یا تو اللہ کے چنے ہوئے بندوں، انبیاء، اولیاء اور اہلِ بیت کے ساتھ وابستہ ہو کر ہدایت کی راہ پر ہوتا ہے، یا پھر شیطان کے دھوکے میں آ کر گمراہی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں....

28/05/2026

ساتھوں کاہنوں پھیریاں نے اکھیاں وے بابوا
اللہ کرے دونیاں ترقیاں وبے بابو ا

28/05/2026

جب تک کہ روح تیرے لیے خود نہ بول اٹھے زبان نہ ہلا۔ حضرت نوح کی کشتی میں بیٹھ اور اپنا تیر نا چھوڑ۔ جیسے کہاوت ہے کہ کنعان جو بڑا تیراک تھا کہنے لگا کہ نوح ہمارا دشمن ہے ۔ہمیں اس کی کشتی نہیں چاہئے۔ بہتیرا نوح نے کہا کہ آ ہمارے ساتھ کشتی میں بیٹھ تاکہ طوفان میں غرق ہونے سے بچ سکے۔ مگر کنعان نے جواب دیا کہ میں تیرنا جانتا ہوں۔ میری شمع میرے ساتھ ہے۔ تیری شمع کی کیا پروا۔ نوح نے کہا ہائیں ایسا نہ کر، یہ طوفان ایک بلا ہے۔ ساری تیراکی رہ جائے گی۔ ہاتھ پیر شل ہوجائیں گیں۔ ہوا کے جھکّڑ سب شمعوں کو بجھا دیں گے۔ اس میں سوا حق کی شمع کے اور کوئی روشن نہ رہ سکے گی۔
کنعان نے کہا کہ میں اونچے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور پہاڑ ہر طغیانی سے محفوظ ہے۔ نوح نے کہا خبردار ایسا نہ کرنا۔ وہ پہاڑ بھی اس موقع پر گھاس کی ایک پتّی کے برابر ہے اور خدا سوا اپنے دوستوں کے اور کسی کو نجات نہ دے گا۔ کاہےن نے کہا میں نے آج تک تیری نصیحت کب سنی تھی کہ تو اب میرے نصیت ماننے کی امید کرتا ہے۔ مجھے ہر گز تیری بات پسند نہیں آئی۔ میں دونوں جہان میں تجھ سے الگ ہوں۔ نوحؑ نے کہا کہ اے فرزند اس وقت ضدی مت بن۔ یہ موقع اَڑنے کا نہیں کیوں کہ خدا کا نہ کوئی رشتے دار ہے نہ کوئی برابری والا۔ تونے جو کچھ کیا سو کیا مگر یہ وقت نازک ہے۔اس بارگاہ میں کس پر کون ناز کرسکتا ہے۔

الغرض وہ اس طرح نصیحتیں کرتا اور اسے بلاتا رہا اور سخت جواب سنتا رہا۔ نہ باپ نصیحت سے باز آیا نہ اس بدبخت نے کوئی بات مانی ۔ یہ دونوں ان ہی باتوں میں تھے کہ ایک تیز موج آئی اور سوکھے پتّے کی طرح کنعان کو بہا کر ریزہ ریزہ کردیا۔ نوحؑ نے بارگاہ ایزدی میں عرض کی اے رحیم وکریم بادشاہ میرا گدھا مرگیا اور تیری موج میری کملی کو بہا لے گئی۔ تونے مجھ سے بارہا وعدہ کیا کہ میرے لوگ طوفان سے بچے رہیں گے ۔ارشادِ خدا وندی ہوا کہ وہ تیرے لوگوں میں سے نہ تھا۔ تجھے خود سفید اور نیلے میں تمیز نہیں رہی۔ جب تیرے دانت میں کیڑالگ جائے تو اس دانت سے ہاتھ دھو اور اس کو اکھڑوا دے ۔ اگرچہ وہ دانت تیرا ہی تھا۔ مگر تو اس سے بیزار ہوجاتا ہے کہ تیراباقی جسم اس دانت سے دردمند ہوجائے گا۔
نوح نے عرض کی کہ میں تیری ذات کے سوا غیر سے بیزار ہوں اور کون غیر ہے جو تجھ سے نہ ہارا ہو۔ تو خود جانتا ہے کہ تیرے ساتھ میرا کیا حال ہے۔ پھر اشار ہوا کہ اے نوح اگر تو سب کو دوبارہ پیدا کرنا چاہے تو ابھی زمین سے اٹھادوں گا۔ ایک کنعان کے لیے میں تیرا دل نہیں توڑوں گا۔ لیکن اس کے احوال سے تجھے آگاہ کرتا ہوں۔ نوح نے عرض کی کہی نہیں نہیں اگر تجھے منظور ہوتو مجھے بھی غرق کردے میں راضی ہوں۔ اگر تو مجھے مارے گا تو وہ موت ہی میری جان ہوجائے گی۔ میں تیرے سوا کسی کو نہیں دیکھوں گا۔

خدا کی صنعت کا دل دادہ صاحبِ عزت ہوتا ہے مگر جو بنی ہوئی چیز پر فریفتہ ہو وہ کفر کی ذلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
مأخذ :

کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 116)

Address

Chak No. 254 RB Mazhabi Wala
Faisalabad
FSDF

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safina E Ishq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category