03/06/2026
ہوس کی گند اور روح کی بے چینی
جب انسان کا تعلق صرف خواہشِ نفس، جسمانی کشش یا وقتی لذت پر قائم ہو، تو وہاں سکون پیدا نہیں ہوتا۔
کیونکہ نفس کبھی سیر نہیں ہوتا۔
قرآن فرماتا ہے
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ ۔ بے شک نفس برائی کا بہت حکم دیتا ہے۔
ہوس کی بنیاد پر بننے والا تعلق دراصل دو بھوکے دلوں کا ملاپ ہوتا ہے، اور بھوک کبھی بھوک کو سیر نہیں کرتی۔
اسی لیے فرمایا:
“ہوس زدہ کو ہوس زدہ پسند نہیں"
یعنی جو خود اندر سے آلودہ ہے، وہ بھی حقیقت میں پاکیزگی، وفاداری، سکون اور محبت چاہتا ہے۔
ایک بدکار انسان بھی اپنے لیے وفادار ساتھی چاہتا ہے۔
ایک جھوٹا انسان بھی چاہتا ہے کہ اسے سچا انسان ملے۔
ایک دھوکے باز بھی چاہتا ہے کہ کوئی اس سے مخلص رہے۔
یہی انسان کی فطرت کا راز ہے: روح اصل میں نور اور پاکیزگی کو ڈھونڈتی ہے، مگر نفس اسے گندگی میں کھینچتا ہے۔
مثال: پیاسا اور کھارا پانی
ہوس پر مبنی تعلق کھارے پانی کی مانند ہے۔
جتنا انسان اسے پیتا ہے، اتنی ہی پیاس بڑھتی ہے۔
حرام محبتیں، خفیہ تعلقات، جسمانی کشش پر بننے والے رشتے، ابتداء میں آگ کی طرح گرم محسوس ہوتے ہیں، مگر آخر میں راکھ، خالی پن اور بے سکونی چھوڑ جاتے ہیں۔
کیونکہ جسم وقتی لذت دیتا ہے، مگر روح ہمیشہ سکون مانگتی ہے۔
اور روح کا سکون صرف پاکیزگی، حلال تعلق، سچائی اور اللہ کی رضا میں ہے۔
“روحیں روحوں کو ڈھونڈ رہی ہیں”
یہ جملہ نہایت عمیق ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:
الأرواح جنود مجندة “روحیں ایک جمع شدہ لشکر ہیں۔”
یعنی روحوں کے درمیان ایک غیر مرئی تعارف ہوتا ہے۔
کچھ لوگ پہلی ملاقات میں ہی دل کے قریب محسوس ہوتے ہیں، اور کچھ مدتوں ساتھ رہ کر بھی اجنبی لگتے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ اصل تعلق جسموں کا نہیں، کیفیتوں کا ہوتا ہے۔
اگر ایک روح ذکر، اخلاص، حیا، محبتِ الٰہی اور سچائی سے معطر ہو، تو وہ ویسی ہی روحوں کی طرف کھنچتی ہے۔
یہی “خوشبو” ہے۔
خوشبو رکھنے والی روحیں
خوشبو رکھنے والی روحیں کون سی ہیں؟
جو گناہ کے اندھیرے میں بھی اللہ کو یاد رکھیں۔
جو محبت میں پاکیزگی چاہیں، ملکیت نہیں۔
جو لوگوں کے جسم نہیں، دل سنبھالیں۔
جن کے اندر حسد کم اور دعا زیادہ ہو۔
جن کے دل میں دنیا سے زیادہ خدا کی طلب ہو۔
ایسے لوگ دنیا میں کم ہوتے ہیں، مگر جب ملتے ہیں تو پہچان لیتے ہیں۔
“وہ اپنی اپنی خوشبو کو سو پردوں میں بھی پا لیتی ہیں”
یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی مشابہت ظاہری فاصلے، زبان، رنگ، شہر یا زمانے کی محتاج نہیں ہوتی۔
دو سچے دل اگر اللہ کی طلب رکھتے ہوں، تو ان کے درمیان ایک خاموش انس پیدا ہو جاتا ہے۔
تاویل: یوسفؑ کی خوشبو
حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا تھا.
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ “میں یوسف کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔”
یہ صرف قمیص کی خوشبو نہ تھی، بلکہ روحانی تعلق کی مہک تھی۔
دنیا والوں نے کہا: “آپ وہم میں ہیں”
مگر محبت والے جانتے تھے کہ روحیں فاصلے سے نہیں کٹتیں۔
یہی حال اہلِ ایمان کا ہے۔ ایک مومن دوسرے مومن کی کیفیت محسوس کر لیتا ہے، چاہے زبان خاموش ہو۔
بے پردہ ہو کر بھی بھٹکنا
“گند رکھنے والے بے پردہ ہو کر بھی خوشبو کے لیے بھٹکتے رہتے ہیں”
یعنی بعض لوگ اپنی نمائش، ظاہری خوبصورتی، کشش، یا دنیاوی چمک کے باوجود سچی محبت، سکون اور وفاداری سے محروم رہتے ہیں۔
کیونکہ اصل حسن چہرے کا نہیں، باطن کا ہوتا ہے۔
جس دل میں حسد، شہوت، تکبر، دھوکہ اور ریا بھری ہو، وہ باہر سے جتنا بھی سجا ہو، روحانی طور پر ویران رہتا ہے۔
اسی لیے اولیاء فرماتے ہیں:
“گناہ کی ایک تاریکی چہرے سے پہلے روح پر اترتی ہے۔”
1. اپنے باطن کو پاک کرو
صرف ظاہری نیکی کافی نہیں۔ دل کو بھی حسد، ہوس، نفرت اور ریا سے پاک کرنا ضروری ہے۔
2. حرام تعلق سکون نہیں دیتے
جو تعلق اللہ کی نافرمانی پر قائم ہو، وہ وقتی نشہ تو دے سکتا ہے، مگر دائمی سکون نہیں۔
3. روحانی خوشبو ذکر سے پیدا ہوتی ہے۔
قرآن، ذکر، توبہ، حلال رزق، حیا، اور اخلاص یہ روح کی خوشبو ہیں۔
4. جیسا باطن ہوگا ویسی صحبت ملے گی۔
پاکیزہ روحیں پاکیزگی کی طرف کھنچتی ہیں، اور آلودہ روحیں اپنی جنس کی طرف۔
قرآن فرماتا ہے۔
> الخبيثات للخبيثين والطيبات للطيبين “ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں۔”
یہ صرف نکاح نہیں، بلکہ عمومی روحانی مشابہت کا قانون بھی ہے۔
ایک روحانی حقیقت
اگر انسان چاہتا ہے کہ اسے “خوشبو رکھنے والی روحیں” نصیب ہوں، تو پہلے اسے خود اپنے باطن کو معطر کرنا ہوگا۔
کیونکہ کانٹے پھولوں کی محفل میں جگہ نہیں پاتے، اور خوشبو ہمیشہ خوشبو کو پہچان لیتی ہے۔
روح کا اصل عطر: ذکرِ الٰہی، صدق، حیا، اخلاص، اور محبتِ رسول ﷺ ہے۔
جس دل میں یہ خوشبو بس جائے، وہ تنہا ہو کر بھی ویران نہیں رہتا، کیونکہ اس کے اندر اللہ کی قربت کا باغ کھل جاتا ہے۔