Awaze Jazbaat

Awaze Jazbaat Mystery, emotions, poetry & power. Awaze Jazbaat speaks what many feel but few say

09/05/2025

سرحد کے سائے میں روشن دل – پاکستان کا حوصلہ

7، 8 اور 9 مئی 2025 کا وقت شاید تاریخ میں سنہری حروف سے نہیں، بلکہ لوہے کے الفاظ سے لکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھے جب فضائیں بارودی گیسوں سے بوجھل تھیں، سرحدوں پر دشمن کی نقل و حرکت بڑھی ہوئی تھی، اور میڈیا پر خبریں برق رفتاری سے بدل رہی تھیں۔

لیکن اس ساری ہلچل کے باوجود پاکستان کی زمین ساکت تھی — پرامن مگر پرعزم، زخمی مگر زندہ، اور چپ مگر للکارتی ہوئی۔

پاکستانی قوم کا اجتماعی شعور

آج کے پاکستان میں جنگ صرف بارود کی نہیں، بلکہ اعصاب کی جنگ بھی ہے۔
جب دشمن کی جانب سے لفظی حملے شروع ہوتے ہیں، تو پاکستان کے نوجوان اپنی زبان سے نہیں، اپنے کردار سے جواب دیتے ہیں۔

ہر شہری نے اپنی اپنی جگہ ایک سپاہی کا کردار ادا کیا —

سوشل میڈیا پر جھوٹے پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔

اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور نرسز نے زخمیوں کو انسانیت کے رشتے سے سنبھالا۔

شہروں میں لوگ امن و اتحاد کا مظاہرہ کر کے دنیا کو بتایا کہ ہم ایک نیشن ہیں، فرقہ واریت اور لسانیت سے بالاتر۔

مائیں، بہنیں، اور بیٹیاں — خاموش سپاہی

ان ماؤں کو سلام، جن کے بیٹے سرحد پر جان دے آئے، مگر ان کے چہرے پر آنسو نہیں، فخر تھا۔
ان بیٹیوں کو خراج تحسین، جو بَلا خوف و ہچکچاہٹ کے اسپتالوں، میڈیا ہاؤسز اور ریلیف کیمپوں میں خدمات انجام دیتی رہیں۔

یہی وہ جذبہ ہے جسے دشمن کبھی سمجھ نہ پایا —
کہ یہ قوم شکست کھا بھی جائے، تو بھی جھکتی نہیں۔

فوج – قوم کی آنکھوں کا تارا

فوج پر تنقید بھی ہوتی ہے اور توقعات بھی رکھی جاتی ہیں۔
مگر جب وقت آتا ہے، تو ہر پاکستانی جانتا ہے کہ
"سرحد پر ایک وردی والا کھڑا ہے، تب ہی ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔"

7 اور 8 مئی کو جب کشیدگی عروج پر تھی،
تو پاک فضائیہ کے جہاز فضا میں تھے،
بری فوج مورچوں پر ڈٹی ہوئی تھی،
اور نیوی سمندری حدود کا پہرہ دے رہی تھی۔

جنگ صرف بارود سے نہیں، ایمان سے جیتی جاتی ہے

دشمن نے شاید یہ سمجھا کہ پاکستانی قوم تھک چکی ہے۔
مگر وہ بھول گیا کہ
یہ وہ قوم ہے جو کربلا سے لے کر کارگل تک قربانی کے فلسفے کو خون سے لکھ چکی ہے۔

ہم نے جینا سیکھا ہے،
ہم نے مر کر بھی زندہ رہنے کا ہنر سیکھا ہے۔
اور یہی چیز ہمیں دشمن سے ممتاز کرتی ہے۔

---

نتیجہ:

یہ کالم اُن دنوں کا آئینہ ہے جب پوری قوم ایک جسم کی مانند تھی —
جہاں ایک حصے کو درد ہو تو سارا جسم تڑپتا ہے۔
جہاں ایک سپاہی کی شہادت پر لاکھوں دل روتے ہیں، مگر وہی دل دشمن کو للکارتے ہیں۔

ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر اپنی مٹی پر ایک قدم بھی برداشت نہیں کریں گے۔
ہمارے پاس نہ وسائل کی فراوانی ہے، نہ عالمی طاقتوں کی پشت پناہی —
مگر ہمارے پاس ایک چیز ہے جو دنیا کی کوئی فوج خرید نہیں سکتی —
ایمان، اتحاد اور قربانی کا جذبہ۔

پاکستان زندہ باد۔

سیاست نہیں، سودے بازی ہے — 2025 کا پاکستان بےنقابیہ تحریر کسی سیاسی جماعت، اسٹیبلشمنٹ یا میڈیا ہاؤس کے لیے نہیں لکھی گئی...
06/05/2025

سیاست نہیں، سودے بازی ہے — 2025 کا پاکستان بےنقاب

یہ تحریر کسی سیاسی جماعت، اسٹیبلشمنٹ یا میڈیا ہاؤس کے لیے نہیں لکھی گئی۔
یہ اُن کروڑوں پاکستانیوں کے لیے ہے جو ہر پانچ سال بعد ووٹ دیتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں، اور ہر بار شکست خوردہ لوٹتے ہیں۔
2025 کا پاکستان، ایک ایسا ملک ہے جس کے آئین میں جمہوریت ہے، مگر حکمرانی میں صرف چہروں کی تبدیلی ہے، نظام وہی ہے — جو غریب کو روندتا ہے، امیر کو بچاتا ہے۔

---

نظامِ سیاست یا نظامِ غلامی؟

پاکستان میں سیاست، جمہوریت یا عوامی خدمت نہیں بلکہ ایک کاروباری ماڈل بن چکی ہے:

جہاں اسمبلی میں جانے کے لیے کروڑوں لگتے ہیں اور پھر وہی پیسہ ٹھیکوں، کمیشن اور تبادلوں سے نکالا جاتا ہے۔

موجودہ پارلیمنٹ میں 70% ارکان ایسے ہیں جن کی تعلیم یا عوامی خدمت کا کوئی پسِ منظر نہیں۔ صرف تعلقات اور سرمایہ۔

پاکستان میں 75 سال میں ایک بھی وزیراعظم اپنی مدت مکمل نہ کر سکا — یہ اتفاق نہیں، منصوبہ بندی ہے۔ (Source: National Assembly Archives)

---

اسٹیبلشمنٹ — پردے کے پیچھے اصل حکومت

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کا ریموٹ کنٹرول جی ایچ کیو میں ہوتا ہے۔

ہر نئی سیاسی جماعت، چاہے وہ تبدیلی کا نعرہ ہو یا روٹی کپڑا مکان — کسی نہ کسی "اشارے" پر پیدا ہوتی ہے۔

منتخب وزرائے اعظم کو یا تو عدالت، یا آرٹیکل 6، یا تحریکِ عدم اعتماد سے نکالا جاتا ہے — وجہ کچھ بھی ہو، اصل طاقت کہیں اور ہے۔

فوجی بجٹ میں 2025 میں 23 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی (Source: Ministry of Finance)

---

میڈیا — آزاد نہیں، فروخت شدہ

پاکستانی میڈیا 2025 میں مکمل طور پر ریٹنگ اور راشن کا غلام بن چکا ہے:

سچ بولنے والے صحافی یا تو بےروزگار ہیں، یا ملک چھوڑ چکے ہیں۔

بڑے چینلز کو صرف وہی مواد دکھانے کی اجازت ہے جو مخصوص حلقوں کو "قابلِ قبول" ہو۔

جعلی خبریں، کردار کشی، اور "نیریٹیو کنٹرول" آج کی صحافت کی بنیادی پالیسی ہے۔ (Source: RSF World Press Freedom Index)

---

عوام — زندگی یا بقا کی جنگ؟

پاکستان میں ہر دن 40 بچے غذائی قلت سے مرتے ہیں (Source: UNICEF Pakistan)

2025 میں مہنگائی 32 فیصد کی بلند ترین سطح پر ہے، اور اوسط تنخواہ 30,000 روپے سے کم

1 کروڑ نوجوان بیروزگار ہیں — جن کے خواب صرف سوشل میڈیا کی اسکرین تک محدود ہیں

تعلیم کا بجٹ GDP کا صرف 1.5 فیصد ہے — کم ترین جنوبی ایشیاء میں (Source: UNESCO)

---

عالمی دنیا کی نظر میں پاکستان — غیر مستحکم، ناقابلِ بھروسہ

IMF نے پاکستان کو ‘Pre-default State’ قرار دیا

Transparency International کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن میں مزید نیچے چلا گیا

UNHCR نے 2025 میں پاکستان کو "fragile democracy" کا درجہ دیا

Google Trends کے مطابق دنیا بھر میں "Pakistan" کے ساتھ سب سے زیادہ سرچ الفاظ:
"Crisis, Army Rule, Corruption, Dollar Rate, Bail, Arrest"

---

حقیقت یا تلخی؟

یہ ملک برباد ہو رہا ہے — مگر ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ "ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں"۔
یہی سب سے بڑا فریب ہے۔

---

کالم کا سوال:

کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
یا ہم نے صرف اپنے آقا بدل دیے ہیں؟

---

نتیجہ — اب ضمیر کی بیداری کی گھڑی ہے

یہ وقت ہے کہ ہم حقائق کو قبول کریں، اور اس سیاسی منافقت کے تماشے کو بےنقاب کریں۔
نہ فوج، نہ جج، نہ سیاستدان — پاکستان اب عوام کی بیداری سے بچے گا۔
ورنہ ہم تاریخ میں ایک اور "ناکام ریاست" کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

---

"یہ تحریر اگر دل کو چبھے، تو سمجھو کہ تم ابھی زندہ ہو۔ اگر اثر نہ کرے، تو جان لو تم بھی اس نظام کا حصہ بن چکے ہو۔"

پہلگام کا زخم، سفارتی شطرنج اور پاکستان پر الزامات22 اپریل 2025 کو کشمیر کی حسین وادی پہلگام میں ایک سیاحتی بس پر حملہ ہ...
05/05/2025

پہلگام کا زخم، سفارتی شطرنج اور پاکستان پر الزامات

22 اپریل 2025 کو کشمیر کی حسین وادی پہلگام میں ایک سیاحتی بس پر حملہ ہوا، جس میں 26 افراد جان سے گئے۔ اس واقعے نے نہ صرف خطے میں خوف و ہراس پھیلایا بلکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

بھارت نے فوری طور پر اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، حالانکہ تحقیقات ابھی جاری تھیں۔ بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کر دیے، اٹاری-واہگہ بارڈر بند کر دیا، اور انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کر دیا ۔

پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ کویت نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی، اور ایران نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ۔

روس نے بھی اس تنازعے میں ثالثی کی پیشکش کی، حالانکہ اس کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں ۔

امریکہ نے حملے کی مذمت کی اور بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے ۔

بھارت نے حملے کے فوراً بعد "Exercise Aakraman" کے نام سے ایک فوجی مشق کا آغاز کیا، جس میں رافیل اور سو-30 طیارے شامل تھے ۔

پاکستان نے اس مشق کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرے ۔

اس تمام صورتحال میں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ممالک نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ تاہم، کوئی متفقہ قرارداد منظور نہیں کی گئی، اور اجلاس بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے ختم ہو گیا ۔

Address

Muslim Town Officer Block
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awaze Jazbaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share