20/12/2025
شیشے سے بنی اِک لڑکی
پتھر کے نگر میں آئی
وہ ڈھونڈ رہی تھی موتی، اور پتھر سے ٹکرائی
شیشے سے بنی لڑکی سے
کہہ دو کہ نہ بعد میں رونا
کچھ لوگ ہیں جو پیتل کے، کہتے ہیں خود کو سونا
یہ جھوٹ کا پُل ٹوٹے گا
پھر گہری ہے غم کی کھائی
وہ ڈھونڈ رہی تھی موتی اور پتھر سے ٹکرائی
شیشے سے بنی یہ لڑکی
اِس بات سے ہے انجانی
جب ریت چمکتی ہے تو لگتی
ہے دور سے پانی
یہ پھول ہیں سب کاغذ کے🥀
لیکن وہ سمجھ نہ پائی
وہ ڈھونڈ رہے تھی موتی اور پتھر سے ٹکرائی
شیشے سے بنی لڑکی کو
کوئی جا کر یہ سمجھائے
آنکھوں کے ستاروں کو
بن بول نہ وہ لٹوائے❣️
یہ رِیت ہے اِس دنیا کی
ملتی ہے یہاں رُسوائی
وہ ڈھونڈ رہی تھی موتی اور پتھر سے ٹکرائی
شیشے سے بنی اِک لڑکی
پتھر کے نگر میں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔