Copy paste Batein

Copy paste Batein اردو تحریریں

خواتین کے لیے محفوظ ملک پاکستان؟کوئٹہ سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیز-اب گردی، ستر فیصد جسم جل گیا، آنکھیں ختم ہوگٸیں۔ ...
08/06/2026

خواتین کے لیے محفوظ ملک پاکستان؟

کوئٹہ سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیز-اب گردی، ستر فیصد جسم جل گیا، آنکھیں ختم ہوگٸیں۔ معاشرہ بتائے بیٹیوں کو ڈاکٹر بنائیں یا پیدا ہوتے ہی دفنا دیں؟

*ہر گھر سے ایک ڈانسر نکلے گی*!"*ایک سچ، جو ہم نے مذاق سمجھا*میرے ایک بزرگ دوست ہیں۔ بہت شریف النفس اور معزز خاندان سے تع...
06/06/2026

*ہر گھر سے ایک ڈانسر نکلے گی*!"
*ایک سچ، جو ہم نے مذاق سمجھا*

میرے ایک بزرگ دوست ہیں۔ بہت شریف النفس اور معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماشاءاللہ بڑا مذہبی خاندان ہے۔
کبھی کبھی جمعہ کے بعد کال کرکے ملاقات کیلیے بلاتے ہیں۔ آج پھر انکی کال آٸ، میری طبیعت ناساز تھی تو وہ خود ہی تشریف لے آٸے۔ بہت پریشان دکھاٸ دیے۔ میں نے انکی پسند کا آڑوکا شیک بنوایا۔ کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ میں کچھ کریدنے کی کوشش کی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رودٸیے۔ دراصل وہ نواسی کی وجہ سے پریشان تھے۔ اس بچی نے والدین کی لاپرواہی یا آزاد خیالی کی وجہ سے ٹکٹاک پر چینل بنا لیا تھا۔ جس کی وجہ سے خاندان بھر کی بچیوں کے رشتے طے ہونے میں مشکلات آنے لگیں۔
طویل گفتگو کے بعد انکی ڈھارس بندھاٸی، معاملہ کو سلجھانے کرنے ممکنہ حل ذکر کیے یوں وہ کافی حد تک مطمٸن ہوگٸے۔

احباب گرامی!
شریف اور مہذب گھرانوں کو عنقریب یہ مساٸل درپیش آٸیں گے چنانچہ بہت فکرمندی کی ضرورت ہے۔

بچپن میں جب کسی بزرگ کی زبان سے یہ جملہ سنتے تھے کہ:
"وقت آئے گا جب ہر گھر سے ایک ناچنے والی نکلے گی"
تو ہنسی آتی تھی، غصہ بھی۔
دل میں کہتے:
"کیا فضول بات ہے! ہماری بچیاں؟ ایسا کبھی نہیں ہوگا!"

تب تک ہم نے وہی پرانی فلمیں دیکھی تھیں،
جن میں مخصوص، برے کرداروں کو ہی ایسے رقص کرتے دکھایا جاتا۔
ایسے کردار، جن کا نام بھی شریف گھروں میں لیتے شرم آتی۔
اور ہمیں یقین تھا کہ ایسے لوگ ہمارے محلے، ہمارے اسکول، ہمارے گھروں سے کوسوں دور ہیں۔

مگر پھر...

⏳ وقت بدلا... اور برق رفتاری سے بدلا!

دوپٹہ جو عزت کی علامت تھا،
سر سے اتر کر پہلے سینے، پھر کندھے، پھر الماری میں جا چھپا۔

شلوار جو ٹخنوں سے نیچے تھی،
اب "فٹنگ" اور "ٹرینڈ" کے نام پر اوپر چڑھنے لگی۔

بزرگ کچھ کہیں تو ہم ہی بگڑ جاتے:
"بابا جی! اب زمانہ بدل گیا ہے... یہ بس تھوڑا سا اسٹائل ہے، فیشن ہے، مت الجھیں!"

ماں باپ، جو کبھی بیٹی کا لباس خود سی دیا کرتے تھے،
اب کندھے اچکا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔

پھر آیا اسمارٹ فون...
ہر ہاتھ میں ایک اسٹیج آ گیا۔

کوئی کچن میں کھڑی ہو کر "لپ سنک" کرتی ہے،

کوئی چھت پر گانے پر تھرکتی ہے،

کوئی سیڑھیوں پر موبائل سیٹ کر کے ڈانس پریکٹس کرتی ہے،

اور کوئی “پردے” میں ایسی حرکات کرتی ہے، جو پردے کا مفہوم دفن کر دیتی ہیں۔

🎥 جب یہ سب "نارمل" ہو گیا...

جب لاکھوں ویوز اور دل والے اموجیز ملنے لگے،

جب "کافی پی رہے ہیں تو ناچ بھی لیں" ٹرینڈ بن گیا،

جب گاؤں کی لڑکی شہر سے زیادہ کانفیڈنٹ لگنے لگی،

جب کم عمر لڑکیاں لائیو آ کر کہیں:
”میں اتنے کروڑ کمالیے،
بس محنت کرو، سب ممکن ہے!"

تو وہ بچیاں، جو پہلے شرم سے نظریں جھکا لیتی تھیں،
اب خود کو "باس لیڈی" کہلوا کر فخر محسوس کرتی ہیں۔

💢 قصور کس کا ہے؟

اب مسئلہ یہ نہیں کہ یہ سب ہو کیوں رہا ہے،
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب ہمارے سامنے ہوتا رہا... اور ہم نے کچھ نہیں کیا۔
ہم نے بس کہا:
"فیشن ہے، جانے دو۔"

اور وہی فیشن،
اب معاشرتی اصول بن چکا ہے۔

یہ صرف ناچنے کی بات نہیں رہی،
یہ ڈیجیٹل شو کیسنگ ہے
جس میں حیا، شرم، غیرت، سب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

📢 اور ہاں... وہ بزرگ ٹھیک ہی کہتے تھے:

"ہر گھر سے ایک ڈانسر نکلے گی!"
آج وہ محاورہ نہیں، حقیقت بن چکی ہے
کیونکہ ہر گھر کا بیڈروم، ہر چھت، ہر سیڑھی... ایک اسٹیج بن چکی ہے۔

🧭 اب بھی وقت ہے...!

✦ ہمارے ستر فیصد گھرانے ابھی بھی اس لعنت سے بچے ہوئے ہیں، مگر دہانے پر کھڑے ہیں۔

✦ اگر ہم نے اب بھی بیٹیوں کو عزت، حیا اور وقار کا مفہوم نہ سمجھایا،
تو قصور سوشل میڈیا کا نہیں ہوگا،
قصور ہماری خاموش تربیت کا ہوگا۔

✦ ابھی بھی وقت ہے... صرف لباس نہیں، نظریہ ٹھیک کیجیے۔
ورنہ آئندہ نسل کو نظریں چرانے کا ہنر سکھانا پڑے گا۔

یاد رکھیں۔۔۔۔۔

ہم نے پردہ چھوڑا، اسٹیج نے ہماری بیٹیاں لے لیں۔
جو دکھ رہا ہے، وہ صرف رقص نہیں... وہ ہماری خاموشی کا نتیجہ ہے۔!!
سید بابر
゚viralシ

اور اس کے بعد جیالوں نے طلحہ انجم کے بھی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ۔پیپلو کے علاؤہ سب کو کراچی کی تباہی نظر آرہی ہے ۔صحافی...
06/06/2026

اور اس کے بعد جیالوں نے طلحہ انجم کے بھی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ۔

پیپلو کے علاؤہ سب کو کراچی کی تباہی نظر آرہی ہے ۔صحافی ، اداکار ، گلوکار ، سماجی کارکنوں سمیت سب ہی کراچی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں ۔ لیکن پیپلز پارٹی کے حمایتیوں کو کراچی پیرس دکھتا ہے ۔

اب اس کا علاج کیسے کیا جائے ؟

*حکومت پنجاب کا نوجوان نسل میں ویپ سموکنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے بڑا اور اچھا فیصلہ۔*            ...
06/06/2026

*حکومت پنجاب کا نوجوان نسل میں ویپ سموکنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے بڑا اور اچھا فیصلہ۔*

اسلام آباد، لاہور، پشاور وغیرہ علاقوں میں کسی کو کہو کہ بھائی پانی احتیاط سے استعمال کرو۔ بارش کا پانی ذخیرہ کرو ۔ ریچار...
06/06/2026

اسلام آباد، لاہور، پشاور وغیرہ علاقوں میں کسی کو کہو کہ بھائی پانی احتیاط سے استعمال کرو۔ بارش کا پانی ذخیرہ کرو ۔ ریچارج کرو۔ کیونکہ زمین کے نیچے پانی لامحدود نہیں۔ اگر ہم یونہی بہاتے رہے تو ایک دن ختم ہو جائے گا۔
تو آگے سے تیور چڑھا کرجواب ملتا ہے کہ دنیا میں 70 فیصد پانی ہے۔ ہمارے ہاں ختم ہوا تو کیا ہوا۔ کراچی کا سمندر بہت بڑا ہے، وہاں سے لے آئیں گے
کاش مسئلہ اتنا آسان ہوتا۔
انہیں نہیں پتا کہ جو ملک 97 ہزار 3 سو ارب روپے قرض دار ہو۔ جس ملک میں آئی ایم ایف سے 1 ارب ڈالر ملنے پر ہیڈلائن بن جاتی ہے، اس ملک کے لیے کراچی سے پانی لانا کتنا مہنگا اور ناممکن خواب ہے۔ سمندر کا پانی پینے کے قابل بنانے کے لیے اربوں ڈالر کے پلانٹ چاہییں، چلانے کے لیے بجلی چاہیے، اور پہنچانے کے لیے ہزاروں کلومیٹر کی پائپ لائن چاہیے۔ کیا ہم یہ افورڈ کر سکتے ہیں؟

اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو کراچی سمندر کے کنارے بیٹھا ہے، وہ خود پانی کو ترس رہا ہے۔ ایک ایک ٹینکر کے لیے کئی کئی دن انتظار کرتے ہیں۔ منتیں کرتے ہیں۔ 5 ہزار سے 15 ہزار روپے میں پانی کا ٹینکر خریدتے ہیں۔ جب سمندر کے پاس رہنے والا پیاسا ہے، تو سینکڑوں کلومیٹر دور بیٹھ کر کیا امید لگائے بیٹھے ہیں؟
دنیا میں 70 فیصد پانی کا جملہ بھی آدھا سچ ہے۔ اصل سچ یہ ہے کہ اس 70 فیصد میں سے صرف 2.5 فیصد میٹھا پانی ہے۔ اور اس 2.5 فیصد میں سے بھی صرف 1 فیصد ہی ہمارے استعمال کے قابل ہے۔ باقی برف کی صورت جما ہوا ہے یا زمین کی گہرائی میں ہے۔
برا مت منائیے۔ اعداد و شمار کو تعصب کی عینک سے مت دیکھیے۔ بحیثیت قوم خود احتسابی کی ضرورت ہے۔
پانی بچائیے اپنے لیے اپنے آنے والے نسل کے لیے

*Maturity Is When You Realize....! 🤌🏻* _ہر وہ شخص جس نے تمہیں بے قیمت سمجھا...! 🤍_ _وہ تمہاری روشنی کا حقدار کبھی نہیں ت...
05/06/2026

*Maturity Is When You Realize....! 🤌🏻*

_ہر وہ شخص جس نے تمہیں بے قیمت سمجھا...! 🤍_
_وہ تمہاری روشنی کا حقدار کبھی نہیں تھا...! ✨_
_تمہاری معصومیت ، تمہارا خلوص ، تمہاری محبت ، ایک قیمتی خزانہ ہے...! 🫀_
_اسے ہر بار غلط لوگوں پر ضائع مت کرو...! 💗_
_وقت سیکھاتا ہے کہ کن لوگوں پر دل کھولنا ہے...! 💌_
_اور کن پر دروازہ بند کرنا ہے....! 🫠_
_اور اب تم یہ سیکھ چُکے ہو...! 🦢_
_اور خود کو کمزرفوں سے بچانا اب تمہاری ذمےداری ہے...! 🥹_

*🔘🛸 پکچر کہانی 📇📚🌍*💎 تجسس ، تلاش اور کھوج انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ یہ جستجو ہی ہے جس نے انسان کو اس کائنات کے سربستہ ر...
05/06/2026

*🔘🛸 پکچر کہانی 📇📚🌍*

💎 تجسس ، تلاش اور کھوج انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ یہ جستجو ہی ہے جس نے انسان کو اس کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے پر اکسایا اور آمادہ کیا۔ *پکچر کہانی* پر مشتمل دلچسپ سلسلہ ادب نگری گروپ کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے۔

🌹💫 *ادب نگری*✒️📚

جب بہادر شاہ ظفر نے مسلمان قصائیوں کے قتل کے بعد ذبیحے پر پابندی لگائی اور گائیوں کو قید کرنے کا حکم دیا

پانچویں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے سب سے بڑے بیٹے دارا شکوہ مغلیہ تاریخ کو ’مجمع البحرین‘ یعنی دو سمندروں کے سنگم کی تاریخ قرار دیا کرتے تھے۔

اپنی کتاب ’دی گریٹ مغلز اینڈ دیئر انڈیا‘ میں مؤرخ ڈرک کولیئر لکھتے ہیں کہ دارا شکوہ یہ تشبیہ مغلیہ خاندان کے 1526 سے 1857 تک، یعنی تقریباً 330 برس تک، ہندوستان پر حکومت کے دوران میں ’اسلامی اور قدیم ہندو تہذیب کے اُس تقدیر ساز ملاپ‘ کے لیے استعمال کرتے تھے، جس نے برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو نئی جہت عطا کی۔

وکٹر لائبرمَن کی تصنیف ’سٹرینج پیراللز‘ سے پتا چلتا ہے کہ تیسرے مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے بادشاہت کا ایک زیادہ جامع انداز اپنایا جوعالم گیر ہم آہنگی پر زور دیتا تھا اور جسے ’صلحِ کل‘' یعنی ’سب کے ساتھ امن‘ کے تصور میں سمویا گیا۔

’ان میں سے بہت سی پالیسیاں اکبر کے بیٹے نور الدین محمد جہانگیر (حکومت: 1605–1627) کے دور میں بھی جاری رہیں۔‘

لائبرمَن کے مطابق شاہ جہاں (1628–1658) اور خصوصاً چھٹے بادشاہ اورنگزیب عالم گیر (1658–1707) کے دور میں ایک قدامت پسند ردِعمل ضرور پیدا ہوا، لیکن اس کے باوجود عملی ضرورتیں بہت اہم رہیں۔

کنان گاہرانا نے اپنی کتاب ’رائٹ ٹو فریڈم آف رلیجن‘ میں لکھا ہے کہ مغل دور میں، بابرسے اورنگ زیب تک، گائے ذبح کرنے پر کسی نہ کسی قسم کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

’ایسا ہندو رعایا کی وفاداریاں جیتنے کے لیے کیا گیا۔‘

قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان کی ماہرآڈری ٹرشکے کے مطابق تاریخی ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ مغل حکمران سلطنت کے بعض مخصوص علاقوں میں محدود مدت کے لیے گائے اور دیگر جانوروں کے ذبیح پر پابندیاں عائد کرتے تھے۔

’جین اور برہمن دونوں مغل بادشاہوں کے پاس ایسی سیاسی رعایتوں کے حصول کے لیے جاتے تھے اور متعدد فرامین (شاہی احکامات) اور تاریخی متون آج بھی موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ ان کی درخواستیں منظور کی جاتی تھیں۔‘

’مثال کے طور پر جین مذہبی رہنماؤں نے مغل حکمرانوں سے پریوشن تہوار کے دوران جانوروں کے ذبح پر پابندی کے وعدے حاصل کیے۔

’اکبر نے اس حوالے سے 25 سال کے وقفے سے دو الگ الگ فرامین جاری کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ احکامات مستقل طور پر نافذ نہیں رہتے تھے۔‘

’جین اور برہمن دونوں کی تحریر کردہ سنسکرِت کتابوں میں متعدد مغل بادشاہوں کی گایوں کے تحفظ پر تعریف کی گئی ہے۔‘

ہربرٹ چارلس فینشا کی کتاب ’دہلی پاسٹ اینڈ پریزنٹ‘ کے مطابق 19ویں صدی کے اوائل تک مغلیہ سلطنت سکڑ کر صرف شہرِ دہلی اور اس کے گرد و نواح، یعنی پالم تک کے علاقے، تک محدود ہو چکی تھی۔

ایسے میں 20ویں مغل حکمران بہادرشاہ ظفر 1837 میں اقتدارمیں آئے۔

اپنی کتاب ’دی لاسٹ مغل: دی فال آف ڈائنسٹی، دہلی،1857‘ میں ولیم ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ 1850کی دہائی تک بہادر شاہ ظفر کے پاس عملی طور پر روزمرہ اقتدار بہت کم رہ گیا تھا، سوائے اُس پراثر ہیبت اور وقار کے جو اب بھی مغلیہ خاندان سے وابستہ تھا، اور کئی لحاظ سے وہ ’شطرنج کے بادشاہ‘ بن کر رہ گئے تھے۔

پھر بھی تاریخ دان آر وی سمتھ کے مطابق 1857 سے قبل، اپنے عہدِ حکومت کے آخری برسوں میں، بہادر شاہ ظفر نے اپنے جدِ امجد اکبر اعظم کی روایت برقرار رکھتے ہوئے گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

وہ لکھتے ہیں: ’ممکن ہے دیہات میں اس حکم کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہو، مگر شہری علاقوں میں اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘

اصل اقتدار تب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس تھا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا سے علم ہوتا ہے کہ برسوں سے انگریزوں کی سیاسی مداخلت، ظلم اور ریاستوں پر قبضے عوام کے غصے کو بڑھا رہے تھے اور لارڈ ڈلہوزی کی جانب سے اودھ کے الحاق نے اس ناراضی کو مزید شدید کر دیا۔

’سنہ 1857میں ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے خلاف ایک عظیم بغاوت بھڑک اٹھی، جسے ہندوستان میں ’جنگِ آزادیِ اول‘ کہا جاتا ہے۔‘

’چنگاری اُس وقت بھڑکی جب نئی اینفیلڈ رائفل متعارف کرائی گئی۔ اس کے کارتوسوں کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ اُن پر گائے اور سور کی چربی لگی ہے۔ سپاہیوں کو انھیں دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا، جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے مذہبی عقائد کی توہین سمجھی گئی۔‘

’آخرکار میرٹھ میں ہندوستانی سپاہیوں نے بغاوت کر دی۔ جلد ہی یہ آگ دہلی، آگرہ، کانپور اور لکھنؤ تک پھیل گئی۔‘

ڈاکٹر تاراچند ’ہندوستان میں سپاہیوں کی تحریک آزادی کی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جنگ آزادی میں عام خیال کے برعکس اور حکمرانوں کی امیدوں اور توقعات کے خلاف مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر جنگ کی۔‘

ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ اگرچہ 11 مئی 1857 کو جب اکھڑ اور بے چین سپاہی اُن کے محل میں گھس آئے تو ظفر ابتدا میں سخت خوف زدہ ہو گئے تھے، لیکن بالآخر انہوں نے بغاوت کی حمایت پر آمادگی ظاہر کر دی کیونکہ اُن کے نزدیک اپنی عظیم سلطنت کو فنا ہونے سے بچانے کا یہی واحد راستہ تھا۔

’بقرعید قریب آ رہی تھی۔ دربار، جس نے ہمیشہ بھرپور کوشش کی تھی کہ شہر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم نہ ہونے دیا جائے، شدید خوف زدہ تھا۔‘

ڈیلرمپل کے مطابق جان بوجھ کر ہندو جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

سید محمد باقر دہلوی جو مولوی محمد باقر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، دلی کے صحافی تھے۔

’دی لاسٹ مغل‘ سے علم ہوتا ہے کہ مولوی محمد باقر نے لکھا: ’ٹونک سے آنے والے غازیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ عید کے دن جامع مسجد کے سامنے کھلے میدان میں گائے ذبح کی جائے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہندوؤں نے اس کی مخالفت کی تو وہ انہیں قتل کر دیں گے اور پھر ہندوؤں سے حساب چکتا کرنے کے بعد فرنگیوں پر حملہ کر کے انھیں تباہ کر دیں گے۔‘

(’دہلی اردو اخبار‘ کے یہ مدیر جنگِ آزادی 1857میں اپنی جان قربان کرنے والے پہلے صحافی قرار پائے۔ انھیں 16 ستمبر 1857 کو گرفتار کیا گیا اور دو دن بعد توپ سے اڑا دیا گیا۔)

ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ اس کے فوراً بعد 19 جولائی کو چند ہندو سپاہیوں نے گائے ذبح کرنے کے الزام میں پانچ مسلمان قصائیوں کے گلے کاٹ دیے۔

’ایک مکمل بحران، جو شہر کو، جس کی تقریباً آدھی آبادی ہندو تھی، تقسیم کر سکتا تھا، قریب دکھائی دینے لگا۔‘

اب ظفرنے غیر معمولی طور پر فیصلہ کن ردِعمل دیا۔

’جس دن قصائی قتل کیے گئے، اُسی دن ظفر نے گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی، گائے کے گوشت کے استعمال کو ممنوع قرار دیا اور حکم دیا کہ جو کوئی گائے ذبح کرتے ہوئے پایا جائے اُسے توپ کے دہانے سے اڑا دیا جائے۔‘

’پولیس نے فوراً کارروائی کی، یہاں تک کہ ایک کباب فروش کو بھی گرفتار کرنے چلی گئی جو بیف کباب بھون رہا تھا۔

’ان میں سے ایک، حافظ عبدالرحمٰن، نے دربار کو لکھا کہ وہ قصائی نہیں ہے اور گائے ذبح کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اُس نے کباب بیچنے کا کام صرف اس وقت شروع کیا تھا جب سپاہیوں کے ہنگاموں کے باعث اُس کا سابقہ کاروبار تباہ ہو گیا تھا۔‘

’تاہم اُسے رہا نہیں کیا گیا۔‘

ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ اس کے بعد ظفر نے حکم جاری کیا کہ شہر کی تمام گایوں کا اندراج کیا جائے اور مختلف محلّوں کے چوکیداروں اور خاکروبوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر اُس گھر کی اطلاع مقامی کوتوالی کو دیں جہاں گائے موجود ہو۔

’30 تاریخ کو کوتوال سعید مبارک شاہ کو حکم دیا گیا کہ پورے شہر میں اعلان کروا دیں کہ گائے ذبح کرنا مکمل طور پر ممنوع ہے کیونکہ اس سے ’غیر ضروری فساد پیدا ہوگا جو صرف دشمن کو مضبوط کرے گا‘ اور یہ کہ ’جو شخص بھی اس بارے میں سوچے گا یا حکومت کے حکم کی خلاف ورزی کرے گا، اُسے سخت سزا دی جائے گی۔‘

’مزید احکامات بھی جاری ہوئے، جن میں ایک عجیب حکم یہ تھا کہ تمام رجسٹر شدہ گایوں کو اب شہر کی مرکزی کوتوالی میں پناہ دی جائے۔‘

’ظفر کو شاید یہ معلوم نہ تھا یا وہ مجاہدین کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، مگر وہ گایوں کو قید کرنے کا حکم دے بیٹھے۔ تاہم یہ حکم بہت مشکل ثابت ہوا۔‘

’سعید مبارک شاہ نے پریشانی کے عالم میں جواب لکھا کہ اگر تمام مسلمانوں کی گایوں کو جمع کیا گیا تو ان کی تعداد پانچ سو سے ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔‘

اس مقصد کے لیے چند دنوں کے لیے ایک بڑا میدان یا احاطہ درکار ہوگا، مگر ’یہ عاجز بندہ ایسی کسی جگہ سے واقف نہیں اور مالکان صرف شک اور پریشانی میں مبتلا ہوں گے۔‘

ڈیلرمپل کے مطابق چنانچہ یہ منصوبہ خاموشی سے ترک کر دیا گیا اور اس کے بجائے مویشی مالکان سے ضمانتی مچلکے لیے گئے کہ وہ اپنے جانور قربان نہیں کریں گے۔

’آخرکار مفتی صدرالدین آزردہ کو مجاہدین کے ساتھ ثالثی کے لیے بھیجا گیا۔ یہ ایک نہایت دانشمندانہ انتخاب تھا، کیونکہ آزردہ دہلی کے سب سے زیادہ معزز مسلمان دانشور تھے۔ سید احمد خان کے مطابق ’عقل مندوں میں سب سے زیادہ عقل مند‘۔ دہلی کے شاعر صابر کے مطابق وہ ایسے شخص تھے جو ’افلاطون کے علم کو لات مار کر اور ارسطو کو کمال کی بلندی سے ذلت کی خاک میں ملا سکتے تھے۔‘

’مرزا غالب کے دوست ،آزردہ نہ صرف ظفر کے قریبی مشیر اور حلیف تھے بلکہ مجاہدین کے سربراہ مولوی سرفراز علی کے استاد اور سابق سرپرست بھی تھے۔ آخرکار، مولوی سرفراز اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ مجاہدین کو گائے ذبح کرنے اور عید پر بیف کھانے سے باز رکھیں۔‘

بقرعید پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے ہندو جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کے بجائے اونٹ کی قربانی دی۔

ظفر کی تمام احتیاطی تدابیر کی بدولت، یکم اگست کو عید پُرامن طریقے سے گزر گئی۔

ڈیلرمپل نے لکھا کہ انگریز، جو اپنے جاسوسوں کے ذریعے بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی سے آگاہ تھے اور ایک بڑے فرقہ وارانہ فساد کے شدت سے منتظر تھے، مایوس رہ گئے۔

مؤرخ رعنا صفوی لکھتی ہیں کہ کرنل کیتھ ینگ ہندوستانی فوج کے جج ایڈووکیٹ جنرل تھے اور دلی میں برطانوی فوج کے ساتھ تعینات تھے۔ وہ اپنی بیوی کو خطوط لکھتے تھے جن میں وہ بغاوت کی تفصیلات بیان کرتے تھے۔ ان کی بیوی شملہ میں محفوظ مقام پر مقیم تھیں۔ بعد ازاں یہ خطوط شائع بھی ہوئے۔

ان کا عنوان ’دہلی 1857: دا سیج، اسلٹ اینڈ کیپچر ایز گیون اِن ڈائری اینڈ کاریسپانڈینس آف دا لیٹ کرنل کیتھ ینگ‘ تھا۔

انتیس جولائی 1857 کو انھوں نے اپنی بیوی کو لکھا: ’ہڈسن نے بتایا کہ شہر سے ایک خط آیا ہے جو ان اختلافات کی تصدیق کرتا ہے جن کی خبریں پہلے بھی مل چکی تھیں، اور لگتا ہے کہ عید کے تہوار پر یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ بعض مسلمان جنونیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ حسبِ دستور جامع مسجد میں گائے ذبح کریں گے۔ امید ہے کہ وہ اپنے اس عزم پر مذہبی جوش کے ساتھ قائم رہیں گے اور پھر مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان یقینی طور پر فساد برپا ہو جائے گا۔‘

30 جولائی کو انھوں نے لکھا: ’کیمپ میں سب پُرسکون ہے، اور میرا خیال ہے — جیسا کہ ہم سب سمجھتے ہیں — کہ باغی آپس میں جھگڑ رہے ہیں اور دوبارہ ہم پر حملہ کرنے کے لیے متحد نہیں ہو پا رہے۔ ہمیں امید ہے کہ عید ان کے معاملات کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا دے گی اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بڑے فساد کا دن ثابت ہوگی۔‘

یہ دونوں خطوط واضح کرتے ہیں کہ پورا راج اس امید پر بیٹھا تھا کہ قربانی ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کا ذریعہ بنے گی۔

تاہم، بہادر شاہ ظفر کے مکمل پابندی کے احکامات نے ان تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔

عید سے اگلے روز یعنی دو اگست کو کرنل نے اپنی بیوی کو لکھا: ’کل عید کے موقع پر شہر میں کسی بڑے فساد کی ہماری امیدیں بظاہر پوری نہیں ہوئیں۔ جبکہ منصوبہ یہ تھا کہ بادشاہ ہمارے کیمپ میں اپنی شام کی نماز ادا کرے!‘

┄┅═❁ *ادب نگری* ❁═┅┄

💥 میرے ابو ہر تقریب، ہر جنازے اور ہر موقع پہ آدھا گھنٹہ پہلے پہنچ جاتے تھے.. ہم سمجھتے رہے ابا وقت کے بہت پابند ہیں ۔ لی...
04/06/2026

💥 میرے ابو ہر تقریب، ہر جنازے اور ہر موقع پہ آدھا گھنٹہ پہلے پہنچ جاتے تھے.. ہم سمجھتے رہے ابا وقت کے بہت پابند ہیں ۔ لیکن حقیقت کچھ اور تھی ❤️❤️🤍

میرے ابا کبھی دیر سے نہیں پہنچے۔

نہ کسی شادی میں۔
نہ کسی جنازے میں۔
نہ کسی ہسپتال میں۔
نہ کسی سکول کی تقریب میں۔

ہماری پوری زندگی میں ایک بات ہمیشہ یقینی رہی:

اگر تقریب پانچ بجے ہے تو ابا ساڑھے چار بجے وہاں موجود ہوں گے۔

ہم سب اُن کی اس عادت پر ہنستے تھے۔

امی کہا کرتی تھیں:

"تمہارے ابا نے شاید گھڑی بھی اپنے وقت کی الگ رکھی ہوئی ہوگی"..

ہم بھی یہی سمجھتے رہے کہ وہ بس ضرورت سے زیادہ وقت کے پابند ہیں۔

مگر پچھلے مہینے، جب میں اُنہیں ڈاکٹر کے پاس لے جا رہی تھی، نہ جانے کیوں میرے منہ سے نکل گیا:

"ابا، آپ ہر جگہ اتنی جلدی کیوں پہنچتے ہیں؟"

وہ خاموش ہو گئے۔

کافی دیر گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے۔

پھر آہستہ سے بولے:

"تمہیں واقعی جاننا ہے؟"

میں نے مسکرا کر کہا:

"جی۔"

انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔

اور ایک ایسی بات بتائی جس نے میری پوری زندگی بدل دی۔

انہوں نے کہا:

"چالیس سال پہلے میں ایک نوکری کے انٹرویو کیلئے آدھا گھنٹہ پہلے پہنچ گیا تھا۔"

انتظار گاہ میں ایک اور آدمی بیٹھا تھا۔

بہت گھبرایا ہوا۔

بار بار اپنے ہاتھ رگڑ رہا تھا۔

بار بار پانی پی رہا تھا۔

ابا نے اُس سے بات شروع کر دی۔

موسم کی۔

عمارت کی۔

اور اُس عجیب سے پنکھے کی جو ہر پانچ منٹ بعد چرچراتا تھا۔

تھوڑی دیر بعد اُس آدمی کی گھبراہٹ کم ہو گئی۔

اُس کا نام پکارا گیا۔

وہ اندر چلا گیا۔

ابا بھی گئے۔

شام تک نتیجہ آ گیا۔

نوکری اُس آدمی کو مل گئی۔

ابا کو نہیں۔

میں نے پوچھا:

"پھر؟"

ابا مسکرائے۔

"گھر آتے ہوئے پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ نوکری ملنے یا نہ ملنے سے زیادہ اہم ایک اور چیز تھی۔"

"وہ آدھا گھنٹہ۔"

میں خاموشی سے سنتی رہی۔

وہ بولتے گئے:

"بیٹا، اصل ضرورت تقریب کے بعد نہیں ہوتی۔"

"اصل ضرورت اُس سے پہلے ہوتی ہے۔"

"آپریشن سے پہلے۔"

"امتحان سے پہلے۔"

"جنازے سے پہلے۔"

"عدالت میں گواہی دینے سے پہلے۔"

"کسی مشکل گفتگو سے پہلے۔"

"اُس وقت انسان سب سے زیادہ تنہا ہوتا ہے۔"

پھر انہوں نے میری طرف دیکھا۔

اور بولے:

"میں نے اُس دن کے بعد فیصلہ کیا کہ جہاں بھی جاؤں گا، آدھا گھنٹہ پہلے جاؤں گا۔"

"شاید کسی کو میری ضرورت ہو۔"

اچانک مجھے اپنی پوری زندگی یاد آنے لگی۔

دادی کے آپریشن سے پہلے ابا ہسپتال کے باہر کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔

محلے کے جنازوں میں وہ سب سے پہلے پہنچتے تھے۔

میرے سکول کے فنکشن میں بھی وہ ہمیشہ وقت سے پہلے موجود ہوتے تھے۔

میں سمجھتی تھی وہ بور ہو رہے ہوں گے۔

مگر حقیقت میں وہ کسی نہ کسی کے ساتھ بیٹھے ہوتے تھے۔

کسی پریشان باپ کے ساتھ۔

کسی گھبرائے ہوئے بچے کے ساتھ۔

کسی ایسی ماں کے ساتھ جس کا دل خوف سے بھر چکا ہوتا تھا۔

ابا بولتے رہے:

"آدھا گھنٹہ پہلے لوگ ابھی کردار ادا نہیں کر رہے ہوتے۔"

"اُس وقت وہ ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے حقیقت میں ہوتے ہیں۔"

"اور اکثر انہیں صرف ایک انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اُن کے پاس بیٹھ جائے۔"

گھر واپسی پر میں بہت دیر خاموش رہی۔

پھر اچانک سڑک کے کنارے گاڑی روک دی۔

ابا نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔

میں نے فون نکالا۔

اور اپنی بہن کا نمبر ملایا۔

دو سال سے ہم دونوں کے درمیان بات چیت تقریباً ختم تھی۔

کوئی بڑا جھگڑا نہیں ہوا تھا۔

بس خاموشی جمع ہوتی گئی۔

اور فاصلے دیوار بن گئے۔

میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ ایک دن جب میں تیار ہو جاؤں گی، تب فون کروں گی۔

اُس دن اچانک مجھے احساس ہوا:

شاید صحیح وقت وہ نہیں ہوتا جب ہم تیار ہوں۔

شاید صحیح وقت وہ ہوتا ہے جب ہم انتظار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

فون بجا۔

دوسری طرف سے بہن کی آواز آئی۔

"السلام علیکم۔"

میں خاموش ہو گئی۔

پھر اُس نے آہستہ سے کہا:

"میں تمہارے فون کا انتظار کر رہی تھی۔"

اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

آج ابا بیاسی سال کے ہیں۔

اب بھی ہر جگہ آدھا گھنٹہ پہلے پہنچتے ہیں۔

پچھلے ہفتے میرے بھتیجے کی گریجویشن تھی۔

تقریب شروع ہونے سے پہلے ایک نوجوان اکیلا بیٹھا تھا۔

اُس کے خاندان میں وہ پہلا شخص تھا جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو رہا تھا۔

وہ گھبرایا ہوا تھا۔

پریشان تھا۔

اور اکیلا تھا۔

ابا جا کر اُس کے پاس بیٹھ گئے۔

دونوں تقریب شروع ہونے تک باتیں کرتے رہے۔

بس آدھا گھنٹہ۔

صرف آدھا گھنٹہ۔

مگر بعض اوقات کسی انسان کی پوری زندگی بدلنے کیلئے آدھا گھنٹہ ہی کافی ہوتا ہے۔

کیونکہ دنیا میں سب سے قیمتی لوگ وہ نہیں ہوتے جو وقت پر پہنچتے ہیں...

بلکہ وہ ہوتے ہیں جو کسی کے مشکل وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ ❤️
Copy paste Batein Independent Urdu UrduPoint.com

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Copy paste Batein posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category