Aaban Gamer 1

Aaban Gamer 1 I always Love to play Games.

25/10/2024

کیا آپ کو بھی یہ بیماری ہے کہ جھگڑے کے وقت کچھ بولتے نہیں بعد میں اچھے اچھے جواب یاد آتے ہیں😂🤣🤣🤣🤪🤪

02/05/2024

ہمارے پاس بجلی نہیں ہوتی، پھر ہم بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ اور اتنی بجلی پیدا کرتے ہیں کہ اسے خرچ کرنے کا راستہ سجھائی نہیں دیتا۔

ہمارے پاس گندم کی کمی ہوتی ہے۔ ہم باہر سے امپورٹ کرتے ہیں۔
لیکن پھر اتنی گندم ہوجاتی ہے کہ ہمارے پاس ذخیرہ کرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔

ہمارے ہاں چینی کا بحران ہوتا ہے۔ مگر پھر چینی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ہمیں ایکسپورٹ کرنا پڑجاتی ہے۔

ہم سولر پر جانے کے لیے سبسڈی دیتے ہیں۔ قوم کو ترغیب دیتے نہیں تھکتے۔ لیکن پھر ہم ایک دم ہڑبڑا کر اُٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سولرائزیشن اتنی ہورہی ہے تو پہلے سے موجود بجلی کا کیا بنے گا؟

ہم کون ہیں؟ کیا ہیں؟ اور کیوں ہیں؟
Copied

27/04/2024

اصل لوٹ مار"تندور"والوں نے مچارکھی تھی انکو لگام ڈالنا ضروری تھا۔
باقی چینی،کھاد،فلور ملزوالوں کی خیرہےیہ چھوٹے موٹےدھندےہیں۔😂

28/03/2024

ایسا شوق جس میں کسی بھی انسان کی جان جانے کا خطرہ ہو وہ قبیح، جاہلانہ اور انسانیت سوز ہے، یہ اتنا ہی بُرا اور ظالمانہ فعل ہے جتنا کہ ہوائی فائرنگ کرنا، کل کو ہوائی فائرنگ کا شوق رکھنے والے بھی اعتراض اٹھائیں گے کہ تمام عوام ہر وقت بلٹ پروف جیکٹ اور آہنی ہیلمٹ پہن کر رکھے، ہمارے شوق پراعتراض کر کے جذباتی پن نہ دکھائیں، نری جاہلیت!!!

24/03/2024

پولیس چاہے تو ایک ہفتے میں آسمان پر کوئی پتنگ نظر نہ آئے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ پولیس خود نہیں چاہتی کہ یہ سلسلہ رکے۔
خود فیصلہ کریں ۔
پتنگ بنانے کے لیے کاغذ تیار ہوا پولیس نے ان سے منتھلی لی اور کچھ نہیں کیا۔
پتنگ کی فیکٹری میں ہزاروں پتنگیں تیار ہوئیں ۔ منتھلی لی اور کچھ نہیں کیا۔
فیکٹری سے دکانوں تک پہنچیں۔ منتھلی لی اور کچھ نہیں کیا۔
جب بچوں نے دکانوں سے خرید کر اڑانی شروع کی تو نکل پڑے پکڑنے😂
تا کہ انھیں پکڑ کر ان سے بھی مال وصول کیا جا سکے۔
تو میرے بھائی ان کا تو ہر جگہ فائدہ ہی فائدہ ہے وہ کیوں روکیں گے اسے😂۔

نقصان صرف میرے اور آپ جیسوں کا ہے جو ان کی ڈور کی زد میں آ کر جان گنواتے ہیں۔😔

19/03/2024

‏لوگ کہتے ہیں ہم بھکاریوں کو نہ دیں تو پھر کیا کریں ، ہمیں سفید پوش نہیں ملتے اور نہ ہی معلوم ہے کہ سفید پوش کون کون ہے
جواب
👇
جو آپ کے گھر پانی سپلائی کرتا ہے وہ سفید پوش ہے ، کسی بینک کے باہر کھڑا گارڈ سفید پوش ہے ، آپ کے گھر کام کرنے والی خاتون ، گلی میں غبارے بیچنے والا ، چھان بورا خریدنے والا سفید پوش ہے ، کسی درخت کے سائے یا دھوپ میں کھڑا سبزی فروش بوڑھا سفید پوش ہے ، روزے کے ساتھ گھر گھر بائیک پہ فوڈ پانڈا پہنچانے والا نوجوان سفید پوش ہے ، کسی چوک میں دھوپ میں بیٹھ کر جوتے پالش اور گانٹھنے والا اور گلی کا خاکروب سفید پوش ہے ، آپ کے قریبی پارک کا مالی اور کسی مسجد میں پندرہ ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والا امام سفید پوش ہے ۔ ورکشاپ پہ کام کرنے والے بارہ تیرہ سالہ بچے سفید پوش ہیں ۔ سارا دن دھوپ میں سخت کام کرنے والا مزدور سفید پوش ہے ۔کسی گھر کا واحد کمانے والا فرد سفید پوش ہے ۔ آپ کے خاندان میں بھی کئی سفید پوش ہوں گے ۔
ان کو تلاش کیجیے
چہروں سے پہچانیے ۔۔۔ اور ان کے ہاتھوں میں ، ان کے گھروں میں چپکے سے دے آئیے شکریہ

17/03/2024

‏جِس قوم کے سارے گُناہ وظیفے پڑھنے، مذہبی پوسٹیں فارورڈ کرنے, سے معاف ہو جائیں۔
تو اِس قوم کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنے کِردار اور عمل کو بہتر کرنے کی کوشش کرے۔😢

06/03/2024

ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ مجھے ﺍﯾﮏ ﺭﻭﻧﮓ ﻧﻤﺒﺮ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ

کبھی کالز 🤪

ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺲ ﮐﺎﻟﺰ😟

کبھی میسجز🙄

ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺻﺒﺮ ﮐﺎ ﭘﮭﻞ ﮐﮍﻭﺍہیﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ😏😏

ﺻﺒﺮ ﮐﺎ ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ ﻟﺒﺮﯾﺰ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ Olx ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮐﻨﮉﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﺁﺋﯽ ﻓﻮﻥ 7 ﮈﺍﻻ _____ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺖ 5 ﮨﺰﺍﺭ ﻟﮑﮫ ﺩﯼ ____ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺒﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ😒😒😏😏

ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﭩﺲ . Cultus کار ﮐﯽ ﭘﮏ ﺍﭘﻠﻮﮈ ﮐﯽ ___ ﻗﯿﻤﺖ 70 ﮨﺰﺍﺭ ، ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻧﯿﭽﺮ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻧﻤﺒﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔😒😒😏😏😏😏

پھر ضرورت رشتہ کے لیے ایک خوبصورت لڑکی کی تصویر لوڈ کر کے اور اسی کاہی نمبر ڈالا😏😏😜😜😜

وہ دن اور آج کا دن یقین کرے تین ماہ سے زیادہ ہوگٸے اور ابھی تک اس کا فون نمبر بند ہی جا رھا ہے 🤣🤣🤣

انج تے فیر انج ائی سہی 😜
ساڈے نال پنگے🤣🤣🤣,,,,,,,

18/02/2024

فرینڈ لسٹ میں ہمیشہ ان لوگوں کو رکھیں، جو پانچ سو اختلافات کے باوجود بھی عزت و احترام والا رشتہ قائم رکھیں!!

16/02/2024

‏مبارک ہو ۔۔۔۔۔بلکہ بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔
ایک زبردست اور "اچھی" خبر

زرا سمجھنے کی کوشش کیجیے گا
سال 2023 کے آخری تین ماہ یعنی اکتوبر تا دسمبر چونکہ سرد ہوتے ہیں لہذا ان مہینوں میں بجلی کی طلب، باقی سال کے مقابلے کافی کم ہوجاتی ہے

طلب میں اس کمی کی وجہ سے، کئی بجلی گھر بند پڑے رہے

یعنی،

انھوں نے کوئی بجلی بنائی، اور نہ ہی بیچی

اگر وہ ان تین ماہ اپنی کیپیسٹی کے مطابق بجلی بناتے، تو اس بجلی کی لاگت قریباً 81 ارب بننی تھی

تو انھوں نے بجلی تو نہیں بنائی، پر اس "نہ" بنائی جانے والی بجلی کا بل جو 81 ارب کے لگ بھگ ہے، وہ حکومت کے اداروں کو بھیج دیا ہے

اور ظاہر ہے، حکومت وہ بل اب آپ کو بھیجنے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔

یعنی جو بجلی بنی ہی نہیں، جو آپ نے استعمال کی ہی نہیں، اس کا 81 ارب کا بل آپ نے آئندہ آنے والے بلوں میں بھرنا ہے

ہے ناں کمال کی پالیسی

اسے کہتے ہیں کیپیسٹی پیمنٹ

اور اس کمال کی پالیسی کا سہرا سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو جاتا ہے

یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ بجلی گھروں کے مالکان کون ہیں

تو کیسی لگی یہ پالیسی؟

اب جب اس نہ استعمال کی جانے والی بجلی کے بھاری بل آپ کے ہاتھوں میں آئیں تو شکریہ نواز شریف اور جیئے بھٹو کہنا نہ بھولیے گا ۔۔۔۔۔۔!!!!

نوٹ: خبر کا ریفرنس ۔
tribune.com.pk/story/2454944/…‎
منقول

11/02/2024

بہت مزیدار کالم

وسعت اللہ خان کا کالم ’بات سے بات‘: ووٹ کو نہ سہی خود کو ہی عزت دے دو

ماڈل بھی وہی ستر برس پرانا ہے اور خواہش بھی جوں کی توں یعنی انتخابات اچھے ہیں اگر نتائج کنٹرول میں رہیں۔ مگر سوار لاکھ اچھا ہو کبھی کبھی گھوڑا بدک بھی جاتا ہے۔

جیسے 1970 میں صدرِ مملکت کو حساس اداروں نے رپورٹ پیش کی گئی کہ ’ایک آدمی ایک ووٹ‘ کے اصول پر پہلے عام انتخابات کی تاریخی کلغی پی کیپ میں سجانے میں کوئی حرج نہیں۔ کسی بھی پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔

مشرقی پاکستان کی 162 نشتسوں میں سے اگرچہ عوامی لیگ زیادہ نشستیں لے گی مگر نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی) اور جماعتِ اسلامی کو بھی اچھی خاصی نشستیں ملیں گی۔ اسی طرح مغربی پاکستان کی 148 نشستیں پیپلز پارٹی، قیوم لیگ، جماعتِ اسلامی اور نیپ وغیرہ میں انیس بیس کے فرق سے تقسیم ہو جائیں گی۔ ان جماعتوں کے پاس مخلوط حکومت بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ چار و ناچار انھیں آپ کا تعاون حاصل کرنا ہو گا اور یوں آپ چاہیں تو وردی اتار کے بھی معقول حد تک بااختیار صدر بنے رہیں گے۔

پھر یوں ہوا کہ حساس اداروں کی تجزیاتی رپورٹیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ ووٹروں نے ملک کے دونوں بازوؤں میں وہ میز ہی الٹ دی جس پر مستقبل کا نقشہ بچھایا گیا تھا اور پھر یہ میز ہی چھینا جھپٹی میں ٹوٹ ٹاٹ گئی۔

2018 میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ وہی ڈیزائن دوبارہ استعمال ہوا اور کم و بیش سب چیزیں توقعات کے مطابق کنٹرولڈ ماحول میں خوش اسلوبی سے انجام پا گئیں۔

جن کی مشکیں کسنی تھیں انھوں نے بہت زیادہ چوں چاں نہیں کی۔ جس جماعت کو فری ہینڈ ملا اس نے بھی لگ بھگ ڈھائی سال تک تابعداری دکھائی اور اس کے عوض اسے بھی ریاستی بزرگ انگلی پکڑ کے چلاتے سکھاتے رہے۔

پھر پتہ ہی نہ چلا کہ بچے کا قد کیسے بانس کی طرح بڑھنے لگا مگر بزرگ تو بزرگ ہوتے ہیں وہ اسے ببلو گبلو سعادت مند بچہ ہی سمجھتے رہے۔ یہ کرو وہ نہ کرو، یہ کھاؤ وہ کھاؤ، اس سے ملو اس سے گریز کرو وغیرہ وغیرہ۔

ایک دن اس کی بس ہو گئی اور اس نے کوئی ایسی گستاخی کی کہ بزرگوں سے برداشت نہ ہو سکا اور انھوں نے کھڑے کھڑے یہ کہہ کر نکال دیا کہ لاڈ پیار نے اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ کچھ دن ٹھوکریں کھانے کے بعد خود ہی سمجھ جائے گا اور آ کے معافی مانگ لے گا اور پھر پہلے کی طرح ہمارے کہنے پر چلتا رہے گا۔

مگر آپ کو تو پتہ ہے کہ آج کل کے بچے کیسے ہوتے ہیں۔ مر جائیں گے پر اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے۔ چنانچہ بزرگوں کی پگڑی ہوا میں اڑا دی گئی اور پھر جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ برخوردار برابری کی سطح پر منھ کو آ گیا۔ لہذا تمام مروتیں اور روایات ایک طرف رکھ کے کمبل کٹائی شروع ہو گئی اور اسے عاق نامہ تھما دیا گیا۔

منصوبہ یہ تھا کہ اس گستاخ بے وفا برخوردار کے چکر میں جن نسلی تابعداروں کو چور ڈاکو بدعنوان قرار دے کر راندہِ درگاہ کیا گیا۔ انھیں دوبارہ منا کے واپس لایا جائے اور آئندہ کسی نئے لمڈے کو اس کے شجرہِ وفاداری کی چھان پھٹک کے بغیر گود نہ لیا جاوے۔

مگر ضدی بچہ کچھ لے دے کے بھی جان چھوڑنے پر تیار نہیں بلکہ مسلسل مفاداتی کباب میں ہڈی بنا ہوا ہے اور فیصلہ خدا پر چھوڑ کے سائیڈ پکڑنے کے بجائے اپنے حصے سے بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔

1970 کے بعد پہلا موقع ہے کہ پلان اے، بی، سی یکے بعد دیگرے ناکام ہوتے جا رہے ہیں اور بزرگوں کو ستر پوشی مشکل ہو رہی ہے۔ ان کے اعمال انہی کے سامنے ناچ رہے ہیں۔ انہی کے ہاتھوں میں پلنے والا برخوردار انہی کو اپنی جیتی ہوئی نشستیں ہلا ہلا کے دکھا رہا ہے اور مزید کا بھی دعوی دار ہے۔

مگر بزرگ ہیں کہ اس لمحے تک بھی سوشل میڈیا کے بدتمیز دور میں بیسویں صدی کے مائنڈ سیٹ میں مبتلا ہیں کہ ’ڈنڈہ پیر اے وگڑیاں تگڑیاں دا۔‘ مشکل یہ آن پڑی ہے کہ یہ 1979 نہیں کہ لٹکانے سے کام چل جائے۔ انیس سو ستانوے بھی نہیں کہ دو تہائی اکثریت کو ٹھکانے لگا کے ڈنڈہ ڈولی کر کے جہاز میں بٹھا دیا جائے۔

یہ تو عقل سے پیدل گروہ ہے جو اپنا نفع نقصان دیکھنے اور بزرگوں کی سننے کے بجائے ’ساڈا حق ایتھے رکھ‘ ٹائپ گیتوں پر ناچتا ہے۔

آگے کا راستہ بہت آسان بھی ہے اور بہت مشکل بھی۔ ان نوجوانوں کے غصے کی اصل وجوہات جاننے کی سنجیدگی سے کوشش کی جائے۔ ان کو محض بچہ سمجھ کے چپس، لیپ ٹاپ اور مفت دواؤں کے لالی پاپ دکھاتے رہیں گے تو یہ اور بھڑکیں گے۔

انھیں عزت کے ساتھ بٹھا کے ان کی بات تحمل سے سنی جائے۔ ان کا جتنا حصہ بنتا ہے دے دیا جائے اور ان پر اعتماد کیا جائے کہ یہ ڈگمگا بھی گئے تو خود کو گر پڑ کے سنبھال ہی لیں گے۔ جب اور جتنا مشورہ مانگیں بس اسی پر اکتفا کیا جائے۔

ویسے بھی جو خاکی و نوری افلاطون اس نسل کے تاحیات مامے بننے پر مصر ہیں وہ زیادہ سے زیادہ پانچ دس برس جئییں گے یا اپنے عہدوں پر رہیں گے۔ بعد میں بھی تو انہی لڑکے لڑکیوں نے ملک چلانا ہے۔

بہتر ہے کہ انھیں ابھی سے برابر کا حصہ دار بنا لیا جائے تاکہ آگے کی زندگی گذارنے کے لیے کچھ مشق ہو جائے اور وہ تلخیوں اور بدزنی کے ماحول سے نکل کے مستقبل کے چیلنج جھیل سکیں۔

اگر آپ خدا سے لو لگانے کی عمر میں بھی ڈھیلی لنگوٹ پہن کے اس نسل کے سامنے کبڈی کبڈی کرتے رہیں گے تو پھر تھپڑ، قینچی اور دھوبی پٹکے کے لیے بھی اپنے لخلخاتے انجر پنجر کو تیار رکھیں۔

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aaban Gamer 1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Aaban Gamer 1:

Share