04/01/2024
تازہ غزل
تو جو روٹھے مری پُر سوگ فضا ہوتی ہے
یہ بھی کیا طور ہے؟ تھوڑی تو وفا ہوتی ہے
زندگی میں تو کبھی کھُل کے بھی جی لیتا ہوں
تب، کسی دوست کی جب سالگِرہ ہوتی ہے
میرا ہر لمحہ عبادت میں گزر جاتا ہے
دُور جاتے ہو تو پھر ساری قضا ہوتی ہے
جاؤ! اک روز تو آنا ہے پلٹ کر لیکن
پھر کہاں باقی کسی طور حیا ہوتی ہے
ایسی حالت میں نیا سال منایا ہے ابھی
ایک اک دن یہ غزہ میں جو عزا ہوتی ہے
یہ نیا سال مبارک ہو تمہیں لوگوں کو
میرے اندر تو قیامت سی بپا ہوتی ہے
مجھ کو تم کیا ہو تمہیں اب میں بتاؤں کیسے
جیسے بیمار کو محسوس شفا ہوتی ہے
مجھ کو محسن سے تو بھرپور شکایت ہوگی
بِن بتائے بھی محبت کی بقا ہوتی ہے؟
محسن عباس Mohsin Abbas