07/09/2026
راولپنڈی سے مری، اپر دیول، گلیات اور کشمیر تک کے سفری راستوں کی تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جسے آج بھی پرانے مسافر اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ لوگ بڑے فخر اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سڑکیں آج کی طرح کشادہ نہیں تھیں، موٹروے کا تو دور دور تک نام و نشان بھی نہیں تھا، اور پرانی مری جی ٹی روڈ ہی مسافروں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ ہوا کرتی تھی۔
اس دور میں راولپنڈی سے مری اور آگے گلیات و کشمیر تک نشان بسیں، جنہیں عام طور پر پوڈری نشان بھی کہا جاتا تھا، اپنی مضبوطی، رفتار اور خوبصورت باڈیز کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی تھیں۔ مضبوط چیسس، بہترین باڈی، نفیس کاریگری اور شاندار سجاوٹ کے ساتھ تیار کی جانے والی یہ گاڑیاں صرف سواری کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے زمانے کی ٹرانسپورٹ کا ایک خوبصورت شاہکار ہوا کرتی تھیں۔