WELCOME DHIRKOT AJK.

  • Home
  • WELCOME DHIRKOT AJK.

WELCOME DHIRKOT AJK. Tehsil: Dhirkot Dhirkot is a town in Bagh District, Azad Kashmir, Pakistan. It is located 25 km from Kohala, 15 km from Chamankot


Elevation-(5,499 ft)

راولپنڈی سے مری، اپر دیول، گلیات اور کشمیر تک کے سفری راستوں کی تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جسے آج بھی پرانے مساف...
07/09/2026

راولپنڈی سے مری، اپر دیول، گلیات اور کشمیر تک کے سفری راستوں کی تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جسے آج بھی پرانے مسافر اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ لوگ بڑے فخر اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سڑکیں آج کی طرح کشادہ نہیں تھیں، موٹروے کا تو دور دور تک نام و نشان بھی نہیں تھا، اور پرانی مری جی ٹی روڈ ہی مسافروں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ ہوا کرتی تھی۔
اس دور میں راولپنڈی سے مری اور آگے گلیات و کشمیر تک نشان بسیں، جنہیں عام طور پر پوڈری نشان بھی کہا جاتا تھا، اپنی مضبوطی، رفتار اور خوبصورت باڈیز کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی تھیں۔ مضبوط چیسس، بہترین باڈی، نفیس کاریگری اور شاندار سجاوٹ کے ساتھ تیار کی جانے والی یہ گاڑیاں صرف سواری کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے زمانے کی ٹرانسپورٹ کا ایک خوبصورت شاہکار ہوا کرتی تھیں۔

راولپنڈی سے باغ سودھن گلی چلنے والی مایا ناز نشان بس 2424ایک وقت تھا جب گاؤں کے سب لوگ بس پر بیٹھ کر راولپنڈی جایا کرتے ...
06/09/2026

راولپنڈی سے باغ سودھن گلی چلنے والی مایا ناز نشان بس 2424

ایک وقت تھا جب گاؤں کے سب لوگ بس پر بیٹھ کر راولپنڈی جایا کرتے تھے سڑک پر چلتی بس جب اپنا مخصوص ہرن بجاتی تو گھروں میں یہ پتا چلتا کے پہلا ٹائم گزر رہا ہے کسی کو اپنے ہاں مہمان انے کی اطلاح ہوتی اور کسی کو اپنے گھر بیٹھے مہمان کو روانہ کرنے کی فکر ہوتی اور پھر وقت بدل گیا روڈ بدل گے لوگ بدل گئے محبتیں بدل گی بسیں بدل گہیں کچے مکان ختم ہو گے درخت کٹ گے چڑیاں اڑ گیئی گاؤں کے لوگ شہروں میں آباد ہو گے ایک دوسرے کی پروہ ختم ہو گہیں اور یوں ایک حسین زمانے کا اختتام ہو گیا اس بس کے استاد کون تھے ؟

28/08/2026

ریاست بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں بروز ہفتہ چھٹی منسوخ کر دی گئی، اب تعلیمی ادارے ہفتے میں چھ دن کھلے رہیں گے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی 30 ووٹ لے کر وزیراعظم آزادکشمیر منتخب ہو گئے۔بطور وزیراعظم آزادکشمیر میں جاری بحران  کے حل کے لیئے ...
28/08/2026

بیرسٹر افتخار گیلانی 30 ووٹ لے کر وزیراعظم آزادکشمیر منتخب ہو گئے۔بطور وزیراعظم آزادکشمیر میں جاری بحران کے حل کے لیئے کیا رول پلے کر پائیں گے ۔ فی الحال کوئ توقع کرنی قبل از وقت ہو گی ۔۔۔۔

ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر ایم ایل اے منتخب ہونے والے افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزد.کیا افتخارگیلانی وزیراعظم بن جانے کے...
27/08/2026

ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر ایم ایل اے منتخب ہونے والے افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزد.
کیا افتخارگیلانی وزیراعظم بن جانے کے بعد کشمیر میں جاری بحران کو کنٹرول کر سکیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی: معصوم زندگیوں کا المناک سانحہاسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ...
26/08/2026

پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی: معصوم زندگیوں کا المناک سانحہ
اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں پیش آنے والا خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور دکھ کا باعث ہے۔ بدھ کی صبح ہسپتال کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جہاں نومولود بچے زیرِ علاج تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں خرابی یا دھماکے کے بعد لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے نرسری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس حادثے میں متعدد نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک بچے کو بچا لیا گیا۔ مختلف ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 14 اور 15 بتائی گئی ہے، تاہم یہ سانحہ اپنی نوعیت میں انتہائی دلخراش ہے۔ وہ بچے جو ابھی دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز بھی نہیں کر پائے تھے، ایک اچانک حادثے کا شکار ہو گئے۔
ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ سانحہ صرف چند خاندانوں کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ ہسپتال وہ مقام ہوتے ہیں جہاں لوگ علاج، تحفظ اور زندگی کی امید لے کر آتے ہیں۔ خصوصاً نومولود بچوں کے وارڈز میں آگ سے بچاؤ کے مؤثر انتظامات، ہنگامی راستے، فائر سیفٹی سسٹم، بجلی اور ایئرکنڈیشننگ کی بروقت دیکھ بھال اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقات محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ واقعے کی اصل وجوہات سامنے لائی جائیں اور اگر کسی سطح پر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ ساتھ ہی ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی نظام کا جامع آڈٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسی ناقابلِ تلافی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔
اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے والدین اور اہلِ خانہ کے دکھ کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ پوری قوم ان غم زدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں و متاثرین کو صحت و سلامتی دے۔

زمانہ کتنا بدل گیا — ایک سنہری دور کی یادیںزمانہ کتنا بدل گیا ہے!جب ہم چھوٹے تھے، جب ہم نے ہوش سنبھالا تو تقریباً ہر گھر...
25/08/2026

زمانہ کتنا بدل گیا — ایک سنہری دور کی یادیں

زمانہ کتنا بدل گیا ہے!

جب ہم چھوٹے تھے، جب ہم نے ہوش سنبھالا تو تقریباً ہر گھر میں ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈر ہوا کرتا تھا۔ لوگ بڑے شوق اور توجہ کے ساتھ ریڈیو پر بی بی سی اردو اور وائس آف امریکہ سنا کرتے تھے۔ خبر ہو، حالاتِ حاضرہ ہوں یا کوئی خاص پروگرام، لوگ بڑے دھیان سے ریڈیو کے گرد بیٹھ جایا کرتے تھے۔

لیکن جوں جوں وقت بدلتا گیا، ٹیکنالوجی میں نئی نئی چیزیں متعارف ہوتی گئیں اور پرانی چیزیں آہستہ آہستہ ہمیں خیر باد کہتی گئیں۔

پھر ریڈیو کی جگہ ٹی وی نے لے لی۔ پہلے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کا زمانہ آیا۔ پھر وی سی آر آیا، اس کے بعد رنگین ٹی وی نے جگہ بنا لی۔ پھر وی سی آر کی جگہ وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی پلیئر نے لے لی، اور یوں ایک کے بعد ایک نئی چیز ہماری زندگی کا حصہ بنتی چلی گئی۔

اس وقت کس کو معلوم تھا کہ جن چیزوں کو ہم جدید ٹیکنالوجی کی آخری منزل سمجھ رہے ہیں، ایک دن وہی چیزیں ہمارے لیے ماضی کی یاد بن جائیں گی؟

پھر ٹی وی بھی بدل گیا۔ عام سادہ ٹی وی کی جگہ ایل سی ڈی اور پھر ایل ای ڈی نے لے لی۔ گھر میں تفریح اور موسیقی سننے کے انداز بھی بدلتے گئے۔

ایک زمانہ تھا جب گھروں میں کیسٹوں کے ڈھیر ہوا کرتے تھے۔ خاص طور پر انڈین گانے سننے کے لیے لوگ اپنی پسندیدہ کیسٹیں بڑے شوق سے خریدتے تھے۔ کیسٹیں رکھنے کے لیے الگ جگہ درکار ہوتی تھی۔ الماریوں، شیلفوں اور ڈبوں میں کیسٹیں ترتیب سے رکھی ہوتی تھیں۔ بعض گھروں میں تو اتنی کیسٹیں ہوتیں کہ دیکھ کر لگتا تھا جیسے موسیقی کا ایک چھوٹا سا خزانہ جمع کر رکھا ہو۔

کیا وہ بھی ایک سنہری دور تھا!

پھر آہستہ آہستہ سب کچھ سمٹتا گیا، سمٹتا گیا، یہاں تک کہ سینکڑوں کیسٹوں میں محفوظ موسیقی ایک چھوٹے سے میموری کارڈ میں سما گئی۔

آج ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ ایک چھوٹے سے میموری کارڈ میں اتنی معلومات، اتنی تصاویر، اتنی ویڈیوز اور اتنی موسیقی محفوظ ہو سکتی ہے کہ کبھی جن چیزوں کے لیے پورا کمرہ درکار ہوتا تھا، وہ سب ہماری جیب میں آ گئی ہیں۔

یہاں تک کہ گھڑی کا زمانہ بھی تقریباً ختم ہو گیا۔ جس گھڑی کو ہم کلائی پر باندھ کر وقت دیکھا کرتے تھے، آج وہ کام بھی موبائل فون نے سنبھال لیا ہے۔

وقت گزرتا گیا، ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی، زندگی آسان ہوتی گئی، چیزیں چھوٹی ہوتی گئیں، لیکن جب ہم ذرا رک کر پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو دل سے ایک ہی آواز آتی ہے:

کیا سنہری دور تھا! واقعی بہت سنہری دور تھا۔

اس زمانے میں ٹیکنالوجی کم تھی، لیکن لوگوں کے پاس وقت بہت تھا۔

لوگ ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے تھے۔ ایک دوسرے سے بات کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد سنتے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشی میں خوش اور غم میں شریک ہوتے تھے۔

کسی کے گھر غمی ہو جاتی تو لوگ صرف چند منٹ کے لیے تعزیت کرکے واپس نہیں آتے تھے، بلکہ بعض اوقات آدھی آدھی رات تک اس کے گھر بیٹھے رہتے تھے۔ اس کے دکھ میں شریک ہوتے، اسے حوصلہ دیتے اور اس کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے۔

یہ سب معمول کی بات تھی۔

لیکن آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔

آج ٹیکنالوجی ہماری جیب میں آ گئی ہے، دنیا ہماری انگلیوں کے اشارے پر ہے، موبائل فون میں پوری دنیا سمٹ آئی ہے، لیکن ایک دوسرے کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔

آج کوئی کسی کی غمی میں جاتا بھی ہے تو اکثر صرف حاضری لگانے کے لیے۔ دل سے بیٹھ کر دکھ بانٹنے، حوصلہ دینے اور کچھ وقت ساتھ گزارنے کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے۔ ملاقاتیں مختصر ہو گئی ہیں اور تعلقات بھی جیسے مصروفیات کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔

جب ہم اس پرانے سنہری دور کو یاد کرتے ہیں تو دل اداس ہو جاتا ہے۔

اس لیے نہیں کہ اس زمانے میں ٹیکنالوجی نہیں تھی، بلکہ اس لیے کہ اس زمانے میں انسان کے پاس انسان کے لیے وقت تھا۔

آج جب ہم پرانے ٹیپ ریکارڈر، ریڈیو، بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی، وی سی آر، کیسٹیں، سی ڈی پلیئر اور دوسری پرانی چیزیں دیکھتے ہیں تو صرف ایک مشین یا ایک چیز نظر نہیں آتی، بلکہ ان کے ساتھ ہماری پوری زندگی کی یادیں جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

وہ محفلیں یاد آتی ہیں۔

وہ دوست یاد آتے ہیں۔

وہ رشتہ دار یاد آتے ہیں۔

وہ لوگ یاد آتے ہیں جو ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے، ہماری بات سنتے تھے اور ہمارے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔

اور افسوس کہ ان میں سے بہت سے لوگ آج ہمارے درمیان نہیں رہے۔

ایک طرف ٹیکنالوجی کی پرانی چیزیں ہم سے جدا ہو گئیں، اور دوسری طرف اس دور کے بہت سے مخلص، سچے اور محبت کرنے والے لوگ بھی ہم سے رخصت ہو گئے۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ کاش وہ دن واپس لوٹ آئیں۔

کاش وہی رونقیں دوبارہ بحال ہو جائیں۔

کاش لوگ دوبارہ ایک دوسرے کے پاس بیٹھیں۔

کاش کسی کے گھر غمی ہو تو لوگ وقت نکال کر اس کے پاس بیٹھیں۔

کاش خوشی ہو تو سب مل کر خوشی منائیں۔

لیکن شاید وقت کا پہیہ پیچھے نہیں گھومتا۔

آج افراتفری ہے، مصروفیت ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ٹیکنالوجی ہر روز نئی منزل طے کر رہی ہے۔ آج جو چیز ہمیں جدید ترین لگتی ہے، شاید چند سال بعد آنے والی نسل اسے بھی ایک قدیم دور کی ٹیکنالوجی سمجھ کر دیکھے گی۔

آج ہمارے پاس یو ایس بی ہے، میموری کارڈ ہے، اسمارٹ فون ہے۔ کل شاید کوئی ایسی ٹیکنالوجی آ جائے جس کا ہم آج تصور بھی نہیں کر سکتے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل کی دنیا کیسی ہوگی۔

لیکن ایک بات ضرور ہے کہ نوے کی دہائی اور اس کے آس پاس کا وہ دور اپنی سادگی، اپنائیت اور باہمی محبت کے لحاظ سے واقعی ایک سنہری دور تھا۔

آپ میں سے کتنے لوگوں کو وہ زمانہ یاد ہے؟

کتنوں نے ٹیپ ریکارڈر سے لے کر ریڈیو، بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی، وی سی آر، رنگین ٹی وی، کیسٹ، سی ڈی، میموری کارڈ اور آج کی یو ایس بی اور اسمارٹ فون تک کا یہ پورا سفر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے؟

شاید ہماری آنے والی نسلیں ہماری ان باتوں کو صرف ایک قصہ سمجھیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم نے وہ دور جیا ہے۔

ہم نے وہ رونقیں دیکھی ہیں۔

ہم نے وہ اپنائیت دیکھی ہے۔

ہم نے وہ لوگ دیکھے ہیں جو واقعی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔

بس دل سے ایک دعا نکلتی ہے:

اے اللہ پاک! ہمارے ان بزرگوں، عزیزوں اور ان تمام سچے اور مخلص لوگوں کی مغفرت فرما جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان کے درجات بلند فرما، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، اور ہمیں بھی اپنے بزرگوں کی طرح محبت، اخلاص، خلوص، صبر اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

ہماری طرف سے زوبیہ خورشید راجہ کو بہت بہت مبارک ہو
24/08/2026

ہماری طرف سے زوبیہ خورشید راجہ کو بہت بہت مبارک ہو

Address


Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when WELCOME DHIRKOT AJK. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share