19/06/2026
خلع کے ذریعے نکاح کا خاتمہ
خلع اسلامی قانون اور پاکستان کے خاندانی قوانین میں ایک تسلیم شدہ حق ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اپنی شادی مزید جاری نہیں رکھنا چاہتی تو اسے قانونی اور شرعی طریقے سے اس رشتے سے نکلنے کا حق حاصل ہو۔ یہ حق اس اصول کو تسلیم کرتا ہے کہ شادی باہمی رضامندی پر قائم ہوتی ہے، اور کسی کو زبردستی ایسے رشتے میں رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے لیے قابلِ قبول نہ رہے۔
خلع حاصل کرنے کے لیے عموماً عورت کو مہر، مکمل یا جزوی طور پر، واپس کرنا پڑتا ہے۔ یہ شرط اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ خلع ایک سنجیدہ قانونی فیصلہ ہے اور اسے معمولی بات کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔ جب عدالت اس بات سے مطمئن ہو جائے کہ میاں بیوی میں صلح ممکن نہیں اور عورت واقعی نکاح ختم کرنا چاہتی ہے، تو خلع نکاح کے خاتمے کا مکمل اور مؤثر قانونی ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس لحاظ سے خلع عورت کا وہ حق ہے جو شوہر کے حقِ طلاق کے مقابلے میں اسے حاصل ہے، تاکہ شادی کسی فریق کے لیے ناقابلِ برداشت یا ناگزیر قید نہ بن جائے۔
جو عورت قانونی طور پر خلع حاصل کر لے اور عدت کی مدت پوری کر لے، اسے اپنی مرضی سے دوبارہ شادی کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اس حق کے لیے سابق شوہر کی اجازت درکار نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے اس پر کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار حاصل رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس حق کے استعمال کو جھوٹے یا بے بنیاد مقدمات کے ذریعے روکنے یا غیر قانونی ثابت کرنے کی کوشش کرے تو یہ عدالت کے عمل کا غلط استعمال ہے۔ یہ عورت کی عزت، آزادی اور خودمختاری کے خلاف بھی ہے، جن کا تحفظ عدالتوں کی ذمہ داری ہے۔
حوالہ:
C.P.L.A. 303-P/2018
سلطان بنام مسماۃ روشی زیب و دیگر
Mr. Justice Yahya Afridi
مورخہ: 04-06-2026۔