ادب زار - Adab Zaar

ادب زار - Adab Zaar یہ صفحہ کتابِ چہرہ پر اردو ادب کی ترویج کے لیے کوشاں رہے گا۔

ادب زار فورم ہفتہ وار تنقیدی نشستبمقام حق نواز پارک ڈیرہ جات ادبی بیٹھکبتاریخ : 6 فروری 2026بوقت : 4 بجے سہ پہرفروری کی ...
13/02/2026

ادب زار فورم ہفتہ وار تنقیدی نشست

بمقام حق نواز پارک ڈیرہ جات ادبی بیٹھک
بتاریخ : 6 فروری 2026
بوقت : 4 بجے سہ پہر

فروری کی دھوپ کسی من موہنی حسینہ کی طرح دل کی زمین پہ اترتی ہے اور روح کے تار ہلا دیتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب ماضی خود چل کر حال کے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے؛ پرانی یادیں، ادھورے قصے، بچھڑے ہوئے چہرے، اور وہ محفلیں جو وقت کے دھندلکوں میں کہیں محفوظ رہ جاتی ہیں، سب ایک ایک کر کے ذہن کی اسکرین پر ابھرنے لگتے ہیں۔ میرے نزدیک فروری صرف موسم نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، ایک ایسا لمحہ ہے جس میں وقت رک سا جاتا ہے اور یادیں بولنے لگتی ہیں۔ انہی یادوں کے تسلسل میں ادب زار فورم کی وہ نشستیں بھی شامل ہیں جو محض نشستیں نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ ایک روایت کی صورت اختیار کرتی گئیں۔ ایسی روایت جس میں لفظ کو مرکز ملا، مکالمے کو جگہ ملی، اختلاف کو راستہ دیا گیا، اور سوچ کو سانس لینے کا موقع ملا۔ وہ نشستیں جہاں سوال دبائے نہیں گئے، بلکہ کھولے گئے؛ جہاں رائے کو دشمنی نہیں سمجھا گیا، بلکہ گفتگو کا دروازہ مانا گیا۔ ہر نشست ایک نئی یاد بن کر وقت کے دامن میں محفوظ ہوتی گئی، اور ہر محفل ایک نئے قصے کی بنیاد رکھتی گئی۔
فروری کے اسی موسم میں، انہی پرانی یادوں اور روایت بن چکی محفلوں کے تسلسل میں، ادب زار فورم کی ایک اور نشست منعقد ہوئی۔ ایسی نشست جس میں بات کتاب سے نکلی، ناول تک پہنچی، کردار سے گزری، شہر پر ٹھہری، تاریخ کو چھوا، اور پھر واپس انسان کے شعور سے گزر کر لاشعور میں اتر گئی۔ یہی وہ نشست تھی جس کی گفتگو نے لفظوں کو محض لفظ نہیں رہنے دیا، بلکہ انہیں کہانی، سوال اور آئینہ بنا دیا۔ یہ نشست حق نواز پارک میں واقع کے ہال میں منعقد ہوئی۔
نشست کا آغاز خوشحال ناظر اور عامر عائز کی گفتگو سے ہوا۔ ابتدا میں تسلیم فیروز کے تازہ شعری مجموعہ "گنجان پانیوں کا سفر" پر بات ہوئی۔ عامر عائز نے کہا کہ تسلیم فیروز کے مطلعے بہت اچھے ہیں، ان میں ایسی بے ساختگی پائی جاتی ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔

اسی تسلسل میں رضوان عالم نے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ناول نگار ملکی ادبی منظرنامے پر نمایاں نہیں ہو پاتے؟ کیا یہ مسئلہ تخلیقی صلاحیت کا ہے یا مطالعے اور تربیت کی کمی کا؟

اس سوال پر خوشحال ناظر نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں نثر لکھنے والے بہت کم لوگ ہیں، اور جو لکھ رہے ہیں وہ عجلت پسند ہیں۔ ان کے نزدیک ریاض عاقب کوہلر کا ناول "بردہ" ایک اچھا ناول ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نسیم حجازی اور محمد سعید صاحب کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا کہ نسیم حجازی کے ناولوں جیسی پختگی محمد سعید صاحب کے ہاں نہیں ملتی۔ محمد سعید کی کہانی قاری کو اپنی گرفت میں لینے سے قاصر محسوس ہوتی ہے۔

فرح بخاری کے حوالے سے خوشحال ناظر نے کہا کہ پشتون کلچر کے تناظر میں لکھا گیا ان کا پہلا ناول پلاٹ کے اعتبار سے بہت مضبوط ہے اور واقعی ایک اچھا ناول ہے۔ ان کے دوسرے ناولوں مثلاً "بن پاکھی" وغیرہ کا مطالعہ بھی کیا ہے، مگر پہلا ناول زیادہ مضبوط محسوس ہوتا ہے۔ رزاق کوہلر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک نارمل لکھاری ہیں اور ان کے ہاں بھی وہی کچا پن ہے جو ڈیرہ کے باقی لکھاریوں کے ہاں پایا جاتا ہے، جب کہ ان کے بھائی ریاض عاقب کوہلر ایک اچھے اور سنجیدہ لکھاری ہیں۔

وزیرستان کے نوجوان ناول نگار احمد مسعود کے ناول پر گفتگو کرتے ہوئے خوشحال ناظر نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے آنے والا یہ ناول بھی کمزور ہے۔ نین الٰہی کے ناول "گل بنفشہ" پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اسے اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کہ وہ ان کی بیگم کا ناول ہے، تاہم اس پر بہتر رائے دوسرے لوگ ہی دے سکتے ہیں۔

اس کے بعد عامر عائز نے پوچھا کہ طاہر شیرازی کے ناول "سانس لیتے شہر میں محبت" کے حوالے سے دوستوں کی کیا رائے ہے؟

ثناءاللہ شمیم نے اس موقع پر کہا کہ ڈیرہ میں ادیب کم اور شاعر زیادہ ہیں، کیونکہ نثر لکھنا ایک مشکل کام ہے، اسی لیے لوگ نثر میں سستی سے کام لیتے ہیں۔

خوشحال ناظر نے "سانس لیتے شہر میں محبت" کے بارے کہا کہ اس کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ کرداروں کے درمیان مکالمہ موجود نہیں، حالانکہ مکالمہ ناول کا ایک بنیادی حصہ ہوتا ہے جو کرداروں کے جذبات اور احساسات کو سامنے لاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے صرف ایک رخ دکھایا گیا ہے، دوسرے رخ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، خاص طور پر سنی کمیونٹی کے اجتماعی کرب کو نظر انداز کیا گیا، حالانکہ اس کرب میں پورا شہر مبتلا رہا ہے۔

عامر عائز نے کہا کہ جب پورا شہر اس دکھ سے گزرا ہے تو کم از کم پورے شہر کا کرب بیان ہونا چاہیے تھا۔

حمزہ حسن شیخ کے ناول "کیول رام کا کافر کوٹ" کے متعلق خوشحال ناظر نے کہا کہ یہ صرف ایک بیانیہ ہے، اس میں کوئی باقاعدہ کردار نہیں ہے۔ عامر عائز نے اس پر یہ اضافہ کیا کہ اس ناول میں تاریخ کو بھی مسخ کیا گیا ہے۔

خوشحال ناظر نے کہا کہ ابٹن میں ہلدی، عرقِ گلاب اور آئل شامل ہوتے ہیں، مگر ناول میں لکھا گیا ہے کہ ابٹن سورج مکھی کے پتوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس پر عامر عائز نے کہا کہ ممکن ہے حمزہ حسن نے ابٹن اور سورج مکھی کی پیلی رنگت کی مماثلت کی بنیاد پر ایسا لکھا ہو۔

خوشحال ناظر نے مزید کہا کہ تاریخ فرشتہ جو کہ مستند کتاب نہیں ہے، وہاں سے مواد لے کر محمود غزنوی کو لٹیرا کہا گیا ہے، اور حمزہ حسن نے بھی ناول میں اسے لٹیرا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

احمد یحییٰ ارمغان نے کہا کہ انہوں نے ناول نہیں پڑھا، مگر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ابٹن والی بات ناول میں کیوں شامل کی گئی۔ اس پر خوشحال ناظر نے جواب دیا کہ ناول میں راجہ کی طوائف کو ابٹن لگایا جاتا تھا، حتیٰ کہ شرمگاہ پر بھی، تاکہ راجہ کو بدبو محسوس نہ ہو۔

ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈیرہ کے اکثر ادیب سنجیدہ مطالعے سے دور ہیں، اور جب مطالعہ کمزور ہو تو ناول معیاری نہیں ہو سکتا۔

عنوان "سانس لیتے شہر میں محبت" پر گفتگو کرتے ہوئے رضوان عالم نے کہا کہ سانس لیتا شہر زندہ شہر ہوتا ہے، وہاں گھٹن نہیں ہوتی، وہاں زندگی موجود ہوتی ہے، اس لیے وہاں محبت کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
اس پر عامر عائز نے کہا کہ طاہر شیرازی سانس لینے سے مراد دہشت گردی سے پہلے کا دور لیتے ہیں، جب امن اور خوشحالی تھی، مگر پھر بھی یہ عنوان ناول کی فضا سے میل نہیں کھاتا، اور زیادہ مناسب ہوتا کہ عنوان "گھٹن زدہ شہر میں محبت" ہوتا۔

خوشحال ناظر نے وضاحت کی کہ یہ عنوان محمد حمید شاہد کے مشورے سے رکھا گیا ہے۔

رضوان عالم نے مظہر الاسلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کتاب کے عنوان کو مکمل طور پر واضح کرتے ہیں، ان کے افسانوی مجموعے "خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر" میں دیباچہ بہت کمال ہے بلکہ ایک مکمل کہانی ہے۔
خوشحال ناظر نے کہا کہ اس درجے کا نثر نگار پورے پاکستان میں نہیں ہے۔

جمشید علوی نے گفتگو کو سماجی رخ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری شاعری اور نثر زیادہ تر فکشن تک محدود ہے، جبکہ سماجی مسائل کو ہم اپنی تحریروں میں بیان نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام ہماری اخلاقیات کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور ہماری تحریریں کلیشے بنتی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ تجویز دی کہ ایسے پروگراموں کو سوشل میڈیا پر لائیو کیا جائے تاکہ زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔

ثناءاللہ شمیم نے کہا کہ سرائیکی ادب میں مظلومیت کا بیانیہ حد سے زیادہ ہے، جس سے نئی نسل کو مایوسی اور احساسِ کمتری کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔ نعمان قریشی نے کہا کہ ہمارے ہاں منافقت بہت زیادہ ہے، اور اگر کوئی شخص ترقی کرتا ہے تو دوسرا اس کی ترقی میں رکاوٹ بننے لگتا ہے۔

مرغوب خاکسار نے نوجوانوں کے فکری بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی الجھن کا شکار رہتے ہیں اور یا تو مذہب بیزار ہو جاتے ہیں یا اپنی ہی قوم کے مخالف۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تقدیر کا مفہوم غلط بتایا جاتا ہے، جبکہ تقدیر اللہ کے علم کا نام ہے اور انسان کو عمل کی آزادی دی گئی ہے — انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔

بعد ازاں عامر عائز سے ان کے انقلابی و عصری مسائل پر کہے گئے اشعار کی فرمائش کی گئی۔

عدو سرحد پہ دستک دے رہا تھا مساجد میں وظائف ہو رہے تھے

فقر و فاقہ سے گھرانے کو بچانے نکلے مدرسہ چھوڑ کے اطفال کمانے نکلے

میرے دامان کی بے آب و گیاہ مٹی سے علم و حکمت کے گراں قدر خزانے نکلے

جن کی خاطر آپ اور ہم برسرِ پیکار ہیں
وہ بھی آلہ تھے اور یہ بھی آلہ کار ہیں

اختتامی مرحلے میں رضوان عالم نے سوال اٹھایا کہ ناول میں مکالمہ مضبوط کیسے کیا جا سکتا ہے؟

اس پر خوشحال ناظر نے تفصیل سے کہا کہ سب سے پہلی شرط مضبوط مطالعہ ہے۔ جب کردار بنایا جاتا ہے تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس کا علم، تجربہ، سماجی طبقہ اور پس منظر کیا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ایک کسان دانشورانہ گفتگو کر سکتا ہے، لیکن ایک حد تک؛ اس کی زبان اور لہجہ پھر بھی اس کے طبقاتی پس منظر سے جڑا رہے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسطبل میں کام کرتا ہے تو اسے گھوڑوں کا علم ہوگا، مگر اس سے جنگی حکمتِ عملی اور عسکری امور پر گفتگو کروانا غیر منطقی ہوگا، جب تک اس کے کردار کی تشکیل میں یہ بات شامل نہ ہو کہ وہ پہلے جنگجو رہا ہے۔

رضوان عالم نے کہا کہ اگر کردار کے تعارف میں یہ بتایا جائے کہ وہ پہلے ایک جنگجو تھا اور بعد میں اسطبل میں کام کرنے لگا، تو پھر اس کا مکالمہ مختلف ہوگا، کیونکہ اس کا تجربہ اس کی گفتگو کو جواز دے گا۔

مرغوب خاکسار نے کہا کہ اگر کسی کردار سے کسی خاص نوعیت کی بات کروانی ہو تو اس کردار کی تفصیل میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ وہ کن علوم سے واقف ہے، کن فنون میں مہارت رکھتا ہے اور اس کے تجربات کیا ہیں، کیونکہ کردار کی یہی ساخت مکالمے کو مضبوط بناتی ہے اور ناول کو فنی اعتبار سے بہتر کرتی ہے۔
اسی کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔
اس نشست میں عامر عائز، خوشحال ناظر، رضوان عالم، ادریس روباص، رحمت اللہ عامر، ذیشان گوہر، ثناءاللہ شمیم گنڈہ پور، مرغوب خاکسار، آفتاب احمد اعوان، نعمان قریشی، آشان مروت، احمد یحییٰ ارمغان، محمد گل احمد میمن، جمشید علوی، احسن خلیل اور سلیم زائر نے شرکت کی۔

از قلم: رضوان عالم

نشست : بمقام اسلام آباد ریستوران بتاریخ : 23 جنوری 2026 ، بروز جمعہبوقت : 4:00 بجے سہ پہروہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی می...
26/01/2026

نشست : بمقام اسلام آباد ریستوران
بتاریخ : 23 جنوری 2026 ، بروز جمعہ
بوقت : 4:00 بجے سہ پہر

وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں
کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا

جب ہم دھوپ کے تمنائی تھے، آوارہ بادلوں کی ایک ٹولی کہیں سے آ پہنچی اور بارش کی ننھی بوندیں اس تسلسل سے برسیں کہ گلیاں، سڑکیں، عمارتیں ہی نہیں، ہمارے وجود بھی بھیگ گئے--- جنوری کی بارش اور چائے کی پیالی سے اٹھتا دھواں--- دونوں ہی ادب زاریوں کی کمزوری ہیں: ایک رستہ روکتی ہے، دوسرا طلب بڑھاتا ہے۔ یوں کچھ دوست چائے کی طلب لیے اسلام آباد ریستوران کی چھت پر آ پہنچے اور نشست کو اپنی موجودگی سے رونق بخشی۔ اکثر جمعہ کی نشستوں میں ہمارے لیے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں کہ ہم انہیں ملتوی کرتے کرتے رہ جاتے ہیں، مگر پختہ ارادے چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے۔۔۔۔
آج نشست میں ادب زار فورم کے جنرل سیکرٹری رضوان عالم کی غزل زیرِ بحث رہی۔ خوشحال ناظر نے غزل کی قرأت کی، اور یوں لفظوں کا در کھلا تو خیال در خیال سفر شروع ہو گیا۔
غزل کا مطلع یوں تھا۔

خاک پر اس خون کی تحریر سے رشتہ مرا
رزم گاہِ اُحد و خیبر کربلا سے تھا مرا

ادریس روباص نے سب سے پہلے مطلع کی پرتیں کھولیں۔ انہوں نے کہا کہ مطلع میں “خاک” کو کاغذ کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، جب کہ دوسرے مصرع میں اُحد اور خیبر کا تلازمہ قائم کر کے ہماری تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
فیصل فصی نے فنی زاویے سے بات کو آگے بڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ غزل آزاد قافیہ میں ہے، مگر اس کی روانی متاثر نہیں ہوتی۔ البتہ مطلع کا پہلا مصرع قاری کو لمحہ بھر کے لیے الجھا دیتا ہے، اور وہ اسے سمجھنے کے لیے مجبوراً دوبارہ سے پڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ مصرع اولیٰ میں لفظ “اس” اچھا نہیں لگ رہا۔
عامر عائز نے اسی مطلع کو عقیدت کی سطح پر دیکھتے ہوئے کہا کہ تلمیح کو شاعر نے اپنی ذات سے جوڑ کر پیش کیا ہے، اور یہی ربط شعر کو داخلی قوت بخشتا ہے۔
احمد یحییٰ ارمغان نے اسی تناظر میں یہ سوال اٹھایا کہ مصرع اولیٰ میں احد کا ذکر ہے خیبر اور کربلا کا بھی ہے تو بدر کو نظر انداز کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کیا بحر کی مجبوری کی وجہ سے شاعر نے بدر کو شعر کے سانچے میں نہیں ڈھالا؟
اس پر ادریس روباص نے وضاحت کی کہ اُحد کا حوالہ نبی کریم ﷺ کے دندانِ مبارک کی شہادت کے باعث زیادہ بلیغ بنتا ہے، اسی لیے شاعر نے اُحد کو منتخب کیا ہے۔
خوشحال ناظر کے مطابق “رزم گاہ” کے ساتھ “خاک” اور “خون” کا تلازمہ مطلع کا حسن ہیں
دوسرا شعر زیرِ بحث آیا۔

آج بھی دریا سے خالی ہاتھ لہریں آ گئیں
آج بھی پانی کے اندر رہ گیا لاشہ مرا

فیصل فصی نے اس شعر کو تخلیقی جمود اور داخلی کرب کی علامت قرار دیا۔ ان کے نزدیک بعض اوقات شاعر بہت کچھ کہہ جاتا ہے، مگر اندر یہ احساس باقی رہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ رہ گیا ہے—جیسے وہ لاش جو دریا کی تہہ میں رہ جائے اور سطح تک نہ آ سکے۔
عامر عائز نے اس شعر کو ایک تلخ واقعے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ محض شعر نہیں بلکہ ایک نوحہ ہے، ایک ایسے نوجوان کا نوحہ جو دریائے سندھ میں ڈوبا اور واپس نہ آیا ان کا اشارہ ادب زار فورم کے ممبر قاصد ندیم کی طرف تھا جو شادی کے ہفتہ بعد دریا میں ڈوب گیا تھا اور اس کی لاش آج تک نہیں ملی
تیسرا شعر یوں تھا

کیا خرابی تھی کہ ہم اک ساتھ دنیا دیکھتے
کیوں کیا آزاد مجھ کو توڑ کر پنجرہ مرا

فیصل فصی نے اسے عشق کی نفسیات کا شعر کہا—وہ قید جو محبوب کے ساتھ ہو آزادی سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اسی حوالے سے انہوں نے ظفر اقبال کا ایک شعر بھی سنایا۔
تو نے تو رہا کر دیا کب کا ہمیں لیکن
ہم ساتھ لیے پھرتے ہیں زنجیر تمہاری
(ظفر اقبال)
خوشحال ناظر نے اس شعر کو سرائیکی محاورے
“رات چھیڑے وات آوے تے وچھوڑے وات نہ آوے”
کی زندہ مثال قرار دیا
عامر عائز نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شعر کو قید و رہائی کے استعارے میں بھی پڑھا جا سکتا ہے، جہاں آزادی بھی اس لیے ناگوار لگتی ہے کہ وہ ساتھ چھوٹنے کی قیمت پر ملی ہو۔ انہوں نے قیدیوں کی آپس میں محبت کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ اگر دو قیدیوں میں سے ایک قید سے رہا ہو جائے اور دوسرا قید ہو تو ان دونوں کا کرب بیان سے باہر ہوتا ہے۔
چوتھا شعر عامر عائز نے پڑھا۔

گاؤں کی کچی سڑک، بارش، ہمارے قہقہے
یاد تو ہوگا تمہیں، پر یاد سے اب کیا مرا

احمد یحییٰ ارمغان کے نزدیک مصرعِ ثانی میں “پر یاد سے اب کیا مرا” کا استعمال لفظی سطح پر سقم پیدا کرتا ہے اور کرافٹ کو کمزور کرتا ہے۔
خوشحال ناظر نے کہا کہ شاعر یہاں ناسٹلجیا کی بات کر رہا ہے وہ یادیں جن سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں اور جن پر ہمارا مجموعی شعری مزاج قائم ہے۔
احمد یحییٰ ارمغان نے اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر یاد کو بھلایا ہی نہیں جا سکتا تو “یاد سے اب کیا مرا” کہنا مفہوم کو الجھا دیتا ہے۔
فیصل فصی کے خیال میں شاعر یہاں یہ کہنا چاہتا ہے کہ صرف یاد کافی نہیں؛ اگر وہ سارے مناظر واپس آ جائیں تو بات بنے، محض یاد پر قناعت نہیں کی جا سکتی
پانچواں شعر تھا:

میں نے ہی اس کو پکارا پیار سے پہلے پہل
ماؤں نے پھر بعد میں چوری کیا لہجہ مرا

فیصل فصی نے کہا کہ اس شعر کو تصوف کے تناظر میں دیکھا جائے، خصوصاً “اللہ ھو” کی روایت کے حوالے سے یہ خیال پیش کیا کہ شاعر یہاں صوفیا اور شعرا کا ترجمان بن کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محبت میں “اللہ ھو” کی صدا سب سے پہلے اہلِ دل نے بلند کی، جسے بعد میں ماؤں نے لوریوں میں سمو لیا۔
خوشحال ناظر نے اذان کے حوالے سے اس خیال کو مزید واضح کیا—کہ بچے کے کان میں سب سے پہلے “اللہ اکبر” کہا جاتا ہے اور اس کے بعد "اللہ ھو" آتا ہے اگر اس شعر کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ سب سے پہلے "اللہ ھو" ہم نے پکارا اور پھر بعد میں مائیں اس لہجہ سے اتنی متاثر ہوئیں کہ اسے اپنی لوریوں کا مرکز بنا دیا۔ تمام احباب نے اس شعر کو حاصلِ غزل قرار دیا
چھٹے شعر یہ تھا۔

دے رہا تھا درس وہ بھی سیرتِ کردار پر
قد نہیں دیکھا گیا اس سے کبھی اونچا مرا

عامر عائز کے نزدیک شعر واضح اور دوہرے معیار کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
فیصل فصی نے اسے معنوی طور پر عام اور کلیشے سے قریب قرار دیا، ساتھ ہی لسانی سطح پر یہ تجویز بھی دی کہ دوسرے مصرع میں “اس سے” کی جگہ “جس سے” زیادہ مناسب ہوگا۔
خوشحال ناظر نے رائے دی کہ اگر شعر کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ نصیحت کرنے والا قد میں چھوٹا اور مخاطَب بڑا ہے تو شعر ایک منفرد اور تازہ محسوس ہوتا ہے
ساتواں شعر یوں تھا:

ایک سے حالات دونوں پر بہم نازل ہوئے
پیڑ کو دیمک لگی اور جھیل کو صدمہ مرا

فیصل فصی کے مطابق پیڑ اور دیمک کا رشتہ فطری ہے، مگر جھیل کے ساتھ “صدمہ” معنوی ہم آہنگی پیدا نہیں کر پاتا۔
خوشحال ناظر نے تجویز دی کہ جھیل کی خشکی کے مترادف اگر کوئی لفظ باندھا جاتا تو شعر مضبوط ہو سکتا تھا۔
احمد یحییٰ ارمغان نے امکان ظاہر کیا کہ پیڑ والدین اور جھیل محبوب کی علامت ہو سکتی ہے، اگرچہ “بہم” کے استعمال پر انہیں تحفظات رہے۔
عامر عائز کے مطابق “بہم” معنوی طور پر قابلِ قبول ہے، مگر تلازمے کی کمزوری بہرحال برقرار رہتی ہے۔ مجموعی طور پر غزل عمدگی سے تخلیق کی گئی ہے۔
اسی کے ساتھ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔
نشست میں عامر عائز، رضوان عالم ، خوشحال ناظر، احمد یحییٰ ارمغان ، فیصل فصی ، رحمت اللہ عامر، ادریس روباص، ذیشان گوہر ، آشان مروت، سعادت نواز اور امجد پرویز ممکن نے شرکت کی۔

تحریر از : رضوان عالم

طاس علم و ادب، اسلام آباد اور حفصہ فریال بلوچ کا تہِ دل سے شکریہ کہ انہوں نے ادب زار فورم کی تنقیدی نشست کی رپورٹ کو اپن...
20/01/2026

طاس علم و ادب، اسلام آباد اور حفصہ فریال بلوچ کا تہِ دل سے شکریہ کہ انہوں نے ادب زار فورم کی تنقیدی نشست کی رپورٹ کو اپنے اخبار میں شائع کر کے اسے اعزاز بخشا

نشست بمقام اسلام آباد ہوٹلبتاریخ 16 جنوری 2026بوقت  سہ پہر 4:00 بجےبروز جمعۃ المبارک 16 جنوری 2026ء کو "ادب زار فورم" کی...
17/01/2026

نشست
بمقام اسلام آباد ہوٹل
بتاریخ 16 جنوری 2026
بوقت سہ پہر 4:00 بجے

بروز جمعۃ المبارک 16 جنوری 2026ء کو "ادب زار فورم" کی ہفتہ وار نشست معمول سے ہٹ کر "اسلام آباد ریستوران" کی چھت پر منعقد ہوئی۔
دُھند چھٹنے سے سُورج کو اپنی تمازت نچھاور کرنے کا خُوب موقع ملا جس سے سردی کی شدت میں قدرے کمی محسوس ہوئی۔
"ادب زار فورم" کے سرپرستِ اعلیٰ جناب ثناءاللہ شمیم نے محفل کو رونق بخشی۔انھوں نے ریڈیو ڈیرہ کے ساتھ جُڑی یادیں تازہ کرتے ہوئے ریڈیو کے موجودہ کام پر مایوسی کا اظہار کیا۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریڈیو ڈیرہ کے پاس آئیڈیاز نہیں ہیں، ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب پروگرام سے پہلے باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی تھی۔
اسی سلسلے میں جناب سلیم زائزؔ نے ریڈیو ڈیرہ سے جُڑی کچھ یادیں شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سال 1997ء میں شاعری کے حوالے سے اپنا پروگرام ریکارڈ کروایا جس کے پروڈیوسر جناب فیاض بلوچ تھے۔
محفل اپنا رنگ جما چُکی تھی کہ سر زمینِ ڈیرہ کی مٹی سے اس کی تاریخ اور اس کی قدیم عمارتوں کے دل دادہ جناب یاسر عباس بگیڑا تشرہف لائے جن کی حال ہی میں "ادبیاتِ ڈیرہ " کے حوالے سے کتاب منظرِ عام پر آئی ہے۔
پہاڑپور کی دھرتی سے تشریف لائے مہمان شاعر جناب زاہد خان اس خوبصورت نشست کا حصہ بنے، انھوں نے مرزا اطہر بیگ کے ناول "حسن کی صورتِ حال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خالی جگہ پُر کریں" کے کردار جس کو بونے اکٹھے کرنے کا شوق ہوتا ہے جس میں وہ کردار گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروانا چاہتا ہے۔زاہد بھائی نے اپنی ایک غزل اور نظم "پھیلی ہوئی دُنیا" سے محفل کو محظوظ کیا۔
بی۔ایس اُردو کے طالب علم اور ادب زار فورم سے وابستہ اسرار شاکر نے جدید نظم نگاری میں علامت کے حوالے سے سوال کیا جس کے جواب میں خُوشحال بھائی نے sea,sand,sun,sex Four x کے ذریعے علامات سمجھانے میں مدد کی۔
مزید وزیر آغا کے حوالے سے کہا کہ انھوں نے دھوپ کو موت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
ادب زار فورم کے سیکرٹری فنانس جناب احمد یحییٰ ارمغان نے سوال اُٹھایا کہ جنس کو علامت میں کیسے برتا جا سکتا ہے؟ جواب میں جناب خوشحال ناظرؔ نے جنس کے حوالے سے آگ کی مثال دی۔
صدر ادب زار فورم عامر عائز نے کہا کہ تتلی کو عورت کی علامت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ عورت کے دامن پر داغ آ جانے اور تتلی کو چھونے سے اس کے رنگ کے اُڑ جانے میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے، اور یہی مماثلت علامت کی بنیاد بنتی ہے۔
اسرار شاکر کے ایک اور سوال شخصی علامت کے جواب میں خوشحال ناظر صاحب نے محترمہ عنبرین صلاح الدین کی شاعری میں لفظ کھڑکی کے بارے میں کہا کہ ایک کمرے کی کھڑکی ہے کھڑکی سے باہر آسمان، صحن، موسم، چاند یہ سب نظارے ایک ہندوستان کی عورت کھڑکی سے جھانک کر دیکھ سکتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کی عورت قید میں ہے۔مذید اس حوالے سے جناب خوشحال ناظر نے شناور اسحاق کی غزل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کلام میں لفظ اپاہج اُن کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔
نشست کے اختتام سے پہلے بزرگ شاعر جناب امجد پرویز ممکنؔ نے اپنا کلام سُنایا۔عامر عائز کی فرمائش پر ادب زار فورم کے سیکرٹری جنرل جناب رضوان عالم پناہ نے اپنے دو خوبصورت شعر سُنائے۔

گھنٹی بجا کے بھاگ گئے ہیں شریر لوگ
ہم راہ گیر مُفت میں ہی دھر لیے گئے
۔۔۔
بیٹی ہوئی پڑوس کے کچے مکان میں
کیچڑ میں جیسے پھول کھلا ہو گلاب کا

فورم کے نائب صدر جناب قاضی جواد جمیل نے اپنے کلام سے خوبصورت انتخاب سُنا کر داد سمیٹی۔
اسی کے ساتھ ہی نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔اس یادگار نشست میں جناب ثناءاللہ شمیم، جناب رحمت اللہ عامر، جناب خوشحال ناظرؔ،جناب امجد پرویز ممکن، جناب یاسر عباس بگیڑا، جناب سلیم زائز، جناب ذیشان گوہر، جناب عامر عائز، جناب رضوان عالم پناہ، جناب قاضی جواد جمیل، جناب احمد یحییٰ ارمغان، جناب مجاہد خان تاثیر،جناب زاہد خان،جناب شکور دانش، جناب عدنان طائر، جناب اسرار شاکر شریک ہوئے۔

رُوداد نگار: عامر عائزؔ

روزنامہ "طاس" اسلام آباد کی ٹیم کا شکریہ کہ انہھوں نے ادب زار فورم ڈیرہ اسماعیل خان کی ہفتہ وار تنقیدی نشست کی رپورٹ کو ...
12/01/2026

روزنامہ "طاس" اسلام آباد کی ٹیم کا شکریہ کہ انہھوں نے ادب زار فورم ڈیرہ اسماعیل خان کی ہفتہ وار تنقیدی نشست کی رپورٹ کو اپنے اخبار کا حصہ بنایا

نشست بمقام الحمراء کلینک بتاریخ: 9 جنوری 2026 بروز جمعہبوقت : سہ پہر 4:00 بجے صبح سے آسمان پر بادلوں نے ایسا جال بچھا رک...
10/01/2026

نشست
بمقام الحمراء کلینک
بتاریخ: 9 جنوری 2026 بروز جمعہ
بوقت : سہ پہر 4:00 بجے

صبح سے آسمان پر بادلوں نے ایسا جال بچھا رکھا تھا کہ سورج کی کرنیں لمحہ بھر کے لیے بھی زمین تک رسائی نہ پا سکیں۔ سرد ہوائیں جسم و جاں میں سرایت کر رہی تھیں اور ہر لمحہ ادب زاریوں کے حوصلے پست کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہی تھیں مگر چند شائقینِ ادب تخلیق کی آتش میں جلتے دلوں کے ساتھ سردی کے شکنجے کو توڑتے ہوئے گھروں سے نکل پڑے اور روایت کے برعکس پام بیچ ریستوران کی بجائے الحمراء کلینک میں محفل سجائی۔ یہ سرد لمحے جو اکثر لوگ گرم کمروں اور برقی بھٹیوں کے قریب بیٹھ کر سکون سے گزار دیتے ہیں، انہوں نے ادب پر قربان کر دیے۔ نشست کسی طے شدہ موضوع کے بغیر رہی مگر ادبی چٹکلوں کے بعد شعر و ادب اور تخلیقی تجربات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔۔
محترم ذیشان گوہر نے محفل کا آغاز اپنی دو نظموں
“قائدِ اعظم زندہ باد” اور “تاریخِ اسلامیہ اسکول” سے کیا۔
نظم تاریخِ اسلامیہ اسکول میں انہوں نے اسکول سے جڑی یادوں اور اس کی تاریخی اہمیت کو بڑے سلیقے سے نظم کیا، خصوصاً اسکول کی بنیاد کی تاریخ 1889ء کو شعری پیکر میں بہت خوبصورتی سے سمویا۔
پھر انہوں نے ایک غزل بھی سنائی، جس کے دو اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

ہیرے کی قدر ہیں جوہری جانتے
قدرداں داد دیتے ہر اک آن ہیں
کیوں وہ تنقید کرتے ہیں پہلے بہت
بیٹھ جاتے جو ہو کر پشیمان ہیں
ذیشان گوہر

بعد ازاں فیصل فصی نے کتاب کی اشاعت کے حوالے سے سوال اٹھایا، جس پر خوشحال ناظر نے نہایت تفصیل کے ساتھ رہنمائی فراہم کی۔ پھر فیصل فصی نے نسیم عباسی کے اشعار سنائے اور ان کی تخلیقی قوت کو سراہا۔
جواد جمیل نے گفتگو کا رخ آزاد نظم اور پابند نظم کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ آزاد نظم کا اختتام آسان جبکہ پابند نظم کا اختتام مشکل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنی نظموں کی مثال پیش کی اور کہا کہ میں نے جو آزاد نظمیں کہیں ان کے اختتام میں مجھے مشکل نہیں آئی مگر پابند نظموں کے اختتام میں مجھے کافی مشکل ہوئی یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ کس بند پر نظم ختم کروں۔
اس پر عامر عائز نے اختلاف کیا اور کہا کہ پابند نظم کا اختتام نسبتاً آسان ہوتا ہے جبکہ آزاد نظم کا مشکل؛ کیونکہ آزاد نظم میں مؤثر پنچ لائن کہنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ اپنی بات کی تائید میں انہوں نے علامہ اقبالؒ کی نظم “جوابِ شکوہ” کے ابتدائی دو بند اور اختتامی دو بند سنا کر مثال پیش کی۔
فیصل فصی نے عامر عائز کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ایک آزاد نظم کی پنچ لائن نہایت مشکل سے کہی تھی اور طویل عرصہ یہی سوچتے رہے کہ نظم کو کس مقام پر ختم کیا جائے۔ کیونکہ آزاد نظم کی خوبصورتی اختتامی پنچ لائن میں ہوتی ہے ان کے مطابق بعض شعرا آزاد نظم کے اختتام پر محض آخری دو مصرعوں میں قافیہ جوڑ کر نظم کو سمیٹ دیتے ہیں
احمد یحییٰ ارمغان نے گفتگو میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ نظم اپنے عنوان کے دائرے میں مقید ہوتی ہے، اس لیے چاہے نظم آزاد ہو یا پابند، اسے ایک خوبصورت اور بامعنی انجام تک پہنچانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ یہی مرحلہ شاعر کی مہارت، ریاضت اور فنی پختگی کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
اس پر خوشحال ناظر کا کہنا تھا کہ آزاد نظم کا اصل اختتام آخری دو یا تین مصرعوں میں پوشیدہ ہوتا ہے، اور یہی مصرعے کہنا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی نظم کی روح اس کی آخری پنچ لائن میں سمٹ آتی ہے۔ ان کے مطابق آزاد اور پابند، دونوں نظموں کا اختتام اپنی جگہ ایک تخلیقی چیلنج ہے۔
گفتگو کو رضوان عالم نے اس نکتے پر سمیٹا کہ اگر ہم پہلے سے کہی گئی نظموں کو پڑھ کر کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تو فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کیونکہ ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے کسی کے لیے آزاد نظم سہل ہوتی ہے اور کسی کے لیے پابند۔ جب تک شاعر خود تجربے کی بھٹی سے نہیں گزرتا، کسی حتمی فیصلے تک پہنچنا ممکن ہی نہیں۔
اس کے بعد تمام شعرا نے اپنے تازہ اشعار سنائے:

رنگِ محفل ذرا جدا ہوتا
ہم کو موقع اگر ملا ہوتا
عامر عائز

کس قدر غمناک تھیں، فیصل خزاں کی بارشیں
آخری پتا گرا اور پیڑ رونے لگ گئے
فیصل فصی

ابھی ابھی میں نے پاؤں سے گرد جھاڑی تھی
ابھی ابھی میرے پاؤں پڑے سفر کے چراغ
خوشحال ناظر

وقت آنے پہ کیسے بدلے گا
پرورش جس طرح ہو پتھر کی
جواد جمیل

بچھڑے تو اپنے گھر کا بھی رستہ نہیں ملا
ویسے تمام راستے دیکھے ہیں شہر کے
رضوان عالم

اسی کے ساتھ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔ نشست میں فیصل فصی، ذیشان گوہر، جواد جمیل ، احمد یحییٰ ارمغان ، عامر عائز، خوشحال ناظر اور رضوان عالم نے شرکت کی

تحریر از : رضوان عالم

نشست بمقام: پام بیچ ہوٹلبتاریخ: 2 جنوری 2026بوقت: سہ پہر 4:00 بجےجنوری کی سرد سہ پہر تھی۔ موسم اپنی پوری یخ بستگی کے سات...
03/01/2026

نشست بمقام: پام بیچ ہوٹل
بتاریخ: 2 جنوری 2026
بوقت: سہ پہر 4:00 بجے

جنوری کی سرد سہ پہر تھی۔ موسم اپنی پوری یخ بستگی کے ساتھ شہر پر اترا ہوا تھا۔ پام بیچ ہوٹل کے صحن میں چلتی تیز ہوائیں وجود کو منجمد کرنے پر تُلی ہوئی تھیں، مگر اس سرد فضا میں بھی دلوں کے اندر ایک اور طرح کی حرارت موجزن تھی—الفاظ کی، فکر کی اور زبان سے والہانہ محبت کی۔ ادب کے دیوانے سردی کی شدت کو خاطر میں لائے بغیر آہستہ آہستہ جمع ہو رہے تھے؛ کہیں مصافحوں کی گرمائش تھی، کہیں مسکراہٹوں کی روشنی، اور کہیں زبان و رسم الخط پر پہلے ہی سے جاری گفتگو کے سرگوشی نما سلسلے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ نشست محض ایک رسمی ملاقات نہیں، بلکہ سرائیکی زبان کے شعور، اس کی تہذیبی جڑوں اور تحریری شناخت کے گرد گھومتی ایک سنجیدہ فکری محفل ہے، جہاں ہر شریک اپنے حصے کی روشنی، سوال اور احساس کے ساتھ حاضر ہوا ہے۔
جناب رحمت اللہ عامر نے صدارت سنبھالی۔ موسیٰ کلیم دوتانی اور آفتاب احمد اعوان بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ نشست کا مرکزی موضوع سرائیکی رسم الخط تھا، جس پر نہایت سنجیدہ، تحقیقی اور فکری گفتگو سامنے آئی۔
فورم کے صدر عامر عائز، جنہوں نے سرائیکی زبان میں ماسٹر کیا ہوا ہے، نے گفتگو کا آغاز سرائیکی رسم الخط کی فنی ساخت سے کیا۔ ان کے مطابق سرائیکی رسم الخط میں پانچ “وادھویں اکھر یعنی اضافی حروف ” (ٻ، ڃ، ڊ، ڳ، ݨ) شامل ہیں جو محض اضافی حروف نہیں بلکہ زبان کی صوتی شناخت، لہجوں کے تنوع اور مقامی آہنگ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان حروف کو تحریری صورت میں واضح کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اگر رسم الخط کی درست تفہیم نہ ہو تو زبان کا اصل حسن اور معنوی وسعت برقرار نہیں رہ سکتی۔
احمد یحییٰ ارمغان نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ "“ونگڑاں والا بھانڑ” کی درست املا کیا ہوگی، جس پر آفتاب احمد اعوان نے اسے تحریری شکل میں یوں واضح کیا " وڳݨاں آلا بھاݨ" انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ سرائیکی کا حرف ڑیں ہے یا نونڑ کیونکہ میں نے ایک جگہ اس حرف کا نام نونڑ پڑھا تھا۔ جس پر عامر عائز نے بتایا کہ اصل حرف ڑیں "ݨ" ہے ناں کہ نونڑ۔
آفتاب احمد اعوان نے سرائیکی زبان کے تاریخی سفر پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق سرائیکی ایک قدیم اور جڑوں میں اتری ہوئی زبان ہے جس کی بقا کا انحصار تحریری روایت سے زیادہ زبانی روایت پر رہا۔ لوک کہانی، شاعری، گیت، داستانیں اور عوامی حافظہ وہ وسائل رہے جنہوں نے اس زبان کو صدیوں اب تک زندہ رکھا۔ ان کے خیال میں کسی زبان کا تحریری صورت میں دیر سے آنا اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ عوام میں کس حد تک رچی بسی رہی۔ یہی سرائیکی زبان کے مقبول عام ہونے اور وادی سندھ کی عوامی زبان ہونے کا ثبوت ہے
خوشحال ناظر نے لسانی تاریخ کے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ ان کے مطابق “سرائیکی” بطور اصطلاح نسبتاً بعد کے ادوار میں سامنے آئی۔ انہوں نے فیروز شاہ کے حوالے سے وضاحت کی کہ زبان کا اصل نام “سرائیکھی، سرائے کھی اور سرے والی" ملتا ہے، جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ زبان اپنی اصل میں موجود تھی، البتہ اس کا نام وقت اور حالات کے ساتھ بدلتا رہا۔ ان کے نزدیک زبان کا نام نہیں بلکہ اس کا داخلی ڈھانچہ، صوتیات اور تہذیبی پس منظر اصل اہمیت رکھتا ہے۔
موسیٰ کلیم دوتانی نے گفتگو کو تقابلی لسانیات کی طرف موڑتے ہوئے اس رجحان کی نشاندہی کی کہ عموماً سرائیکی اور پنجابی کا موازنہ تو کیا جاتا ہے، مگر سندھی زبان کی قدامت اور تہذیبی تسلسل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق زبانوں کو صرف جغرافیے کے بجائے تہذیبی تسلسل، تاریخی ارتقا اور لسانی بنیادوں کے ساتھ دیکھنا چاہیے، خصوصاً سندھ تہذیب کے تناظر میں۔
اسی نکتے کو آگے بڑھاتے ہوئے خوشحال ناظر نے واضح کیا کہ سندھی زبان اس اعتبار سے نہایت مضبوط ہے کہ اس کے پاس قدیم تحریری شواہد، دستاویزات اور ادبی سرمایہ محفوظ رہا، جس نے اسے وقت کے تغیرات سے محفوظ رکھا۔
عامر عائز نے اس تناظر میں ایک فنی فرق کی طرف اشارہ کیا کہ سندھی رسم الخط میں سرائیکی کے مقابلے میں “وادھویں اکھر” کی تعداد زیادہ ہے، یعنی سات، جو اس زبان کی صوتی پیچیدگی اور تحریری وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی گفتگو کے تسلسل میں موسیٰ کلیم دوتانی صاحب نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم اس مفروضے کو، کہ سرائیکی زبان پنجابی زبان کا ایک لہجہ ہے نہ کہ الگ زبان، غلط قرار دیتے ہیں تو اس کے رد میں قواعد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کون سی دلیل پیش کی جا سکتی ہے یا کیا واضح فرق بتایا جا سکتا ہے؟
اس پر مزمل رحمان نے اپنی رائے پیش کی کہ حافظ محمود شیرانی نے اپنے نظریے "پنجاب میں اُردو" میں اردو زبان کو پنجابی زبان کا ماخذ قرار دیتے ہوئے متعدد لسانی دلائل دیے ہیں، جن میں واحد و جمع، مذکر و مؤنث اور مصادر کی ساخت شامل ہے۔ ان دلائل میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اردو اور پنجابی زبان کے مصادر کے آخر میں “نا” مشترک طور پر آتا ہے۔ اسی رعایت کو بنیاد بنا کر جب پنجابی اور سرائیکی زبان کے مصادر کا جائزہ لیا جائے تو دونوں میں واضح فرق سامنے آتا ہے۔ پنجابی زبان کے مصادر کے آخر میں “نا” آتا ہے، جبکہ سرائیکی زبان کے مصادر کے آخر میں “ݨ” آتا ہے، جو سرائیکی کی الگ قواعدی اور لسانی شناخت کی ایک مضبوط دلیل ہے۔
مرغوب خاکسار نے سوال اٹھایا کہ سرائیکی، پنجابی یا دیگر زبانوں کے مابین تقابلی بحث آخر کیوں ضروری سمجھی جاتی ہے، جبکہ اس سے اکثر عملی فائدہ کم اور اختلاف زیادہ جنم لیتا ہے۔ اس نکتے پر عامر عائز اور احمد یحییٰ ارمغان نے وضاحت کی کہ اگر یہ مباحث علمی، تحقیقی اور خالص لسانی بنیادوں پر ہوں تو نہ صرف مفید ثابت ہوتے ہیں بلکہ زبانوں کی تفہیم میں اضافہ بھی کرتے ہیں، البتہ اگر یہی بحث تعصب یا سیاسی رنگ اختیار کر لے تو اس سے اجتناب ناگزیر ہے۔
مزمل رحمان نے اس گفتگو میں ایک علمی زاویہ شامل کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زبان کے موازنے کے لیے اسے اس کے تاریخی ماخذ، ارتقائی پس منظر اور بنیادی لسانی ڈھانچے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ صرف لہجے یا الفاظ کی مشابہت کو بنیاد بنا کر حتمی نتائج اخذ کرنا علمی دیانت کے منافی ہے۔
مجاہد خان تاثیر نے عملی پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تجویز پیش کی کہ سرائیکی رسم الخط پر باقاعدہ کلاس روم نشست کا اہتمام ہونا چاہیے، جہاں رسم الخط، آوازوں، حروف اور املا کو عملی طور پر سکھایا جا سکے۔ ان کے مطابق ہم اکثر زبان کی اہمیت پر تو بات کرتے ہیں، مگر اس کے رسم الخط سے ناواقفیت ہماری سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اس کے علاوہ ہر زبان وقت اور حالات کے زیرِ اثر ارتقا یا زوال کے مراحل سے گزرتی ہے۔ ایک زبان محض ایک ہی منبع سے نہیں بلکہ مختلف زبانوں کے تعامل اور امتزاج سے تشکیل پا کر منظرِ عام پر آتی ہے۔
بعد ازاں مرغوب خاکسار نے شعر کی کرافٹ سے متعلق سوال اٹھایا، جس پر عامر عائز نے وضاحت کی کہ شاعری محض خیال کا نام نہیں بلکہ الفاظ کے درست انتخاب اور ترتیب کا فن ہے۔ ایک لفظ کی معمولی تبدیلی بھی مصرعے کی روانی، وزن اور معنوی اثر کو کمزور یا مضبوط بنا سکتی ہے۔
اسی تسلسل میں نصاب میں شامل کلاسیکی غزلیات پر بھی گفتگو ہوئی اور ان میں موجود اغلاط، املا اور معنوی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی۔
اختتامی کلمات میں رضوان عالم نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سرائیکی خطے میں رہتے ہوئے اگر ہم خود سرائیکی رسم الخط سے ناآشنا ہوں تو یہ ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادب زار فورم کے پلیٹ فارم سے عامر عائز، خوشحال ناظر، آفتاب اعوان اور دیگر سینئرز کی رہنمائی میں سرائیکی رسم الخط سیکھنے اور سکھانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
اسی کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔
اس نشست میں رضوان عالم، عامر عائز، موسیٰ کلیم دوتانی، مزمل رحمان، ذیشان گوہر، مرغوب خاکسار، مجاہد خان تاثیر، احمد یحییٰ ارمغان، خوشحال ناظر، رحمت اللہ عامر، آفتاب احمد اعوان اور امجد پرویز ممکن نے شرکت کی۔

تحریر: رضوان عالم (جنرل سیکرٹری)
ادب زار فورم، ڈیرہ اسماعیل خان

تنقیدی نشست بتاریخ 26 دسمبر 2025بروز جمعہ، سہ پہر 4:00 بجےنوجوانوں کی متحرک ادبی تنظیم ادب زار فورم کے زیر اہتمام ہفتہ و...
27/12/2025

تنقیدی نشست
بتاریخ 26 دسمبر 2025
بروز جمعہ، سہ پہر 4:00 بجے

نوجوانوں کی متحرک ادبی تنظیم ادب زار فورم کے زیر اہتمام ہفتہ وار تنقیدی نشست حسبِ سابق پام بیج ہوٹل پر منعقد ہوئی. جس کی صدارت تنظیم کے سرپرست ثنا اللہ شمیم صاحب نے کی، اور مہمان خصوصی جناب رحمت اللہ عامر صاحب تھے. اس نشست میں سجاد بلوچ کے شعری مجموعہ" رات کی راہداری میں" سے خوشحال ناظر نے اپنی پسندیدہ غزل سنائی. لاہور کی ادبی جوڑی سجاد بلوچ کی کتاب " رات کی راہداری میں" اور عنبرین صلاح الدین کی کتاب" صدیوں جیسے پل" پر بات ہوئی. سجاد بلوچ کی غزلوں کے مطلعوں کو عمدہ مطلع قراد دیا گیا. عنبرین صلاح الدین کی نظموں اور غزلوں کی لفظیات پر بات ہوئی اور تنظیم کے جنرل سیکرٹری رضوان عالم نے ان کی ایک غزل اپنے مخصوص انداز میں سنائی. سید ضیغم عباس نقوی کی نثر کی کتاب جو احمد شمیم کی شاعری اور نثر کا مطالعہ "کبھی ہم بھی خوبصورت تھے" پر خوشحال ناظر کے بات کرتے ہوئے احمد شمیم پر اس کام کو سراہا اور اس کو خوبصورت کتاب قرار دیا. . اس کے بعد مختلف یونیورسٹیوں میں اردو ادب پر ہونے والے تحقیقی کام کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا. ان دنوں ادبی تحقیق جن جن مسائل سے دوچار ہے ان پر کافی تفصیلی بات کی گئی. خصوصاً خیبرپختونخواہ کے ادب کے بارے میں جو تحقیق ہو رہی ہے اس حوالے سے ثناء اللہ شمیم صاحب اور خوشحال ناظر نے بہت عمدہ گفتگو کی. ثناءاللہ شمیم گنڈہ پور نے ادب میں طبیعات اور مابعد طبیعات پر گفتگو کا آغاز کیا اور ادب پر اس کے مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لیا اس بحث میں خوشحال ناظر، عامر عائز ،رضوان عالم اور مجاہد خان تاثیر نے حصہ لیا. طبیعات پر شروع ہونے والی بحث کا اختتام تاریخیت اور نو تاریخیت پر ہوا. سرائیکی کی زبان کی ترویج کے لیے خیبر پختونخواہ کی حکومت مختلف سکولوں کو سرائیکی کی کتابیں پہنچا رہی ہے لیکن ہمارے ہاں سرائیکی کے اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے جو مسائل درپیش ہیں ان پر ادب زار فورم کے صدر عامر عائز اور لیکچرر حنیف کامل نے بہت عمدگی سے بات کی. ثنا اللہ شمیم صاحب نے سرائیکی ادب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سکولوں میں سرائیکی کی کتابیں تو دی جا رہی ہیں مگر سکولوں میں موجود اساتذہ جب خود سرائیکی پڑھ، لکھ نہیں سکتے تو وہ بچوں کو کیا پڑھائیں گے. سرائیکی کے اضافی الفاظ جو اس وقت سرائیکی لکھت میں مستعمل ہیں ان پر اگلے ہفتے ایک باقاعدہ نشست جناب عامر عائز صاحب کی زیر نگرانی ہوگی جس میں سرائیکی کی لکھت اور سرائیکی کی پڑھت کے حوالے سے طلباء کو معلومات فراہم کی جائیں گی.
اس نشست کے شرکاء میں گل احمد میمن ،مرغوب خاکسار، اسرار احمد، حنیف کامل، عامر عائز، احمد یحییٰ ارمغان، رضوان عالم، مجاہد تاثیر، ادریس روباص، سلیم زائر، ذیشان گوھر، خوشحال ناظر ،رحمت اللہ عامر اور ثناءاللہ شمیم گنڈہ پور شامل تھے.

از قلم : خوشحال ناظر (نائب سرپرست)
ادب زار فورم، ڈیرہ اسماعیل خان

Address

Palm Beach Hotel
Dera Ismail Khan
29111

Telephone

+923025664004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ادب زار - Adab Zaar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to ادب زار - Adab Zaar:

Share

Category