13/02/2026
ادب زار فورم ہفتہ وار تنقیدی نشست
بمقام حق نواز پارک ڈیرہ جات ادبی بیٹھک
بتاریخ : 6 فروری 2026
بوقت : 4 بجے سہ پہر
فروری کی دھوپ کسی من موہنی حسینہ کی طرح دل کی زمین پہ اترتی ہے اور روح کے تار ہلا دیتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب ماضی خود چل کر حال کے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے؛ پرانی یادیں، ادھورے قصے، بچھڑے ہوئے چہرے، اور وہ محفلیں جو وقت کے دھندلکوں میں کہیں محفوظ رہ جاتی ہیں، سب ایک ایک کر کے ذہن کی اسکرین پر ابھرنے لگتے ہیں۔ میرے نزدیک فروری صرف موسم نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، ایک ایسا لمحہ ہے جس میں وقت رک سا جاتا ہے اور یادیں بولنے لگتی ہیں۔ انہی یادوں کے تسلسل میں ادب زار فورم کی وہ نشستیں بھی شامل ہیں جو محض نشستیں نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ ایک روایت کی صورت اختیار کرتی گئیں۔ ایسی روایت جس میں لفظ کو مرکز ملا، مکالمے کو جگہ ملی، اختلاف کو راستہ دیا گیا، اور سوچ کو سانس لینے کا موقع ملا۔ وہ نشستیں جہاں سوال دبائے نہیں گئے، بلکہ کھولے گئے؛ جہاں رائے کو دشمنی نہیں سمجھا گیا، بلکہ گفتگو کا دروازہ مانا گیا۔ ہر نشست ایک نئی یاد بن کر وقت کے دامن میں محفوظ ہوتی گئی، اور ہر محفل ایک نئے قصے کی بنیاد رکھتی گئی۔
فروری کے اسی موسم میں، انہی پرانی یادوں اور روایت بن چکی محفلوں کے تسلسل میں، ادب زار فورم کی ایک اور نشست منعقد ہوئی۔ ایسی نشست جس میں بات کتاب سے نکلی، ناول تک پہنچی، کردار سے گزری، شہر پر ٹھہری، تاریخ کو چھوا، اور پھر واپس انسان کے شعور سے گزر کر لاشعور میں اتر گئی۔ یہی وہ نشست تھی جس کی گفتگو نے لفظوں کو محض لفظ نہیں رہنے دیا، بلکہ انہیں کہانی، سوال اور آئینہ بنا دیا۔ یہ نشست حق نواز پارک میں واقع کے ہال میں منعقد ہوئی۔
نشست کا آغاز خوشحال ناظر اور عامر عائز کی گفتگو سے ہوا۔ ابتدا میں تسلیم فیروز کے تازہ شعری مجموعہ "گنجان پانیوں کا سفر" پر بات ہوئی۔ عامر عائز نے کہا کہ تسلیم فیروز کے مطلعے بہت اچھے ہیں، ان میں ایسی بے ساختگی پائی جاتی ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔
اسی تسلسل میں رضوان عالم نے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ناول نگار ملکی ادبی منظرنامے پر نمایاں نہیں ہو پاتے؟ کیا یہ مسئلہ تخلیقی صلاحیت کا ہے یا مطالعے اور تربیت کی کمی کا؟
اس سوال پر خوشحال ناظر نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں نثر لکھنے والے بہت کم لوگ ہیں، اور جو لکھ رہے ہیں وہ عجلت پسند ہیں۔ ان کے نزدیک ریاض عاقب کوہلر کا ناول "بردہ" ایک اچھا ناول ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نسیم حجازی اور محمد سعید صاحب کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا کہ نسیم حجازی کے ناولوں جیسی پختگی محمد سعید صاحب کے ہاں نہیں ملتی۔ محمد سعید کی کہانی قاری کو اپنی گرفت میں لینے سے قاصر محسوس ہوتی ہے۔
فرح بخاری کے حوالے سے خوشحال ناظر نے کہا کہ پشتون کلچر کے تناظر میں لکھا گیا ان کا پہلا ناول پلاٹ کے اعتبار سے بہت مضبوط ہے اور واقعی ایک اچھا ناول ہے۔ ان کے دوسرے ناولوں مثلاً "بن پاکھی" وغیرہ کا مطالعہ بھی کیا ہے، مگر پہلا ناول زیادہ مضبوط محسوس ہوتا ہے۔ رزاق کوہلر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک نارمل لکھاری ہیں اور ان کے ہاں بھی وہی کچا پن ہے جو ڈیرہ کے باقی لکھاریوں کے ہاں پایا جاتا ہے، جب کہ ان کے بھائی ریاض عاقب کوہلر ایک اچھے اور سنجیدہ لکھاری ہیں۔
وزیرستان کے نوجوان ناول نگار احمد مسعود کے ناول پر گفتگو کرتے ہوئے خوشحال ناظر نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے آنے والا یہ ناول بھی کمزور ہے۔ نین الٰہی کے ناول "گل بنفشہ" پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اسے اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کہ وہ ان کی بیگم کا ناول ہے، تاہم اس پر بہتر رائے دوسرے لوگ ہی دے سکتے ہیں۔
اس کے بعد عامر عائز نے پوچھا کہ طاہر شیرازی کے ناول "سانس لیتے شہر میں محبت" کے حوالے سے دوستوں کی کیا رائے ہے؟
ثناءاللہ شمیم نے اس موقع پر کہا کہ ڈیرہ میں ادیب کم اور شاعر زیادہ ہیں، کیونکہ نثر لکھنا ایک مشکل کام ہے، اسی لیے لوگ نثر میں سستی سے کام لیتے ہیں۔
خوشحال ناظر نے "سانس لیتے شہر میں محبت" کے بارے کہا کہ اس کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ کرداروں کے درمیان مکالمہ موجود نہیں، حالانکہ مکالمہ ناول کا ایک بنیادی حصہ ہوتا ہے جو کرداروں کے جذبات اور احساسات کو سامنے لاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے صرف ایک رخ دکھایا گیا ہے، دوسرے رخ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، خاص طور پر سنی کمیونٹی کے اجتماعی کرب کو نظر انداز کیا گیا، حالانکہ اس کرب میں پورا شہر مبتلا رہا ہے۔
عامر عائز نے کہا کہ جب پورا شہر اس دکھ سے گزرا ہے تو کم از کم پورے شہر کا کرب بیان ہونا چاہیے تھا۔
حمزہ حسن شیخ کے ناول "کیول رام کا کافر کوٹ" کے متعلق خوشحال ناظر نے کہا کہ یہ صرف ایک بیانیہ ہے، اس میں کوئی باقاعدہ کردار نہیں ہے۔ عامر عائز نے اس پر یہ اضافہ کیا کہ اس ناول میں تاریخ کو بھی مسخ کیا گیا ہے۔
خوشحال ناظر نے کہا کہ ابٹن میں ہلدی، عرقِ گلاب اور آئل شامل ہوتے ہیں، مگر ناول میں لکھا گیا ہے کہ ابٹن سورج مکھی کے پتوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس پر عامر عائز نے کہا کہ ممکن ہے حمزہ حسن نے ابٹن اور سورج مکھی کی پیلی رنگت کی مماثلت کی بنیاد پر ایسا لکھا ہو۔
خوشحال ناظر نے مزید کہا کہ تاریخ فرشتہ جو کہ مستند کتاب نہیں ہے، وہاں سے مواد لے کر محمود غزنوی کو لٹیرا کہا گیا ہے، اور حمزہ حسن نے بھی ناول میں اسے لٹیرا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
احمد یحییٰ ارمغان نے کہا کہ انہوں نے ناول نہیں پڑھا، مگر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ابٹن والی بات ناول میں کیوں شامل کی گئی۔ اس پر خوشحال ناظر نے جواب دیا کہ ناول میں راجہ کی طوائف کو ابٹن لگایا جاتا تھا، حتیٰ کہ شرمگاہ پر بھی، تاکہ راجہ کو بدبو محسوس نہ ہو۔
ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈیرہ کے اکثر ادیب سنجیدہ مطالعے سے دور ہیں، اور جب مطالعہ کمزور ہو تو ناول معیاری نہیں ہو سکتا۔
عنوان "سانس لیتے شہر میں محبت" پر گفتگو کرتے ہوئے رضوان عالم نے کہا کہ سانس لیتا شہر زندہ شہر ہوتا ہے، وہاں گھٹن نہیں ہوتی، وہاں زندگی موجود ہوتی ہے، اس لیے وہاں محبت کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
اس پر عامر عائز نے کہا کہ طاہر شیرازی سانس لینے سے مراد دہشت گردی سے پہلے کا دور لیتے ہیں، جب امن اور خوشحالی تھی، مگر پھر بھی یہ عنوان ناول کی فضا سے میل نہیں کھاتا، اور زیادہ مناسب ہوتا کہ عنوان "گھٹن زدہ شہر میں محبت" ہوتا۔
خوشحال ناظر نے وضاحت کی کہ یہ عنوان محمد حمید شاہد کے مشورے سے رکھا گیا ہے۔
رضوان عالم نے مظہر الاسلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کتاب کے عنوان کو مکمل طور پر واضح کرتے ہیں، ان کے افسانوی مجموعے "خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر" میں دیباچہ بہت کمال ہے بلکہ ایک مکمل کہانی ہے۔
خوشحال ناظر نے کہا کہ اس درجے کا نثر نگار پورے پاکستان میں نہیں ہے۔
جمشید علوی نے گفتگو کو سماجی رخ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری شاعری اور نثر زیادہ تر فکشن تک محدود ہے، جبکہ سماجی مسائل کو ہم اپنی تحریروں میں بیان نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام ہماری اخلاقیات کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور ہماری تحریریں کلیشے بنتی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ تجویز دی کہ ایسے پروگراموں کو سوشل میڈیا پر لائیو کیا جائے تاکہ زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔
ثناءاللہ شمیم نے کہا کہ سرائیکی ادب میں مظلومیت کا بیانیہ حد سے زیادہ ہے، جس سے نئی نسل کو مایوسی اور احساسِ کمتری کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔ نعمان قریشی نے کہا کہ ہمارے ہاں منافقت بہت زیادہ ہے، اور اگر کوئی شخص ترقی کرتا ہے تو دوسرا اس کی ترقی میں رکاوٹ بننے لگتا ہے۔
مرغوب خاکسار نے نوجوانوں کے فکری بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی الجھن کا شکار رہتے ہیں اور یا تو مذہب بیزار ہو جاتے ہیں یا اپنی ہی قوم کے مخالف۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تقدیر کا مفہوم غلط بتایا جاتا ہے، جبکہ تقدیر اللہ کے علم کا نام ہے اور انسان کو عمل کی آزادی دی گئی ہے — انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔
بعد ازاں عامر عائز سے ان کے انقلابی و عصری مسائل پر کہے گئے اشعار کی فرمائش کی گئی۔
عدو سرحد پہ دستک دے رہا تھا مساجد میں وظائف ہو رہے تھے
فقر و فاقہ سے گھرانے کو بچانے نکلے مدرسہ چھوڑ کے اطفال کمانے نکلے
میرے دامان کی بے آب و گیاہ مٹی سے علم و حکمت کے گراں قدر خزانے نکلے
جن کی خاطر آپ اور ہم برسرِ پیکار ہیں
وہ بھی آلہ تھے اور یہ بھی آلہ کار ہیں
اختتامی مرحلے میں رضوان عالم نے سوال اٹھایا کہ ناول میں مکالمہ مضبوط کیسے کیا جا سکتا ہے؟
اس پر خوشحال ناظر نے تفصیل سے کہا کہ سب سے پہلی شرط مضبوط مطالعہ ہے۔ جب کردار بنایا جاتا ہے تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس کا علم، تجربہ، سماجی طبقہ اور پس منظر کیا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ایک کسان دانشورانہ گفتگو کر سکتا ہے، لیکن ایک حد تک؛ اس کی زبان اور لہجہ پھر بھی اس کے طبقاتی پس منظر سے جڑا رہے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسطبل میں کام کرتا ہے تو اسے گھوڑوں کا علم ہوگا، مگر اس سے جنگی حکمتِ عملی اور عسکری امور پر گفتگو کروانا غیر منطقی ہوگا، جب تک اس کے کردار کی تشکیل میں یہ بات شامل نہ ہو کہ وہ پہلے جنگجو رہا ہے۔
رضوان عالم نے کہا کہ اگر کردار کے تعارف میں یہ بتایا جائے کہ وہ پہلے ایک جنگجو تھا اور بعد میں اسطبل میں کام کرنے لگا، تو پھر اس کا مکالمہ مختلف ہوگا، کیونکہ اس کا تجربہ اس کی گفتگو کو جواز دے گا۔
مرغوب خاکسار نے کہا کہ اگر کسی کردار سے کسی خاص نوعیت کی بات کروانی ہو تو اس کردار کی تفصیل میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ وہ کن علوم سے واقف ہے، کن فنون میں مہارت رکھتا ہے اور اس کے تجربات کیا ہیں، کیونکہ کردار کی یہی ساخت مکالمے کو مضبوط بناتی ہے اور ناول کو فنی اعتبار سے بہتر کرتی ہے۔
اسی کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔
اس نشست میں عامر عائز، خوشحال ناظر، رضوان عالم، ادریس روباص، رحمت اللہ عامر، ذیشان گوہر، ثناءاللہ شمیم گنڈہ پور، مرغوب خاکسار، آفتاب احمد اعوان، نعمان قریشی، آشان مروت، احمد یحییٰ ارمغان، محمد گل احمد میمن، جمشید علوی، احسن خلیل اور سلیم زائر نے شرکت کی۔
از قلم: رضوان عالم