07/06/2026
یہ واقعہ کوئٹہ کے [سینڈیمن سول ہسپتال (Sandeman Provincial Hospital Quetta)] کا ہے، جہاں دورانِ ڈیوٹی ایک خاتون سرجیکل ریزیڈنٹ ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
# # واقعہ کیسے پیش آیا؟
* تاریخ اور جگہ: یہ واقعہ 5 جون 2026 کو کوئٹہ کے سول ہسپتال کے سرجری وارڈ میں پیش آیا۔
* حملہ آور: حملہ آور کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی، جو اسی ہسپتال میں پرائیویٹ لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔
* حملہ: ملزم نے وارڈ کے اندر داخل ہو کر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکا اور موقع سے فرار ہو گیا۔
* بچانے والا ہیرو: ہسپتال کے ایک ٹیکنیشن/اسٹاف ممبر عبدالرزاق نے بہادری دکھاتے ہوئے ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے کی کوشش کی، جس کے دوران وہ خود بھی تیزاب کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے۔
# # ڈاکٹر ماہ نور کی طبی صورتحال
* ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ ڈاکٹر ماہ نور کا چہرہ، پیٹ، ٹانگیں اور دائیں ہاتھ متاثر ہوئے ہیں۔
* وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایت پر انہیں فوری طور پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔
* تازہ ترین رپورٹس کے مطابق وہ کراچی کے [آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH)] میں زیرِ علاج ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کا تقریباً 13 فیصد جسم متاثر ہوا ہے، تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں اور ان کی بینائی (eyesight) بالکل محفوظ ہے۔
*
# # حملہ آور کا انجام
* واقعے کے بعد کوئٹہ پولیس اور سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ نے کارروائی شروع کی۔
* ملزم ہمایوں شاہ کو نوشکی بس اسٹینڈ کے قریب سے ٹریس کیا گیا، جہاں وہ شہر سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
* پولیس کے مطابق گرفتاری کے دوران مزاحمت اور فائرنگ کے تبادلے میں ملزم پولیس مقابلے (encounter) میں مارا گیا۔ [1, 3, 5, 7]
# # شدید ردِعمل اور احتجاج
اس واقعے نے ملک بھر کی طبی برادری اور سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) نے ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر سخت احتجاج کیا اور ایمرجنسی کے علاوہ دیگر طبی خدمات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ڈاکٹرز (خصوصاً خواتین اسٹاف) کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ [1, 7, 12, 14, 15]
اگر آپ اس واقعے کے حوالے سے حکومتی اقدامات، ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات یا ڈاکٹر ماہ نور کی تازہ ترین ہیلتھ اپڈیٹ کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو مجھے بتائیں۔