Wali Khan Wali

Wali Khan Wali Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wali Khan Wali, Art, chitral, Chitral.

05/05/2026
22/04/2026

جب ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں تو بمشکل تین تسبیحات پوری کرتے ہیں اور سر اٹھا لیتے ہیں ،،
اس سے نماز تو ہو جاتی ہے مگر رب سے آشنائی نہیں ہوتی ـ
ہم نماز میں آٹو پہ لگے ہوتے ہیں
ہم خود نہ جھکتے ہیں
اور نہ اٹھتے ہیں ،
ہم اس دوران کہیں اور مصروف ہوتے ہیں
جیسے پائیلٹ جہاز کو آٹو پائیلٹ پر لگا کر خود سواریوں سے دعا سلام کر رہا ہوتا ھے ـ
یعنی ہم رکوع کو رکوع سمجھ کر ، سجدے کو سجدہ سمجھ کر اور قیام کو واقعی رب العالمین کے سامنے فرمانبرداری سمجھ کرکھڑے نہیں ہوتے بلکہ ہماری کیفیت ٹھیک اس کھلونے کی طرح ہوتی ہے جس میں سیل ڈال دیئے گئے ہوں اور بٹن آن کر دیا گیا ہو تو وہ خود بخود اوپر نیچے دائیں بائیں لڑھکتا پھرتا ہے ،،

آپ جب کوئی میموری کارڈ کسی ڈیوائس میں ڈالتے ہیں تو وہ ڈیوائس پہلے اس میموری کارڈ کا جائزہ لیتی ھے اس کو پڑھتی اور Recognize کرتی ہے ،
پھر پوچھتی ہے کہ اس میموری کارڈ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں فلاں فلاں چیز ہے ،فلاں فلاں فولڈر ہے ،
اس کی اتنی سپیس استعمال ہو چکی ہے اور اتنی باقی ہے ،
پھر وہ آپ کو بتاتی ہے کہ سرکار آپ جو مواد اس پر کاپی کرنا چاہتے ہیں وہ کاپی نہیں ھو سکتا کیونکہ اس کارڈ میں جگہ کم ہے جبکہ مواد کا حجم زیادہ ہے ،
آپ کچھ مواد ڈیلیٹ کر کے مناسب جگہ بنائیں ـ

ہم جب سجدہ کرتے ہیں تو زمین اس ماتھے کو ریڈ کرتی ھے اور Recognize کرتی ھے ،
اس پرسیس میں کچھ دیر لگتی ہے ، زمین سادا ہو تو جیبن کو پہچاننے میں تھوڑا وقت لگتا ہے ،
مصلی اور قالین جتنا موٹا ہو جیبن کو زمین سے رابطہ کرنے میں ویسی ہی زیادہ دیر ھوتی ھے ـ
ہم زمین کے ماتھا ریڈ کرنے سے پہلے ہی اٹھا لیتے ہیں یوں جیسے جاتے ہیں ویسے آ جاتے ہیں نہ کچھ ڈیلیٹ ھوتا ھے اور نہ ہی کچھ کاپی پیسٹ ھوتا ھے ـ
اللہ کی بارگاہ میں سر ہو اور کچھ لئے بغیر اٹھ کر گھر آ جاؤ تو نماز اک مزاق ہی بن کر رہ جاتی ہے ـ

جماعت میں مجبور بھی ہوں تو نوافل میں کسر نکال لینی چاہئے ،،
کم از کم پانچ سات دفعہ کی تسبیح کے بعد ہی آپ دنیا کی ٹرانس سے نکل کر مینوئل پر آئیں گے ـ
اور آپ کو اپنی ہیئت کا احساس ہو گا کہ آپ اس وقت کس پوزیشن میں ہیں ،
ہاتھ کہاں ہیں ،
ماتھا کہاں ہے ،
گھٹنے اور پاؤں کہا ہیں ،
جو جو چیز آپ کو یاد آتی جائے گی سمجھ لیں کہ وہ وہ چیز حقیقت میں recognize ہو رہی ہے ،
اس کے بعد اب تسبیح کو الفاظ کی بجائے منہ بند کر کے سوچ کی زبان میں کہیں جتنی دیر بھی مزہ آتا رہے ،
جب اکتاہٹ محسوس ہو تو بیٹھ جائیں اور دو سجدوں کے درمیان کی دعا اپنی زبان میں یاد کر رکھیں اس کو پڑھیں ،
اے اللہ مجھے معاف فرما دے ،
اور مجھ پر رحم فرما ،
اور مجھے ہدایت دے دے،
اور مجھے عافیت عطا فرما ،
اور مجھے رزق عطا فرما اور میرے دکھوں پر مرہم پٹی کر دے ـ

اللھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وعافنی وارزقنی واجبُرنی ،،
رزق کا مفہوم ذھن میں رکھیں کہ اس میں گندم اور چاول ہی نہیں بلکہ مال ،اولاد ، صحت ، بصارت ،سماعت اور خوشیاں سب رزق کہلاتی ہیں ،،

اب آپ دوسرے سجدے کے لئے پک چکے ہیں ،،
پہلے سجدے میں اسپیس بنی تھی دوسرے سجدے میں اس دعا کو پیسٹ کر دیں ،
صرف دو رکعتوں کے بعد ہی آپ اپنا وزن خود محسوس کرنا شروع کر دیں گے ،
اپنا آپ کبھی خالی خالی محسوس نہیں ہو گا ،
اور اب آپ کو اگلی نماز کا انتظار رہے گا ـ
کیونکہ نماز میں ثواب کے ساتھ سواد بھی آیا ہے
اور یہی سواد لذتِ آشنائی کہلاتا ہے
#صَلَّى_اللّٰهُ_عَلَيهِ_وَآَلِهٖ_وَاصَّحَابِهٖ_وَبَارِك_وَسَّلم
#مُحَمَّـــــدﷺصَـلّٰی_الــلّٰـــهُ_عَلَيــه_وَسَـــــلَّـم
#صَلَّى_اللّٰهُ_عَلَيهِ_وَآَلِهٖ_وَاصَّحَابِهٖ_وَبَارِك_وَسَّلَم
منقول

16/04/2026

درس حدیث
مدرس فیضان علی

16/04/2026

❀ الحمدُ والاستغفار — دعوتِ دین کے کارکنوں کے لیے ایک بصیرت افروز واقعہ ❀
ترتیب و تحریر: شوکت اللہ شاکر
✿ تمہیدی کلمات:
انسانی زندگی کا حسن اس کے ظاہر میں نہیں بلکہ اس کے باطن میں پوشیدہ ہے۔ بسا اوقات ایک معمولی سا واقعہ انسان کے فکر و نظر کو اس قدر بدل دیتا ہے کہ اس کی پوری زندگی کا رخ متعین ہو جاتا ہے۔ اہلِ اللہ کے واقعات میں یہی تاثیر ہوتی ہے کہ وہ مختصر ہونے کے باوجود معانی کے سمندر اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں۔
زیرِ نظر واقعہ سیدُ التابعین حسن بصری سے منقول ہے، جو نہ صرف ایک سبق آموز حکایت ہے بلکہ آج کے دور کے داعیانِ دین اور اقامتِ دین کے لیے ایک جامع رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔
✿ مکمل واقعہ:
روایت ہے کہ حضرت حسن بصریؒ ایک دن بازار تشریف لے گئے تاکہ اپنے گھر کے لیے کچھ ضروری اشیاء خرید سکیں۔ آپؒ نے گھی، چاول، چینی اور دیگر گھریلو سامان خریدا۔ جب خریداری مکمل ہو گئی تو آپؒ نے ارادہ فرمایا کہ کسی حمال (مزدور) کو اجرت پر مقرر کیا جائے جو یہ سامان گھر تک پہنچا دے۔
آپؒ اسی خیال میں کھڑے تھے کہ ایک حمال آپ کے سامنے سے گزرا۔ اس کی حالت سادہ تھی، لباس عام سا تھا، مگر اس کے لب مسلسل حرکت میں تھے، جیسے وہ کسی ذکر میں مشغول ہو۔ وہ آہستہ آہستہ یہ کلمات دہرا رہا تھا:
“الحمد للہ، استغفر اللہ… الحمد للہ، استغفر اللہ…”
حضرت حسن بصریؒ نے اسے نہایت شفقت اور نرمی سے آواز دی:
“اے بھائی! کیا تم میرا یہ سامان میرے گھر تک پہنچا سکتے ہو؟”
حمال نے فوراً ادب اور خوش دلی کے ساتھ جواب دیا:
“کیوں نہیں، خوشی سے حاضر ہوں!”
چنانچہ اس نے سامان اپنے کندھوں پر رکھا اور دونوں ساتھ چل پڑے۔ پورے راستے میں وہ حمال بغیر کسی وقفے کے یہی ذکر کرتا رہا:
“الحمد للہ، استغفر اللہ… الحمد للہ، استغفر اللہ…”
حضرت حسن بصریؒ اس کے اس معمول سے متاثر ہوئے اور غور سے اسے سنتے رہے۔
جب وہ گھر پہنچ گئے تو آپؒ نے اسے اس کی مزدوری ادا کی اور نہایت محبت سے فرمایا:
“اے نیک آدمی! کیا تمہیں ذکر کے لیے بس یہی دو کلمات یاد ہیں؟”
حمال نے نہایت سکون، اعتماد اور محبت بھرے انداز میں جواب دیا:
“اے امام! اللہ کا شکر ہے کہ میں نصف قرآنِ کریم حفظ رکھتا ہوں، مگر میں نے اپنے حال پر غور کیا تو اپنے آپ کو دو حالتوں کے درمیان پایا:
ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں مجھ پر ہر لمحہ برس رہی ہیں، جن کا تقاضا یہ ہے کہ میں ‘الحمد للہ’ کہوں؛
اور دوسری یہ کہ میں اپنے رب کے حق میں کوتاہیاں کرتا ہوں، لغزشوں کا شکار ہوتا ہوں، جس کا تقاضا یہ ہے کہ میں ‘استغفر اللہ’ کہتا رہوں۔”
یہ جواب سن کر حضرت حسن بصریؒ بے اختیار رہ گئے، آپؒ نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا:
“اے حسن! یہ حمال تو تجھ سے بھی زیادہ فقیہ (دانا) ہے!”
✿ تشریح و توضیح:
یہ واقعہ اپنے اندر ایک عظیم حقیقت سموئے ہوئے ہے کہ دین کی اصل روح “معرفتِ نفس” اور “معرفتِ رب” ہے۔
❖ “الحمد للہ” انسان کو اللہ کی نعمتوں کا شعور دیتا ہے۔
❖ “استغفر اللہ” انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتا ہے۔
جب یہ دونوں احساسات ایک دل میں جمع ہو جائیں تو وہ دل نہ غرور کا شکار ہوتا ہے اور نہ مایوسی کا۔
✿ عصری معنویت — اقامتِ دین کے کارکنوں کے لیے:
آج کے دور میں جو افراد “کلمۃُ اللہ” کی سربلندی اور “اقامتِ دین” کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے لیے یہ واقعہ ایک مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے:
❖ 1. کامیابی پر شکر:
دعوتی میدان میں جب فتوحات حاصل ہوں، افراد کی اصلاح ہو، تنظیم مضبوط ہو—تو اس پر فخر کے بجائے “الحمد للہ” کہنا چاہیے۔
❖ 2. کوتاہی پر استغفار:
اگر کہیں کمزوری آ جائے، اخلاص میں کمی محسوس ہو، یا نتائج کمزور ہوں تو مایوس ہونے کے بجائے “استغفر اللہ” کہنا چاہیے۔
❖ 3. استقامت کا راز:
دعوتی کارکن کی اصل قوت اس کی مستقل مزاجی ہے، اور یہ مستقل مزاجی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ ان دو کلمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے۔
❖ 4. اخلاص کی حفاظت:
“استغفار” دل کو ریا، عجب اور خود پسندی سے پاک رکھتا ہے، جو دعوتی کام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
❖ 5. تواضع کا درس:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم اور حکمت کسی خاص طبقے تک محدود نہیں۔ ایک سادہ حمال بھی ایسی بات کہہ سکتا ہے جو بڑے عالم کے لیے باعثِ سبق بن جائے۔
✿ خلاصۂ کلام:
اگر ایک داعی اپنی زندگی کو دو اصولوں پر قائم کر لے:
✔ نعمت پر “الحمد للہ”
✔ کوتاہی پر “استغفر اللہ”
تو وہ نہ صرف اپنے نفس کی اصلاح کر سکتا ہے بلکہ دین کی خدمت میں بھی اخلاص اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔
✿ دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْحَامِدِينَ الشَّاكِرِينَ،
وَمِنَ التَّوَّابِينَ الْمُسْتَغْفِرِينَ،
وَوَفِّقْنَا لِإِقَامَةِ دِينِكَ وَنُصْرَةِ كَلِمَتِكَ،
وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ،
يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ۔ آمین۔
حوالہ: حکایت "راوی الازمان" سے لی گئی ہے

Address

Chitral
Chitral
17200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wali Khan Wali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category