18/10/2025
یہ سوچ، نظریہ اور اپروچ قطعی درست نہیں کہ میرا بھائی، رشتہ دار، دوست، گاؤں والا، ہم پیشہ یا ہم زبان شخص اگر غلط راستے پر بھی ہو تو میں صرف تعلق کی بنیاد پر اس کا ساتھ دوں اور اسے “اتحاد و اتفاق” کا نام دے دوں۔ برائی پر اتفاق نہیں ہونا چاہیے۔ تعاون کا حکم نیکی میں ہے، برائی میں نہیں۔ ایسی سوچ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اگر ہمارا اپنا کوئی شخص جرم کرے یا کسی پر ظلم و زیادتی کرے تو ہمیں اس کا ساتھ دینے کے بجائے مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ ظالم کا ساتھ دینا یہ نہیں کہ اسے بچایا جائے بلکہ یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے اور اس کی حمایت سے اجتناب کیا جائے۔ قانون و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ظالم چاہے اپنا ہو یا غیر، اس کا ساتھ نہ دیا جائے۔ بصورتِ دیگر، قومیت، تعلقات یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر لوگ ہر غلط کام کریں گے اور پھر غیرت، گروپ بندی اور اتحاد کے نعروں پر سب کو اکٹھا کرکے ظلم کے باوجود بھی بچ نکلیں گے۔ یہی رویہ معاشرے سے قانون و انصاف کو ختم کر دیتا ہے۔
اتحاد و اتفاق، بھائی چارہ اور قوت کو قانون و انصاف کے قیام اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ نعرہ کافی نہیں کہ “صرف مجھے انصاف ملے”، بلکہ نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ “انصاف سب کے لیے ہو”۔ ریاست اور حکومت کے خلاف احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کے آئینی و قانونی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بھی لازم ہے۔ اگر ایک اسسٹنٹ کمشنر عوامی شکایات پر دکانداروں کے خلاف کارروائی کرے تو دکاندار فوراً دکانیں بند کرکے سڑکوں پر آ بیٹھتے ہیں، حالانکہ ان کے اپنے دامن بھی صاف نہیں ہوتے۔
ہم سب قانون کی بالادستی کا نعرہ لگاتے ہیں، مگر سب سے زیادہ قانون شکنی بھی ہم ہی کرتے ہیں۔ ہمارے نعرے اگر جذبات کے بجائے سچائی، خلوص اور حقیقت پر مبنی ہوں تو ہم ہر میدان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ہر بات کو ضد اور انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایک غلطی دوسری غلطی سے درست نہیں ہو سکتی۔
نوجوان فطری طور پر جذباتی ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے تعلیم کے باوجود بھی اکثر بے بصیرت رہ جاتے ہیں۔ انہیں جھوٹے نعروں اور مفاد پرست سیاست دانوں کی باتوں میں لانا بہت آسان ہوتا ہے۔ کچھ عرصے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو بھی جائے تو اس وقت تک پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہوتا ہے۔
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اچھے اور نیک لوگ خاموش اور غیر فعال ہیں جبکہ برے لوگ فعال اور بے خوف ہیں۔
لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ اپنے چھوٹوں کی سچی اور بہترین رہنمائی کریں تاکہ وہ اپنے آپ، اپنے خاندان اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔ ہم دوسروں کی برائیوں کا ڈھنڈورا تو ہر وقت پیٹتے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم خود بھی کسی نہ کسی درجے میں ظلم و زیادتی کے اس نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس چمن کی بربادی میں ہمارا اپنا بھی حصہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اخلاقی اصولوں پر سب چلیں، مگر خود ان پر عمل نہیں کرتے۔
ہم پوری دنیا کو نہیں بدل سکتے، لیکن اپنے آپ کو، اپنے بچوں کو اور اپنے زیرِ اثر آنے والوں کو ضرور بدل سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ اگر وہاں کا انسان ٹھیک ہو گیا تو کم از کم ایک برے انسان کی کمی ہو جائے گی۔
عرفان اللہ جان ایڈووکیٹ