Irfan jan

Irfan jan Digital creator

یہ سوچ، نظریہ اور اپروچ قطعی درست نہیں کہ میرا بھائی، رشتہ دار، دوست، گاؤں والا، ہم پیشہ یا ہم زبان شخص اگر غلط راستے پر...
18/10/2025

یہ سوچ، نظریہ اور اپروچ قطعی درست نہیں کہ میرا بھائی، رشتہ دار، دوست، گاؤں والا، ہم پیشہ یا ہم زبان شخص اگر غلط راستے پر بھی ہو تو میں صرف تعلق کی بنیاد پر اس کا ساتھ دوں اور اسے “اتحاد و اتفاق” کا نام دے دوں۔ برائی پر اتفاق نہیں ہونا چاہیے۔ تعاون کا حکم نیکی میں ہے، برائی میں نہیں۔ ایسی سوچ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اگر ہمارا اپنا کوئی شخص جرم کرے یا کسی پر ظلم و زیادتی کرے تو ہمیں اس کا ساتھ دینے کے بجائے مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ ظالم کا ساتھ دینا یہ نہیں کہ اسے بچایا جائے بلکہ یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے اور اس کی حمایت سے اجتناب کیا جائے۔ قانون و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ظالم چاہے اپنا ہو یا غیر، اس کا ساتھ نہ دیا جائے۔ بصورتِ دیگر، قومیت، تعلقات یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر لوگ ہر غلط کام کریں گے اور پھر غیرت، گروپ بندی اور اتحاد کے نعروں پر سب کو اکٹھا کرکے ظلم کے باوجود بھی بچ نکلیں گے۔ یہی رویہ معاشرے سے قانون و انصاف کو ختم کر دیتا ہے۔

اتحاد و اتفاق، بھائی چارہ اور قوت کو قانون و انصاف کے قیام اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ نعرہ کافی نہیں کہ “صرف مجھے انصاف ملے”، بلکہ نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ “انصاف سب کے لیے ہو”۔ ریاست اور حکومت کے خلاف احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کے آئینی و قانونی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بھی لازم ہے۔ اگر ایک اسسٹنٹ کمشنر عوامی شکایات پر دکانداروں کے خلاف کارروائی کرے تو دکاندار فوراً دکانیں بند کرکے سڑکوں پر آ بیٹھتے ہیں، حالانکہ ان کے اپنے دامن بھی صاف نہیں ہوتے۔

ہم سب قانون کی بالادستی کا نعرہ لگاتے ہیں، مگر سب سے زیادہ قانون شکنی بھی ہم ہی کرتے ہیں۔ ہمارے نعرے اگر جذبات کے بجائے سچائی، خلوص اور حقیقت پر مبنی ہوں تو ہم ہر میدان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ہر بات کو ضد اور انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایک غلطی دوسری غلطی سے درست نہیں ہو سکتی۔

نوجوان فطری طور پر جذباتی ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے تعلیم کے باوجود بھی اکثر بے بصیرت رہ جاتے ہیں۔ انہیں جھوٹے نعروں اور مفاد پرست سیاست دانوں کی باتوں میں لانا بہت آسان ہوتا ہے۔ کچھ عرصے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو بھی جائے تو اس وقت تک پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہوتا ہے۔

حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اچھے اور نیک لوگ خاموش اور غیر فعال ہیں جبکہ برے لوگ فعال اور بے خوف ہیں۔

لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ اپنے چھوٹوں کی سچی اور بہترین رہنمائی کریں تاکہ وہ اپنے آپ، اپنے خاندان اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔ ہم دوسروں کی برائیوں کا ڈھنڈورا تو ہر وقت پیٹتے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم خود بھی کسی نہ کسی درجے میں ظلم و زیادتی کے اس نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس چمن کی بربادی میں ہمارا اپنا بھی حصہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اخلاقی اصولوں پر سب چلیں، مگر خود ان پر عمل نہیں کرتے۔

ہم پوری دنیا کو نہیں بدل سکتے، لیکن اپنے آپ کو، اپنے بچوں کو اور اپنے زیرِ اثر آنے والوں کو ضرور بدل سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ اگر وہاں کا انسان ٹھیک ہو گیا تو کم از کم ایک برے انسان کی کمی ہو جائے گی۔

عرفان اللہ جان ایڈووکیٹ

16/10/2025

آئین نو سے ڈرنا،طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کے زندگی میں

دو روز قبل چارسدہ کے غنی خان روڈ پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا۔کالج جاتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار بہن بھائی ایک اسکول بس...
13/10/2025

دو روز قبل چارسدہ کے غنی خان روڈ پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا۔کالج جاتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار بہن بھائی ایک اسکول بس کی ٹکر سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ دونوں کا تعلق مندنی کے ایک غریب گھرانے سے تھا۔ بچے نہایت قابل تھے، اسی قابلیت کی بنیاد پر انہیں چارسدہ کے غزالی کالج میں اسکالرشپ ملی تھی۔ والد آرمی کے ریٹائرڈ سپاہی ہیں۔ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی، ذوالقرنین، حافظِ قرآن بھی تھا۔

سوشل میڈیا پر جس کسی نے بھی یہ المناک خبر سنی، اس کا دل غم سے بھر گیا، مگر افسوس کے علاوہ ہم کچھ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ اصل ذمہ داری اسکول انتظامیہ کی ہے کہ وہ پروفیشنل اور تربیت یافتہ ڈرائیورز تعینات کرے۔ سننے میں آیا ہے کہ مذکورہ اسکول نے ضعیف العمر افراد کو ڈرائیور رکھا ہوا ہے اور ان کی گاڑیاں بھی نہایت خستہ اور پرانی ہیں۔

نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے وقت احتیاط سے کام لیں اور جلدی بازی سے گریز کریں، کیونکہ یہی جلدبازی حادثات کا بنیادی سبب بنتی ہے۔ اسی طرح والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سفر کے دوران حفاظتی اصولوں کی سختی سے پابندی کرنے کی تلقین کریں۔

چارسدہ کے بعض مرکزی روڈز پر اسکول کے اوقات میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر احتیاط نہ کی جائے تو اس نوعیت کے واقعات معمول بن جاتے ہیں۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب انسان بنیں۔ اسی مقصد کے لیے وہ اخراجات کرتے ہیں، حتیٰ کہ سہولت کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی تک خرید دیتے ہیں، مگر جب اسی سہولت کے نتیجے میں جان لیوا حادثہ پیش آئے تو ان کے دل ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں۔

مقامی پولیس کو چاہیے کہ اسکول کے اوقات میں مصروف شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کرے اور اوور سپیڈ یا بے احتیاطی کے مرتکب افراد کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔

مزکورہ حادثے کا ایف آئی آر درج ہو چکا ہے۔ قانون کے مطابق یہ جرم "قتلِ خطا" کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ ڈرائیور کا ارادہ قتل کا نہیں ہوتا، لیکن اس کے فعل سے انسانی جان ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کی سزا قانون میں دیت ہے، جو اس خاص کیس میں تقریباً دو کروڑ روپے بنتی ہے۔ جانیں تو واپس نہیں آسکتیں، یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے، مگر والدین کے دکھ کو کسی حد تک کم کرنے کے لیے یہ رقم لازماً متاثرہ خاندان کو ادا کی جانی چاہیے۔ صرف معافی سے معاملہ نمٹانا انصاف نہیں ہوگا۔ اس سانحے کے ذمہ داروں کو احساس دلانا ضروری ہے کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔

آج بھی والدین رو رہے ہیں اور پکار رہے ہیں کہ کاش وہ اپنے بچوں کے چہرے دیکھ پاتے، مگر حادثے نے انہیں اس قابل بھی نہ چھوڑا۔

عرفان اللہ جان ایڈووکیٹ

13/10/2025

کیا طالبان پر اعتبار کرنا ہماری اسٹبلشمنٹ کی غلطی تھی؟

13/10/2025

اگر عمران خان سب سے بہتر ہے تو بہترین بندے کو وزیراعلی کیوں نہیں بناتا؟

سید امجد علی ایڈووکیٹ کا تعلق ضلع چارسدہ کے علاقے بہلولہ سے ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 2004 میں عملی وکالت کا آ...
12/10/2025

سید امجد علی ایڈووکیٹ کا تعلق ضلع چارسدہ کے علاقے بہلولہ سے ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 2004 میں عملی وکالت کا آغاز کیا اور چارسدہ کے دو نامور اور بلند پایہ دیوانی ماہرینِ قانون، احمد شاہ خان (مرحوم) اور عبدالرحمٰن خان کے چیمبر سے وابستہ ہوئے۔ ان کی رہنمائی میں آگے بڑھنا اُن کے لیے ایک سنہرا موقع تھا، جس سے انہوں نے بھرپور استفادہ کیا۔

اگرچہ سید امجد علی آج خود ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار وکیل ہیں، مگر اس کے باوجود وہ اپنے سینئرز کے احسان مند اور ممنون رہتے ہیں۔ ان کے دل میں اپنے اساتذہ کے لیے بے پناہ عزت و احترام ہے اور وہ ہر موقع پر اُن کا ذکرِ خیر کرتے ہیں۔ احمد شاہ خان کے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ وہ نہایت ایمان دار، محنتی اور مطالعہ شوق سے کرنے والے وکیل تھے۔ انہی صفات کا تسلسل سید امجد علی کی شخصیت میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمان داری اور محنت کسی بھی پروفیشنل کا سب سے بڑا سرمایہ اور بہترین ہتھیار ہوتے ہیں۔

امجد علی بنیادی طور پر دیوانی مقدمات کے وکیل ہیں۔ وہ باریک بینی سے معاملات کو دیکھنے والے، مضبوط اعصاب کے حامل، بردبار، پُرسکون اور نہایت کمپوزڈ شخصیت ہیں۔ وہ زبردست ڈپلومیٹ اور سمجھدار سیاسی کارکن بھی ہیں۔ مولانا حضرات کی محافل سے انہوں نے عاجزی اور سادگی کے اوصاف سیکھے، مگر ساتھ ہی ایک زیرک اور حقیقت پسند انسان بھی ہیں۔

وہ میرے لکھنے اور پڑھنے کے شوق کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ جو شخص آپ کی حوصلہ افزائی کرے، رہنمائی کرے اور غلطیوں کی نشان دہی محبت سے کرے — وہی اصل دوست ہے۔ امجد علی بھی مختلف موضوعات پر تبصروں کے شوقین ہیں۔ میں سوشل میڈیا کے میدان میں سرگرم ہوں جبکہ وہ وکالت اور عملی سیاست کے مضبوط سپاہی ہیں۔ ہمارا باہمی تعلق یوں ہے جیسے چولی دامن کا ساتھ۔

کامیاب اور مثبت سوچ رکھنے والے لوگ حوصلہ افزائی میں کنجوسی نہیں کرتے۔ وہ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں اور حسد سے پاک ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ منفی سوچ رکھنے والوں کو اندر سے بے سکون کر دیتا ہے اور وہ عمر بھر اضطراب میں مبتلا رہتے ہیں۔ الحمدللہ سید امجد علی اس مثبت سوچ کے حامل ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاسی ورکر ہیں جو لوگوں کے ساتھ تعلقات نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ ان سے اختلاف تو کر سکتے ہیں مگر ان کی خوش سلیقگی اور سنجیدگی سے انکار ممکن نہیں۔

دیگر بعض مولانا صاحبان کی طرح وہ اپنی قیادت پر تنقید کو کفر یا گناہ نہیں سمجھتے۔ وہ دوسروں کو عزت دیتے ہیں اور ہر معاملے میں حقیقت پسندی اختیار کرتے ہیں۔ چارسدہ بار کے اجلاسوں میں وہ اپنا نقطۂ نظر نہایت خوب صورت اور مدلل انداز میں پیش کرتے ہیں اور اکثر ایک بہترین مشر (دانش مند بزرگ) کا کردار ادا کرتے ہیں۔ سیاست کے میدان میں انہیں وسیع تجربہ ہے اور ہر بات کے پیچھے معقول دلائل کا ذخیرہ رکھتے ہیں۔

وہ محنتی اور مصروف وکیل ہیں۔ دنیا دیکھے ہوئے، تجربہ کار، ڈپلومیسی کے ماہر اور مکمل طور پر حقیقت پسند انسان ہیں۔ ان کی زندگی سادہ اور درویشانہ ہے لیکن ذہن انتہائی زرخیز ہے۔ وہ مجھے اکثر قیمتی مشوروں سے نوازتے ہیں۔ ایک بار کہنے لگے:

> “اپنے لکھنے اور بولنے کی صلاحیت سے ثمر حاصل کرو۔ ثمر صرف مالی فائدہ نہیں، بلکہ جب انسان اچھی باتوں پر عمل کرتا ہے تو اس کی اپنی زندگی سنور جاتی ہے۔”

سیاست اور بار کے معاملات سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ کالج کے زمانے سے جمیعت علماء اسلام (ف) سے وابستہ ہیں اور مسجد و محراب کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے ہیں۔ وہ ایک دین دار اور شریعت کے اصولوں پر عمل کرنے والے مسلمان ہیں۔ اپنی جماعت میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ چارسدہ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں اور آج بھی اگرچہ کسی عہدے پر نہ ہوں، مگر بار کے معاملات طے کرنے میں ان کا کردار نہایت مؤثر ہوتا ہے۔

وہ تنقید بر محل اور مؤثر انداز میں کرتے ہیں۔ الغرض، وہ ایک محنتی، معاملہ فہم اور قدردانی کے لائق انسان ہیں۔ ہمارے دل میں ایسے کرداروں کے لیے بے پناہ احترام ہے، اسی لیے ان کے اوصاف قرطاس کی زینت بنتے ہیں۔

عرفان اللہ جان ایڈووکیٹ

08/10/2025

حقیقت چپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو اس آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

08/10/2025

تم کچھ لوگوںکو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہو لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بنا سکتےتم کچھ لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہو لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بنا سکتے

07/10/2025

کرپشن،بے ایمانی اور چالاکی کو جب تہذیب کا جامہ بھی پہنایا جاۓ تو تباہی یقینی ہے۔

07/10/2025

سبق پھر پڑھ صداقت کا،شجاعت کا،عدالت کا

لیا جاۓ گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

05/10/2025

رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب

ادب کی تعریفادب کی میری نظر میں تعریف یہ ہے کہ خوب صورت انداز میں گفتگو کی جائے اور شائستہ اسلوب میں اظہارِ خیال کیا جائ...
05/10/2025

ادب کی تعریف

ادب کی میری نظر میں تعریف یہ ہے کہ خوب صورت انداز میں گفتگو کی جائے اور شائستہ اسلوب میں اظہارِ خیال کیا جائے۔ یہ بات میں نے کسی کتاب میں نہیں پڑھی؛ یہ میری ذاتی فہم ہے۔ اگر کسی کو میری اس تعریف پر اعتراض ہو تو انہیں اس کا پورا حق ہے، کیونکہ ہر انسان کی سمجھ مختلف ہوتی ہے۔

یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ چونکہ میں نے ادب کی تعریف بیان کرتے وقت کسی معروف ادیب کے الفاظ استعمال نہیں کیے، اس لیے میری بات غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنے مؤقف کے اظہار کا اعتماد ہونا چاہیے۔ درست بات پر ڈٹ جانا اعتماد ہے، لیکن غلط بات پر اڑ جانا اور “میں نہ مانوں” والا رویہ ضد یا ڈھیٹ پن کہلاتا ہے۔ اعتماد کے لیے علم، تجربہ اور محنت ناگزیر ہیں۔

نثر اور شاعری لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ خوبصورت اندازِ بیان اختیار کریں تاکہ لوگ انہیں دلچسپی سے پڑھیں۔ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ خوبصورت الفاظ کے ساتھ خیال بھی خوبصورت ہو۔ جب یہ دونوں چیزیں کسی تحریر میں یکجا ہوجائیں تو وہ ایک تخلیق کی صورت اختیار کرتی ہے اور قاری کی توجہ حاصل کرتی ہے۔

ایک شاعر یا لکھاری کی سب سے بڑی خوشی اور کامیابی یہ ہے کہ وہ جو کچھ لکھتے وقت اپنے دل و دماغ میں محسوس کرتا ہے، قاری بھی اسے اسی طرح سمجھے اور محسوس کرے۔ قاری کو الفاظ، خیال اور لکھاری کے باطن کو سمجھنے میں ذرا برابر مشکل پیش نہ آئے۔

عرفان اللہ جان ایڈووکیٹ

Address

Charsadda

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irfan jan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share