CNP-Chakwal News Pulse

CNP-Chakwal News Pulse CNP – Chakwal News Pulse
The First Dedicated News Pulse of Chakwal
Connecting Chakwal

08/03/2026

ڈسٹرکٹ پولیس چکوال

عالمی یومِ خواتین پر ان تمام با ہمت، پر عزم اور با صلاحیت خواتین کو سلام جو معاشرے کی تعمیر میں اپنے فرائض نبھا رہی ہیں۔

ترجمان چکوال پولیس

مسلمان خواتین فہم و فراست، علم و ہنر سے مالامال، معاملاتِ معیشت و معاشرت میں طاق✒️حافظ بلال بشیر08 مارچ 2026انسانی معاشر...
08/03/2026

مسلمان خواتین فہم و فراست، علم و ہنر سے مالامال، معاملاتِ معیشت و معاشرت میں طاق
✒️حافظ بلال بشیر
08 مارچ 2026

انسانی معاشرہ، دو بنیادی ستونوں ’’مَرد اور عورت‘‘ پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی بِنا ہی زوجیت کے اصول پر رکھی ہے اور زوجین کو انسانی عظمت، رُوحانی شرف اور اخلاقی ذمّے داریوں میں شریک بنایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عورت کو اس کا اصل مقام ملا، معاشرہ سنور گیا اور جب اُسے اس کے حقوق سے محروم کیا گیا، سماج زوال ہی کا شکار ہوا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن، بیوی اور ایک مکمل ہستی کے طور پرجو عزّت، مقام اورحقوق عطا کیے، انسانی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کامطالعہ کیے بغیرحقوقِ نسواں کا تجزیہ ممکن نہیں۔

دینِ اسلام سے قبل دُنیا کےبیش ترمعاشروں میں عورت کو حقیر سمجھا جاتا تھا، جب کہ عرب معاشرے میں توبیٹی کی پیدائش ہی کوباعثِ عار ماناجاتا۔ قرآنِ مجید نے اس جاہلانہ ذہنیت کی عکّاسی کچھ یوں کی ہے۔ ’’اور ان میں سے جب کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوش خبری دی جاتی ہے، تو اُس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ اس خوش خبری کو بُرا سمجھ کر لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) ذلّت برداشت کر کے اُسے اپنے پاس رہنے دے یا اُسے زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو! اس نے کتنی بُری باتیں طے کر رکھی ہیں۔‘‘ (سورۃ النحل 59:58)

جب کہ نبیٔ کریم ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو باعثِ رحمت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔’’جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اُسے زندہ درگور نہ کرے، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے، تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (مسند احمد) اِسی طرح سورۃ الاحزاب میں مرد و عورت کے ایمان، عبادت، صبر، صدقے اور تقویٰ کے اعتبار سے مساوی اجر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، دینِ اسلام نے عورت کو حقِ ملکیت، حقِ وراثت، حقِ مہراورنکاح میں رضا مندی جیسےحقوق اور اختیارت عطا کیے، جنہیں غیرمسلم معاشروں نے صدیوں بعد تسلیم اور نافذ کیا۔

دوسری جانب اُمّہات المٔومنین اور صحابیاتِ رسولﷺ کی سیرت بھی خواتین کے سماجی و علمی مقام کی روشن ترین مثال ہے۔ ان مقدّس ہستیوں میں سب سے پہلے اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کا ذکر ناگزیر ہے، جو عورت کے سماجی وقار، معاشی خُودمختاری اور فہم و بصیرت کا عظیم نمونہ ہیں۔ آپؓ مکہ مکرمہ کے ایک انتہائی معزز اور خوش حال خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنےاعلیٰ کردار، پاکیزگی اور عفت وعِصمت کی بِنا پر ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔

آپؓ نہ صرف صاحبِ ثروت تھیں بلکہ ایک کام یاب تاجرہ کی حیثیت سے شام و یمن تک پھیلے وسیع تجارتی نیٹ ورک کی نگراں بھی تھیں۔ حضرت خدیجہؓ کی اسی بصیرت نے انہیں رسولِ اکرم ﷺ کی امانت و دیانت کی قدردانی کا شعور بخشا اور پھر بعثتِ نبویؐ کے بعد جس ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ آپؓ نے حضورﷺ کا ساتھ دیا، وہ اسلامی تاریخ میں عورت کے کردار کی معراج ہے۔ آپؓ نےنہ صرف اپنا سارا مال دِین کی راہ میں خرچ کردیا بلکہ اِبتلاؤں کے دَور، خصوصاً شعبِ ابی طالب کی صعوبتوں میں بھی صبر و استقامت کا پیکربنی رہیں۔

پھر اسی خانوادۂ نبوّتؐ میں پروان چڑھنے والی سیّدہ فاطمۃ الزہرہؓ حیاداری، صبر، گھریلو نظم و نسق، روحانی بلندی اور وفاداری کی اعلیٰ مثال بن کر سامنے آئیں۔ کم عُمری ہی میں مصائب کا سامنا کرنے والی بنتِ رسولؐ نے اپنے والدِ گرامی ﷺ کی دل جوئی، خدمت اور دفاع کےضمن میں غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کیا،جب کہ حضرت علیؓ کی رفاقت میں سادگی، قناعت اورذمّےداری کا بےنظیرعملی نمونہ پیش کیا۔ اسی تسلسل میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کا علمی و فقہی مقام بھی اسلام میں خواتین کے علمی مرتبے کی ارفع ترین دلیل بن کر سامنے آتا ہے۔
حضرت عائشہؓ اُمّت کی عظیم فقیہہ اور محدّثہ تھیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جلیل القدرصحابہ کرامؓ بھی آپؓ سے مختلف احادیث سے متعلق دریافت کیا کرتے اور فرمایا کرتے کہ ’’کوئی بات ایسی نہیں کہ جس کے بارے میں ہم نےحضرت عائشہؓ سے رجوع کیا ہو اور اُن کے پاس اس کا علم موجود نہ ہو۔‘‘ اس ضمن میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ’’جب ہم لوگوں کو(صحابۂ کرامؓ) کسی حدیث سے متعلق اشکال ہوتا اور اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کرتے، توان کےپاس لازماً اس کا علم ہوتا تھا۔‘‘ (ترمذی)

اسی طرح حضرت اُمّ سلمہؓ بھی فقاہت اور بصیرت میں بلند مقام رکھتی تھیں۔ متعدد احادیثِ مبارکہ سے آپؓ کی فقہی علم پر دسترس اور فراست کا انداہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر صلحِ حدیبیہ کےموقعےپرجب صحابہ کرامؓ کچھ تذبذب کا شکار ہوئے، تو آپؓ نے نبی کریم ﷺ کو یہ حکیمانہ مشورہ دیا کہ ’’آپؐ خود اپنے گیسوئے مبارک تُرشوا لیں۔‘‘ جب صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ کو یہ عمل کرتے دیکھا، تو سب نے فوراً آپؐ کی اطاعت کی۔ علاوہ ازیں، حضرت جویریہؓ کی ذات بھی برکت کا باعث بنی۔ آپؓ کے نبیٔ کریم ﷺ سے نکاح کے بعد بنی مصطلق کے درجنوں قیدی آزاد کر دیے گئے۔

اس ضمن میں ایک موقعے پر حضرت عائشہؓ نےفرمایا۔ ’’مَیں نے کسی عورت کو اپنی قوم کے لیے حضرت جویریہؓ سے زیادہ بابرکت نہیں دیکھا۔‘‘ (اسد الغابۃ)۔ حضرت زینب بنتِ ابی سلمہؓ کا شمار بھی عظیم فقیہ خواتین میں ہوتا ہے۔ مدینہ کے اہلِ علم بھی آپؓ سے مختلف مسائل کے حل دریافت کیا کرتے تھے۔ اِسی طرح حضرت فاطمہ بنتِ قیسؓ بھی ایک جری اور بصیرت مند صحابیہ تھیں، جنہوں نے ابتدا میں ہجرت کی سعادت حاصل کی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عُمرؓ کی شہادت کے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لیے شوریٰ کے اراکین کے اجلاس کے لیے آپؓ کا گھر منتخب کیا گیا۔

نبیٔ کریم ﷺ نےحصولِ تعلیم کے ضمن میں مَرد و عورت کے درمیان کبھی کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ آپﷺ نے جس طرح مَردوں کو تحصیلِ علم کی ترغیب دی، بالکل اِسی طرح خواتین کو بھی اس کا حُکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُمّہات المؤمنین اور دیگر صحابیاتؓ نے نہ صرف دینی علوم میں مہارت حاصل کی بلکہ فقاہت اور فتویٰ نویسی کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے، جب کہ اسلام کے ابتدائی دَور سے لے کرعصرِحاضر تک مسلمان خواتین نے قیادت و سیادت اور امورِ جہاں بانی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جب حالات نے تقاضا کیا، تو رضیہ سلطانہ نے دہلی کی سلطنت کی کمان سنبھالی۔ شجرالدرنےمصر کوصلیبی بُحران سے نکالا۔ سیّدہ الحرہ نے مراکش میں اُس وقت کی بحری طاقتوں کا جرأت و بہادری سے مقابلہ کیا۔ ترکان خاتون نے سلجوقی دربار میں اثر و رسوخ قائم رکھا اور زبیدہ خاتون نے رفاہی خدمات کے ذریعے ریاستی نظم کے ضمن میں دیرپا اثرات مرتّب کیے۔

یاد رہے، اسلامی معاشروں میں خواتین ہر دَور میں فیصلہ سازی اور قیادت کا حصّہ رہی ہیں اورماضیٔ قریب میں پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح اور شہید بے نظیر بُھٹّوکی مثالیں ہمارے سامنےہیں، جنہوں نے سیاسی اُتار چڑھاؤ، دبائو اور صعوبتوں کے باوجود قائدانہ کردار ادا کیا، جب کہ کسی بھی معاشرے میں مسلمان خواتین کو جب بھی اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا، انہوں نے اپنی صلاحیتوں، بصیرت اور حوصلہ مندی سے حالات کا رُخ بدلنے کی کوشش کی۔ درحقیقت، مسئلہ صنف کا نہیں بلکہ مواقع، نظام کی مضبوطی اور سماجی رویّوں کا ہے۔
آج (8 مارچ کو) دُنیا بَھر خواتین کا دن منایا جا رہا ہے اور اس عالمی یوم کی مناسبت سے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ منفی رویّوں کے خاتمےاور مثبت اقدارکےفروغ ہی سے ہم خواتین کے لیے ایک مثالی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب اس حقیقت سےبھی مفرممکن نہیں کہ غیر مُلکی فنڈز کے بَل پر چلنے والی حقوقِ نسواں کی علم بردار تنظیمیں اپنے بےہودہ نعروں اورمہمات کے ذریعےخواتین کی آزادی کا دعویٰ تو کرتی ہیں، مگر ان کے اس طرزِعمل سے پاکستانی معاشرے میں حقیقی تبدیلی آئی ہے اور نہ اس کی توقّع کی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ مسلمان خواتین اُمہات المٔومنین، صحابیاتؓ اور اسلامی تاریخ کی نام وَر خواتین کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔

08/03/2026

مسلمان خواتین فہم و فراست، علم و ہنر سے مالا مال
معاملات معیشت و معاشرت میں طاق

18/01/2026

چکوال ، تلہ گنگ سبزی منڈی میں قتل انتہائی معمولی بات پر تلخ کلامی سے ہوا، عدم برداشت ۔ معاشرے میں ایک ناسوربن گئی ہے

سوشل میڈیا اور عصر حاضر کے نوجوانآسان راستوں کی تلاش اور آرام پسندی کا بخار حافظ بلال بشیر ✒️آج کے دور میں ہر خوشی، غم ا...
18/01/2026

سوشل میڈیا اور عصر حاضر کے نوجوان
آسان راستوں کی تلاش اور آرام پسندی کا بخار

حافظ بلال بشیر ✒️

آج کے دور میں ہر خوشی، غم اور ہر کامیابی کی تصویر ایک کلک پر منظرِ عام پر آجاتی ہے، سوال یہ بنتا ہے کہ ہم نے محنت کو کس انداز میں ضبط کیا؟ وہ نوجوان نسل جو جنریشن زی کے نام سے جانی جاتی ہے، اس تیزی سے بدلتی دنیا میں پیدا ہوئی ہے جہاں علم اور شواہد تک رسائی کا مطلب اکثر محنت کی قدیم تعریف کو کم تر سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول، ہنر سیکھنے اور خود نمائی کے طریقے بدل دیے ہیں، مگر کیا اسی تبدیلی نے محنت کے تجربے، صبر اور تسلسل کے تصور کو کمزور تو نہیں کر دیا؟
سوشل میڈیا صرف فیس بک یا ٹک ٹاک نہیں بلکہ یہ وہ تکنیکی و سماجی ڈھانچہ ہے جو ویوزرز کو مواد بنانے، شیئر کرنے اور فوراً رائے پانے کا موقع دیتا ہے اور اسی تیزی نے محنت کے روایتی تصورات پر اثر چھوڑا ہے۔
صرف پندرہ بیس سال پہلے تک زیادہ تر معلومات کا حصول کتابوں، اساتذہ اور تجربات سے وابستہ تھا، مگر 2000 کی دہائی کے وسط سے سوشل میڈیا نے انفارمیشن کی رسائی کو جتنی تیز رفتار اور سستا بنایا، اتنا ہی اس نے فوری نتیجہ پانےکی توقعات کو بھی جنم دیا۔

ویڈیوز، مختصر ٹیوٹوریلز، لائیو سیگمنٹس اور سرچ انجنز نے کسی ہنر یا نظریے کو چند سیکنڈز میں قابلِ رسائی بنا دیا۔ اس تبدیلی نے مثبت پہلو بھی دئیے۔ علم کی دائرہ بندی وسیع ہوئی، آوازیں اجاگر ہوئیں، مگر ساتھ ہی محنت میں کمی، جلدی تشہیر، اور دو سے تین قدم میں کامیابی کا خواب میں اضافہ ہوا۔

سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی زندگی میں جتنی گہرائی تک رسائی حاصل کر لی ہے، شاید کسی اور ذریعے نے اس قدر نہیں کی ہوگی۔ آج کا نوجوان صبح اُٹھتے ہی سب سے پہلے موبائل فون دیکھتا ہے، اور سونے سے پہلے بھی۔ اس عادت نے رفتہ رفتہ ان کے ذہنوں میں ایک ایسا بدلاؤ پیدا کر دیا ہے جس نے محنت، صبر، مستقل مزاجی اور تدریجی ترقی کے تصور کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔

دن بھر کے کاموں میں بھی یہی ڈیجیٹل اسکرین ان کے ہاتھ، ذہن اور احساسات کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ چاہے وہ پڑھائی کا وقت ہو، ملازمت کی ذمے داری ہو، گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کا وقت ہو۔ وہ دیواریں، روشنی، چہرے اور رشتے دیکھنا بھول کر بٹنوں اور آئیکنز کی دنیا میں رہنے لگا ہے۔

اصل زندگی پیچھے رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نتیجہ چمکتا ہوا دکھاتا ہے اور محنت کا پس منظر دھندلا۔ جب نتیجہ اتنا چمک دار ہو اور سفر اتنا مخفی، تو نوجوان کیوں نہ یہ سمجھیں کہ محنت اب پرانی بات ہو چکی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ محنت نے کبھی اپنی اہمیت نہیں کھوئی۔ اس کے لیے وقت چاہیے، جو سوشل میڈیا نے چرالیا ہے۔

آج گھنٹوں کی اسکرولنگ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتی کہ وقت کس تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ دو منٹ کے لیے فون کھولنے والا نوجوان جب ہوش میں آتا ہے تو ایک نہیں بلکہ دو، تین گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ گھنٹے زندگی کے وہ گھنٹے ہیں جو کبھی واپس نہیں آتے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی شخصیت بنانے کے بجائے اپنی تصویر بنانے میں لگ گئے ہیں۔

وہ اپنی حقیقت سے زیادہ اپنی آن لائن شناخت کی فکر کرتے ہیں، حالانکہ زندگی اسکرین کے باہر گزرتی ہے اندر نہیں۔ پہلے کامیابی کا مطلب تھا: مقصد، قربانی، جدوجہد اور مستقل مزاجی، مگر اب مطلب بدل گیا ہے۔ نظر آنا، دکھائی دینا، پسند کیے جانا، شیئر کرنا ہے، جب کامیابی انٹرٹینمنٹ بن جائے تو اس کا حاصل بھی عارضی اور کھوکھلا رہ جاتا ہے۔

پہلے کامیاب وہ تھا جو علم، کردار، اخلاق اور کام میں طاق ہو۔ آج کامیاب وہ ہے جس کے فالورز زیادہ اور آواز اونچی ہو۔ یہ تبدیلی تربیت کے پورے ڈھانچے کو شکست دے رہی ہے۔ تربیت جو اب کتابوں، اساتذہ اور بزرگوں سے نہیں، بلکہ انفلونسر سے ہو رہی ہے۔ ادب کی تربیت میمز سے، اخلاق کی ٹرینڈز سے، اور خود اعتمادی کی تربیت سیلفیز سے ہو رہی ہے۔

گزشتہ ادوار میں بچوں کی تربیت کا مرکز والدین کی آغوش اور اساتذہ کی بھرپور رہنمائی تھے، لیکن آج وقت بدل گیا ہے سوشل میڈیا نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج نوجوانوں کے پاس خیالات تو ہیں، مگر علم اور تجربہ نہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی چیز کی معلومات آسانی سے دستیاب ہو تو انسان اسے یاد رکھنے کی بجائے موبائل میں محفوظ کرلیتا ہے۔

نتیجتاً گہرائی میں سیکھنے کی عادت کمزور پڑتی جارہی ہے، جس نے معلومات کے ساتھ محنت کے جذبےکو بدل دیا ہے۔ نوجوانوں میں برداشت ختم ہو گئی ہے، جب ہر چیز فوری ملنے لگے، جیسے ویڈیو ایک سیکنڈ میں چل جاتی ہے، ریل دو سیکنڈ میں بدل جاتی ہے، اور لائکس چند لمحوں میں مل جاتے ہیں، تو اُن کے دماغ اس فوری انعام کےعادی ہو جاتے ہیں۔

وہ لمبے سفر، محنت، طویل منصوبہ بندی اور دیر سے ملنے والے نتائج کو برداشت ہی نہیں کر پاتے۔ انہیں ہر چیز جلد چاہیے، ہر قدم فوری نتیجے کا مطالبہ کرتا ہے، اگر ایک دو ہفتے میں فائدہ نظر نہ آئے تو وہ راستہ ہی چھوڑ دیتے ہیں، چند دن میں مہارت حاصل نہ ہو تونیا کام شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بے صبری محنت کی دشمن ہے، جسے سوشل میڈیا نے مزید مضبوط کر دیا ہے۔ نوجوان حقیقی ہنر کی گہرائی میں جانے کی بجائے کم وقتی مواد سازی (content churn) کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس، عالمی تحقیقی اور ورک پلیس رپورٹس بتاتی ہیں کہ طویل مدت میں ملنے والی کامیابی محنت، تسلسل اور مہارت پر مبنی ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا ایک ٹول ہے۔ مسئلہ اس کے استعمال، تعلیمی نظام میں رہنمائی کی کمی اور معاشی توقعات کا بے ہنگم ہونا ہے، اگر اس کا غلط استعمال ہو تو نقصان دیتا ہے، مگر صحیح استعمال فائدہ بھی دیتا ہے۔ بہت سے نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر ہنر سیکھا، کاروبار شروع کیا، اپنے فن کو دنیا تک پہنچایا اور اپنی زندگی کو بہتر کیا، انہوں نے شارٹ کٹ نہیں ڈھونڈے، بلکہ سوشل میڈیا کو ایک پلیٹ فارم سمجھ کر اس پر محنت، وقت اور لگن کے ساتھ کام کیا۔

نوجوا ن کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں کو یہ فیصلہ ان کو خو د کرنا ہوگا کہ وہ کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ راستہ جہاں دکھاوا ہے، مگر انجام کھوکھلا ہے۔یا وہ راستہ جہاں محنت ہے، مگر مستقبل روشن ہے۔ آج کے نوجوان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی سوچ بدلے، اپنے وقت کو بچا ئے، اپنی صلاحیتوں پر توجہ دے، مستقبل کے لیے وہ راستہ چنے جو اسےطاقت وربنائے نہ کہ کمزور۔ اپنی زندگی کا کنٹرول خود سنبھالیں، تو بے شمار کامیابیاں سمیٹیں گے۔

آنے والی دہائی میں ٹیکنالوجی کا دائرہ مزید پھیلے گا۔ اے آئی کا انفراسٹرکچر مزید بڑھے گا، بائیوٹیکنالوجی میں پیش رفت نئے سوال کھڑے کرے گی اور ڈیجیٹل نگرانی کے مسئلے پیچیدہ ہوتے چلے جائیں گے۔ اس منظرنامے میں نسلِ نو نے کیا کرنا ہے، یہ اُنہیں سوچنا ہوگا۔

عصر حاضر میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قدیم و جدید علوم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل دنیا میں راہنمائی، اخلاقی معیارات اور عملی پالیسیوں پر عمل کریں، مزید یہ کہ اس سفر میں قرآن و سنت کی روشنی میں جدید مسائل کا حل تلاش کریں، اور اگلی دہائی کے چیلنجز کے لیے ایک ایسا فکری و اخلاقی فریم ورک تیار کریں جو حق، عدل کو ایک ساتھ رواں رکھے۔

مولانا فضل الرحمٰن چکوال میں مولانا فضل الرحمان /میڈیا ٹاک چکوال:پی ٹی آئی کی مجھ سے بات چیت صرف بیان بازی کی حد تک ہے چ...
18/12/2025

مولانا فضل الرحمٰن چکوال میں

مولانا فضل الرحمان /میڈیا ٹاک

چکوال:پی ٹی آئی کی مجھ سے بات چیت صرف بیان بازی کی حد تک ہے

چکوال:پی ٹی آئی کی جانب سے مجھ سے اب تک کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

چکوال:28ویں ترمیم کے بعداسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی ہے۔

چکوال:حکومت ن لیگ اقلیت کے طور پر کررہی ہے پیپلز پارٹی کو کچھ حاصل نہیں

چکوال:نئے صوبے بنانے کے بعد ان کا انتظام کیسے چلے گا۔

چکوال : 22 تاریخ کو مختلف علماء اکٹھے ہورہے ہیں غیر اسلامی قوانین کے خلاف ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : آئین میثاق ملی ہے 26 ترمیم میں بات چیت چلتی رہی ہے ، مولانا فضل الرحمان
چکوال : مفاہمت کے ساتھ اسمبلی میں پیش ہوئی ،مولانا فضل الرحمان

چکوال : 27 ترمیم جبری طور پر طاقت کے ساتھ دو تہائی اکثریت سے منظور کروائی گئی، مولانا فضل الرحمان

چکوال : ہم نے اس آئین کا حلف اٹھایا ہوا ہے غیر اسلامی قانون سازی کے خلاف 22 دسمبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی کے حوالے سے صرف بیان دیا ہے رابطہ نہیں کیا ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : جعلی مینڈیٹ کے ہوتے ہوئے بھی حکومت صرف مسلم لیگ ن کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

چکوال : پیپلز پارٹی صرف سہارا ہے جعلی اقلیت ملک پر حکومت کر رہی ہے ، مولانا فضل الرحمان
چکوال : آئین کے خلاف قانون سازی کرنے کا مطلب ہے کہ وہ آئین کی مخالفت کا ارتکاب کریں گئے، مولانا فضل الرحمان

چکوال : اسکے بعد انکا منڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : اصولی طور پر بات چیت اور ہے کیا آپ عملی طور پر کرسکیں گئے ، مولانا فضل الرحمان
چکوال : فاٹا کے انضمام پر ہم کس حد تک مخالفت کرتے رہے اسکے انجام اور نقصان سے آگاہ کرتے رہے ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : اسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی ہے ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : عقل کل سمجھنے والے آج کہتے ہیں وہ بھی غلط ہوا تھا اور آج کہتے ہیں موجودہ صوبوں کو بھی تقسیم کردیں ، مولانا فضل الرحمان
چکوال : جسکو تدبیر کہتے ہیں تدبر کہتے ہیں اسکا معنی یہ ہے معمالات کے انجام پر نظر رکھنا ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : یہ کرنے کے بعد کہتے ہیں ہم طاقتور ہیں جو ہم سوچیں گئے وہی ہو گا ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : طاقت کی بنیاد پر فاٹا کا انضمام کیا ہے مسلح گروہ نے قبضہ کر لیا ان سے اب نہیں چل رہا انکی رٹ ختم ہو گئی اب علاقے خالی کرنے کی بات کررہے ہیں ،مولانا فضل الرحمان

چکوال : اسکا معنی یہ ہے پالیسی میں جھول ہے پالیسی میں کہیں خلا ہے ، مولانا فضل الرحمان
چکوال : میں دعویٰ سے کہتا ہوں 78 سالوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی صحیح رہی ہے اور دہشتگردی کی پالیسی ٹھیک رہی ہے ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : طاقتور قوتوں کو سوچنا ہو گا معاملات سیاستدان طے کرتے ہیں طاقتور نہیں، مولانا فضل الرحمان

چکوال : بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ کروانے پر مولا فضل الرحمان کا موقف

چکوال : بات یہ ہے کہ میں یہ بھی کہوں گا کہ وہ کیوں گرفتار ہے یہ بھی کہوں گا کہ کیوں ملاقاتیں نہیں ہونے دے رہے ، مولانا فضل الرحمان
چکوال : نہ میں سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ہی ان سے ملاقاتیں نہ ہونے دینے پر ، مولانا فضل الرحمان

چکوال : لیکن دیکھنا یہ ہے حکومت کس کی ہے اصل حکومت پھر کس کی ہے انکی پالیسیاں ہیں انکے فیصلے ہیں اسکے ستاھ ہم سب زندگی گزار رہے ہیں ، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان کی چکوال میں مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی رحمۃ اللّٰہ کی تعزیت کے بعدمیڈیا سے گفتگو

Sea Water Turns Red Around Iran’s Hormuz Island in Iran
17/12/2025

Sea Water Turns Red Around Iran’s Hormuz Island in Iran

The Higher Education Commission (HEC) is set to launch a fully automated degree attestation system using blockchain tech...
07/12/2025

The Higher Education Commission (HEC) is set to launch a fully automated degree attestation system using blockchain technology within six months.

The new system will make verification faster, secure, and fully digital, removing the need for graduates to visit HEC offices or submit physical documents.

Degrees from 25 HEIs with ERP systems will be automatically added to the blockchain upon graduation, while other institutions can submit documents online for verification.

Once on the blockchain, degrees can be instantly authenticated by government departments, embassies, and private organizations, ensuring tamper-proof access and improved transparency across the attestation process.

Image is Ai generated and is just for reference

07/12/2025

چکوال:کلر کہار کی شاہرات پر سوروں کی چہل قدمی، شکار پر پابندی کے باعث سور کی افزائش نسل میں خطرناک اضافہ۔

Chakwal: Wild boars are freely roaming on the roads of Kallar Kahar. Due to the ban on hunting, their population has increased dangerously, creating serious concern for public safety and agriculture.

:

07/12/2025

رواں مالی سال کے 4 ماہ میں ٹیکسٹائل سیکٹر نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے برآمدات کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔

مغربی دنیا میں محمد سب سے مقبول نام: زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔
04/12/2025

مغربی دنیا میں محمد سب سے مقبول نام: زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔

Address

Bhoun Road
Chakwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CNP-Chakwal News Pulse posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category