CNP-Chakwal News Pulse

CNP-Chakwal News Pulse CNP – Chakwal News Pulse
The First Dedicated News Pulse of Chakwal
Connecting Chakwal

پولیس آفیسر میڈم بینش فاطمہ ایس ایس پی آپریشن چکوال تعینات۔ ایس ایس پی آر او سی سی ڈی راولپنڈی ریجن تعینات تھیں۔ قوی امک...
09/05/2026

پولیس آفیسر میڈم بینش فاطمہ ایس ایس پی آپریشن چکوال تعینات۔ ایس ایس پی آر او سی سی ڈی راولپنڈی ریجن تعینات تھیں۔ قوی امکان ہے وہ سیف سٹی پراجیکٹ کو ہیڈ کرینگیں۔ بینش فاطمہ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف جارحانہ کاروائیوں کے حوالے سے جانی جاتی ہیں

ڈسٹرکٹ پولیس چکوالتھانہ سٹی چکوال پولیس کی کاروائی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ سٹی چکوال انس...
25/04/2026

ڈسٹرکٹ پولیس چکوال

تھانہ سٹی چکوال پولیس کی کاروائی

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ سٹی چکوال انسپکٹر سید عاطف رضا،سب انسپکٹر عامر شفیق کی ٹیم کے ہمراہ کاروائی۔۔۔۔عمر فاروق ولد معین اختر سکنہ نیا محلہ بھون روڈ کے قبضہ سے 800 پتنگیں اور 10 دھاتی ڈوریں برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا،ملزم گرفتار
ترجمان چکوال پولیس

امجد یوسف کیسے گرفتار ہوا؟گوکہ تضامن کے جلاد کی گرفتاری کا کریڈٹ شامی سیکورٹی فورسز کو دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے ا...
25/04/2026

امجد یوسف کیسے گرفتار ہوا؟
گوکہ تضامن کے جلاد کی گرفتاری کا کریڈٹ شامی سیکورٹی فورسز کو دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے اصل کردار ایک باہمت خاتون کا ہے۔ ایک مَلکہ، ایک ہیروئن، ایک شہزادی، انسانیت کے ماتھے کا جھومر، ایک عظیم محققہ۔ جس نے چار سال قبل جال بچھایا اور پھر قصاب کو شکار کرلیا۔ آیئے یہ دلچسپ داستان پڑھتے ہیں۔
اس باوقار خاتون کا نام ہے… انصار شحود۔
نہ ان کے ہاتھ میں بندوق تھی، نہ کسی لشکر کی قیادت، مگر انہوں نے گزشتہ دہائی کے سب سے حیران کن “شکار” کی داستان رقم کر دی۔
امجد يوسف، سابق فوجی انٹیلی جنس افسر، عمر تقریباً 40 برس، وہ شخص جس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے، جو لاشیں جلا کر سکون کی نیند سو جاتا تھا۔ 16 اپریل 2013 کو اس نے التضامن قتل عام کی قیادت کی، جہاں کم از کم 41 نہتے شہریوں کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ایک گڑھے کے کنارے کھڑا کیا گیا اور گولیوں سے بھون دیا گیا۔ پھر انہیں ٹائروں کے ساتھ جلا دیا گیا۔ بعد ازاں اس نے اعتراف کیا کہ یہ سب اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی ہلاکت کے “بدلے” میں کیا اور فخریہ لہجے میں یہ بھی کہہ دیا: “میں مزید بھی مار سکتا تھا۔”
مگر اسے خبر نہ تھی کہ اس کی داستان کا اختتام ایک خاتون کے ہاتھوں لکھا جا چکا ہے۔
انصار شحود، جو نیدر لینڈر کی University of Amsterdam کے ہولوکاسٹ اور نسل کشی کے مرکز سے وابستہ محقق ہیں، نے 4 برس تک اس قتلِ عام کی پرتیں کھولنے میں گزارے۔ سچ کی تلاش میں انہوں نے اپنے خاندانی دباؤ تک کو پسِ پشت ڈال دیا اور ایک فرضی شناخت “آنا” تخلیق کی۔ خود کو ایک نوجوان علوی خاتون کے طور پر سامنے لایا، جو بظاہر بشار حکومت کی کٹر حامی تھی۔
یہیں سے “شکار” شروع ہوا۔
“آنا” نے بتدریج سرکاری عناصر سے روابط قائم کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا حلقہ تقریباً 500 افراد تک جا پہنچا۔ آنا چونکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نفسیات کی ماہر ہیں، اس لیے انہوں نے قاتل کی نفسیات کو سمجھ لیا کہ ایک مجرم کو اپنے بوجھ کو بانٹنے کے لیے کسی سامع کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے اس کا مکمل اعتماد حاصل کر لیا۔ نتیجتاً، اس کے پاس ایسی آڈیو و ویڈیو اعترافات آئیں، جن میں وہ جرائم بھی شامل تھے جو کبھی منظر عام پر نہ آئے تھے۔
اپنے ساتھی محقق Uğur Üngör کے ساتھ مل کر آنا نے 27 ویڈیوز کا تجزیہ کیا، جن کی بنیاد پر امجد یوسف کی شناخت ممکن ہوئی۔ ان ویڈیوز میں دل دہلا دینے والے مناظر تھے۔ خواتین کو گڑھے میں گرا کر گولی مارنا اور پھر لاشوں کو آگ کے حوالے کرنا۔ اندازوں کے مطابق صرف تضامن کے اس علاقے میں 288 افراد اسی طریقے سے قتل ہوئے، جبکہ مزید 12 اجتماعی قتل عام میں تقریباً 500 افراد کے مارے جانے کا اعتراف بھی سامنے آیا۔
مجرم کے تعین کے بعد آنا کا مشن مکمل ہوگیا۔ انہوں نے ساری معلومات شامی حکومت کو دے دیں۔
بالآخر، 24 اپریل 2026 کی صبح، حساب کا وقت آ پہنچا۔ مہینوں کی نگرانی اور سخت سیکورٹی گھیرے کے بعد ایک خصوصی فورس نے حماہ کے دیہی علاقے میں واقع گاؤں “نبع الطیب” میں کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا، جہاں امجد یوسف حکومت کے زوال کے بعد روپوش تھا۔ وزیر داخلہ نے اعلان کیا: “مجرم امجد یوسف، جو مجزرة التضامن کا مرکزی ملزم ہے، اب ہماری تحویل میں ہے۔”
دمشق کی گلیوں میں اس خبر پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ایک شہری نے کہا: “ہم سفید پھول لے کر جائیں گے، انہیں بوئیں گے اور شہداء سے کہیں گے آپ کی یاد باقی ہے اور انصاف ہو گیا ہے۔”
یہی فرق ہے ایک ظالم اور ایک باوقار خاتون میں۔ امجد یوسف، جس نے قتل کیے اور آخرکار خوف میں گھِر کر پکڑا گیا۔ اور انصار شحود، جنہوں نے ثابت قدمی سے سچ کو بے نقاب کیا اور سرخرو ٹھہریں۔ میڈیا نے انہیں “شامیوں کی ہیرو” قرار دیا۔
ہر ہیرو کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں ہوتا۔ کچھ کے پاس صرف ایک فون، صبر اور وہ حوصلہ ہوتا ہے جس سے وہ درندوں کو عقل کے میدان میں شکست دیتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ امجد یوسف کے مظالم سے ٹوٹنے والے دل واپس نہیں جڑ سکتے، لیکن اس کی گرفتاری انصاف کے اس سفر کا پہلا قدم ہے، جو کبھی مرتا نہیں… اور ابھی اس کی راہ طویل ہے۔

سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ  دوبئی بھارت  کے ساتھ مل کر گوادر پورٹ کی ناکامیوں کیلئے سرتوڑ کوشش کررہا ہے ہمارے سب...
25/04/2026

سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ دوبئی بھارت کے ساتھ مل کر گوادر پورٹ کی ناکامیوں کیلئے سرتوڑ کوشش کررہا ہے ہمارے سب سے قریبی ایک اسلامی برادر ملک نے دبئی کو خبردار کیا ہے اور واضح پیغام بھیجا ہے کہ جو کچھ آپ بھارت کے ساتھ مل کر کرنے کی کوشش کررہے ہو پاکستان کو سب بخوبی اندازہ ہے لہٰذا آپ ان حرکتوں سے باز آجائے پاکستان گوادر پورٹ کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جاسکتا ہے گوادر پورٹ کی کامیابی یقینی نظرآرہی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً تین مرتبہ بھارت کے وزیر خارجہ شنکر دبئی گئے ہے
شیخو کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے پاکستان کوئی سوڈان نہیں ہے اور کسی اور سے نہیں تو بھارت سے ضرور پوچھے کہ پاکستان کیا بلا ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔۔۔۔۔ 🇵🇰

08/03/2026

ڈسٹرکٹ پولیس چکوال

عالمی یومِ خواتین پر ان تمام با ہمت، پر عزم اور با صلاحیت خواتین کو سلام جو معاشرے کی تعمیر میں اپنے فرائض نبھا رہی ہیں۔

ترجمان چکوال پولیس

مسلمان خواتین فہم و فراست، علم و ہنر سے مالامال، معاملاتِ معیشت و معاشرت میں طاق✒️حافظ بلال بشیر08 مارچ 2026انسانی معاشر...
08/03/2026

مسلمان خواتین فہم و فراست، علم و ہنر سے مالامال، معاملاتِ معیشت و معاشرت میں طاق
✒️حافظ بلال بشیر
08 مارچ 2026

انسانی معاشرہ، دو بنیادی ستونوں ’’مَرد اور عورت‘‘ پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی بِنا ہی زوجیت کے اصول پر رکھی ہے اور زوجین کو انسانی عظمت، رُوحانی شرف اور اخلاقی ذمّے داریوں میں شریک بنایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عورت کو اس کا اصل مقام ملا، معاشرہ سنور گیا اور جب اُسے اس کے حقوق سے محروم کیا گیا، سماج زوال ہی کا شکار ہوا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن، بیوی اور ایک مکمل ہستی کے طور پرجو عزّت، مقام اورحقوق عطا کیے، انسانی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کامطالعہ کیے بغیرحقوقِ نسواں کا تجزیہ ممکن نہیں۔

دینِ اسلام سے قبل دُنیا کےبیش ترمعاشروں میں عورت کو حقیر سمجھا جاتا تھا، جب کہ عرب معاشرے میں توبیٹی کی پیدائش ہی کوباعثِ عار ماناجاتا۔ قرآنِ مجید نے اس جاہلانہ ذہنیت کی عکّاسی کچھ یوں کی ہے۔ ’’اور ان میں سے جب کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوش خبری دی جاتی ہے، تو اُس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ اس خوش خبری کو بُرا سمجھ کر لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) ذلّت برداشت کر کے اُسے اپنے پاس رہنے دے یا اُسے زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو! اس نے کتنی بُری باتیں طے کر رکھی ہیں۔‘‘ (سورۃ النحل 59:58)

جب کہ نبیٔ کریم ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو باعثِ رحمت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔’’جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اُسے زندہ درگور نہ کرے، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے، تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (مسند احمد) اِسی طرح سورۃ الاحزاب میں مرد و عورت کے ایمان، عبادت، صبر، صدقے اور تقویٰ کے اعتبار سے مساوی اجر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، دینِ اسلام نے عورت کو حقِ ملکیت، حقِ وراثت، حقِ مہراورنکاح میں رضا مندی جیسےحقوق اور اختیارت عطا کیے، جنہیں غیرمسلم معاشروں نے صدیوں بعد تسلیم اور نافذ کیا۔

دوسری جانب اُمّہات المٔومنین اور صحابیاتِ رسولﷺ کی سیرت بھی خواتین کے سماجی و علمی مقام کی روشن ترین مثال ہے۔ ان مقدّس ہستیوں میں سب سے پہلے اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کا ذکر ناگزیر ہے، جو عورت کے سماجی وقار، معاشی خُودمختاری اور فہم و بصیرت کا عظیم نمونہ ہیں۔ آپؓ مکہ مکرمہ کے ایک انتہائی معزز اور خوش حال خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنےاعلیٰ کردار، پاکیزگی اور عفت وعِصمت کی بِنا پر ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔

آپؓ نہ صرف صاحبِ ثروت تھیں بلکہ ایک کام یاب تاجرہ کی حیثیت سے شام و یمن تک پھیلے وسیع تجارتی نیٹ ورک کی نگراں بھی تھیں۔ حضرت خدیجہؓ کی اسی بصیرت نے انہیں رسولِ اکرم ﷺ کی امانت و دیانت کی قدردانی کا شعور بخشا اور پھر بعثتِ نبویؐ کے بعد جس ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ آپؓ نے حضورﷺ کا ساتھ دیا، وہ اسلامی تاریخ میں عورت کے کردار کی معراج ہے۔ آپؓ نےنہ صرف اپنا سارا مال دِین کی راہ میں خرچ کردیا بلکہ اِبتلاؤں کے دَور، خصوصاً شعبِ ابی طالب کی صعوبتوں میں بھی صبر و استقامت کا پیکربنی رہیں۔

پھر اسی خانوادۂ نبوّتؐ میں پروان چڑھنے والی سیّدہ فاطمۃ الزہرہؓ حیاداری، صبر، گھریلو نظم و نسق، روحانی بلندی اور وفاداری کی اعلیٰ مثال بن کر سامنے آئیں۔ کم عُمری ہی میں مصائب کا سامنا کرنے والی بنتِ رسولؐ نے اپنے والدِ گرامی ﷺ کی دل جوئی، خدمت اور دفاع کےضمن میں غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کیا،جب کہ حضرت علیؓ کی رفاقت میں سادگی، قناعت اورذمّےداری کا بےنظیرعملی نمونہ پیش کیا۔ اسی تسلسل میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کا علمی و فقہی مقام بھی اسلام میں خواتین کے علمی مرتبے کی ارفع ترین دلیل بن کر سامنے آتا ہے۔
حضرت عائشہؓ اُمّت کی عظیم فقیہہ اور محدّثہ تھیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جلیل القدرصحابہ کرامؓ بھی آپؓ سے مختلف احادیث سے متعلق دریافت کیا کرتے اور فرمایا کرتے کہ ’’کوئی بات ایسی نہیں کہ جس کے بارے میں ہم نےحضرت عائشہؓ سے رجوع کیا ہو اور اُن کے پاس اس کا علم موجود نہ ہو۔‘‘ اس ضمن میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ’’جب ہم لوگوں کو(صحابۂ کرامؓ) کسی حدیث سے متعلق اشکال ہوتا اور اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کرتے، توان کےپاس لازماً اس کا علم ہوتا تھا۔‘‘ (ترمذی)

اسی طرح حضرت اُمّ سلمہؓ بھی فقاہت اور بصیرت میں بلند مقام رکھتی تھیں۔ متعدد احادیثِ مبارکہ سے آپؓ کی فقہی علم پر دسترس اور فراست کا انداہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر صلحِ حدیبیہ کےموقعےپرجب صحابہ کرامؓ کچھ تذبذب کا شکار ہوئے، تو آپؓ نے نبی کریم ﷺ کو یہ حکیمانہ مشورہ دیا کہ ’’آپؐ خود اپنے گیسوئے مبارک تُرشوا لیں۔‘‘ جب صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ کو یہ عمل کرتے دیکھا، تو سب نے فوراً آپؐ کی اطاعت کی۔ علاوہ ازیں، حضرت جویریہؓ کی ذات بھی برکت کا باعث بنی۔ آپؓ کے نبیٔ کریم ﷺ سے نکاح کے بعد بنی مصطلق کے درجنوں قیدی آزاد کر دیے گئے۔

اس ضمن میں ایک موقعے پر حضرت عائشہؓ نےفرمایا۔ ’’مَیں نے کسی عورت کو اپنی قوم کے لیے حضرت جویریہؓ سے زیادہ بابرکت نہیں دیکھا۔‘‘ (اسد الغابۃ)۔ حضرت زینب بنتِ ابی سلمہؓ کا شمار بھی عظیم فقیہ خواتین میں ہوتا ہے۔ مدینہ کے اہلِ علم بھی آپؓ سے مختلف مسائل کے حل دریافت کیا کرتے تھے۔ اِسی طرح حضرت فاطمہ بنتِ قیسؓ بھی ایک جری اور بصیرت مند صحابیہ تھیں، جنہوں نے ابتدا میں ہجرت کی سعادت حاصل کی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عُمرؓ کی شہادت کے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لیے شوریٰ کے اراکین کے اجلاس کے لیے آپؓ کا گھر منتخب کیا گیا۔

نبیٔ کریم ﷺ نےحصولِ تعلیم کے ضمن میں مَرد و عورت کے درمیان کبھی کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ آپﷺ نے جس طرح مَردوں کو تحصیلِ علم کی ترغیب دی، بالکل اِسی طرح خواتین کو بھی اس کا حُکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُمّہات المؤمنین اور دیگر صحابیاتؓ نے نہ صرف دینی علوم میں مہارت حاصل کی بلکہ فقاہت اور فتویٰ نویسی کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے، جب کہ اسلام کے ابتدائی دَور سے لے کرعصرِحاضر تک مسلمان خواتین نے قیادت و سیادت اور امورِ جہاں بانی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جب حالات نے تقاضا کیا، تو رضیہ سلطانہ نے دہلی کی سلطنت کی کمان سنبھالی۔ شجرالدرنےمصر کوصلیبی بُحران سے نکالا۔ سیّدہ الحرہ نے مراکش میں اُس وقت کی بحری طاقتوں کا جرأت و بہادری سے مقابلہ کیا۔ ترکان خاتون نے سلجوقی دربار میں اثر و رسوخ قائم رکھا اور زبیدہ خاتون نے رفاہی خدمات کے ذریعے ریاستی نظم کے ضمن میں دیرپا اثرات مرتّب کیے۔

یاد رہے، اسلامی معاشروں میں خواتین ہر دَور میں فیصلہ سازی اور قیادت کا حصّہ رہی ہیں اورماضیٔ قریب میں پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح اور شہید بے نظیر بُھٹّوکی مثالیں ہمارے سامنےہیں، جنہوں نے سیاسی اُتار چڑھاؤ، دبائو اور صعوبتوں کے باوجود قائدانہ کردار ادا کیا، جب کہ کسی بھی معاشرے میں مسلمان خواتین کو جب بھی اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا، انہوں نے اپنی صلاحیتوں، بصیرت اور حوصلہ مندی سے حالات کا رُخ بدلنے کی کوشش کی۔ درحقیقت، مسئلہ صنف کا نہیں بلکہ مواقع، نظام کی مضبوطی اور سماجی رویّوں کا ہے۔
آج (8 مارچ کو) دُنیا بَھر خواتین کا دن منایا جا رہا ہے اور اس عالمی یوم کی مناسبت سے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ منفی رویّوں کے خاتمےاور مثبت اقدارکےفروغ ہی سے ہم خواتین کے لیے ایک مثالی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب اس حقیقت سےبھی مفرممکن نہیں کہ غیر مُلکی فنڈز کے بَل پر چلنے والی حقوقِ نسواں کی علم بردار تنظیمیں اپنے بےہودہ نعروں اورمہمات کے ذریعےخواتین کی آزادی کا دعویٰ تو کرتی ہیں، مگر ان کے اس طرزِعمل سے پاکستانی معاشرے میں حقیقی تبدیلی آئی ہے اور نہ اس کی توقّع کی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ مسلمان خواتین اُمہات المٔومنین، صحابیاتؓ اور اسلامی تاریخ کی نام وَر خواتین کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔

08/03/2026

مسلمان خواتین فہم و فراست، علم و ہنر سے مالا مال
معاملات معیشت و معاشرت میں طاق

18/01/2026

چکوال ، تلہ گنگ سبزی منڈی میں قتل انتہائی معمولی بات پر تلخ کلامی سے ہوا، عدم برداشت ۔ معاشرے میں ایک ناسوربن گئی ہے

سوشل میڈیا اور عصر حاضر کے نوجوانآسان راستوں کی تلاش اور آرام پسندی کا بخار حافظ بلال بشیر ✒️آج کے دور میں ہر خوشی، غم ا...
18/01/2026

سوشل میڈیا اور عصر حاضر کے نوجوان
آسان راستوں کی تلاش اور آرام پسندی کا بخار

حافظ بلال بشیر ✒️

آج کے دور میں ہر خوشی، غم اور ہر کامیابی کی تصویر ایک کلک پر منظرِ عام پر آجاتی ہے، سوال یہ بنتا ہے کہ ہم نے محنت کو کس انداز میں ضبط کیا؟ وہ نوجوان نسل جو جنریشن زی کے نام سے جانی جاتی ہے، اس تیزی سے بدلتی دنیا میں پیدا ہوئی ہے جہاں علم اور شواہد تک رسائی کا مطلب اکثر محنت کی قدیم تعریف کو کم تر سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول، ہنر سیکھنے اور خود نمائی کے طریقے بدل دیے ہیں، مگر کیا اسی تبدیلی نے محنت کے تجربے، صبر اور تسلسل کے تصور کو کمزور تو نہیں کر دیا؟
سوشل میڈیا صرف فیس بک یا ٹک ٹاک نہیں بلکہ یہ وہ تکنیکی و سماجی ڈھانچہ ہے جو ویوزرز کو مواد بنانے، شیئر کرنے اور فوراً رائے پانے کا موقع دیتا ہے اور اسی تیزی نے محنت کے روایتی تصورات پر اثر چھوڑا ہے۔
صرف پندرہ بیس سال پہلے تک زیادہ تر معلومات کا حصول کتابوں، اساتذہ اور تجربات سے وابستہ تھا، مگر 2000 کی دہائی کے وسط سے سوشل میڈیا نے انفارمیشن کی رسائی کو جتنی تیز رفتار اور سستا بنایا، اتنا ہی اس نے فوری نتیجہ پانےکی توقعات کو بھی جنم دیا۔

ویڈیوز، مختصر ٹیوٹوریلز، لائیو سیگمنٹس اور سرچ انجنز نے کسی ہنر یا نظریے کو چند سیکنڈز میں قابلِ رسائی بنا دیا۔ اس تبدیلی نے مثبت پہلو بھی دئیے۔ علم کی دائرہ بندی وسیع ہوئی، آوازیں اجاگر ہوئیں، مگر ساتھ ہی محنت میں کمی، جلدی تشہیر، اور دو سے تین قدم میں کامیابی کا خواب میں اضافہ ہوا۔

سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی زندگی میں جتنی گہرائی تک رسائی حاصل کر لی ہے، شاید کسی اور ذریعے نے اس قدر نہیں کی ہوگی۔ آج کا نوجوان صبح اُٹھتے ہی سب سے پہلے موبائل فون دیکھتا ہے، اور سونے سے پہلے بھی۔ اس عادت نے رفتہ رفتہ ان کے ذہنوں میں ایک ایسا بدلاؤ پیدا کر دیا ہے جس نے محنت، صبر، مستقل مزاجی اور تدریجی ترقی کے تصور کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔

دن بھر کے کاموں میں بھی یہی ڈیجیٹل اسکرین ان کے ہاتھ، ذہن اور احساسات کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ چاہے وہ پڑھائی کا وقت ہو، ملازمت کی ذمے داری ہو، گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کا وقت ہو۔ وہ دیواریں، روشنی، چہرے اور رشتے دیکھنا بھول کر بٹنوں اور آئیکنز کی دنیا میں رہنے لگا ہے۔

اصل زندگی پیچھے رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نتیجہ چمکتا ہوا دکھاتا ہے اور محنت کا پس منظر دھندلا۔ جب نتیجہ اتنا چمک دار ہو اور سفر اتنا مخفی، تو نوجوان کیوں نہ یہ سمجھیں کہ محنت اب پرانی بات ہو چکی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ محنت نے کبھی اپنی اہمیت نہیں کھوئی۔ اس کے لیے وقت چاہیے، جو سوشل میڈیا نے چرالیا ہے۔

آج گھنٹوں کی اسکرولنگ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتی کہ وقت کس تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ دو منٹ کے لیے فون کھولنے والا نوجوان جب ہوش میں آتا ہے تو ایک نہیں بلکہ دو، تین گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ گھنٹے زندگی کے وہ گھنٹے ہیں جو کبھی واپس نہیں آتے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی شخصیت بنانے کے بجائے اپنی تصویر بنانے میں لگ گئے ہیں۔

وہ اپنی حقیقت سے زیادہ اپنی آن لائن شناخت کی فکر کرتے ہیں، حالانکہ زندگی اسکرین کے باہر گزرتی ہے اندر نہیں۔ پہلے کامیابی کا مطلب تھا: مقصد، قربانی، جدوجہد اور مستقل مزاجی، مگر اب مطلب بدل گیا ہے۔ نظر آنا، دکھائی دینا، پسند کیے جانا، شیئر کرنا ہے، جب کامیابی انٹرٹینمنٹ بن جائے تو اس کا حاصل بھی عارضی اور کھوکھلا رہ جاتا ہے۔

پہلے کامیاب وہ تھا جو علم، کردار، اخلاق اور کام میں طاق ہو۔ آج کامیاب وہ ہے جس کے فالورز زیادہ اور آواز اونچی ہو۔ یہ تبدیلی تربیت کے پورے ڈھانچے کو شکست دے رہی ہے۔ تربیت جو اب کتابوں، اساتذہ اور بزرگوں سے نہیں، بلکہ انفلونسر سے ہو رہی ہے۔ ادب کی تربیت میمز سے، اخلاق کی ٹرینڈز سے، اور خود اعتمادی کی تربیت سیلفیز سے ہو رہی ہے۔

گزشتہ ادوار میں بچوں کی تربیت کا مرکز والدین کی آغوش اور اساتذہ کی بھرپور رہنمائی تھے، لیکن آج وقت بدل گیا ہے سوشل میڈیا نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج نوجوانوں کے پاس خیالات تو ہیں، مگر علم اور تجربہ نہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی چیز کی معلومات آسانی سے دستیاب ہو تو انسان اسے یاد رکھنے کی بجائے موبائل میں محفوظ کرلیتا ہے۔

نتیجتاً گہرائی میں سیکھنے کی عادت کمزور پڑتی جارہی ہے، جس نے معلومات کے ساتھ محنت کے جذبےکو بدل دیا ہے۔ نوجوانوں میں برداشت ختم ہو گئی ہے، جب ہر چیز فوری ملنے لگے، جیسے ویڈیو ایک سیکنڈ میں چل جاتی ہے، ریل دو سیکنڈ میں بدل جاتی ہے، اور لائکس چند لمحوں میں مل جاتے ہیں، تو اُن کے دماغ اس فوری انعام کےعادی ہو جاتے ہیں۔

وہ لمبے سفر، محنت، طویل منصوبہ بندی اور دیر سے ملنے والے نتائج کو برداشت ہی نہیں کر پاتے۔ انہیں ہر چیز جلد چاہیے، ہر قدم فوری نتیجے کا مطالبہ کرتا ہے، اگر ایک دو ہفتے میں فائدہ نظر نہ آئے تو وہ راستہ ہی چھوڑ دیتے ہیں، چند دن میں مہارت حاصل نہ ہو تونیا کام شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بے صبری محنت کی دشمن ہے، جسے سوشل میڈیا نے مزید مضبوط کر دیا ہے۔ نوجوان حقیقی ہنر کی گہرائی میں جانے کی بجائے کم وقتی مواد سازی (content churn) کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس، عالمی تحقیقی اور ورک پلیس رپورٹس بتاتی ہیں کہ طویل مدت میں ملنے والی کامیابی محنت، تسلسل اور مہارت پر مبنی ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا ایک ٹول ہے۔ مسئلہ اس کے استعمال، تعلیمی نظام میں رہنمائی کی کمی اور معاشی توقعات کا بے ہنگم ہونا ہے، اگر اس کا غلط استعمال ہو تو نقصان دیتا ہے، مگر صحیح استعمال فائدہ بھی دیتا ہے۔ بہت سے نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر ہنر سیکھا، کاروبار شروع کیا، اپنے فن کو دنیا تک پہنچایا اور اپنی زندگی کو بہتر کیا، انہوں نے شارٹ کٹ نہیں ڈھونڈے، بلکہ سوشل میڈیا کو ایک پلیٹ فارم سمجھ کر اس پر محنت، وقت اور لگن کے ساتھ کام کیا۔

نوجوا ن کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں کو یہ فیصلہ ان کو خو د کرنا ہوگا کہ وہ کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ راستہ جہاں دکھاوا ہے، مگر انجام کھوکھلا ہے۔یا وہ راستہ جہاں محنت ہے، مگر مستقبل روشن ہے۔ آج کے نوجوان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی سوچ بدلے، اپنے وقت کو بچا ئے، اپنی صلاحیتوں پر توجہ دے، مستقبل کے لیے وہ راستہ چنے جو اسےطاقت وربنائے نہ کہ کمزور۔ اپنی زندگی کا کنٹرول خود سنبھالیں، تو بے شمار کامیابیاں سمیٹیں گے۔

آنے والی دہائی میں ٹیکنالوجی کا دائرہ مزید پھیلے گا۔ اے آئی کا انفراسٹرکچر مزید بڑھے گا، بائیوٹیکنالوجی میں پیش رفت نئے سوال کھڑے کرے گی اور ڈیجیٹل نگرانی کے مسئلے پیچیدہ ہوتے چلے جائیں گے۔ اس منظرنامے میں نسلِ نو نے کیا کرنا ہے، یہ اُنہیں سوچنا ہوگا۔

عصر حاضر میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قدیم و جدید علوم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل دنیا میں راہنمائی، اخلاقی معیارات اور عملی پالیسیوں پر عمل کریں، مزید یہ کہ اس سفر میں قرآن و سنت کی روشنی میں جدید مسائل کا حل تلاش کریں، اور اگلی دہائی کے چیلنجز کے لیے ایک ایسا فکری و اخلاقی فریم ورک تیار کریں جو حق، عدل کو ایک ساتھ رواں رکھے۔

Address

Bhoun Road
Chakwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CNP-Chakwal News Pulse posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category