sukhan khana e mahdi

  • Home
  • sukhan khana e mahdi

sukhan khana e mahdi عالم سحر غروب کے منظر میں ڈھل گیا
آرام گاہ شب میں چراغوں سے جل گیا

30/01/2025

منزل گمان تھی تو انعام تھا سفر
لوگوں کی زندگی میں رہا عام تھا سفر
عاجز سے ایک روز یہ پوچھا، کیا ملا
اس نے بھی سر جھکا لیا نام تھا سفر

18/11/2024

سجدے کیے مگر کہ صلا مل نہیں رہا
گھر مل گیا ہے پر یہ خدا مل نہیں رہا
منکر کو ذر تو مل گیا دنیا میں رہنے کو
جنت کے در کا باب کھلا مل نہیں رہا

24/06/2024

ہر شخص جو ہاتھوں سے خدا کے بنا پر
وہ شخص ہے مہدی کہ خدا کی بھی پنا ہے

28/04/2024

مہدی ہمیں یہ بات اذیت میں ڈھائے ہے
جاتے مرے عدو سے کہا اب خلل گیا

28/03/2024

اک گفتگو کو چھیڑ کہ چل دیے
سجی محفل تو منہ پھیر کہ چل دیے
آسماں کے رازوں سے پردہ یہ بھی ہٹا
پھیلا رہے تھا وقت پر گھیر کہ چل دیے

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when sukhan khana e mahdi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share