28/02/2026
یہ نم دار آنکھیں، یہ رخسار و جبیں
یہ تتلی سا نازک وجود، گلابوں سی مہک
چمکتی آنکھ کا وہ ننھا سا تل
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا
بارش میں بھیگی زلفیں، اشکوں میں مسکراہٹ
خاموش لبوں پر ٹھہرا ہوا اک سوال
یہ چاند سا منوّر، یہ ستاروں سی جھلک
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا
یہ حسن پہ ناز و ادا، یہ آنَا پرستی
یہ آنکھوں کی کشش، یہ سرخ ہونٹ و لب
یہ دیکھنے والوں کی دھڑکنوں میں ارتعاش
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا
یہ کرن تیرے بدن کی، یہ بے داغ کردار
یہ نرم لہجہ، یہ ٹھہرا ہوا وقار
سرخ لباس میں روحانی بدن،
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا
ناسازؔ نے لفظوں میں سمیٹا ہے مگر
پورا کہاں ہو پایا، یہ حسن ایک شخص کا
سیف الرحمن ناسازؔ