سیف الرحمن ناسازؔ

سیف الرحمن ناسازؔ سیفُ الرحمٰن ناسازؔ شاعر

28/02/2026

یہ نم دار آنکھیں، یہ رخسار و جبیں
یہ تتلی سا نازک وجود، گلابوں سی مہک
چمکتی آنکھ کا وہ ننھا سا تل
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا


بارش میں بھیگی زلفیں، اشکوں میں مسکراہٹ
خاموش لبوں پر ٹھہرا ہوا اک سوال
یہ چاند سا منوّر، یہ ستاروں سی جھلک
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا

یہ حسن پہ ناز و ادا، یہ آنَا پرستی
یہ آنکھوں کی کشش، یہ سرخ ہونٹ و لب
یہ دیکھنے والوں کی دھڑکنوں میں ارتعاش
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا

یہ کرن تیرے بدن کی، یہ بے داغ کردار
یہ نرم لہجہ، یہ ٹھہرا ہوا وقار
سرخ لباس میں روحانی بدن،
یہ ڈھیر سا حسن ایک عجب شخص کا

ناسازؔ نے لفظوں میں سمیٹا ہے مگر
پورا کہاں ہو پایا، یہ حسن ایک شخص کا

سیف الرحمن ناسازؔ

19/02/2026

غزل

شب وہی مگر چاند کوئی اور تھا
میں وہی مگر وہ کوئی اور تھا

ہجر کی راہیں دشوار ہیں یارو
آج راستہ وہی، کانٹا کوئی اور تھا

تیرے گلدستوں میں بڑا ہے دل اپنا
آج پھول وہی، ہاتھ کوئی اور تھا

وہ پہلے پہل کی محبت پرکشش تھی بہت
آج عشق وہی، معشوق کوئی اور تھا

شام ڈھلتے ہی روانہ ہوا اس کے جانب
آج انتظار وہی، منتظر کوئی اور تھا

اُس کی مسکراہٹ سے بجھ جاتے غم سارے
آج غم نہ گئے، شاید تبسم کوئی اور تھا

برسوں سے دیکھ رہا ہوں خوابوں میں تجھے
آج خواب وہی، خواب میں کوئی اور تھا

گنگنانے کی آواز عجب شیریں تھی
آج ترنم وہی، آواز کوئی اور تھا

ہر روز تیری راہ دیکھنے میں گزر جاتا تھا
آج کھڑکی وہی، شخص کوئی اور تھا

تیرے لیے آئینوں سے بھر دیا تھا کمرہ
آج آئینہ وہی، عکس کوئی اور تھا

ا ناسازؔ کے لیے آنسو جو بہا کرتی تھی
آج آنکھیں وہی، اشک کوئی اور تھا

سیف الرحمن ناسازؔ

16/02/2026

آج کچھ خوابوں کی تعبیر بتا دیتے ہیں
لوگ دیوانے کا الزام مجھ پر لگا دیتے ہیں

تم نے دیکھا ہی نہیں رنگوں کا سیاہ ہونا
ہم ہر روز نئے نقص کو جنم دیتے ہیں

کیوں ہم نے آفت اٹھا رکھی ہے بچھڑنے پر
چلو کچھ روگ اسے بھی سنا دیتے ہیں

فرقت کی راہوں میں سماں ہے خنک سا
چلو کچھ حسرتوں کو آگ لگا دیتے ہیں

غم میں آنسو کو گرنے کی اجازت نہ دی
چلو یہ ستمگری ناسازؔ کو بتا دیتے ہیں

سیف الرحمن ناسازؔ

14/02/2026

چپکے سے کسی سے مل رہا ہوں؟ نہیں تو
تجھے میں بھول رہا ہوں؟ نہیں تو

خوش فہمی کا خیال اچھا ہے مگر
تجھے میں کھو رہا ہوں؟ نہیں تو

صداِ فریاد گونج رہی ہے فضا میں
یہ میں چیخ رہا ہوں؟ نہیں تو

تم کیوں جلا رہے ہو پر میرے
میں تجھ سے اُڑ رہا ہوں؟ نہیں تو

کشتیاں الٹی پڑی ہے ریت پر تیری
میں سمندر نکال رہا ہوں؟ نہیں تو

یہ زلفیں تو نہ سنوارو اتنی کھلی فضا میں
میں تم سے حسد کر رہا ہوں؟ نہیں تو

چشم پر آنکھوں میں عجب درد سما تھا
میں تیرا زخم نوچ رہا ہوں؟ نہیں تو

خدا ہمیں ملانا چاہتا ہے شائد
میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ نہیں تو

تیرے جانے سے مجھ سے بھی بزم رہ گیا
تیرے سوا میں ہنس رہا ہوں؟ نہیں تو

شبِ فرقت میں ایک چاند تھا گرہن زدہ
میں عشق کا نظر اتار رہا ہوں؟ نہیں تو

انگلیاں جلنے لگے ہیں تارے گنتے گنتے
شب میں گہری نیند سو رہا ہوں؟ نہیں تو

آسان تو نہیں تیرا فریب سہنا
میں پھر بھی جی رہا ہوں؟ نہیں تو

جھکے ہوئے کندھے و بدن کی تھکاوٹ
میں بازی ہار رہا ہوں؟ نہیں تو

زہر نوش چکا ہوں تیرے فراق کا، ناسازؔ
اب کیا میں مر رہا ہوں؟ نہیں تو

سیف الرحمن ناسازؔ

میں چاہتا ہوں کہ تجھے   ویران غیر آباد، آفتادہ  اور اجڑے باغوں میں لے کر جاؤں  تاکہ وہاں پھول کھل سکے  میں چاہتا ہوں کہ ...
11/02/2026

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
ویران غیر آباد، آفتادہ
اور اجڑے باغوں میں لے کر جاؤں
تاکہ وہاں پھول کھل سکے

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
رنج و غم، رنجور اور تھکن سے بوجھل
الجھی ہوئی بزم میں لے کر جاؤں
تاکہ وہاں کے لوگ ہنس سکے

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
اشجار میں بیٹھے زخمی، فگار
اور ٹوٹے پروں کے پرندوں سے ملواؤں
تاکہ وہ اُڑ سکے

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
اندھیری، خاموش، سوئے خواب
اور بجھی ہوئی راتوں میں لے جاؤں
تاکہ وہ پھر سے جاگ سکیں

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
بکھرے ہوئے دلوں، شکستہ ارادوں
اور ہارے ہوئے لوگوں سے ملواؤں
تاکہ انہیں خود پر یقین آ سکے

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
سوکھے کنوؤں، پیاسی زمین
اور بے رنگ موسموں میں لے جاؤں
تاکہ وہاں
بارش اتر سکے

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
بھجے ہوئے چراغوں اور ناامید
گھروں میں لے جاؤں
تاکہ وہاں امید جل سکے

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
امراض میں مبتلا اشخاص
سے ملواؤں تاکہ وہ
صحتیاب ہو سکیں

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
وقت کے ہاتھوں ہارے ہوئے
اور قسمت سے روٹھے ہوئے
لوگوں سے ملواؤں تاکہ وہ
پھر سے جینے کی ضد کر سکیں

میں چاہتا ہوں کہ تجھے
تیرے مجنون ناسازؔ کو دکھاؤں
تا کہ اس کے کوچہِ دل میں
تیری یاد لپک سکے

سیف الرحمن ناسازؔ

اداس شاموں میں ہیں  لپیٹی ہوئی کراہتیں جیسے وہ شخص میرے دل سے  نکال دیا گیا ہو  الجھی ہوئی زندگی میں  حال بھی کچھ یوں ہے...
10/02/2026

اداس شاموں میں ہیں
لپیٹی ہوئی کراہتیں
جیسے وہ شخص میرے دل سے
نکال دیا گیا ہو

الجھی ہوئی زندگی میں
حال بھی کچھ یوں ہے میرا
جیسے ماہی کو آب سے
نکال دیا گیا ہو

اجڑے ہوئے باغوں میں
دل ہے جنجال میں
جیسے ملاح کو سفینے سے
نکال دیا گیا ہو

سکوتِ شب میں بھی
مجھ کو قرار کب ملا
جیسے دیا کو ہوا میں
بجھا دیا گیا ہو

ناسازؔ! تجھے تو اس کی
ایک نظر بھی نصیب نہ ہوئی
جیسے کوئی وجود
جنم سے پہلے ہی مار دیا گیا ہو۔

سیف الرحمن ناسازؔ

بلند و بالا شجر و عالم میں خدا دیکھتا ہوں  تجھے دل نشین خود کو بے بس دیکھتا ہوں   یوں ہی کھو جاتا ہوں خیالوں  میں جب  تج...
08/02/2026

بلند و بالا شجر و عالم میں خدا دیکھتا ہوں
تجھے دل نشین خود کو بے بس دیکھتا ہوں

یوں ہی کھو جاتا ہوں خیالوں میں جب
تجھے لیلیٰ خود کو مجنون دیکھتا ہوں

میرے خواب بھی تیرے ہیں، ہر اک میں
تجھے عظیم، خود کو حقیر دیکھتا ہوں

حفظ کرتا رہا تیرا دل قرآن کی طرح
دل میں تجھے آباد خود کو برباد دیکھتا ہوں

اپنی تنہائی میں سایوں کا خدا دیکھتا ہوں
تجھے تاباں، خود کو سیاہ دیکھتا ہوں

تیرے حسن میں ہر رنگِ جاوداں دیکھتا ہوں
خود کو خاک میں، تجھے افلاک میں دیکھتا ہوں

تیری خاموشی میں صدائے دل تھامتا ہوں
خود کو تنہا، تجھے ہر جا دیکھتا ہوں

دل کی ویرانیوں میں خود کو سنبھالتا رہا
تجھے سکون، خود کو ناسازؔ دیکھتا ہوں

سیف الرحمن ناسازؔ

خودکشی کے خیالوں میں حسرتِ قضا بھی گئی جینے کی امنگ کے ساتھ امید کی دیا بھی گئی  کم سِنی میں صدیاں جینے کا تھا ارمان مگر...
05/02/2026

خودکشی کے خیالوں میں حسرتِ قضا بھی گئی
جینے کی امنگ کے ساتھ امید کی دیا بھی گئی

کم سِنی میں صدیاں جینے کا تھا ارمان مگر
سر پہ آسماں ٹوٹا تو شوقِ زندگی بھی گئی

ڈھیرِ راکھ پر دیکھتا رہا خوابوں کو جلتے ہوئے
لحد میں میری لاش کے ساتھ میرا ہم نوا بھی گئی

لگے زخمِ دل پہ ایسے کہ ناسور بن گئے
درد سہتے سہتے جینے کی جسارت بھی گئی

وہ تو سجدوں میں رات بسر کرتا تھا
ایسا کیا ہوا کہ نمازوں سے بھی گئی

ناسازؔ بکھر کر بھی اخلاص ڈھونڈتا رہا
سب کچھ اُجڑا تو دل سے شکایت بھی گئی

سیف الرحمن ناسازؔ

03/02/2026

یہ مجھے کیا ہوا ہے، نا جانے
جب کبھی تکتا ہوں میں کسی
حسین شے کو—چاند، فلک،
گہری غزلِ عشق
یا عجب سا موسم،
تم بہت یاد آتے ہو۔
کیوں ہو تم اتنے حسین، جاناں؟
پھول کھاتے ہو کیا؟

تیرے آنے سے عجب بہار آئی ہے
رنگ برنگے پھولوں میں تیری مہک آئی ہے
ہر طرف تیرے نور کے فسانے ہیں
تیرے سوا سب بے چینی و ویرانے ہیں
روحانی چہرہ، یہ مسکان، یہ چمک
نازک—جیسے کوئی پرندہ
ہواؤں میں اڑتا ہو
تم تتلی ہو کیا؟

یہ خوفِ وصال، جیسے خدا بن کے آئی ہو
حور سی کوئی، نئی محبت میں آئی ہو
ہر خواب میں اترتی ہے، بہشت کی طرح
گلستاں میں گویا گلاب بن کے آئی ہو
چہرا شاداب، بال سنوارے ہوئے
جیسے دور ریگستان میں
بہار بن کے آئی ہو
تم چاند ہو کیا؟

سیف الرحمن ناسازؔ

تم بچھڑے تو اُجڑ گیا وجود بھی میرا  جیسے سرِ بلبل بے وجہ اُڑایا جائے 🥀سیف الرحمن ناسازؔ
01/02/2026

تم بچھڑے تو اُجڑ گیا وجود بھی میرا
جیسے سرِ بلبل بے وجہ اُڑایا جائے 🥀

سیف الرحمن ناسازؔ

Address

Bannu
28100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سیف الرحمن ناسازؔ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category