Altaf Mir

Altaf Mir Writer
MPhil scholar
Researcher
Fiction Lover 🫰♥️
Social Bird 🕊️

بلوچستان کتاب کاروان!کتابیں شعور و آگہی کے مستند ذریعہ ہیں۔ حالات حاضرہ میں کتاب ذہنی نشوونما کےلیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ...
26/01/2026

بلوچستان کتاب کاروان!

کتابیں شعور و آگہی کے مستند ذریعہ ہیں۔ حالات حاضرہ میں کتاب ذہنی نشوونما کےلیے اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ زندگی گزارنے کےلیے غذا۔ اس سے نابالغ ذہنوں کو پختگی ملتا ہے۔ انسان کی سوچ بچار اور تجزیاتی نقظہ نظر میں اِضافہ ہوتا ہے۔ کتابیں ناصرف انسان کی عصری معلومات کی ضرورت کو پورا کرتی ہیں بل کہ صدیوں پرانی تاریخ سے بھی آشنا کرتی ہیں۔ کتابیں عہد رفتگاں کے پوشیدہ راز ہیں جس میں قوموں کی سیاسی، سماجی، اقتصادی، تہذیب و تمدنی احوال پہناں ہوتے ہیں اور ان حقائق تک پہچنے کےلیے لازم ہے کہ صفحات پلٹے جائیں۔ کتاب پڑھنا ہر طبقے کےلیے لازم و ملزوم ہے۔ جسے پڑھ کر باطن کو صحت مند رکھا جاسکتا ہے۔

شہرِ کشمور میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی اشتراک سے بک اسٹال لگانا اہم کاوش ہے۔ انھوں نے اس خطے جیسے شورش زدہ علاقے میں کتاب دوستی کا ثبوت دیا۔ یہاں گزشتہ سالوں سے فیوڈل ازم کے زیرِ سایہ ڈاکو ازم نے اپنی جڑیں مضبوط کی۔ ہمیشہ ظلم وزیادتی اور فسطائیت کی فضا سرگرم عمل رہا۔ یہاں کے استاتذہ اور تلامذہ ڈاکو راج کے شکار رہے۔ تعلیمی میدان کو بنجر اور ویران کرنے کی انتھک کوششیں کی گئی۔ مگر نوجوانوں کی اس اقدام نے یہ ثابت کیا کہ کتاب دوست کبھی تفنگ دوست حضرات کا حامی نہیں۔ اور نہ کسی فیوڈل لارڈ کو قبول کرتے ہیں۔ وہ علم کی آبیاری چاہتے ہیں وہ شعور کی بیداری چاہتے ہیں۔ وہ تعلیم سے ذوقِ سلیم رکھتے ہیں۔

آج کے اس کتب میلے میں اکثر وبیشتر کتب کا مزاج ترقی پسندانہ تھا۔ بعض کتابیں مارکس اور ان کے رفقائے کار کی تھیں۔ علاوہ ازیں باقی کتابیں انقلابی، تاریخی، اور فکشن پر مبنی تھیں۔ مگر فکشن بھی محض ناول تک محدود رہا۔ اور ان ناولوں میں متعدد کتابیں ایسی تھیں جو میرے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ بہر کیف یہ شروعات تھی تو اتنا رف اسٹال نہیں تھا۔

کتاب میلے میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں آئے۔ جس میں سکول اور کالج کے طلبہ اور اساتذہ کرام کی خاصی تعداد دیکھنے کو ملی۔ مگر ان میں سے اکثر وبیشتر کا ذوق صرف تصویر تک محدود رہی اور بہت سے نوجوان انتخاب کرنے میں غیر تجربہ کار محسوس ہوئے کہ کونسی کتاب خریدی جائے۔

مجموعی طور اگرچہ دیکھا جائے یہ اسٹال ایورج رہا۔ اس اسٹال میں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جن پر سوچا جاسکتا تھا۔ جس میں موسمی خرابی، کتب بینوں کی نفسیات، انتخاب اور جیوگرافیکل پوزیشن وغیرہ۔

بہر کیف کشمور جیسے علاقے میں کتابی رجحان اور علم وادب کو فروغ دینا بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے قابلِ قدر اقدام ہے۔ اس نوعیت کے پروگرام کو منعقد کروانا اہلِ علم کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ صاحبانِ علم کو ان کی حوصلہ افزائی اور عملی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں آئندہ بھی بلوچ علاجات خاص کر کشمور میں اس قسم کے پروگرام ہوتے رہیں گے جس کی بنیاد قوی امید کے ساتھ نوجوانوں رکھا ہے۔

کتاب پڑھیں۔
شعور حاصل کریں۔

17/12/2025

"یہ امن پرستوں کی قوم ہے سب"

ہمارے یاروں کے درمیاں
گرچہ تم رہو گے
ادب کی سب سے مفید معنی سمجھ سگو گے
تو پھر کہو گے
ہمارے پاؤں میں بیڑیاں ہیں
اسے ہٹادیں
محبتوں کے حسین قصے ہمیں سنادیں
امن کے نغمے، امن کی غزلیں ہمیں سکھادیں
مجھے بلوچوں کی محفلوں میں شریک کردیں۔
میں گنگناتا
میں شعر کہتا
میں جھومتا، ان کے درمیاں میں
میں رقص کرتا حریفِ جاں تسلی دیتا
کہ، یہ امن کے خطے کی نسل ساری
یہ امن پرستوں کی قوم ہے سب

03/12/2025

آج میری نظر سے یہ ویڈیو گزری۔ جس میں ایس پی پنجگور دوست محمد بگٹی صاحب بچوں کے درمیان ہنس مکھ سے محوِ گفت گو نظر آتے ہیں۔ اور پھر انھیں تحفے میں جزدان اور دیگر پڑھائی کے لوازمات پیش کرتے ہیں۔

اس منظر میں ایک دل آویزی ہے۔ ایک خلوص ہے۔ ایک محبت ہے۔

بلوچستان کے ہر ایک ذی شعور اور کامیاب نوجوان کو اس طرح کا جذبہ رکھنا چاہیے۔ قوم کے بچوں کی خدمت، محبت اور ان کی معصومیت میں گھل مل کر ان کو ہمت دے۔ ان سے پیار کرے اور تعلیمی حوالے سے معاونت کرے۔

چوں کہ یہی ہمارے اثاثے۔ یہی ہمارا مستقبل ہے۔ ان کو سنواریں پڑھائیں اور باشعور معاشرے کی بنیاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔

بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا ادارہ نوجوانوں کی واحد امید ہے۔ وہ اپنے انگنت خوابوں کی تکمیل اسے سمجھتے ہیں۔  اس ادارے پر ح...
27/11/2025

بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا ادارہ نوجوانوں کی واحد امید ہے۔ وہ اپنے انگنت خوابوں کی تکمیل اسے سمجھتے ہیں۔

اس ادارے پر حالیہ حکومت کی خاطر خواہ توجہ نہیں رہی۔ گزشتہ کئی ماہ سے یہ ادارہ چیئرمین سے محروم رہا۔ یاد رہے کہ بی پی ایس سی کا ایکس چیئرمین عبد الصالح خان یوسفزئی ۳۰ جولائی ۲۰۲۰ کو عہدے پر فائزے ہوئے اور پانچ سالہ مدت پورا کرنے کے بعد ۳۰ جولائی ۲۰۲۵ کو ریٹائر ہوئے۔ پھر اس کے بعد چیئرمین کی تعیناتی کا عمل تعطل کا شکار رہا۔

مگر طویل انتظار کے بعد آخر کار آج بلوچستان پبلک سروس کمیشن نے نئے ایکٹنگ چیئرمین بلوچستان پبلک سروس کمیشن مسٹر غلام علی بلوچ کی تعینات کا اعلان کیا۔

امید ہے یہ خبر بلوچستان کے نوجوان کےلیے سود مند ثابت ہوگی اور بہت سے نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کو یقینی بنائیں گے۔




26/11/2025
26/11/2025

آرٹ کی زبان میں پانی کی مانگ:

آرٹ دراصل چیزوں کے تخلیقی اظہار کا نام ہے۔

آرٹ ایک عہد ہے۔ ایک آواز ہے۔ ایک فن ہے۔

حالیہ دِنوں میں بلوچستان کی بیٹی ماھل بلوچ نے اپنی فنی مہارت کی بناپر بلوچستان میں پینے کے صاف پانی کی عدم موجودگی کی عکاسی کی۔ انھوں نے احساس وجذبات کے اظہار کو مصوری زبان میں پیش کی۔ اور پورے بلوچستان میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کا اظہار کیا۔

ماھل بلوچ کہتی ہیں کہ بلوچستان میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں مگر یہاں بہت مہنگے مہنگے پروجیکٹ تیار کیے جارہے ہیں۔ یہاں کے باسی پانی کےلیے روڈوں کے کنارے متجسس کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی لیے میں نے گلیمر کے دور میں خستہ حال اور بے رنگ مجسمہ تیار کیا تاکہ محرومی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرسکے۔

گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان کے مسائل میں سے پانی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ جہاں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہیضے کی وبا پھیلتی رہی ہے۔ اور موت کئی قیمتی جانوں کا زیاں کرچکی ہے۔

ماھل بلوچ اُس خطے سے تعلق رکھتی ہیں۔ جہاں زندگی کے چراغ ہمشیہ تیز وتند ہواؤں کے زد میں رہتی ہیں۔ زندہ رہنا ایک امتحان ہے۔ اور سوچنا اور بولنا بغاوت میں شمار کیا جاتا ہے۔

مگر اس خطے کا ہر چیز فطری طور پر زبان رکھتی ہے۔ خواں وہ جاندار ہو یا بےجان۔ اسی طرح ماھل بلوچ نے اس مجسمے کی توسط سے اپنی احساسات وجذبات کو زبان دی اور پانی کے درپیش مسائل کو آرٹ کی زبان میں پیش کیا۔

اسی طرح ہر فن کار کو احساس وجذبات سے بھرپور آرٹ کی زبان رکھنی چاہیے۔ وہ آرٹ کی زبان جو آپ کی محرومی کو ختم کرے، آپ کو مکمل کرے اور ایک قوم بنائے۔

23/11/2025

محض رقص ہی ہے جو موسیقی کی زبان بلا جھجک سمجھتی ہے۔ زندہ روحیں موسیقی کی آہنگ سے تروتازہ ہوتی ہیں۔ بلکل جوان، بلکل تندرست۔

رقص اظہار ہے۔
رقص زندگی ہے۔

پھانسی کا پھندا:حالیہ دنوں میں سوئی ڈیرہ بگٹی میں ایک خاتون نے سماجی بے راہ روی اور گھریلوں مسائل سے تنگ آکر پھانسی کے پ...
21/11/2025

پھانسی کا پھندا:

حالیہ دنوں میں سوئی ڈیرہ بگٹی میں ایک خاتون نے سماجی بے راہ روی اور گھریلوں مسائل سے تنگ آکر پھانسی کے پھندے کو قبول کیا۔

کم مائیگی، مردوں کا دوغلا پن اور ٹرائیبل ازم نے عورت سے عورت شناخت چھین لی۔

اس معاشرے نے ہمیشہ عورت کا استحصال کیا۔ کبھی غیرت کے نام پر، کبھی رشتوں کے نام پر اور کبھی مذہب کے نام پر۔

مگر اسی عورت نے ہمیشہ مرد کو حوصلہ دی۔ اس کے جنگوں کی داستانوں اور بہادری کے قصوں کو لوریوں کی صورت میں جلا بخشی۔ بوقتِ ضرورت میدان جنگ میں شامل ہوکر مرد کے دوش بہ دوش استعمار کا مقابلہ کیا۔ مگر اس مرد نے عورت کے ساتھ کیا رویہ رواں رکھا۔ یہ بات غور طلب ہے۔

ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیں
کسی سمے میں وہ تھی ست ونتی
کہیں ساوتری

کہیں تھی میرا
ہر ایک یگ میں

عقیدتوں کی لہر میں بھیگی
تپسیا کے سحر میں گم سم

روایتوں کے نشے میں ڈوبی
تمہارے قدموں کی گرد کو وہ تلک بناتی

دئے جلاتی تھی نقش پا پر
جنم جنم کا اٹوٹ رشتہ

نباہے جاتی
ہزاروں صدیوں سفر کیا ہے

نظر جمائے
تمہارے پیچھے

تمہارے دکھ پر دکھی ہوئی ہے
تمہارے سکھ پر سکھی ہوئی ہے

مگر بتاؤ
ہزاروں صدیوں کے درمیاں کوئی ایسا لمحہ

جو تم نے اس کے لیے جیا ہو
سوائے آنسو کے کوئی جگنو

کبھی جو آنچل میں جڑ دیا ہو
پرانے برگد پہ ایک دھاگا

کہیں تو اس کے بھی نام کا ہو
اندھیری طاقوں پہ اس کی خاطر

رکھا ہوا بھی تو اک دیا ہو
نہیں ہے کچھ بھی

کہیں نہیں ہے
وہ اپنی تاریخ میں تمہارا

لکھے بھی گر نام
کس طرح سے

16/11/2025

بلوچستان اسمبلی ہے کہ شادی کی تقریب یا پھر پٹو گرم (علاقائی کھیل) پیشِ نظر ہے۔

اس قدر بڑھ گئی عدم برداشت
خود کو بھی اب نہیں ہیں ہم برداشت

11/11/2025

ناڑی اسد اللہ بگٹی اور سُری حیدر بگٹی کا بلوچ ثقافت میں کردار:

ثقافت کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ اس میں زبان، رہن سہن، پہناوا، رسم ورواج اور مذہب وغیرہ شامل ہیں جو اس قوم کو دیگر اقوام سے ممیز کرتی ہے۔

ثقافت میں آرٹ اور اظہار بھی اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں رقص، موسیقی اور ادب وغیرہ شامل ہیں۔

اسی طرح بلوچ کلچر میں اپنے احساسات و جذبات کی اظہار کےلیے ایک منفرد قسم کی موسیقی "نڑ سُر" نے زمانہ قدیم سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس نوعیت کے پروگرام لوگ شادیوں اور دیگر محافل میں نہایت ہی اعتمنان اور توجے سے سنتے ہیں۔ عصر حاضر میں خاص کر قبائلی لوگ اس صنف کو بہت شوق سے سننا پسند کرتے ہیں۔

اظہار کے اس آڑٹ میں کم ازکم دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں ناڑی (نڑ بجانے والا) اور سُری (گانے والا) شامل ہیں۔

نڑسر میں موضوع کی تنوع کے باعث اس میں جنگی اور رومانوی داستانوں کے ساتھ ساتھ شخصی مدع سرائی کو بھی خاص توجہ حاصل ہے اور موسیقی کی اس روپ کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے زریعے بلوچ قوم کی تاریخ اور ثقافت دونوں محفوظ رہتے ہیں۔

حالیہ دور میں بہت سارے نوجوان اس صنف کی طرف مائل ہیں۔ اور بلوچ ثقافت کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا رہے ہیں۔

اسی طرح چند روز قبل اسلام میں " لوک ررثا" کلچرل پروگرام میں ناڑی اسداللہ بگٹی اور سری حیدر بگٹی نے اپنی سحر انگیز آواز سے فن کا جادوں جگا اور مخاطبین کو خوب محظوظ کیا۔ علاوہ ازیں یہ نوجوان ملک کے مختلف گوشوں میں اپنی ثقافت کو پرموٹ کررہے ہیں۔ یہی نہیں بل کہ اس سے قبل انھیں یورپ کے ایک پروگرام میں بھی دعوت ملی مگر معاشی کمزوری اور حکومتی سطح پر عدم توجہ کے باعث اس پروگرام میں شرکت کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے نوجوان ہمارے قیمتی اثاثے ہیں انھیں کلچرل سطح پر کسی پروگرام میں شرکت کےلیے حکومت وقت اور اربابِ حیثیت افراد کا توجہ ملنی چاہیے۔ چوں کہ یہ دونوں نوجوان ہماری ثقافت کو پروموٹ کرنے میں مضبوط کردار ادا کررہے ہیں اور قدیم موسیقی کے روح کو بھی مسلسل پھونک رہے ہیں۔

محبت ایک فن ہے یا ایک خوش گوار احساس؟۔  یہ بات آج کل ایک معمہ بن گیا ہے۔  مگر یہ قطعاً نہیں کہ لوگ محبت کو اہم نہیں سمجھ...
02/11/2025

محبت ایک فن ہے یا ایک خوش گوار احساس؟۔ یہ بات آج کل ایک معمہ بن گیا ہے۔ مگر یہ قطعاً نہیں کہ لوگ محبت کو اہم نہیں سمجھتے، لیکن وہ محبت کے بارے میں بدگمان ہوچکے ہیں۔ دور حاضر کے فلموں اور محبت کے بارے میں غلط معلومات کے باعث لوگ بے بھروسہ ہوچکے ہیں۔

وہ محبت کرنے کےلیے طریقے تلاش کرتے ہیں مرد حضرات کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کامیاب ہوں، با اختیار ہوں اور امیر ہوں اس کے بر عکس خواتین لوگوں کی خاص توجہ حاصل کرنے کےلیے بناؤں سنگھار کا سہارا لیتی ہیں۔ مگر آج کل یہ صورتحال مرد اور عورت دونوں میں مشترک ہے۔ اور ان کا اہم مقصد دوستوں اور لوگوں کو متاثر کرنا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اپنے آداب گفت گو کو نہایت شائستہ اور دل آویز بناتے ہیں۔ جو ان کی خوبصورتی کےلیے معاونت ہوتی ہے۔
ہماری ثقافت میں پیارا ہونا دراصل مقبول اور پرکشش ہونے کا مترادف ہے۔

By Erich fromm
Book "The Art of loving"

Short story
23/10/2025

Short story

ایک دن ناگہانی سے دروازے پر دستک ہوئی۔ ہانی کی خوشی کے مارے چیخ نکل گئی، بلال براث اسلام آباد سے تشریف لائے ہیں

Address

Sui Baluchistan
Baluchistan

Telephone

+923276024622

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Altaf Mir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Altaf Mir:

Share