26/01/2026
بلوچستان کتاب کاروان!
کتابیں شعور و آگہی کے مستند ذریعہ ہیں۔ حالات حاضرہ میں کتاب ذہنی نشوونما کےلیے اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ زندگی گزارنے کےلیے غذا۔ اس سے نابالغ ذہنوں کو پختگی ملتا ہے۔ انسان کی سوچ بچار اور تجزیاتی نقظہ نظر میں اِضافہ ہوتا ہے۔ کتابیں ناصرف انسان کی عصری معلومات کی ضرورت کو پورا کرتی ہیں بل کہ صدیوں پرانی تاریخ سے بھی آشنا کرتی ہیں۔ کتابیں عہد رفتگاں کے پوشیدہ راز ہیں جس میں قوموں کی سیاسی، سماجی، اقتصادی، تہذیب و تمدنی احوال پہناں ہوتے ہیں اور ان حقائق تک پہچنے کےلیے لازم ہے کہ صفحات پلٹے جائیں۔ کتاب پڑھنا ہر طبقے کےلیے لازم و ملزوم ہے۔ جسے پڑھ کر باطن کو صحت مند رکھا جاسکتا ہے۔
شہرِ کشمور میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی اشتراک سے بک اسٹال لگانا اہم کاوش ہے۔ انھوں نے اس خطے جیسے شورش زدہ علاقے میں کتاب دوستی کا ثبوت دیا۔ یہاں گزشتہ سالوں سے فیوڈل ازم کے زیرِ سایہ ڈاکو ازم نے اپنی جڑیں مضبوط کی۔ ہمیشہ ظلم وزیادتی اور فسطائیت کی فضا سرگرم عمل رہا۔ یہاں کے استاتذہ اور تلامذہ ڈاکو راج کے شکار رہے۔ تعلیمی میدان کو بنجر اور ویران کرنے کی انتھک کوششیں کی گئی۔ مگر نوجوانوں کی اس اقدام نے یہ ثابت کیا کہ کتاب دوست کبھی تفنگ دوست حضرات کا حامی نہیں۔ اور نہ کسی فیوڈل لارڈ کو قبول کرتے ہیں۔ وہ علم کی آبیاری چاہتے ہیں وہ شعور کی بیداری چاہتے ہیں۔ وہ تعلیم سے ذوقِ سلیم رکھتے ہیں۔
آج کے اس کتب میلے میں اکثر وبیشتر کتب کا مزاج ترقی پسندانہ تھا۔ بعض کتابیں مارکس اور ان کے رفقائے کار کی تھیں۔ علاوہ ازیں باقی کتابیں انقلابی، تاریخی، اور فکشن پر مبنی تھیں۔ مگر فکشن بھی محض ناول تک محدود رہا۔ اور ان ناولوں میں متعدد کتابیں ایسی تھیں جو میرے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ بہر کیف یہ شروعات تھی تو اتنا رف اسٹال نہیں تھا۔
کتاب میلے میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں آئے۔ جس میں سکول اور کالج کے طلبہ اور اساتذہ کرام کی خاصی تعداد دیکھنے کو ملی۔ مگر ان میں سے اکثر وبیشتر کا ذوق صرف تصویر تک محدود رہی اور بہت سے نوجوان انتخاب کرنے میں غیر تجربہ کار محسوس ہوئے کہ کونسی کتاب خریدی جائے۔
مجموعی طور اگرچہ دیکھا جائے یہ اسٹال ایورج رہا۔ اس اسٹال میں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جن پر سوچا جاسکتا تھا۔ جس میں موسمی خرابی، کتب بینوں کی نفسیات، انتخاب اور جیوگرافیکل پوزیشن وغیرہ۔
بہر کیف کشمور جیسے علاقے میں کتابی رجحان اور علم وادب کو فروغ دینا بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے قابلِ قدر اقدام ہے۔ اس نوعیت کے پروگرام کو منعقد کروانا اہلِ علم کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ صاحبانِ علم کو ان کی حوصلہ افزائی اور عملی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں آئندہ بھی بلوچ علاجات خاص کر کشمور میں اس قسم کے پروگرام ہوتے رہیں گے جس کی بنیاد قوی امید کے ساتھ نوجوانوں رکھا ہے۔
کتاب پڑھیں۔
شعور حاصل کریں۔