BBN VLOG

BBN VLOG in written on

25/08/2023

پاکستان کو ہمیشہ نسیم شاہ اور حریم شاہ نے مشکل سے نکالا ہے
انور مقصود

08/06/2023

یقین کریں میٹرک کے پیپر بہت آسان ہوتے ہیں 😎😊 میں نے خود سات دفعہ دئیے ہیں 😝✌✌ 😅😅😅

27/05/2023

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر​
دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر​

میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن​
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر​

آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے​
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر​

کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے​
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر​

تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں​
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر​

مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے​
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر

کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو​
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر​

بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو​
لوگ اتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر​

سلیم کوثر

25/05/2023
24/05/2023

عورت کو تو جنگ میں بھی مارنے کی اجازت نہی کچھ لوگ ان سے برتن دھلوا دھلوا کے انہیں مار دیتے ہیں🥺💔
🤣🤣

23/05/2023

جنوبی ایشیاء کے ایک ایٹمی ملک کی کُل دولت 3 ارب ڈالر ہے...
جبکہ محترمہ سنی لیونی کی دولت 6 ارب ڈالر...

حالانکہ دونوں کی لی برابر گئی...

23/05/2023

*عورتیں کھا گئی نوجوان کیسے کیسے😞💔*

21/05/2023

*ناول: سہارا کون بنتا ہے*
*تحریر: تنزیل الرحمٰن عریش*
*قسط نمبر: 8*

عمار اور قاسم ایک دوسرے کو بیوقوفوں کی طرح دیکھ رہے تھے اور قاسم کے گارڈز ان دونوں کو عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
"تم میرے ساتھ چلو میری گاڑی میں تمہاری گاڑی یہ گارڈ لے آئے گا" قاسم نے ایک گارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
قاسم، عمار اور نعمان تینوں قاسم کی کار میں بیٹھے اور تیز رفتاری سے واپس اسی کوٹھی کی طرف روانہ ہو گئے۔ قاسم ہونٹ بھینچے بیٹھا تھا اور وقفے وقفے سے عمار کو ایسی نظروں سے دیکھتا کہ جیسے اسے کھا جائے گا اسے عمار پر بےپناہ غصہ آ رہا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ سب اس کوٹھی میں پہنچ کر تیزی سے اندر داخل ہوئے کمرے میں پہنچ کر انہیں کمرے کے وسط میں موبائل اور لیپ ٹاپ کا جلا ہوا ڈھانچہ نظر آیا قاسم نے قریب سے جا کر دیکھا اور نفی۔میں سر ہلا کر کہا "یہ اب کسی کام کے نہیں"۔
قاسم نے کرسی پر گر کر عمار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا "کیا تم وضاحت کرو گے تم نے یہ سب کیوں کیا اس چور کی جیکٹ اور ہیلمٹ میں کیوں تھے اس طرح اس کوٹھی سے کیوں بھاگے"
"مجھے ایک کال آئی تھی کوئی بھاری سی آواز میں بول رہا تھا لگتا ہے اس نے وائس چینجر لگایا ہوا تھا اس نے مجھ سے کہا کہ تمہارے دوست کا لیپ ٹاپ اور موبائل میں نے چرایا ہے لیکن اب احساس ہو رہا ہے کہ یہ چیزیں ہمارے کسی کام کی نہیں کیونکہ اگر اسے ہم بیچنے جائیں گے تو ہمارا پکڑے جانے کا خدشہ ہے اور یہ ہماری پہلی چوری تھی پھر ہم نے سوچا جس کی چوری کی ہے اسے واپس کر دیتے ہیں لیکن اس میں بھی رسک تھا کہ وہ الٹا ہمیں ہی نہ پکڑ لیں تمہارا نمبر اس موبائل میں سیو تھا اور تم اس کے دوست ہو اگر تم چاہو تو ایک چھوٹی سی شرط پر تمہیں یہ واپس کر دیتے ہیں ورنہ۔ہم ضائع کر دیں گے"
یہاں تک۔پہنچ کر عمار قاسم۔کی طرف دیکھ کر کہنے لگا "میں تمہاری اور تمہارے ابو کی پریشانی ہسپتال میں دیکھ چکا تھا کہ تم دونوں لیپ ٹاپ کے لیے انتہائی پریشان تھے میں سمجھ گیا تھا کہ لیپ ٹاپ میں بہت ہی اہم ڈیٹا تھا جس کے لیے تم اتنے پریشان دیکھائے دے رہے تھے اس لیے میں نے تمہارے اور انکل کی خاطر رسک لینے کا فاصلہ کیا میں نے اس سے شرط پوچھی تو اسے نہ جانے کیسے پتہ تھا کہ۔مجھے کار ریسنگ کا شوق ہے اور میں اس میں حصہ بھی لیتا رہتا ہوں اس نے کہا کہ مجھے بس ایک ریس لگانی ہے شہر سے باہر نہر تک ٹوٹل تین گاڑیاں ہوں گی اگر میں جیت گیا تو وہ مجھے موبائل اور لیپ ٹاپ دے دے گا میں نے حامی بھر لی ساتھ ہی اس نے شرط رکھی کہ مجھے وہ جیکٹ اور ہیلمٹ پہن کر ریس لگانی ہو گی میرے لیے یہ کوئی بڑی شرط نہیں تھی یہ کوٹھی ہماری ہی ہے تم۔جانتے ہو یہاں سے چند قدم دور ہی میرا گھر ہے یہ کوٹھی کل ہی کرائےدار خالی کر کے گئے تھے اسی لیے آج یہاں کوئی نہیں تھا بس ایک تالہ لگا تھا جو شاید توڑ دیا گیا ہے میں یہاں آیا وہ شرٹ اور ہیلمٹ یہاں باہر رکھا تھا میں نے پہن لیا اور جیسے ہی گاڑی لے کر باہر نکلا تو پیچھے دو گاڑیاں نظر آئیں میں نے یہی سمجھا کہ ان سے ہی ریس لگانی ہے اسی لیے میں تیزی سے گاڑی بھگا لے گیا جب وہ دو گاڑیاں بھی میرے پیچھے تیزی سے آنے لگیں تو مجھے اس وقت بھی یہی تھا کہ وہ ریس میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں اس لیے میں آگے ہی بڑھتا گیا وہ تو جب فائرنگ ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے اتنے میں تم وہاں پہنچ گئے اور یہ ہے وہ نمبر جس سے کال آئی تھی" عمار نے ایک کاغذ پر نمبر لکھ کر قاسم کو دیتے ہوئے تفصیل بتائی۔
"میرے لیپ ٹاپ اور موبائل میں جی پی ایس لگا ہوا تھا ہم۔نے لوکیشن ٹریس کی تو یہاں کے لوکیشن سامنے آئی جب ہم یہاں پہنچے تو تمہاری گاڑی تیزی سے نکلتے دیکھی میری نظر تم پر پڑی وہی ہیلمٹ وہی جیکٹ مجھے لگا کہ چور یہاں سے بھاگ رہا ہے اس لیے میں نے گارڈز کو بھی اور خود بھی تمہارے تعاقب میں نکل پڑا" قاسم نے عمار کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
قاسم کے چیف سیمورٹی آفیسر نعمان نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ہم سے بیوقوفی ہوئی جلد بازی میں ہم۔اس چور کے جھانسے میں آ گئے ہمیں کم از کم ایک دو گارڈ اس کوٹھی میں چھوڑنا چاہیے تھا اور اس کے علاوہ مسٹر عمار تمہاری پوزیشن بھی مشکوک ہے جہاں سے چوری ہوتی ہے وہاں بھی تم موجود تھے جہاں چور آ کر ٹھہرتا ہے وہ جگہ بھی تمہاری چور بھاگ کر نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ بھی تمہاری وجہ سے" نعمان تو اتنا کہہ کر چپ ہو گیا مگر عمار کا ذہن تو جیسے بھک سے اڑ گیا وہ غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور چلانے لگا "تمہیں لگتا ہے کہ یہ سب میں نے کروایا ہے میں جو قاسم کا بچپن کا دوست ہوں ہر مشکل میں اسکے ساتھ کھڑا رہا تمہاری اتنی ہمت کیسے ہوئی"
"کول ڈاون عمار، مگر یہ بھی تو دیکھو نعمان کی باتوں میں وزن ہے" قاسم نے آہستہ سے کہا تو عمار کو لگا جیسے کسی نے اس کے سر پر لٹھ مار دیا ہو وہ بےیقینی سے قاسم کی طرف دیکھتا چلا گیا اس کی نظروں میں اتنی تپش تھی کہ قاسم بےاختیار نظریں چرانے لگا۔
"میرا خیال ہے ہماری دوستی یہیں تک تھی قاسم جب اعتماد ہی اٹھ جائے تو دوستی کہاں رہتی ہے میری کوشش ہو گی کہ آئندہ۔میری وجہ سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہو" عمار نے زخمی لہجے میں کہا۔اور مڑ کر باہر کی طرف روانہ ہو گیا جاتے جاتے قاسم۔کو اس کی آنکھوں میں نمی نظر آئی تو بےاختیار قاسم نے آگے بڑھ کر عمار کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا "یار سنو تو تم۔تو برا مان گئے روکو تو" مگر عمار قاسم کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے باہر چلا گیا تھوڑی دیر بعد عمار کی گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی اور عمار وہاں سے چلا گیا آج ان کی بچپن کی دوستی کے رشتے میں بہت گہری دراڑ آ چکی تھی جو اب بھرنا بہت مشکل۔نظر آرہی تھی۔
اس ساری گفتگو کے درمیان نعمان کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف رہا آخر کار وہ قاسم کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
"کوئی ثبوت نہیں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے چور کا پتہ لگایا جا سکے بس ایک یہ نمبر ہی ہے جس سے کچھ پتہ چل سکتا ہے"
مگر وہ نمبر بھی بیکار نکلا کیونکہ جب اس نمبر پر رابطہ کیا گیا تو وہ کسی کھوکھے والے پی سی او والے کا موبائل نمبر تھا جو اپنے موبائل سے پی سی او کا کام بھی لے رہا تھا جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا "صاحب پتہ نہیں کتنے آتے ہیں کال کرنے اب کیا پتہ کون تھا میرا کھوکھا چوک میں ہے اور بہت چلتا ہے صاحب" کھوکھے والے نے فخریہ انداز میں بتایا۔
ناکام اور مایوس قاسم اور گارڈز جب واپس لوٹنے لگے تو بے اختیار اس تجربہ کار چیف سیکورٹی آفیسر کے منہ سے یہ الفاظ قاسم کو سنائی دیے "کوئی انتہائی ذہین چور تھا ہر پہلو کا خیال رکھا ہے اس نے عام طور پر ایسی ذہانت اور بروقت منصوبہ۔سازی دیکھنے کو نہیں ملتی" قاسم کے دل نے بھی نعمان کی اس بات کی تصدیق کی کہ جو بھی تھا بےپناہ ذہانت کا مالک تھا اور ایسے بندے کے ہاتھوں میں اپنے راز جانے کا سوچ کر ہی قاسم کانپ اٹھا اسے لگ رہا تھا جیسے ایک خونی طوفان اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔
****************۔

حیدر بڑی دلچسپی سے ماسٹر کی جانب دیکھ رہا تھا ماسٹر اس کی دلچسپی دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا، " اس طرح سورج کو ہم روزانہ دیکھا کریں گے سورج کو دیکھنا محض ایک ٹوٹکا ہے اپنے دماغ پر قابو پانے کا اور ہم ایسے کئی ٹوٹکے آزمائیں گے جس سے ہم اپنے دماغ پر قابو پا سکیں اب جب کبھی تمہیں درد محسوس ہو یا دکھ اور غم کی حالت ہو تو کچھ دیر کے لیے تصور کرنا اور اپنی توجہ ابھرتے سورج کی کرنوں پر مرکوز کر دینا اور سوچنا کہ یہ روشنی تمہارے اندر دکھ، درد اور غم کے اندھیرے کو دور کر رہی ہے جب تم ایسا کرو گے تو تم دیکھو گے اس غم اور درد کی شدت انتہائی کم ہوجائے گی بس جس چیز پر محنت کرنی ہے وہ ہے تصور کی طاقت جتنی زیادہ طاقت اور شدت تمہارے تصور میں ہو گی اس قدر تمہاری گرفت اپنے دماغ پر مضبوط ہو گی"
حیدر بڑی دل جمعی کے ساتھ یہ باتیں ذہن نشین کرنے کو کوشش کر رہا تھا۔
"اب ایک مزیدار بات بتاتا ہوں" ماسٹر مسکرا کر کہنے لگا۔
"تمہیں پتہ ہے انسان کی ہر خوشی یا غمی کی کیفیت کا دورانیہ اور اس کیفیت کی زندگی کتنی ہوتی ہے"
حیدر نے اتنی گہری باتیں بھلا کہاں سنی یا سوچیں تھیں اس نے نفی میں سر ہلایا پھر اچانک کہنے لگا " ماسڑ خوشی یا غمی کی کیفیت تو مختلف دورانیہ کی ہوتیں ہیں مثلاً اگر غم زیادہ ہے تو وہ کئی دنوں تک انسان پر چھایا رہتا ہے" حیدر نے اپنی طرف سے تو بڑا معقول جواب دیا تھا لیکن ماسٹر آگے سے ہنس پڑا اور کہنے لگا یہی وہ رمز ہے جو اس کو سمجھ لے وہ کافی حد تک ان کیفیات پر قابو پا سکتا ہے۔
اب سنو یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ ہر کیفیت کی ٹوٹل زندگی 10 سے 15 منٹ ہوتی ہے بس لیکن بعد میں بھی اگر وہی کیفیت رہتی ہے تو اس میں ہمارا اپنا قصور ہے"
حیدر نے حیران ہو کر پوچھا " وہ کیسے ماسٹر"
"وہ اس طرح کہ جو بھی کیفیت ہے وہ دس سے پندرہ منٹ کے بعد ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کے بعد ہم اپنے دماغ کو مجبور کرتے ہیں کہ۔وہ اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری رکھے مثلا کسی دوست نے دھوکا دیا تو انتہائی دکھ کی کیفیت چھا جاتی ہے اب اس کیفیت کی عمر دس سے پندرہ منٹ ہے مگر ہوتا ہے کیا دس سے پندرہ منٹ کے بعد بھی ہم اسے اس طرح طاری رکھتے ہیں جیسا کہ ہم سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں وقت میں نے اس کے ساتھ یہ اچھائی کی تھی فلاں وقت میں نے یہ قربانی دی تھی اس کے لیے فلاں وقت ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے ۔۔۔۔یہ سب وہ سوچیں ہیں جو دکھ کی کیفیت کی عمر پوری۔ہونے پر بھی دماغ کو اس کیفیت کو زندہ رکھنے پر مجبور کرتی ہیں اگر دماغ کو آزاد چھوڑ کر دس پندرہ منٹ صبر کر لیا جائے اور اللہ کی رضا سمجھ لی جائے تو یہ کیفیت اپنی عمر دس سے پندرہ منٹ گزار کر خود ہی مر جائے گی"
حیدر کو یہ باتیں انتہائی دلچسپ اور حقیقت سے قریب ترین لگ رہیں تھیں ۔
***************۔

عائزہ کبیر نے دوسری مرتبہ عمر کو ایک مباحثے کے پروگرام میں دیکھا جہاں عمر کو نعت پڑھنی تھی تلاوت سے پروگرام شروع ہوا تو عمر کی باری آئی نعت پڑھنے کی۔
عمر نے جب نعت پڑھنا شروع کی تو ہر شخص گم صم سا ہو گیا ایسا سوز تھا آواز میں اور کیوں نہ ہوتا بقول علامہ اقبال
"دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے"
اور عمر تو دل سے پڑھ رہا تھا
دربار رسالت کی کیسی وہ گھڑی ہو گی
حسانؓ کے ہونٹوں پہ جب نعت نبی ہو گی
بوبکرؓو عمرؓ ہوں عثمانؓ و علیؓ ہوں گے
حسنینؓ کے ناناؐ کی کیا بزم سجی ہو گی

عائزہ کبیر کی نگاہیں اس چہرے پر گڑی ہوئیں تھیں جس چہرے کی نگاہیں جھکی ہوئیں تھیں اور کسی نے دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو مگر عائزہ نے دیکھا ایک قطرہ عمر کی آنکھوں سے ٹپک کر نیچے جا گرا شاید وہ حسرت آنکھوں سے ٹپکی تھی کہ کاش وہ بھی اس بزم میں ہوتا

اس ایک آنسو کے قطرے کا گرنا عائزہ کے دل کو اتھل پتھل کر گیا اور عائزہ کو یوں محسوس ہوا جیسے عمر اس ایک آنسو کے قطرے میں تیرتا ہوا اسکے دل کے سمندر میں اتر گیا ہو
*************۔

ضرار سیکورٹی توڑنے میں مصروف تھا اور خولہ ساتھ بیٹھی چائے پی رہی تھی جبکہ بابا جانی ڈرائنگ روم میں نہ جانے کس کے انتظار میں ٹہل رہے تھے۔
"اچھا اب تو بتا دو وہ بندہ کون تھا جو جیکٹ اور ہیلمٹ لے گیا کیا چکر چلایا تم نے" ضرار نے لاپرواہی سے کہا مگر حقیقت میں اسے بہت تجسس ہو رہا تھا۔ شکر ہے خولہ کا موڈ ٹھیک تھا اس لیے وہ بتانے پر آمادہ ہو گئی۔
"دنیا ایک تیر سے دو شکار کرتی ہے جبکہ خولہ ایک تیر سے چار شکار کرتی ہے" خولہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"جب تم لیپ ٹاپ لینے گئے تو میں باقی پہلووں پر غور کر رہی تھی کیونکہ مجھے پتہ ہے آجکل جدید دور ہے موبائل اور لیپ ٹاپ ٹریس کرنا کوئی مشکل نہیں اس لیے ایک ایسی جگہ ڈھونڈنی تھی جو ٹریس ہو بھی جاتی تو ہمارا کچھ نہ بگڑتا اس لیے قاسم کے گھر کی مخالف سمت چنی تاکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے اتفاق سے عمار کے اس خالی گھر کا پتہ چلا جو میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا پھر خولہ اسے ساری تفصیل بتا دی کیسے اس نے عمار سور قاسم دونوں کو بیوقوف بنایا۔
"چار شکار کیسے ہوئے ایک تیر سے" ضرار نے منہ بناتے ہوئے کہا
"نمبر ایک میرے اس پلان سے ہمیں وقت ملا جو ہمیں چاہیے تھا۔
نمبر دو قاسم اور اسکے گارڈز کو بغیر سامنے کیے اپنی ذہانت سے شکست دی۔
نمبر تین دشمن کو اکیلا کر دیا تاکہ آئندہ دوست بھی اس کی مدد نہ کرے
نمبر چار عمار کا بھلا کیا کیونکہ نیچر کے حساب سے عمار اچھا لڑکا ہے اگر وہ قاسم کے ساتھ رہتا تو نہ چاہتے ہوئے بھی غلط کاموں میں قاسم کا ساتھ دیتا اور بری طرح پھنس جاتا"
"تو ہو گئے نا ایک تیر چار شکار" خولہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

(جاری ہے)

21/05/2023

*ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں*
*قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کیساتھ ہے*

کفار کے ملک میں امن اسلیے ہے کہ کفار نے مذہب کا انکار کیا لیکن مذہب نے جو انسانیت کے اصول بتاے ہیں عدل و انصاف کے بارے میں جو حکم دیا اس سے انکار نہیں کیا ۔ اس پر عمل کرتے ہیں ۔

ادھر مسلمان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے نظریات اپنی پارٹی سے وفاداری کا کھیل کھیلنے کی خاطر ظلم کی حمایت کرتے ہیں ،
اس پر خوشیاں مناتے ہیں بغلیں بجاتے ہیں ۔
کیا ابوجہل کی سوچ اور باطل کی حمایت کرنے انکے لیے بھنگڑے ڈالنے والوں کی سوچ میں کوی فرق دکھائی دیتا ہے ؟

جہالت ِظلمت ِشب سے بھی بدتر ہے کہ جاہل کا

کوئی رستہ نہیں ہوتا ، کوئی منزل نہیں ہوتی

جہالت جانی دشمن ہے ، تمدن کی ترقی کی

کہ اس بدبخت کے ہوتے بقا، حاصل نہیں ہوتی

21/05/2023

آزاد (جموں) کشمیر بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجودکرایہ کم نہ ہو سکا ۔ انتظامیہ خاموشی ۔ جب پٹرول قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹر فورا کرایہ میں خود ساختہ دوگنا اضافہ کر لیتے ہیں.

Address

Bethak Blouch Ajk
Baloch

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BBN VLOG posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to BBN VLOG:

Share