Azhar Hadis Writes

  • Home
  • Azhar Hadis Writes

Azhar Hadis Writes Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Azhar Hadis Writes, Art, .

کیا آپ کو معلوم ہے اس مشہور قوالی کولکھنے والا کون تھ؟۔۔بھر دو جھولی میری یا محمدؐ            لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی...
25/08/2026

کیا آپ کو معلوم ہے اس مشہور قوالی کولکھنے والا کون تھ؟۔۔بھر دو جھولی میری یا محمدؐ
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
کیا آپ نے صابری برادران کی یہ مشہورِ زمانہ قوالی سن رکھی ہے؟ اگر سنی ہے تو یقیناً آپ کے کانوں میں اس کے سحر انگیز بول ابھی بھی گونج رہے ہوں گے، اور کیا آپ نے نصرت فتح
علی خان کا گایا ہوا یہ گیت سنا ہے
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو
مرے خیال میں یہ بھی سن رکھا ہو گا مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس لازوال کلام کا خالق کون ہے؟ اگر شاعر کا علم نہیں تو پھر یہ پڑھئیے؛
یہ کلام ایک ایسے درویش صفت شاعر کا ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد ہجرت کے کرب اور شاعری کے عشق کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اور وہ محمد موسیٰ ہاشمی (ولادت: 1940ء، الٰہ آباد - وفات: 29 جون 2009ء، لاہور) ہیں۔ آپ اردو زبان کے شاعر تھے جو پُرنم الہ آبادی کے نام سے جانے جاتے تھے۔
یہی وہ پُرنم الہٰ آبادی ہیں جن کا ایک اور کلام بھی ہر خاص و عام کی زبان پر رہتا ہے:
دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا
یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا
کمسن ہیں وہ ایسے انہیں ظالم کہوں کیسے
معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا
آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رخ نے
آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا
پُرنم الہٰ آبادی کی شہرت کا دائرہ صرف قوالی اور غزل تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک گیت اور نعتیں لکھیں جنہوں نے اردو ادب کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں بھی جگہ بنائی۔ 1940ء میں الہٰ آباد میں محمد موسیٰ ہاشمی کے نام سے جنم لینے والے پُرنم جب سات برس کی عمر میں قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے کراچی پہنچے، تو ان کی ابتدائی زندگی مشقتوں اور حالات کی سختیوں میں گزری۔ یہ وہ دور تھا جب ہجرت کرنے والے لاکھوں خاندان کسمپرسی کے عالم میں نئے وطن کو اپنا گھر بنانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ پُرنم نے اسی کٹھن ماحول میں آنکھ کھولی اور زندگی کی تلخیوں کو قریب سے دیکھا، جس کا اثر ان کی شخصیت اور شاعری میں ایک گہرے سوز کی صورت میں شامل ہو گیا۔
شاعری کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد انہیں ایک کٹھن آزمائش کا سامنا تھا۔ اس دور میں جب جوش ملیح آبادی، سیماب اکبر آبادی اور حیدر دہلوی جیسے قد آور شعراء کا طوطی بول رہا ہو، وہاں ایک نئے آنے والے شاعر کے لیے اپنی الگ شناخت بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ پُرنم نے اس ابتدائی دور میں شدید جدوجہد کی، طرحی مشاعروں میں شرکت کی اور اپنی ثابت قدمی سے فن کی باریکیاں سیکھیں۔ ان کا یہ سفر کسی ہموار راستے پر نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اپنی محنت اور منفرد اسلوب سے خود کو منوایا۔ 1958ء میں جب استادِ فن قمر جلالوی نے ان کے کلام پر اصلاح کی، تو ان کی شاعری کا رنگ اور نکھر گیا۔ وہ خود بھی اس فیضان کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ سب قمر جلالوی کا ہی کرم ہے کہ آج انہیں اہلِ فن میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کی شاعری میں عشقِ مجازی کی حدت اور عشقِ حقیقی کی پاکیزگی کا ایک عجیب سنگم تھا۔ نوے کی دہائی میں جب انہوں نے کراچی سے لاہور کا رخ کیا اور انارکلی کی گلیوں میں قیام پذیر ہوئے، تو لاہور نے اس درویش صفت شاعر کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ یہاں ان کا کلام غزلیہ انداز سے نکل کر قوالی اور نغموں کی صورت میں مقبولیت کی ایسی بلندیوں پر پہنچا کہ ہر خاص و عام کی زبان پر ان کے اشعار جاری ہو گئے۔ جیکب آباد کے اس تاریخی مشاعرے میں، جہاں انہوں نے اپنے استاد کی موجودگی میں کلام پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لیے تھے، آج بھی ادبی تاریخ کا ایک یادگار باب مانا جاتا ہے۔
پُرنم الہٰ آبادی کی زندگی کے آخری ایام ان کی قلندرانہ شان اور درویشی کے عروج کے ہیں۔ ان کا آشیانہ دنیاوی آسائشوں سے یکسر عاری تھا۔ ایک بوسیدہ چارپائی، میز پر رکھا جگ، گلاس اور چند کتابیں، اور ایک کونے میں لٹکی ہوئی سادہ سی پوشاک، ان کی سادگی کی گواہی دیتی تھی۔ ان کے کمرے کی پرانی دری، جہاں سے فرش کی اینٹیں جھانک رہی تھیں، اور دیوار پر سجا عزیز میاں قوال کا پوسٹر، ان کے اندر بسنے والے صوفی منش شاعر کی عکاسی کرتے تھے۔ وہ ایک ایسا 'پُرنم' چراغ تھے جس نے ہجرت کے درد، درویشی کے وقار اور عشقِ مصطفیؐ کی روشنی کو اپنے کلام میں سمو دیا اور زندگی کے آخری سانس تک اسی درویشی کو اپنا سرمایہ بنائے رکھا۔
تحریر : پروفیسر اظہر حادث

​ #پُرنم_الہ_آبادی #قوالی

نورجہاں کے جادوئی گیت جو ایک بیماری کا علاج ہے۔جانئے مزیدکچھ عرصہ قبل بی بی سی کی ایک رپورٹ میرے سامنے سے گزری جس میں ان...
22/08/2026

نورجہاں کے جادوئی گیت جو ایک بیماری کا علاج ہے۔جانئے مزید
کچھ عرصہ قبل بی بی سی کی ایک رپورٹ میرے سامنے سے گزری جس میں انہوں نے برصغیر پاک و ہند کے کچھ ایسے لازوال گانوں کی ایک فہرست بنائی تھی جو الزائمر اور ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے بہترین میوزیکل تھراپی کا کام کرتے ہیں۔ اسی میوزیکل تھراپی کی فہرست میں ملکہ ترنم نور جہاں کے گیت بھی شامل تھے ایک تو ہے؛
سانوں نہر والے پُل تے بلا کے
تے خورے ماہی کتّھے رہ گیا
ساڈی اکھاں وچوں نیندراں اُڈا کے
ساڈی اکھاں وچوں نیندراں اُڈا کے
تے خورے ماہی کتّھے رہ گیا
جو اس زمانے میں ہر دل عزیز تھا اور آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے۔ اس گیت کے شاعر معروف پنجابی شاعر رؤف شیخ ہیں جو حافظ آباد کے رہنے والے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا ایک اور دل کو چھو لینے والا شاہکار "دھیاں رانیاں" بھی ہے جو والدین اور بیٹیوں کے رشتے کے انمٹ جذبات کو زندہ کرتا ہے۔
گیت کی تفصیلات بول: دھیاں رانیاں ، ہائے او میریا ڈاہڈیا ربا ، کناں جمیاں تے کناں لے جانیاں"
عالمی سطح پر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ الزائمر کی تھراپی علاقائی موسیقی کے اندر پوشیدہ ہے۔ آپ جس بھی خطے سے تعلق رکھتے ہیں، اگر آپ اس علاقے کے کلاسیکی اور پرانے گیت سنتے ہیں تو وہ دماغ کے بند دروازے کھول دیتے ہیں۔ اس میوزیکل تھراپی کے دائرے کو مزید وسیع کرتے ہوئے اس میں استاد مہدی حسن کی مدھر غزلیں، کشور کمار اور محمد رفیع کے جادو جگاتے سانگ اور لتا منگیشکر کے وہ لازوال گیت بھی شامل کیے جا سکتے ہیں جو برصغیر کے ماضی کی روح ہیں۔ اس طرح کے کلاسیکی گیتوں کو سننے سے یا اپنے پرانے دوستوں، شناسوں اور ہم عمروں کے ساتھ بیٹھ کر ماضی کی خوبصورت یادوں یعنی نوسٹلجیا کو کریدنے سے الزائمر کے مریضوں کے دماغ کے وہ خلیات جو صدمات یا وقت کے بوجھ سے دب چکے ہیں، دوبارہ متحرک ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں مل کر الزائمر کا بہترین علاج اور ٹریٹمنٹ بناتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ شخص جسے یہ بیماری نہ بھی ہو، اسے بھی اپنے نوسٹلجیا کو زندہ رکھنا چاہیے اور اپنے ماضی کو بیان کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک صحت مند، پُرسکون اور بھرپور زندگی بسر کر سکے۔۔
اگر تحریر پسند ہو تو میرا پیج Azhar Hadis Writes کو فالو کیجئے۔

​ #الزائمر #نورجہاں #ماضی #अल्ज़ाइमर #यादें #संगीत_थैरेपी

20/08/2026

I got over 4,050 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

غالباً 2007 یا 2008 کی بات ہے۔ میں نے ٹی وی اسکرین آن کی تو سامنے زی ٹی وی پر آنے والا مشہور ریئلٹی شو 'سا رے گا ما پا چ...
19/08/2026

غالباً 2007 یا 2008 کی بات ہے۔ میں نے ٹی وی اسکرین آن کی تو سامنے زی ٹی وی پر آنے والا مشہور ریئلٹی شو 'سا رے گا ما پا چیلنج' آ رہا تھا، اور وہاں نیلی جیکٹ میں ملبوس ایک شخص کی اسٹیج پر آمد ہو رہی تھی—شخص کیا، بالکل ایک نوجوان لڑکا تھا۔ تالیوں کی گونج میں اس نے اپنے گیت کا آغاز کیا: "تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں"۔ یہ گیت ایسا تھا کہ جیسے کوئی سحر طاری ہو رہا ہو؛ الفاظ کیا تھے، گویا جادو کے منتر تھے۔ میں سنتا جا تاتھا اور موسیقی کے سحر میں کھوتا جاتا تھا—نہ جانے گیت کب ختم ہوا، مگر میری آنکھیں نمناک ہو چکی تھیں ۔یہ کیفیت صرف میری نہیں تھی، بلکہ ممبئی کے اسٹوڈیو میں موجود حاضرین بھی اس وقت اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے تھے، اور تالیاں بجاتے ہوئے ان کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ ناظرین کے اصرار پر جب اسی گیت کو دوبارہ سنا گیا، تو سب ایک بار پھر اسی رقت آمیز کیفیت میں ڈوب گئے۔ یہ لاثانی گیت گانے والے پاکستانی نوجوان امانت علی تھے، اور اس وقت وہاں کی چیف گیسٹ میگھنا تھیں، جو نامور شاعر گلزار کی بیٹی ہیں۔ یہ ایسا لازوال گیت ہے جو گلزار صاحب کا تحریر کردہ ہے اور پوری دنیا میں اپنے اندر ایک گہرا اثر رکھتا ہے۔ 1983 میں فلم معصوم میں یہ شاہکار گیت نصیر الدین شاہ جیسے بے مثال اداکار پر فلمایا گیا تھا، تب بھی اس کی سحر انگیز شاعری اور دھن نے سننے والوں کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے تھے اور یہ بے حد معروف ہوا تھا۔ مگر وقت کی گرد تلے دبے اس گیت کو ایک بار پھر سے حیاتِ نو عطا کرنے اور اس میں روح پھونکنے کا تمام تر سہرا پاکستانی نوجوان امانت علی کے سر جاتا ہے، جنہوں نے اپنی بے پناہ آواز اور درد سے بھرپور پیشکش کے ذریعے اس لازوال تخلیق کو ایک نئی زندگی بخش دی۔
آج گلزار کو یاد کرنے کا دن ہے، تو آئیے ان کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔ نامور شاعر، نغمہ نگار اور ہدایت کار گلزار 18 اگست 1936 کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم کے ایک تاریخی قصبے دینہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سمپورن سنگھ کالرا ہے اور ان کے والد کا نام مکھن سنگھ کالرا تھا۔ دینہ کی اس مٹی سے جڑے ہونے کی وجہ سے گلزار صاحب کا ایک انتہائی معروف شعر ان کی اس دھرتی سے محبت کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کا اس شعر دیکھئے
ذِکر جہلم کا ہے، بات ہے دِینے کی
چاند پُکھراج کا، رات پشمینے کی
ہجرت میں بمبئی آنے کے بعد روزگار کے سلسلے میں انہیں سخت جدوجہد کرنی پڑی اور پیٹ پالنے کے لیے انہیں موٹر مکینک تک کا کام کرنا پڑا۔ تاہم، ان کے اندر کا تخلیق کار اور شعر و ادب کا ذوق انہیں بالآخر فلمی صنعت کی طرف کھینچ لایا۔ فلم ساز بمل رائے کی اسسٹنٹ شپ کے دوران ان کی صلاحیتیں نکھریں، اور وہیں ان کی زندگی میں مینا کماری آئیں جو اس وقت فلم "بے نظیر" کی ہیروئن تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان دونوں کا فکری اور قلبی رشتہ اس بلندی پر پہنچ گیا جہاں دنیا کی رسہ کشی بے معنی ہو جاتی ہے۔ جب مینا کماری بیمار تھیں، تو گلزار صاحب خود وقت پر انہیں دوا پلانے جاتے تھے، اور جب رمضان میں وہ بیماری کی وجہ سے دوا لینے میں تذبذب کا شکار ہوئیں تو گلزار نے انہیں سمجھایا کہ بیماری میں روزے فرض نہیں ہیں، اور ان کی طرف سے وہ خود روزے رکھیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد بھی گلزار صاحب نے ہمیشہ رمضان کے روزے رکھے۔ مینا کماری نے جاتے جاتے اپنی شاعری کی تمام ڈائریاں اور کاپیاں امانت کے طور پر گلزار کے سپرد کر دیں، جنہیں بعد میں انہوں نے خود مدون کر کے شایع کیا۔ اور جب گلزار صاحب نے بحیثیت ہدایت کار اپنی پہلی فلم "میرے اپنے" بنائی، تو اس کا مرکزی کردار بھی مینا کماری نے ہی ادا کیا۔
مینا کماری کے انتقال کے بعد، 15 مئی 1973 کو گلزار صاحب نے اس وقت کی مقبول ترین ہیروئن راکھی سے شادی کی۔ اس جوڑے کے گھر اکلوتی بیٹی میگھنا گلزار پیدا ہوئیں، جو نیویارک یونیورسٹی سے فلم سازی میں گریجویشن کر کے آج ایک نامور ہدایت کار ہیں۔ میگھنا نے فی الحال، تلوار، راضی اور چھپاک جیسی شاندار فلمیں بنائیں، جن میں سے فلم چھپاک کے تمام نغمے بھی گلزار صاحب نے ہی لکھے۔ اس کے علاوہ، میگھنا نے اپنے والد کی زندگی پر ایک خوبصورت سوانح عمری بھی تحریر کی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ گلزار اور راکھی کے راستے الگ ہو گئے، لیکن ان کے درمیان کبھی طلاق نہیں ہوئی۔ مینا کماری سے قربت ہو یا راکھی سے فاصلہ، یہ تمام زاویے گلزار کی شخصیت کے ان رازوں میں شامل ہیں جن پر ہمیشہ پردہ پڑا رہا۔
فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ گلزار صاحب نے ادب کے میدان میں بھی نئے نقوش ثبت کیے ہیں۔ انہوں نے اردو شاعری میں "تروینی" کی صنف ایجاد کی، جو تین مصرعوں کی ایک انوکھی غیر مقفیٰ نظم ہوتی ہے۔ بچوں کے ادب کے لیے ان کا کام بالخصوص "جنگل بک" کا وہ مشہور زمانہ ترانہ "جنگل جنگل بات چلی ہے، پتہ چلا ہے..." بچہ بچہ کی زبان پر آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے "ایلس ان ونڈر لینڈ" اور "پوٹلی بابا" کے لیے بھی نظمیں اور مکالمے لکھے ہیں، اور وہ جسمانی طور پر معذور بچوں کے ادارے "آروشی" اور تعلیمی این جی او "ایکلویہ" سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
گلزار نے بطور نغمہ نگار بے شمار فلموں کے لیے ایسے گیت لکھے جو تاریخ کا حصہ بن گئے۔ بنٹی اور ببلی کا سپر ہٹ گانا "کجرا رے"، اوم کارا کا مقبول ترین نغمہ "بیڑی جلائی رے"، یا پھر فلم کمینے کا ہٹ نغمہ "رات کے بارہ بجے"، ان کے قلم سے نکلا ہر لفظ عوام کے دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ ان کی فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لیے لکھے گئے گیتوں پر دنیا کے سب سے بڑے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ شاعری اور نغمہ نگاری کے علاوہ گلزار صاحب نے اردو افسانہ نگاری میں بھی اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے افسانے انسانی نفسیات اور زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں، جن میں "راوی پار"، "جان کی جاں" اور "پکھراج" کو اردو ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔
جمالیاتی احساس ان کے فن کی سب سے بڑی پہچان ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اپریل 2013 میں انہیں آسام یونیورسٹی کا چانسلر بھی مقرر کیا گیا۔ ویسے تو گلزار صاحب کا پورا کلام دل کی گہرائیوں کو چھوتا ہے، چند شعر دیکھئے۔
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے
عادتاً تم نے کر دیے وعدے
عادتاً ہم نے اعتبار کیا
آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
تحریر و ترتیب : پروفیسر اظہر حادث
گلزار #شاعری #ریختہ #गुलजार #गुलजार_शायरी #उर्दू_अदब #बॉलीवुड_गीत #शायरी #गीतकार #गुलजारसाहब

ملکہ برطانیہ اس وقت67 سال کی تھیں جب کہ عبدالکریم صرف 25 سال کا تھا۔۔ مزید پرھئیے۔وہ 1887  کا موسم گرما تھا، جب برطانوی ...
18/08/2026

ملکہ برطانیہ اس وقت67 سال کی تھیں جب کہ عبدالکریم صرف 25 سال کا تھا۔۔ مزید پرھئیے۔
وہ 1887 کا موسم گرما تھا، جب برطانوی ملکہ گولڈن جوبلی منا رہی تھیں، 1861ء میں ملکہ اپنے شوہر پرنس البرٹ کی رحلت کے بعد سے مسلسل سوگوار تھیں ۔ گولڈن جوبلی کی شاندار تقریبات کے تصور نے جوانی کے دنوں کی یاد کو تازہ کر دیا تھا۔ برطانوی حکومت بھی اس جشن کو دلکش اور یادگار بنانا چاہتی تھی۔ حکومت نے ہندوستان کے کچھ معزز افراد کو مدعو کیا تاکہ ان کے زرق برق لباس سے اس تقریب میں رنگا رنگی ہو۔اسی مقصد کے تحت آگرہ جیل کے چوبیس/پچیس سالہ قد آور کلرک عبدالکریم کو کچھ نایاب مہریں دے کراور دھول پور کے مہاراجہ کے سابق تجربہ کار باورچی محمد بخش کو خود بطور خانساماں گولڈن جوبلی کے تحفے کے طور پر برطانوی دربار میں بھیج دیا گیا۔
اس روز شاہی دربار کا وہ منظر منفرد تھا۔ہر طرف چہل پہل اور برطانوی راج کا طمطراق تھا۔ عبدالکریم نے ملکہ کے حضور پیش ہونا تھااسی لئے اس کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ ملکہ کی طرف ہرگز نہیں دیکھنا، اس کے دل میں ملکہ برطانیہ کو قریب سے دیکھنے کا شوق بھی تھا۔ جب اس نے وہ طشتری جس میں تاریخی ہندوستانی مہریں اور سکے سجے ہوئے تھے، ملکہ کے سامنے پیش کی اور پھر شاہی قاعدے کے مطابق نظریں نیچے کیے ہوئے الٹے قدموں واپس لوٹنے لگا، تو اس کے شوق نے اسے اوپر دیکھنے پر مجبور کردیا تبھی اس نے سر اٹھایا اور سیدھا ملکہ کی نیلی مگر اداسی بھری آنکھوں میں دیکھ لیا۔ ملکہ جو اردگرد کے لوگوں سے محوِ گفتگو تھیں، انہیں محسوس ہوا کہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے، تب ملکہ وکٹوریہ نے بھی اپنی آنکھیں اٹھائیں اور سامنے کھڑے اس نوجوان کی طرف دیکھا، جس نے سر پر ہندوستانی طرز کی پگڑی باندھ رکهی تھی، ہلکی داڑھی کے ساتھ چہرے پر سجی ہوئی مونچھیں، اور تن پر سرخ رنگ کا وہ خوبصورت لباس تھا جس کے گلے اور کناروں پر چمکدار سنہری کام تھا۔ اس کے مسکراتے اور حیرت زدہ چہرے نے ملکہ کو متوجہ کر دیا۔ اس نوجوان یعنی عبدالکریم کی ان نظروں نے ملکہ کے دل پر ایسی دستک دی جس نے ان کی برسوں کی اداسی کو معمولی سا ہلا کر رکھ دیا۔ بس وہی ایک پل تھا، وہی ایک نظر تھی جس نے فیصلہ کر دیا کہ اب یہ قد آور ہندوستانی نوجوان واپس آگرہ کی جیل میں نہیں لوٹے گا، بلکہ یہ ملکہ کے دل اور اس کی سلطنت کا سب سے معتمد رازداں بن کر یہیں رہے گا۔
دیکھتے ہی دیکھتے عبدالکریم ملکہ وکٹوریہ کی زندگی کے آخری تیرہ برسوں کا سب سے معتمد اور قریبی ساتھی بن گیا، جس نے ملکہ کے شوہر اور بعد ازاں ان کے خاص معتمد دوست جان براؤن کی وفات سے پیدا ہونے والے جذباتی خلا کو پر کر دیا۔ ملکہ کے لیے کریم سے بات چیت آسان بنانے کی غرض سے فوری طور پر ان کی انگریزی کا بندوبست کیا گیا۔ آگرہ کے اس نوجوان نے ہندوستان کے قصوں، کہانیوں اور اپنے متوازن انداز سے ملکہ کو مسحور کر لیا، یہاں تک کہ ملکہ کو پہلی بار ہندوستانی سالن یعنی کری بھی اسی نے پیش کی۔
ملکہ کو اپنے تاج کے اس نادر نگینے یعنی ہندوستان سے ہمیشہ سے دلی لگاؤ رہا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے اس محبوب خطے کو قریب سے سمجھنے کے لیے عبدالکریم ہی کا انتخاب کیا۔ جلد ہی عبدالکریم ان کے اردو کے استاد مقرر ہو گئے اور روزانہ شام کو ملکہ کو اردو کے باقاعدہ اسباق دینے لگے۔ وہ ملکہ کو غالب کے لازوال اشعار پڑھ کر سناتے اور ملکہ ہندوستانی الفاظ کی کتاب ہاتھ میں لیے بولنے کی مشق کرتی رہتیں۔ جہاں تک محمد بخش کا تعلق ہے، تو وہ شاہی دسترخوان پر اپنی روایتی خدمت کے فرائض انجام دیتے رہے، جبکہ کریم کے درجے اور مراتب کو تیزی سے فروغ حاصل ہوا۔ اگر کبھی عبدالکریم بیمار پڑ جاتے تو ملکہ ذاتی طور پر ان کی عیادت اور دیکھ بھال کرتی اور ان کی آسائش کا حد سے زیادہ خیال رکھتی تھیں۔ ایک ہی سال کے اندر عبدالکریم کو ملکہ کے انڈین سیکرٹری کے عہدے پر فائز کر دیا گیا اور انہیں "منشی حافظ عبدالکریم" کا نام عطا ہوا۔
معروف پاکستانی صحافی اور براڈکاسٹر رضا علی عابدی نے اپنی مشہور کتاب "ملکہ وکٹوریہ اور منشی عبدالکریم" (مطبوعہ سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور) میں اس انوکھے تعلق کے پس منظر، اس کی باریکیوں اور برطانوی دربار کے اندرونی تعصبات کو بڑی عکاسی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ عابدی صاحب نے لکھا ہے کہ کس طرح آگرہ کے ایک معمولی جیل خانے کا کلرک شاہی محل کے ایوانوں میں پہنچ کر ملکہ کا سب سے بڑا رازداں اور مربی بن گیا۔ کتاب میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح برطانوی شاہی خاندان اور وزراء نے ایک ہندوستانی کے اس حد تک با اثر ہونے پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا، لیکن ملکہ وکٹوریہ نے ہر قدم پر اپنے "منشی جی" کی ڈھال بن کر تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
اس تاریخی تعلق کو مقبولِ عام بنانے میں 2017 میں ریلیز ہونے والی فلم "وکٹوریہ اینڈ عبدال" (Victoria & Abdul) کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، جسے نیٹ فلکس اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دنیا بھر میں شوق سے دیکھا گیا۔ اسٹیفن فریئرز کی اس فلم میں نامور اداکار علی فاضل نے منشی عبدالکریم کا کردار نبھایا جبکہ ملکہ وکٹوریہ کے روپ میں لیجنڈری اداکارہ جوڈی ڈینچ جلوہ گر ہوئیں۔
ملکہ نے نامور مصوروں روڈولف سوبوڈا اور وان اینجلی سے منشی عبدالکریم کے شاندار پورٹریٹ بنوائے۔ منشی صاحب کو بالمورل، ونڈسر اور اوسبورن کے شاہی محلوں میں رہائش گاہیں عطا ہوئیں اور انہیں محل کے اعلیٰ انگریز نوابوں اور شاہی اراکین کے ساتھ بلئرڈ روم استعمال کرنے کی خصوصی اجازت ملی۔ وہ ملکہ کے ساتھ یورپ کے شاہی دوروں پر جانے لگے اور جلد ہی یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن گئے۔ یورپی دورے پر منشی عبدالکریم جب اپنی خاص شاہانہ پوشاک میں الگ شاہی بگھی پر سوار ہو کر نکلتے، تو مقامی صحافی اور لوگ انہیں کوئی بڑا ہندوستانی شہزادہ سمجھ بیٹھتے۔
برطانوی وائسرائے کے شدید اعتراضات اور رکاوٹوں کے باوجود کریم کو آگرہ میں وسیع اراضی الاٹ کی گئی، انہیں سی آئی ای اور ایم وی او جیسے مایہ ناز اعزازات سے نوازا گیا جو کہ نائٹ ہڈ کے مرتبے سے محض ایک قدم کے فاصلے پر تھے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے والد حاجی وزیر الدین کو بھی "خان بہادر" کا خطاب ملا، انہیں وائسرائے کے دربار میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا اور وہ تاریخ کے پہلے فرد بنے جنہیں ونڈسر کیسل کے اندر حقہ پینے کی اجازت مرحمت ہوئی۔ منشی عبدالکریم شاہی خط و کتابت میں ملکہ کے دستِ راست بنے اور ہندوستانی سیاست کے امور پر انہیں گہرے مشورے دیتے، جن کی بنیاد پر ملکہ اکثر وائسرائے سے بازپرس کرتی رہتی تھیں۔
یہ ساری صورتحال انگریز شاہی عملے اور امرا کے لیے اب ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔ ایک موقع پر شاہی عملے نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دینے کی دھمکی دی کہ اگر ملکہ منشی کریم کو اپنے یورپی دورے پر ساتھ لے کر گئیں تو وہ تمام عہدے چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ اس پر ملکہ سخت برہم ہوئیں اور غصے میں آ کر اپنی میز پر رکھی تمام اہم فائلیں، تصاویر، سیاہی کی دواتیں اور کاغذی بکس اٹھا کر فرش پر دے مارے۔ ملکہ کی اس شدید اور بے باک برہمی کے آگے شاہی عملے کی ایک نہ چلی، وہ اداس دل کے ساتھ یورپ کی راہ پر روانہ ہوئے مگر استعفیٰ دینے کی ہمت نہ کر سکے۔
ملکہ وکٹوریہ کے انتقال (22 جنوری 1901) کے فوراً بعد منشی عبدالکریم کو شاہی محل سے رخصت کر دیا گیا تھا۔ ملکہ کے صاحبزادے اور نئے بادشاہ ایڈورڈ ہفتم نے دربار کا تمام عملہ بدل دیا اور منشی صاحب کو تمام اعزازات اور مراعات سے محروم کر کے واپس ہندوستان (آگرہ) بھیج دیا۔ وہ 1901 کے اواخر یا 1902 کے آغاز میں لندن سے واپس اپنے آبائی شہر آگرہ لوٹے تھے، جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری دن تک پرسکون انداز میں مقیم رہے اور 1909 میں صرف 46 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں ان کے خاندان کے کچھ لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور کچھ آج بھی ہندوستان میں مقیم ہیں۔
تحریرو ترتیب: پروفیسر اظہر حادث
اگر تحریر پسند ہو تو میرا پیج Azhar Hadis Writes کو فالو کیجئے۔
#آگرہ

وہ ہسپتال کا ایک سفید اور اداس کمرہ تھا، بیڈ پر نیویارک کے مشہور 'سائر ریکارڈز' کے بانی اور صدر سیمور سٹائن (Seymour Ste...
17/08/2026

وہ ہسپتال کا ایک سفید اور اداس کمرہ تھا، بیڈ پر نیویارک کے مشہور 'سائر ریکارڈز' کے بانی اور صدر سیمور سٹائن (Seymour Stein)
لیٹے ہوئے تھے، جو بیماری وجہ سے مشکل میں تھے۔ ڈاکٹرز اور عملہ ان کی صحت کے حوالے سے پریشان تھے عام ملاقات پر بھی پابندی تھی، مگر باہر کھڑی ایک لڑکی کی آنکھوں میں ان سے ملنے کی ضد تھی۔ وہ بظاہر عام حلیے میں تھی، اس نے ایک سادہ سی جرسی، پرانی جینز اور کندھے پر لٹکا ہوا ایک سستا سا بیگ پہن رکھا تھا، مگر اس کے قدموں میں اعتماد تھا۔ وہ سکیورٹی گارڈز کو چکمہ دے کر سیدھا ہسپتال کے اس کمرے میں داخل ہو گئی جہاں "سیمور" بے سدھ لیٹے تھے۔ وہ لڑکی جو اس صرف خواب دیکھنے کی جرات رکھتی تھی، نے آگے بڑھ کر بستر پر آنکھیں موندے اور نیم دراز "سیمور" کا کانپتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ لڑکی نے مدہم، پُر اعتماد اور سحر انگیز لہجے میں بات شروع کی اور پھر بنا کسی ساز کے، ہسپتال کے اس خاموش کمرے میں اپنی آواز کا جادو جگا دیا۔ اس نے اپنا ایک گیت گایا جس کے بول سیدھا دل میں اتر گئے۔ وہ آواز مسحور کن تھی کہ مشہور میوزک ڈائریکٹر سیمور سٹائن کو محسوس ہوا کہ وہ بیماری کے بستر پر نہیں بلکہ کسی فنکار کی دریافت کے لمحے میں بیٹھا ہے۔ اسی ہسپتال کے بستر پر، اسی لمحے سیمور نے مسکراتے ہوئے وعدہ کر لیا کہ وہ اس لڑکی کا پہلا البم ضرور ریلیز کرے گا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے دنیا
کی سب سے بڑی پاپ کوئین 'میڈونا' کی تاریخ رقم ہوئی۔
"میڈونا لوئیس"(Madonna Louise Ciccone)
کی یہ کہانی جتنی سنسنی خیز ہے، اتنی ہی گہری اس کی ابتدائی زندگی اور ذاتی پس منظر میں چھپی ہے۔ میڈونا 16 اگست 1958 کو امریکہ کی ریاست مشی گن کے شہر بے سٹی میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد "سلویو ٹونی "ایک متوسط طبقے کے اطالوی نژاد امریکی انجینئر تھے، جبکہ اس کی والدہ کا نام بھی میڈونا لوئیس تھا۔ زندگی کا پہلا اور سب سے بڑا صدمہ اسے تب ملا جب وہ محض پانچ سال کی تھی؛ اس کی پیاری ماں کینسر کے موذی مرض کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، جس نے بچی کے دل پر ایک ایسا گہرا زخم چھوڑا جو کبھی نہیں بھرا۔ گھر میں ماں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے والد نے دوسری شادی کی، جس کے بعد گھر کا ماحول قدرے سخت ہو گیا۔ میڈونا اپنے بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھی، اور کل آٹھ بہن بھائیوں کے اس بڑے کنبے میں بچپن غربت، تنہائی اور ایک عجیب سے خوف میں گزرا۔ والدہ کے نام کی وجہ سے اس پر بچپن سے ہی ایک نامعلوم بوجھ تھا، لیکن اسے کسی حد تک سنبھالنے والی اس کی دادی تھیں جنہوں نے اس کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ گھر کے روایتی اور سخت ماحول سے بغاوت کرتے ہوئے کم عمر میڈونا نے ڈانس اور فن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور اپنی جیب خرچ کے لیے ڈونٹس کی دکانوں پر نوکری کرنے سے لے کر سڑکوں پر محنت کرنے تک کا کٹھن سفر طے کیا۔
میڈونا کی یہ ذاتی جدوجہد اس کے شاندار فنی سفر کی بنیاد بنی۔ اس نے شروعاتی دور میں سکولوں کے ڈانس اور سنگنگ مقابلوں میں حصہ لیا، یہاں تک کہ وہ ایک مشہور گائیکی کے میلے میں بھی پہنچی جہاں ججز نے اسے مسترد کر دیا اور ایک سوری کا لیٹر تھما دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ اس کے اندر ترقی کرنے کی بے پناہ طاقت موجود ہے۔ اس انکار نے اسے توڑنے کے بجائے اور زیادہ فولادی بنا دیا۔ جب سیمور سٹائن نے ہسپتال میں اس کی آواز سن لی تو گویا دروازے کھلتے چلے گئے۔ 1983 میں اس کا پہلا البم 'میڈونا' ریلیز ہوا جس نے تہلکہ مچایا، اور اس کے بعد 'لائیک اے ورجن'، 'لائیک اے پری' جیسے شاہکار البمز نے دنیا کے موسیقی کے ریکارڈز الٹ دیے۔ میڈونا نے اپنے کیریئر میں کل چودہ سٹوڈیو البمز ریلیز کیے اور اس کی آڈیو کیسٹس اور ریکارڈز دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی تاریخ ساز مصنوعات بن گئیں۔ وہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے زیادہ امیر ترین خاتون گلوکارہ بن گئی، جو آج بھی دنیا کے سب سے بڑے اور خاص ایونٹس اور محفلوں میں جا کر دنیا کو اپنے فن کا دیوانہ بنا دیتی ہے۔
مگر میڈونا صرف گلیمر، بلندیوں اور ریکارڈ توڑ کامیابی کا نام نہیں ہے؛ اس کا اصل حسن اس کی وہ بے باک آواز ہے جو اس نے ان موضوعات کے لیے اٹھائی جن پر بات کرنے سے ہر بڑا انسان کتراتا تھا۔ وہ پہلی خاتون فنکار تھی جس نے مذہب، جنسی روایات، عورت کی آزادی اور معاشرتی منافقت کو اپنے گیتوں، ویڈیوز اور سٹیج پر کھل کر زیرِ بحث لائی۔ جب دنیا کے قدامت پسند معاشروں میں عورت کے بولنے پر پہرے تھے، میڈونا نے تب آرٹ کو ایک ہتھیار بنا کر دنیا کو جھنجھوڑا۔ اور ان تمام شہرتوں کی بلندیوں کے باوجود، اس کا دل انسان دوستی کے لیے دھڑکتا ہے۔ اس نے دنیا بھر میں غریبوں کی مدد کی، ایتھوپیا کی مظلوم اور پسماندہ خواتین کی زندگی سنوارنے کے لیے فنڈز اکٹھے کیے، سکول بنوائے اور بچوں کی تعلیم کے لیے کتابیں لکھیں اور وہ کام کیے جو تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ آج جب پسماندہ ممالک کے کسی کونے سے لے کر یورپ کے چمکتے شہروں تک کوئی چاہنے والا میڈونا کا نام لیتا ہے، تو اسے ایک ایسی باغی مگر لازوال عورت دکھائی دیتی ہے جس نے ہسپتال کے ایک اداس بیڈ سے کامیابی اٹھا کر پوری دنیا کے دلوں پر راج کیا۔
تحریرو ترتیب: پروفیسر اظہر حادث
https://uc.xyz/2eG6vI?pub=link ریفرنس۔
​ #مادونا #موسیقی

ڈاکٹر نے اسے صاف کہہ دیا تھا کہ اب وہ چھ مہینے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کا وزن 230 کلو گرام کو چھو رہا تھا اور اس ...
15/08/2026

ڈاکٹر نے اسے صاف کہہ دیا تھا کہ اب وہ چھ مہینے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کا وزن 230 کلو گرام کو چھو رہا تھا اور اس کے لیے ایک قدم اٹھانا بھی محال ہو چکا تھا۔ عالم یہ تھا کہ وہ سیدھا لیٹ کر سو بھی نہیں سکتا تھا بلکہ بیٹھ کر ہی رات کاٹتا تھا، مگر کھانے کی اشتہا ایسی بلا تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ اس نے ڈاکٹر کے اس تبصرے کو محض ایک حماقت سمجھا اور اپنے والد سے کہا کہ یہ کوئی ناواقف ڈاکٹر ہے جو اسے چھ ماہ میں مرنے کی نوید سنا رہا ہے۔ وہ کلینک سے نکل کر سیدھا ایک بیکری پر پہنچا اور بے دریغ کھانے لگا کیونکہ اسے پریشانی کے عالم میں اور زیادہ بھوک لگ جایا کرتی تھی، اور اس نے اس روز غالباً بیکری کی آدھی تازہ اشیاء اکیلے ہی ختم کر ڈالی تھیں۔ اس کے باپ کو اس صورتحال پر شدید غصہ آیا اور اس نے بھرے مجمع میں چلا کر کہا کہ تم مجھ پر بس اتنا احسان کر دو کہ مجھے اپنے جوان بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے نہ دفنانا پڑے۔
یہ وہ دل دہلا دینے والا لمحہ تھا جس نے عدنان سمیع کے اندر سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اسی پل اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اس جان لیوا موٹاپے کو اپنے اوپر طاری نہیں رہنے دے گا اور اس سے جنگ جیت کر ہی دم لے گا۔
یہ وہی نامور گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع ہیں جنہوں نے بچپن میں ہی دنیا کا سب سے تیزی سے پیانو بجانے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا، جنہوں نے پاکستانی فلم سرگم سے لازوال شہرت حاصل کی، زیبا بختیار کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے مگر چند سال بعد راہیں جدا ہو گئیں، جنہوں نے اکیسویں صدی کے آغاز پر پاکستان کو خیرباد کہا اور پڑوسی ملک میں جا کر ایک نئی اور شاندار زندگی کا آغاز کیا، اور جو اپنے جسم کا زائد وزن انتہائی حد تک گھٹا کر طبی دنیا کو حیران کرنے والے فنکار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آج ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر ان کے اس طویل، ہنگامہ خیز اور سحر انگیز سفر کا احوال کچھ یوں ہے کہ جب وہ پندرہ اگست 1971 کو لندن میں پیدا ہوئے تو ان کے والد ارشد سمیع خان کا تعلق پاکستان کے ایک معزز اور پڑھے لکھے گھرانے سے تھا جو ایک ممتاز سفارت کار اور پائلٹ تھے، جبکہ ان کی والدہ کا تعلق بھی ایک باشعور خاندان سے تھا۔ ان کے والد نے سفارتی خدمات کے دوران دنیا کے کئی ممالک میں وقت گزارا، جس کی وجہ سے عدنان سمیع کی تربیت اور ابتدائی تعلیم ایک بین الاقوامی ماحول میں پروان چڑھی۔
انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم برطانیہ میں حاصل کی اور قانون کی سند بھی حاصل کی، لیکن ان کا اصل جنون ہمیشہ سے موسیقی ہی رہا۔ انہوں نے کم عمری ہی میں کلاسیکی موسیقی اور مغربی پیانو کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دی تھی اور صرف نو سال کی عمر میں انہوں نے مغربی کلاسیکی پیانو پر ایسی مہارت دکھائی کہ دنیا کے کم عمر ترین ماہرِ پیانو کے طور پر سامنے آئے اور بعد میں تیز ترین پیانو بجانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ انیس سو پچانوے میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم سرگم ان کے فنی سفر کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوئی، جس میں ان کی لازوال موسیقی اور دلنشین گیتوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر میں دھوم مچا دی اور وہ راتوں رات ایک سپر اسٹار بن گئے۔ ان کے البمز جیسے "تھوڑا سا پیار ہوا ہے" اور "بھیگی بھیگی راتوں" میں نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
ان کی ذاتی زندگی بھی کافی طوفانی رہی، جہاں ایک طرف زیبا بختیار کے ساتھ ان کا رشتہ کچھ ہی سال چل سکا اور طلاق پر ختم ہوا، وہیں ان کے خاندانی پس منظر میں کچھ ایسے تاریخی اور متنازعہ تذکرے بھی ملتے ہیں جن میں اکلیم اختر عرف جنرل رانی کا نام بھی لیا جاتا ہے جو کہ ان کے خاندانی حلقوں سے نسبت رکھتی تھیں۔ نئی صدی کے آتے ہی انہوں نے پاکستان کو چھوڑ دیا اور طویل سفری پڑاؤ کے بعد بھارت کا رخ کیا جہاں انہوں نے بالی ووڈ کے لیے لازوال گیت گائے جنہوں نے انہیں وہاں گھر گھر میں مقبول کر دیا۔ دو ہزار سولہ میں انہیں باضابطہ طور پر ہندوستان کی شہریت مل گئی، اور بھارتی سیاسی قیادت بالخصوص نریندر مودی کے ساتھ بھی ان کے خوشگوار اور احترام پر مبنی تعلقات استوار ہوئے۔ وہ عدنان سمیع جو کبھی 230 کلو وزن کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، انہوں نے اپنی آہنی قوتِ ارادی، سخت ورزش اور متوازن غذا اور کچھ سرجریوں کے بل بوتے پر ڈیڑھ سو کلو سے زائد وزن کم کر کے دنیا کو دنگ کر دیا، اور آج وہ اپنی اہلیہ رویا فاریابی اور بیٹی کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کرتے ہوئے موسیقی کی دنیا میں اپنے فن کے جوہر دکھا رہے ہیں۔۔۔
تحریر ترتیب: پروفیسر اظہر حادث
#موسیقی #बॉलीवुडगायक #अदनानसामी #संगीत

اس نے بے خوفی سے شرٹ  کے کالر کو کھڑا کیا۔ وہ سفید ٹراؤزر اور شرٹ میں ملبوس تھا۔ لمبے اسٹارٹنگ پوائنٹ پر کھڑے ہو کر اس ن...
13/08/2026

اس نے بے خوفی سے شرٹ کے کالر کو کھڑا کیا۔ وہ سفید ٹراؤزر اور شرٹ میں ملبوس تھا۔ لمبے اسٹارٹنگ پوائنٹ پر کھڑے ہو کر اس نے دائیں ہاتھ میں گیند تھامی اور سینہ نکال کر چہرہ اٹھا کر بیٹسمین کو گھورا جو 24 سکور کے ساتھ کریز پر موجود تھا جو بلے کو زمین پر مارتے ہوئے گویا پیغام دے رہا تھا کہ تو میرا کیا کر سکتا ہے میں بڑا سکور کر کے دکھاوں گا۔اسی وقت اس بالر نے غصے کو جبڑوں میں دبایا اور ہندوستانی سر زمین کو پاؤں تلے روندنا شروع کیا۔ وہ ہر قدم کو غرور سے اٹھاتا دھرتی کو روندتے ہوئے تیزی سے دوڑتا ہوا بیٹسمین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ امپائر کے قریب سے گزرا۔ پاؤں کو اسی جاہ و جلال سے زمین پر پٹخا اور ہاتھ گھما کر اس نے جیسے ہی گیند کو پھینکا تو اس کی پھینکی ہوئی گیند ایک یارکر بن کر راہول ڈریوڈ کی وکٹوں کو اڑا گئی ۔ راہول ڈریوڈ حیرت' دکھ اور ناکامی سے اپنی اڑی ہوئی وکٹوں کو دیکھ رہا تھا! وہ اسٹیڈیم جو لوگوں کے شور و غل سے گونج رہا تھا، ایکدم خاموش سا ہو گیا۔
اب اگلی گیند پر اسی بالر کا سامنا انڈین ٹیم کے سب سے توانا بیٹسمین سے ہونا تھا جسے دنیا سچن ٹندولکر کے نام سے یاد کرتی ہے۔ سچن بیٹ تھامے گراؤنڈ کی جانب رواں دواں تھا۔ کریز پر پہنچ کر انھوں نے خود کو درست کیا۔ ادھر بالر اپنے اسٹارٹنگ پوائنٹ پر گئے۔ بالر کو کہہ دیا گیا تھا کہ اگر اس نے سچن ٹنڈولکر کو بولڈ کر دیا تو وہ دنیا میں بڑا نام پا جائے گا۔ نوجوان بالر کے لیے گویا وہ اک کٹھن امتحان کی مانند تھا ۔ بالر اس شش و پنج میں تھا کہ میں اسے کون سی گیند کرواؤں؟اور کس طرح سے مستقبل میں بڑا نام بناوں؟ بالر کا ہاتھ گیند کو پوری طرح سے جکڑ چکا تھا۔ وہ اپنے اسٹارٹنگ پوائنٹ پر تھا۔ وہاں سے وہ دوڑا دوڑتے ہوئے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی ٹائیگر دوڑتا ہوا آ رہا ہو۔ اسی غرور اور تکبر سے اس نے اپنے پاؤں سے دھرتی کو کچلا اور کچلتے ہوئے امپائر کے پاس سے گزرا۔ ہاتھ کو اسی سرعت اور تیزی سے گھما کر گیند کو پھینکا۔ گیند کیا گویا توپ کا گولاتھی! ہوا کے اندر ہی اندر، وکٹوں کی طرف ہلکی سی حرکت کرتی ہوئی گیند بیٹ اور پیڈ کے درمیاں سے گزری اور دنیا کے سب سے بڑے بیٹسمین ٹنڈولکر کی وکٹوں کو اڑاتی ہوئی نکل گئی۔ ہندوستان کے تماشائیوں کو تو گویا سانپ ہی سونگھ گیا ہر طرف خاموشی کا راج تھا اور ناامیدی کی بدولت دیکھنے والوں نے بے قراری سے پہلو بدلے۔ یہ ہندوستان کا شہر کلکتہ تھا، جہاں 1999ء میں یہ مشہور ٹیسٹ میچ کھیلا گیا، جہاں دو لگاتار گیندوں پر ہندوستان کے دو بڑے کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھانے والا کوئی اور نہیں بلکہ راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر تھا جو اب آسمان کی طرف دیکھ کر شکرانے سے چلا رہا تھا اور دنیائے کرکٹ کو بتا رہا تھا کہ میں کوئی معمولی باؤلر نہیں۔
اسی شعیب اختر کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ اس نے دنیا کی تیز ترین گیند کروانے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس نے یہ تاریخی کارنامہ 2003ء کے عالمی کپ کے دوران انگلینڈ کے خلاف انجام دیا، جب اس نے دنیا کی تیز ترین گیند 100.2 میل فی گھنٹہ یعنی 161.4 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینک کر کرکٹ کی تاریخ میں ہلچل مچا دی اور وہ دنیا کا باؤلر بن گیا جس نے سو میل فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے گیند بازی کی۔
شعیب اختر ہمارے وہی پاکستانی ستارے ہیں جو راولپنڈی کے قریب واقع ایک چھوٹے سے شہر مورگہ میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد اٹک آئل ریفائنری میں کام کرتے تھے۔ قدرت کی طرف سے وہ ایک معجزاتی شخصیت کے حامل تھے جن کے پاؤں بچپن میں سپاٹ اور سیدھے (فلیٹ فٹ) تھے اور اس جسمانی کمزوری کی وجہ سے انہوں نے چار سال کی عمر میں چلنا شروع کیا تھا، لیکن انہوں نے اپنی محنت اور عزم سے نہ صرف خود کو اس قابل بنایا بلکہ دنیا کے تیز ترین باؤلر بن کر ابھرے۔ انہوں نے ایلیٹ ہائی اسکول مورگہ اور پھر اصغر مال کالج راولپنڈی سے تعلیم حاصل کی، 19 سال کی عمر میں باقاعدہ کرکٹ شروع کی اور 1994ء میں زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ نومبر 1997ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بین الاقوامی ڈیبیو کرنے کے بعد انہوں نے اپنی برق رفتاری سے پوری دنیا میں دھاک بٹھا دی۔
ان کی زندگی طرح طرح کے دلچسپ اور طوفانی معاملات کا شکار رہی۔ کیریئر کے دوران ان پر بولنگ ایکشن کے حوالے سے سوالات اٹھے، 2006ء میں ممنوعہ ادویات (ڈوپنگ) کا الزام لگا اور 2004ء کے دورۂ بھارت میں انجری پر ٹیم مینجمنٹ بالخصوص کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کے ساتھ ان کے شدید اختلافات ہوئے، لیکن ان کی زندگی کا سب سے ہنگامہ خیز اور تلخ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب دسمبر 2007ء میں ٹیم کے ساتھی کھلاڑی محمد آصف کے ساتھ ان کی تکرار ہوئی اور بات اتنی بڑھ گئی کہ شعیب اختر نے غصے میں آ کر اسے بلا دے مارا، جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ٹیم سے باہر کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا۔
ان تمام تنازعات اور نشیب و فراز کے باوجود شعیب اختر کی شہرت ان کی شاندار اور تاریخی کارکردگی کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہی۔ انہوں نے کلکتہ میں سچن ٹنڈولکر اور راہول ڈریوڈ کو لگاتار گیندوں پر بولڈ کرنے کے علاوہ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف یادگار معرکے سر کیے اور 2005ء کے دورۂ برطانیہ میں پچز کی سازگار نوعیت کے باوجود اپنی بہترین سلو گیندوں اور یارکرز کے بل بوتے پر سب سے زیادہ 17 وکٹیں حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔
"راولپنڈی ایکسپریس" کے نام سے پہچانے جانے والے شعیب اختر کا یہ سفر اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ عزم، غضب کی رفتار اور بجلیاں گرانے والا انداز کس طرح ایک معمولی پس منظر کے حامل انسان کو ہمیشہ کے لیے کرکٹ کی تاریخ کا ناقابل فراموش ستارہ بنا دیتا ہے۔ آج شعیب اختر کا جنم دن ہے اس جنم دن پر ان کے کارناموں کو سراہنا ضروری ہے۔۔۔
تحریر و ترتیب: پروفیسر اظہر حادث
اگر تحریر پسند ہو تو میرے پیج Azhar Hadis Writes کو فالو کیجئے۔۔


Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azhar Hadis Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share