25/08/2026
کیا آپ کو معلوم ہے اس مشہور قوالی کولکھنے والا کون تھ؟۔۔بھر دو جھولی میری یا محمدؐ
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
کیا آپ نے صابری برادران کی یہ مشہورِ زمانہ قوالی سن رکھی ہے؟ اگر سنی ہے تو یقیناً آپ کے کانوں میں اس کے سحر انگیز بول ابھی بھی گونج رہے ہوں گے، اور کیا آپ نے نصرت فتح
علی خان کا گایا ہوا یہ گیت سنا ہے
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو
مرے خیال میں یہ بھی سن رکھا ہو گا مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس لازوال کلام کا خالق کون ہے؟ اگر شاعر کا علم نہیں تو پھر یہ پڑھئیے؛
یہ کلام ایک ایسے درویش صفت شاعر کا ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد ہجرت کے کرب اور شاعری کے عشق کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اور وہ محمد موسیٰ ہاشمی (ولادت: 1940ء، الٰہ آباد - وفات: 29 جون 2009ء، لاہور) ہیں۔ آپ اردو زبان کے شاعر تھے جو پُرنم الہ آبادی کے نام سے جانے جاتے تھے۔
یہی وہ پُرنم الہٰ آبادی ہیں جن کا ایک اور کلام بھی ہر خاص و عام کی زبان پر رہتا ہے:
دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا
یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا
کمسن ہیں وہ ایسے انہیں ظالم کہوں کیسے
معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا
آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رخ نے
آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا
پُرنم الہٰ آبادی کی شہرت کا دائرہ صرف قوالی اور غزل تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک گیت اور نعتیں لکھیں جنہوں نے اردو ادب کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں بھی جگہ بنائی۔ 1940ء میں الہٰ آباد میں محمد موسیٰ ہاشمی کے نام سے جنم لینے والے پُرنم جب سات برس کی عمر میں قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے کراچی پہنچے، تو ان کی ابتدائی زندگی مشقتوں اور حالات کی سختیوں میں گزری۔ یہ وہ دور تھا جب ہجرت کرنے والے لاکھوں خاندان کسمپرسی کے عالم میں نئے وطن کو اپنا گھر بنانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ پُرنم نے اسی کٹھن ماحول میں آنکھ کھولی اور زندگی کی تلخیوں کو قریب سے دیکھا، جس کا اثر ان کی شخصیت اور شاعری میں ایک گہرے سوز کی صورت میں شامل ہو گیا۔
شاعری کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد انہیں ایک کٹھن آزمائش کا سامنا تھا۔ اس دور میں جب جوش ملیح آبادی، سیماب اکبر آبادی اور حیدر دہلوی جیسے قد آور شعراء کا طوطی بول رہا ہو، وہاں ایک نئے آنے والے شاعر کے لیے اپنی الگ شناخت بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ پُرنم نے اس ابتدائی دور میں شدید جدوجہد کی، طرحی مشاعروں میں شرکت کی اور اپنی ثابت قدمی سے فن کی باریکیاں سیکھیں۔ ان کا یہ سفر کسی ہموار راستے پر نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اپنی محنت اور منفرد اسلوب سے خود کو منوایا۔ 1958ء میں جب استادِ فن قمر جلالوی نے ان کے کلام پر اصلاح کی، تو ان کی شاعری کا رنگ اور نکھر گیا۔ وہ خود بھی اس فیضان کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ سب قمر جلالوی کا ہی کرم ہے کہ آج انہیں اہلِ فن میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کی شاعری میں عشقِ مجازی کی حدت اور عشقِ حقیقی کی پاکیزگی کا ایک عجیب سنگم تھا۔ نوے کی دہائی میں جب انہوں نے کراچی سے لاہور کا رخ کیا اور انارکلی کی گلیوں میں قیام پذیر ہوئے، تو لاہور نے اس درویش صفت شاعر کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ یہاں ان کا کلام غزلیہ انداز سے نکل کر قوالی اور نغموں کی صورت میں مقبولیت کی ایسی بلندیوں پر پہنچا کہ ہر خاص و عام کی زبان پر ان کے اشعار جاری ہو گئے۔ جیکب آباد کے اس تاریخی مشاعرے میں، جہاں انہوں نے اپنے استاد کی موجودگی میں کلام پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لیے تھے، آج بھی ادبی تاریخ کا ایک یادگار باب مانا جاتا ہے۔
پُرنم الہٰ آبادی کی زندگی کے آخری ایام ان کی قلندرانہ شان اور درویشی کے عروج کے ہیں۔ ان کا آشیانہ دنیاوی آسائشوں سے یکسر عاری تھا۔ ایک بوسیدہ چارپائی، میز پر رکھا جگ، گلاس اور چند کتابیں، اور ایک کونے میں لٹکی ہوئی سادہ سی پوشاک، ان کی سادگی کی گواہی دیتی تھی۔ ان کے کمرے کی پرانی دری، جہاں سے فرش کی اینٹیں جھانک رہی تھیں، اور دیوار پر سجا عزیز میاں قوال کا پوسٹر، ان کے اندر بسنے والے صوفی منش شاعر کی عکاسی کرتے تھے۔ وہ ایک ایسا 'پُرنم' چراغ تھے جس نے ہجرت کے درد، درویشی کے وقار اور عشقِ مصطفیؐ کی روشنی کو اپنے کلام میں سمو دیا اور زندگی کے آخری سانس تک اسی درویشی کو اپنا سرمایہ بنائے رکھا۔
تحریر : پروفیسر اظہر حادث
#پُرنم_الہ_آبادی #قوالی