03/04/2026
ترے دِوانے کا ہمدم ہوا، سیانا عشق
ضعیفی میں بھی ہے کس درجے کا توانا، عشق
جو پوچھے جج "ہے ترے مبتلا کا قاتل کون؟"
ہاں ہاں تُو صاف بری ہے، اسے بتانا "عشق"
نہ ہو رہا ہے یہ قائل، نہ ہو گا، اور نہ ہوا
نہ مانتا ہے، نہ مانے گا، اور نہ مانا عشق
یہ مُشک کی طرح ظاہر ہے۔ 'گرچہ کر لو مشق
تم اشک پونچھ کے' چاہو اگر چھپانا عشق
مرے مسیحا نے بھی آج مسکرا کے کہا
نہ ہو گا ٹھیک اسد! یہ ترا پرانا عشق
✍️اسد عطاری
03اپریل 2026
(مدینۃالمرشد)کراچی