02/04/2024
کرگس نے دیکھو یہ انت مچائی ہے۔
لاشے ہیں ہاں ہر سُو اور دوہائی ہے۔
جور وجفا سے جتنا بھی دھمکاؤ گے۔
سچ کہتا ہوں آخر تم پچھتاؤ گے۔
دیکھا نہیں تو نے انجام اس کا۔
ستم کے سوا تھا نہیں کام ان کا۔
بڑا ناز تھا جس کو اپنی سپاہ پر۔
اڑا رہتا تھا وہ جو اپنی انا پر۔
بویا ہے جو کچھ تم نے وہ کاٹو گے۔
زخم لگیں گے تم کو بھی وہ چاٹو گے۔
اپنے دکھڑے اپنے ہاتھوں بانٹو گے۔
ڈانٹ پڑے گی تم کو،تم کیا ڈانٹو گے۔
خبر ہو سکی نہ امیرِ سپاہ کو۔
غارت کیا کس نے میری پناہ کو۔
سلگتے گھروں کو ،بہیمانہ چاہ کو۔
دکھاؤں گا جا کر میں اپنے خدا کو ۔
شاعر :