20/08/2026
غورغشتی کی نئی حلقہ بندی: اہم سوالات
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نئی بلدیاتی حلقہ بندی کے Form-IV میں تحصیل حضرو کی یونین کونسل نمبر 05 کی آبادی 18,730 درج کی گئی ہے۔ تاہم اس فہرست نے اہلِ غورغشتی کے درمیان کئی اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
- فہرست میں غورغشتی کے کئی معروف اور گنجان آباد محلے اپنے روایتی ناموں سے موجود نہیں، جن میں سیری بانڈہ، حول خان بانڈہ، کرہ خیل، اسد خیل، نجب خیل، موتلا، بریتیاں، کالونی، جمشید آباد، صدیق آباد، اور دیگر آبادیاں شامل ہیں۔
- نہر روڈ، نیزو غیبہ کے مغربی علاقے اور جھاڑیاں چوک تک سڑک کے اطراف کی آبادیاں بھی فہرست میں واضح طور پر نظر نہیں آتیں۔
- سوال یہ ہے کہ یہ علاقے کسی دوسرے Census Block، Revenue Estate یا کسی دوسری Union Council میں شامل کیے گئے ہیں، یا ان کی نشاندہی رہ گئی ہے؟
- محلے کا نام Form-IV میں نہ ہونا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ غورغشتی سے خارج کر دیا گیا ہے؛ اصل حقیقت مکمل Census Block اور Union Council ریکارڈ دیکھنے سے سامنے آئے گی۔
- فہرست میں مقامی ناموں اور سرکاری ناموں کے فرق کی بھی وضاحت ضروری ہے، مثلاً مقامی طور پر معروف محلہ مانگلی کے بجائے محلہ لکڑ منڈی کا نام درج ہے۔
- 18,730 کو فوراً پورے غورغشتی کی موجودہ آبادی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا جب تک یہ واضح نہ ہو کہ اس عدد میں غورغشتی کی تمام آبادیاں اور متعلقہ Census Blocks شامل ہیں۔
- مقامی سطح پر غورغشتی کی آبادی 40 سے 50 ہزار تک بتائی جاتی ہے، لیکن یہ عدد اسی وقت معتبر ہوگا جب تمام متعلقہ Census Blocks کی سرکاری آبادی جمع کرکے ثابت ہو۔
- بیرونِ ملک مقیم غورغشتی کے افراد، خواہ ان کے پاس CNIC یا NICOP موجود ہو، صرف آبائی گھر یا شناختی دستاویز کی بنیاد پر مقامی resident population میں شامل نہیں کیے گئے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ محلے ختم ہوگئے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ غورغشتی کے تمام محلے اور آبادیاں نئی حلقہ بندی میں آخر کس Census Block اور کس Union Council کے تحت شامل کی گئی ہیں؟
متعلقہ حکام کو چاہیے کہ Census Block-wise تفصیل عوام کے سامنے لائیں تاکہ 18,730، 40 ہزار یا 50 ہزار جیسے تمام دعووں کی حقیقت واضح ہو سکے۔
بات الزام کی نہیں، مکمل سرکاری ریکارڈ کی ہے۔ باقی ماہرین اپنی قیمتی آراء سے نوازیں
#غورغشتی #چھچھ #اٹک #پاکستان #حضرو