Zubi Qasim

Zubi Qasim دل کی بات، قلم کے ساتھ

03/08/2026

زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1971 میں ایک مصری ڈاکٹر نے یورپی پریس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ زمزم کا پانی پینے کے قابل نہیں، کیونکہ خانہ کعبہ کا علاقہ سطح سمندر سے نیچا ہے اور شہر کا گندا پانی نالیوں کے ذریعے کنویں میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ خبر جب اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی پیدا ہو گئی۔
یہ بات جب سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تک پہنچی تو انہیں شدید غصہ آیا۔ ایک مسلمان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اسلام کے سب سے مقدس مقام کے پانی پر انگلی اٹھائی جائے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ حقیقت جانچی جائے اور زمزم کے پانی کے نمونے یورپ کی معتبر لیبارٹریوں میں بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی طور پر اس دعوے کو غلط ثابت کیا جا سکے۔
وزارت نے یہ اہم ذمہ داری جدہ کے پاور اینڈ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے سپرد کی، جہاں موئن الدین احمد نامی ایک انجینئر کام کرتے تھے، جن کا کام سمندری پانی کو کیمیائی طریقوں سے پینے کے قابل بنانا تھا۔ انہیں چنا گیا کہ وہ مکہ جا کر خود اس معمے کی تہہ تک پہنچیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موئن الدین احمد کے مطابق، جب وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ زمزم کا کنواں دیکھنے میں کیسا ہوگا۔
جب وہ خانہ کعبہ پہنچے اور حکام کو اپنے دورے کا مقصد بتایا تو ایک شخص کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ جس کنویں سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی جا رہی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹے سے تالاب جیسا تھا، بمشکل اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا۔ انہوں نے کنویں کی پیمائش کی اور اس شخص سے کہا کہ گہرائی معلوم کرنے کے لیے پانی میں اترے۔ وہ شخص نہا کر پانی میں اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا، پانی اس کے کندھوں تک آ رہا تھا، جبکہ اس کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔
اب اصل تلاش شروع ہوئی، وہ شخص کنویں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھڑا کھڑا چلتا رہا (سر پانی میں ڈبونے کی اجازت نہیں تھی) تاکہ کوئی پائپ یا سوراخ ڈھونڈ سکے جہاں سے پانی آ رہا ہو۔ مگر دیر تک تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ موئن الدین احمد نے پھر ایک ترکیب سوچی، انہوں نے کنویں پر نصب بڑے پمپ سے تیزی سے پانی نکلوانا شروع کیا تاکہ سطح نیچے آئے اور پانی کے داخلے کی جگہ ظاہر ہو جائے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار کچھ نظر نہ آیا۔
مگر انجینئر نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے دوبارہ یہ عمل دہرایا، اس بار اس شخص کو ہدایت کی کہ ایک جگہ ساکت کھڑا رہے اور غور سے دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اچانک اپنے ہاتھ اٹھا کر خوشی سے چلایا، الحمدللہ، مل گیا، ریت میرے پاؤں تلے ناچ رہی ہے، پانی زمین کے اندر سے چھن چھن کر ابل رہا ہے۔ پھر وہ کنویں میں گھومتا رہا اور ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا، پانی ہر طرف سے یکساں مقدار میں زمین کی تہہ سے رس رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ کنویں کی سطح ہمیشہ ایک ہی رہتی تھی۔
اپنا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد موئن الدین احمد نے پانی کے نمونے یورپی لیبارٹریوں کے لیے اکٹھے کیے۔ خانہ کعبہ سے نکلنے سے پہلے انہوں نے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب خشک پڑے تھے، صرف زمزم ہی صدیوں سے مسلسل بہہ رہا تھا۔
جب یہ رپورٹ اور یورپی لیبارٹریوں کے نتائج شاہ فیصل کے سامنے پیش ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نتائج نے صاف ظاہر کیا کہ زمزم کا پانی نہ صرف مکمل طور پر پینے کے قابل ہے، بلکہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار عام پانی سے کچھ زیادہ ہے، جو شاید تھکے ہارے حاجیوں کو تازگی بخشنے کی وجہ ہو۔ اس کے علاوہ اس میں فلورائیڈ کی موجودگی بھی پائی گئی جو جراثیم کش خاصیت رکھتا ہے۔ یوں مصری ڈاکٹر کا دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا، اور شاہ فیصل نے یورپی پریس میں اس کی باقاعدہ تردید شائع کروائی۔
(حوالہ: موئن الدین

17/07/2026

عمر بھر لکھتے رہے مگر کچھ ورق پھر بھی سادہ رہ گئے۔ زندگی میں ایسے بہت سے احساسات ہوتے ہیں جو دل کے بہت قریب ہوتے ہیں لیکن لفظوں کا روپ نہیں لے پاتے۔ کبھی وقت ساتھ نہیں دیتا، کبھی ہمت جواب دے جاتی ہے اور کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اب کہنے کا فائدہ ہی کیا۔ پھر برسوں بعد جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ جن باتوں کو ہم نے چھپا لیا تھا وہی سب سے ضروری تھیں۔ وہ ان کہی باتیں، وہ ادھوری دعائیں اور وہ خاموش محبتیں ہی ہیں جو انسان کو عمر بھر یاد رہتی ہیں۔ کیونکہ کچھ جذبات بول کر ہلکے نہیں ہوتے، وہ خاموش رہ کر ہی دل میں گہرے ہو جاتے ہیں۔

04/07/2026

゚viralシ

23/06/2026

سالوں کی نا قدری کے بعد انسان
بلکل سوکھے درخت جیسا ہو جاتا ہے
باہر سے خاموش مگر اندر سے ہر موسم سے بے بیزار
پھر چاہے کوئی کتنا ہی خلوص لے آۓ
وہ دوبارہ کسی کو اپنی چھاؤں نہیں دیتا

23/06/2026

"____ اور سچ تو یہ ہے، انسان کو زندگی میں ہمیشہ محفوظ راستے نہیں چاہیئے ہوتے، اسے ایک ایسا ہمسفر چاہیئے ہوتا ہے جو خوف کے وقت حوصلہ بنے، اندھیرے میں روشنی بنے، اور مشکل میں ڈھال بن کر کھڑا ہو جائے ____،
کیونکہ بعض اوقات منزل سے زیادہ قیمتی وہ شخص ہوتا ہے جو سفر میں تمہارے ساتھ چل رہا ہوتا ہے ____،
اسی لیئے ایک بہادر اور وفادار انسان کا ساتھ ہزار محفوظ مگر کمزور سہاروں سے بہتر ہوتا ہے۔!" 💯🥀

23/06/2026

17/06/2026

بے شک وقت کے ساتھ صبر آ جاتا ہے مگر یادوں کی قندیلیں تو روشن ہی رہتی ہیں۔

10/06/2026

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ زندگی میں مشکلات کم کیوں نہیں ہوتیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی خوشیوں میں شامل ہونے کے بجائے، ہر پل آپ کی ذہنی سکون کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ یاد رکھیے، ایسے لوگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے، بلکہ وہ خود ایک ایسی گتھی ہوتے ہیں جو آپ کو الجھائے رکھنے میں ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد سے کنارہ کشی اختیار کرنا بے حسی نہیں، بلکہ اپنی ذہنی صحت کی حفاظت ہے۔”

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں**کچھ خواب میرے عین جوانی میں مرے ہیںروتا ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پہ کئی بارجو لف...
27/05/2026

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں*
*کچھ خواب میرے عین جوانی میں مرے ہیں

روتا ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پہ کئی بار
جو لفظ میری شعلہ بیانی میں مرے ہیں

کچھ تجھ سے یہ دوری بھی مجھے مار گئی ہے
کچھ جذبے میرے نقل مکانی میں مرے ہیں

اس عشق نے آخر ہمیں برباد کیا ہے
ہم لوگ اسی کھولتے پانی میں مرے ہیں

کچھ حد سے زیادہ تھا ہمیں شوق محبت
اور ہم ہی محبت کی گرانی میں مرے ہیں

*قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو*
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں☹️☹️

Address

Street 19
Attock
45600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zubi Qasim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category